سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ: التَّلْبِينَةِ
باب: حریرہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 3446
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ أَيْمَنَ بْنِ نَابِلٍ , عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ , يُقَالَ لَهَا كُلْثُمٌ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكُمْ بِالْبَغِيضِ النَّافِعِ التَّلْبِينَةِ" , يَعْنِي: الْحَسَاءَ , قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكَى أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهِ , لَمْ تَزَلِ الْبُرْمَةُ عَلَى النَّارِ , حَتَّى يَنْتَهِيَ أَحَدُ طَرَفَيْهِ , يَعْنِي: يَبْرَأُ أَوْ يَمُوتُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایک ایسی چیز کو لازماً کھاؤ جس کو دل نہیں چاہتا، لیکن وہ نفع بخش ہے یعنی حریرہ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں میں سے کوئی بیمار ہوتا تو ہانڈی برابر چولھے پر چڑھی رہتی یعنی حریرہ تیار رہتا یہاں تک کہ دو میں سے کوئی ایک بات ہوتی یعنی یا تو وہ شفاء یاب ہو جاتا یا انتقال کر جاتا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3446]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ناپسندیدہ مفید چیز «التَّلْبِينَةُ» (حریرہ) کو اپناؤ۔“ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں جب کوئی بیمار ہو جاتا تو (حریرہ) کی ہنڈیا آگ پر چڑھی رہتی، حتی کہ (اس کا معاملہ) کسی ایک طرف لگ جاتا، یعنی وہ فوت ہو جاتا یا شفا یاب۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3446]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17987، ومصباح الزجاجة: 1196)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/79، 138، 152، 242) (ضعیف)» (سند میں ام کلثم غیر معروف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
6. بَابُ: الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ
باب: کلونجی کا بیان۔
حدیث نمبر: 3447
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْمِصْرِيَّانِ , قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ عُقَيْلٍ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِنَّ فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ , إِلَّا السَّامَ" , وَالسَّامُ الْمَوْتُ , وَالْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ الشُّونِيزُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”کلونجی میں ہر مرض کا علاج ہے، سوائے «سام» کے، اور «سام» موت ہے، اور کالا دانہ «شونیز» یعنی کلونجی ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3447]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کالے دانے «الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ» میں سام «السَّامِ» کے سوا ہر مرض کی شفا ہے۔“ سام کا مطلب موت ہے، اور کالا دانہ کلونجی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3447]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطب 7 (5688)، صحیح مسلم/السلام 29 (2215)، (تحفة الأشراف: 13210)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطب 5 (2041)، مسند احمد (2/423، 6/146) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3448
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ , حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ , قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ , فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ , إِلَّا السَّامَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کالے دانے کا استعمال پابندی سے کرو اس لیے کہ اس میں سوائے موت کے ہر مرض کا علاج ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3448]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کالے دانے (کلونجی) کو اختیار کرو، اس میں موت کے سوا ہر مرض کی شفا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3448]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6772، ومصباح الزجاجة: 1197) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 3449
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ , أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ , قَالَ: خَرَجْنَا وَمَعَنَا غَالِبُ بْنُ أَبْجَرَ فَمَرِضَ فِي الطَّرِيقِ , فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَهُوَ مَرِيضٌ , فَعَادَهُ ابْنُ أَبِي عَتِيقٍ , وَقَالَ لَنَا: عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ , فَخُذُوا مِنْهَا خَمْسًا أَوْ سَبْعًا فَاسْحَقُوهَا , ثُمَّ اقْطُرُوهَا فِي أَنْفِهِ بِقَطَرَاتِ زَيْتٍ فِي هَذَا الْجَانِبِ , وَفِي هَذَا الْجَانِبِ , فَإِنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُمْ , أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِنَّ هَذِهِ الْحَبَّةَ السَّوْدَاءَ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ , إِلَّا أَنْ يَكُونَ السَّامُ" , قُلْتُ: وَمَا السَّامُ؟ قَالَ:" الْمَوْتُ".
خالد بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم سفر پر نکلے، ہمارے ساتھ غالب بن ابجر بھی تھے، وہ راستے میں بیمار پڑ گئے، پھر ہم مدینہ آئے، ابھی وہ بیمار ہی تھے، تو ان کی عیادت کے لیے ابن ابی عتیق آئے، اور ہم سے کہا: تم اس کالے دانے کا استعمال اپنے اوپر لازم کر لو، تم اس کے پانچ یا سات دانے لو، انہیں پیس لو پھر زیتون کے تیل میں ملا کر چند قطرے ان کی ناک میں ڈالو، اس نتھنے میں بھی اور اس نتھنے میں بھی، اس لیے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کالے دانے یعنی کلونجی میں ہر مرض کا علاج ہے، سوائے اس کے کہ وہ «سام» ہو“، میں نے عرض کیا کہ «سام» کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موت“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3449]
حضرت خالد بن سعد رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم لوگ سفر میں تھے، ہمارے ساتھ حضرت غالب بن ابحر بھی تھے، وہ راستے میں بیمار ہو گئے۔ ہم لوگ مدینہ پہنچے تو وہ (اس وقت بھی) بیمار تھے۔ حضرت ابن ابی عتیق رحمہ اللہ (عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمن بن ابی بکر) ان کی بیمار پرسی کے لیے آئے تو ہم سے فرمایا: ”تم یہ کالا دانہ (کلونجی) استعمال کرو، اس کے پانچ سات دانے لے کر پیس لو، پھر زیتون کے تیل میں ملا کر ان کی ناک میں چند قطرے اس طرف اور چند اس طرف (نتھنوں میں) ڈالو، کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”یہ کالا دانہ ہر بیماری کی شفا ہے، سوائے اس کے کہ «السَّامُ» (ہی مقدر) ہو،“ میں نے کہا: «السَّامُ» کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”موت۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3449]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطب 7 (5687)، (تحفة الأشراف: 16268)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/138) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
7. بَابُ: الْعَسَلِ
باب: شہد کا بیان۔
حدیث نمبر: 3450
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ الْقُرَشِيُّ , حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَاشِمِيُّ , عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَالِمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَعِقَ الْعَسَلَ ثَلَاثَ غَدَوَاتٍ كُلَّ شَهْرٍ , لَمْ يُصِبْهُ عَظِيمٌ مِنَ الْبَلَاءِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ہر ماہ تین روز صبح کے وقت شہد چاٹ لیا کرے، وہ کسی بڑی آفت بیماری سے دو چار نہ ہو گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3450]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مہینے میں تین دن صبح کے وقت شہد چاٹ لے، اسے کوئی بڑی آفت (بیماری) نہیں آئے گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3450]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13588، ومصباح الزجاجة: 1198) (ضعیف)» (سند میں عبد الحمید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے مابین انقطاع ہے، عبد الحمید مجہول بھی ہیں، اور سند میں زبیر ہاشمی بھی لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الزبير بن سعيد: لين الحديث،و عبد الحميد:مجهول (تقريب: 1995،3761)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 501
إسناده ضعيف
الزبير بن سعيد: لين الحديث،و عبد الحميد:مجهول (تقريب: 1995،3761)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 501
حدیث نمبر: 3451
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ , حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَهْلٍ , حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ الْعَطَّارُ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ:" أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَسَلٌ , فَقَسَمَ بَيْنَنَا لُعْقَةً لُعْقَةً فَأَخَذْتُ لُعْقَتِي , ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَزْدَادُ أُخْرَى , قَالَ: نَعَمْ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شہد ہدیہ میں آیا تو آپ نے تھوڑا تھوڑا ہم سب کے درمیان تقسیم فرمایا، مجھے اپنا حصہ ملا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں مزید لے سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3451]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شہد کا ہدیہ پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے درمیان ایک ایک چمچ تقسیم فرمایا۔ میں نے اپنا حصہ لے لیا، پھر عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مزید ایک چمچ لے لوں؟ فرمایا: ”ہاں (لے لو)““ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3451]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2228، ومصباح الزجاجة: 1199) (ضعیف)» (سند میں ابوحمزہ، عمر بن سہل ضعیف ہیں، اور حسن بصری کا جابر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو حمزة إسحاق بن الربيع ضعفه الجمهور و مع ذلك قال الحافظ: ’’ صدوق تكلم فيه للقدر ‘‘ (تقريب: 352)
وضعفه راجح والحسن عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 501
إسناده ضعيف
أبو حمزة إسحاق بن الربيع ضعفه الجمهور و مع ذلك قال الحافظ: ’’ صدوق تكلم فيه للقدر ‘‘ (تقريب: 352)
وضعفه راجح والحسن عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 501
حدیث نمبر: 3452
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكُمْ بِالشِّفَاءَيْنِ: الْعَسَلِ وَالْقُرْآنِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دو شفاوؤں یعنی شہد اور قرآن کو لازم پکڑو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3452]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو شفا والی چیزیں اختیار کرو: شہد اور قرآن۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3452]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9526، ومصباح الزجاجة: 1200) (ضعیف)» (سند میں زید بن الحباب ہیں، جو سفیان ثوری کی احادیث میں غلطیاں کرتے ہیں، اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ موقوفاً ثابت ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو إسحاق عنعن
وأخرج الخطيب (385/11) بإسناد ضعيف منكر عن زيد بن الحباب عن شعبة عن أبي إسحاق به !
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 501
إسناده ضعيف
أبو إسحاق عنعن
وأخرج الخطيب (385/11) بإسناد ضعيف منكر عن زيد بن الحباب عن شعبة عن أبي إسحاق به !
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 501
8. بَابُ: الْكَمْأَةِ وَالْعَجْوَةِ
باب: کھمبی اور عجوہ کھجور کا بیان۔
حدیث نمبر: 3453
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , وَجَابِرٍ , قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ , وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ , وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ , وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ الْجِنَّةِ" ,
ابو سعید خدری اور جابر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھمبی «منّ» میں سے ہے، اور اس کے پانی میں آنکھوں کا علاج، اور عجوہ (کھجور) جنت کا میوہ ہے اور اس میں پاگل پن اور دیوانگی کا علاج ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3453]
حضرت ابو سعید خدری اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھمبی مَن کی قسم سے ہے۔ اس کا پانی آنکھ کے لیے شفا ہے۔ عجوہ کھجور جنت سے ہے اور یہ جن کے اثر (یا جنون) سے شفا دیتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3453]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2281، 2282، 4074، 4075، ومصباح الزجاجة: 1201)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/48) (صحیح)» ( «شفاء من السم» کے لفظ سے صحیح ہے، «من الجنة» کے لفظ سے منکر ہے، ملاحظہ ہو: سنن ابن ماجہ بتحقیق مشہور حسن، نیز ملا حظہ ہو: آگے والی حدیث 3455)
وضاحت: ۱ ؎: «كَمْأَةُ» : جمع ہے، اس کی واحد «كمئٌ» ہے، ابن اثیر نے اس کے بارے میں کہا کہ یہ معروف چیز ہے، لیکن اردو زبان میں اس کا ترجمہ کھمبی، «ککرمتا» سے کیا جاتا ہے، صاحب فیروز اللغات لکھتے ہیں: یہ ایک قسم کی سفید نباتات جو اکثر برسات میں ازخود پیدا ہو جاتی ہے، اور اسے تل کر کھاتے ہیں، سانپ کی چھتری، جمع: کھمبیاں، کھمبیوں (۱۱۲۱)، مصباح اللغات میں «كمئٌ» کا ترجمہ یہ ہے: سانپ کی چھتری اور اس کو «شحم الأرض» کہتے ہیں، جمع: «أكمؤٌ» و «كَمْأَةُ» (۷۵۰-۷۵۱) لسان العرب میں «كمء» کی تعریف یوں ہے: یہ ایسی نبات ہے جو زمین کو پھاڑ کر ویسے ہی نکلتی ہے جیسے کہ «فُطر» یعنی زمین سے اگنے والی نبات اور مزید فرمایا: یہ بھی کہا گیا ہے کہ «كمء» مٹ میلی اور کالی سرخی مائل چیز اور سفید «فَقْعَه» ہے، اور اس کے بعد یہی حدیث ذکر فرمائی۔ اور «فُطر» نامی نبات کو مشروم بھی کہتے ہیں، ملاحظہ ہو: قاموس الغذاء والتداوی بالنبات لاحمدقدامہ: صفحہ ۴۸۹ حدیث میں وارد «كمء» سے مراد وہ پھل ہے جو زمین کے اندر آلو کی شکل میں اور اسی کی طرح پیدا ہوتا ہے، اور اس کو سعودی عرب میں «فَقْعَه» کہتے ہیں، جاڑے میں بارش کے بعد یہ پیدا ہوتا ہے، صحراء کے لوگ اس کی جائے پیدائش سے واقف ہوتے ہیں، اور اسے زمین سے نکال کر لے آتے ہیں، یہ بازارمیں بھی بھاری قیمت سے فروخت ہوتا ہے، جس کی قیمت تین سو ریال فی کلو تک پہنچ جاتی ہے، یہ آلو کی شکل کا ہوتا ہے، اس کی لذت پکا کر کھانے میں بالکل گوشت کی طرح ہوتی ہے، اس لیے اس کو زمین کے اندر اگنے والا «مَن» کہا جائے تو بیجانہ ہو گا، حدیث میں اس کو «مَن» میں شمار کیا گیا ہے، اور اس کے عرق کو آنکھ کا علاج بتایا گیا ہے، اور اس کا ذکر عجوہ کھجورکے ساتھ آیا ہے، صحیح یہی ہے کہ «کمئَہ» سے مراد سعودی عرب میں مشہور «فَقْعَه» نامی پھل ہے، جو آلو کے ہم شکل اور اسی کی طرح زمین میں پیدا ہوتا ہے۔ حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں اس کی تعریف یوں کی ہے: «کمئہ» ایسی نبات ہے جو تنا (ڈنٹھل) اور پتوں کے بغیر ہوتی ہے، اور یہ زمین میں بغیر بوئے پائی جاتی ہے، اور یہ عرب علاقوں میں بہت پائی جاتی ہے اور مصر و شام میں بھی پائی جاتی ہے، حافظ ابن حجرنے جو تفصیلی بتائی ہے اس کے مطابق بھی یہ وہی «فَقْعَه» ہے جس کی تشریح اوپر گزری۔ (ملاحظہ ہو: فتح الباری حدیث نمبر: ۵۷۰۸) حکیم مظفر حسین اعوان نے کھمبی کی تعریف یوں کی ہے: اردو: کھمب، ہندی: کھم، سندھی: کھنبہی، انگریزی: مشروم: یہ بغیر تنا اور بغیر پتوں کے خود رو پودا ہے جو گرمی کے موسم میں بارش کے بعد پیدا ہوتا ہے، اس میں جوہر ارضی زیادہ اور جوہر مائی کم ہوتا ہے، لیکن جب یہ خشک ہو جاتی ہے تو اس کی مائیت زائل ہو جاتی ہے، اور صرف ارضیت کے باقی رہنے سے غلظت بڑھ جاتی ہے ... قابض و نفاخ ہے، بلغم اور سودا پیدا کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ امراض سوداوی اور بلغمی میں مضر ہے ...کھمب کا بڑا وصف صرف یہ ہے کہ یہ بہت لذیذ ہوتی ہے اس لیے لوگ اسے پکا کر کھاتے ہیں (کتاب المفردات: صفحہ ۳۸۶) احمد قدامہ نے لفظ «كَمْأَةُ» کے تحت جو تفاصیل ذکر کی ہیں وہ سابقہ خود رو زیر زمین آلو کی مانند پھل کی ہے، مولف نے آنکھ کے علاج سے متعلق طبی فوائد کا بھی ذکر کیا ہے، اور جدید تحقیقات کی روشنی میں اس کے اندر پائی جانے والی چیزوں کی تفصیلی بتائی ہے، اور آخر میں لکھا ہے کہ زمین میں اگنے والی ساری خود رو نباتات میں قوت باہ کو زیادہ کرنے میں یہ سب سے فائق ہے، اس میں کاربن، اکسیجن اور ہیڈروجن کے ساتھ ساتھ نائٹروجین کی بھی ایک مقدار پائی جاتی ہے، اس لیے یہ اپنی ترکیب میں گوشت کی مانند ہے، اور پکانے کے بعد اس کا مزہ بکری کے گردے کی طرح ہوتا ہے۔ (قاموس الغذاء: ۶۰۲-۶۰۴)، نیز ملاحظہ ہو: المعجم الوسیط: مادہ الکمأ۔ «ککرمتا» جسے سانپ کی چھتری بھی کہتے ہیں اورکھمبی سے بھی یہ جانا جاتا ہے، جس کی تفصیل اوپر گزری یہ ایک دوسرا خود رو چھوٹا پودا ہے جو برصغیر کے مرطوب علاقوں میں گرمی کے موسم میں بارش کے بعد اگتا ہے، خاص کر ان علاقوں میں جہاں سرکنڈا (جسے سینٹھا، نرسل، نرکل اور نئے بھی کہتے ہیں) ہوتا ہے، اور یہ زمین پر خود بخود اگتا ہے، اس کا تعلق حدیث میں وارد کھمبی سے نہیں ہے «واللہ اعلم» ۔ ۲؎: عجوہ کھجور سے دیوانگی اور پاگل پن کے علاج کا لفظ حدیث میں صحیح نہیں ہے، صحیح حدیث میں زہر کا علاج آیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: حدیث نمبر ۳۴۵۵)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح بلفظ وهي شفاء من السم ق دون العجوة
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سليمان الأعمش عنعن
و روي الإمام أحمد (301/2 ح 8002) من حديث شھر بن حوشب عن أبي ھريرة عن النبي ﷺ قال: ((الكمأة من المن و ماؤھا شفاء للعين والعجوة من الجنة و ماؤھا شفاء من السم)) و سنده حسن و رواه الترمذي (2068)
و حسنه و يأتي (الأصل: 3455)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 501
إسناده ضعيف
سليمان الأعمش عنعن
و روي الإمام أحمد (301/2 ح 8002) من حديث شھر بن حوشب عن أبي ھريرة عن النبي ﷺ قال: ((الكمأة من المن و ماؤھا شفاء للعين والعجوة من الجنة و ماؤھا شفاء من السم)) و سنده حسن و رواه الترمذي (2068)
و حسنه و يأتي (الأصل: 3455)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 501
حدیث نمبر: 3453M
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقِّيَّانِ , قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ هِشَامٍ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ , عَنْ أَبِي نَضْرَةَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اس سند سے بھی اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3453M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4308، ومصباح الزجاجة: 1202) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح بلفظ وهي شفاء من السم ق دون العجوة
حدیث نمبر: 3454
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , سَمِعَ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ , يَقُولُ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ يُحَدِّثُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ الْكَمْأَةَ مِنَ الْمَنِّ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ , وَمَاؤُهَا شِفَاءُ الْعَيْنِ".
سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھمبی «من» میں سے ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر نازل فرمایا تھا، اور اس کے پانی میں آنکھوں کا علاج ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3454]
حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھمبی اس من سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر نازل کیا تھا، اور اس کا پانی آنکھ کے لیے شفا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3454]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطب 20 (5708)، صحیح مسلم/الأشربة 28 (2049)، سنن الترمذی/الطب 22 (2067)، (تحفة الأشراف: 4465)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/187، 188) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی کھمبی اس «من» کے ہم مثل ہے جو بلا محنت و مشقت آسمان سے بنی ا سرائیل کے لیے نازل ہوتا تھا، کھمبی ایک چھوٹا سا پودا ہے جو زمین سے نکلتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه