🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. بَابُ: مَوْضِعِ الْحِجَامَةِ
باب: حجامت (پچھنا لگوانے) کی جگہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3483
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" احْتَجَمَ فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَعَلَى الْكَاهِلِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گردن کی رگوں اور مونڈھے کے درمیان کی جگہ پچھنا لگوایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3483]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گردن کی رگوں پر اور دونوں کندھوں کے درمیان سینگی لگوائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3483]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطب 4 (3860)، سنن الترمذی/الطب 12 (2051)، (تحفة الأشراف: 1147) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3860) ترمذي (2051)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3484
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحْتَجِمُ عَلَى هَامَتِهِ وَبَيْنَ كَتِفَيْهِ , وَيَقُولُ:" مَنْ أَهْرَاقَ مِنْهُ هَذِهِ الدِّمَاءَ , فَلَا يَضُرُّهُ أَنْ لَا يَتَدَاوَى بِشَيْءٍ لِشَيْءٍ".
ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر اور دونوں کندھوں کے درمیان پچھنا لگواتے اور فرماتے تھے: جو ان مقامات سے خون بہا دے، تو اگر وہ کسی بیماری کا کسی چیز سے علاج نہ کرے تو اس کے لیے نقصان دہ نہیں ہو سکتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3484]
حضرت ابو کبشہ (سعید بن عمرو انماری) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سر پر اور کندھوں کے درمیان سینگی لگواتے تھے اور فرماتے تھے: جو شخص اپنے جسم سے اس طرح (سینگی لگوا کر) خون نکلواتا ہے، وہ اگر کسی بیماری کا کوئی اور علاج نہ کرے تو کوئی نقصان نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3484]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطب 4 (3859)، (تحفة الأشراف: 12143) (ضعیف) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1867، تراجع الألبانی: رقم: 194)۔» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3859)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3485
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ جَابِرٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ," سَقَطَ عَنْ فَرَسِهِ عَلَى جِذْعٍ , فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ" , قَالَ وَكِيعٌ يَعْنِي: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ عَلَيْهَا مِنْ وَثْءٍ.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار اپنے گھوڑے سے کھجور کے درخت کی پیڑی پر گر پڑے، اس سے آپ کے پیر میں موچ آ گئی۔ وکیع کہتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف درد کی وجہ سے وہاں پر پچھنا لگوایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3485]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے کھجور کے درخت کے (کٹے ہوئے) تنے پر گر پڑے، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کا جوڑ متاثر ہو گیا۔ امام وکیع رحمہ اللہ نے فرمایا: حدیث کا مطلب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تکلیف کی وجہ سے پاؤں پر سینگی لگوائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3485]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2310، ومصباح الزجاجة: 1213)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 69 (602)، الطب 5 (3863)، سنن النسائی/الحج 93 (2851)، مسند احمد (3/305، 357، 363، 382) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: «وثء» : عربی میں اس درد کو کہتے جو کسی عضو میں عضو ٹوٹنے کے بغیر پیدا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (602)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابٌ في أَيِّ الأَيَّامِ يَحْتَجِمُ
باب: کن دنوں میں پچھنا لگوایا جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3486
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ , عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ مَيْسَرَةَ , عَنْ النَّهَّاسِ بْنِ قَهْمٍ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" مَنْ أَرَادَ الْحِجَامَةَ , فَلْيَتَحَرَّ سَبْعَةَ عَشَرَ , أَوْ تِسْعَةَ عَشَرَ , أَوْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ , وَلَا يَتَبَيَّغْ بِأَحَدِكُمُ الدَّمُ فَيَقْتُلَهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص پچھنا لگوانا چاہے تو (ہجری) مہینے کی سترہویں، انیسویں یا اکیسویں تاریخ کو لگوائے، اور (کسی ایسے دن نہ لگوائے) جب اس کا خون جوش میں ہو کہ یہ اس کے لیے موجب ہلاکت بن جائے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3486]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سینگی لگوانا چاہے، اسے چاہیے کہ (چاند کی) سترہ، انیس یا اکیس تاریخ کو سینگی لگوانے کی کوشش کرے۔ ایسا نہ ہو کہ دوران خون میں خلل واقع ہو اور وفات ہو جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3486]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1628، ومصباح الزجاجة: 1214)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطب 12 (2051) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: 385)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱ ؎: ابوداود نے کبشہ سے روایت کی کہ ان کے باپ منگل کے دن پچھنا لگوانے کو منع کرتے تھے اور کہتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منگل کے دن ایک ساعت ایسی ہے جس میں خون بند نہیں ہوتا، اور منگل کا دن خون کا دن ہے، اور آگے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں آتا ہے کہ پیر اور منگل کے دن پچھنے لگواؤ، پس دونوں میں تعارض ہو گیا، اس کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں وہ منگل مراد ہے جو مہینے کی سترھویں تاریخ کو پڑے کیونکہ طبرانی میں معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جس نے منگل کے دن سترھویں تاریخ کو پچھنے لگوائے، وہ اس کے لئے سال بھر تک دوا ہوں گے، اور کبشہ کی حدیث میں وہ منگل مراد ہے جو سترہویں تاریخ کے سوا اور کسی تاریخ میں پڑے اور سنن ابی داود میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے جس نے پچھنے لگوائے سترھویں، یا انیسویں، یا اکیسویں کو وہ ہر بیماری سے شفا پائیں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
نهاس بن قھم: ضعيف
وتلميذه زكريا بن ميسرة مستور،و عثمان بن مطر: ضعيف (تقريب: 2027،4519)
والراوي عنه سويد بن سعيد ضعيف
فالسند ظلمات
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 503

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3487
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ , عَنْ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: يَا نَافِعُ , قَدْ تَبَيَّغَ بِيَ الدَّمُ , فَالْتَمِسْ لِي حَجَّامًا وَاجْعَلْهُ رَفِيقًا إِنِ اسْتَطَعْتَ , وَلَا تَجْعَلْهُ شَيْخًا كَبِيرًا وَلَا صَبِيًّا صَغِيرًا , فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" الْحِجَامَةُ عَلَى الرِّيقِ أَمْثَلُ , وَفِيهِ شِفَاءٌ وَبَرَكَةٌ , وَتَزِيدُ فِي الْعَقْلِ وَفِي الْحِفْظِ , فَاحْتَجِمُوا عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ يَوْمَ الْخَمِيسِ , وَاجْتَنِبُوا الْحِجَامَةَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ , وَالْجُمُعَةِ وَالسَّبْتِ , وَيَوْمَ الْأَحَدِ تَحَرِّيًا , وَاحْتَجِمُوا يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالثُّلَاثَاءِ , فَإِنَّهُ الْيَوْمُ الَّذِي عَافَى اللَّهُ فِيهِ أَيُّوبَ مِنَ الْبَلَاءِ , وَضَرَبَهُ بِالْبَلَاءِ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ , فَإِنَّهُ لَا يَبْدُو جُذَامٌ وَلَا بَرَصٌ , إِلَّا يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ أَوْ لَيْلَةَ الْأَرْبِعَاءِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے (اپنے غلام) نافع سے کہا: نافع! میرے خون میں جوش ہے، لہٰذا کسی پچھنا لگانے والے کو میرے لیے تلاش کرو، اور اگر ہو سکے تو کسی نرم مزاج کو لاؤ، زیادہ بوڑھا اور کم سن بچہ نہ ہو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: پچھنا نہار منہ لگانا بہتر ہے، اس میں شفاء اور برکت ہے، اس سے عقل بڑھتی ہے اور قوت حافظہ تیز ہوتی ہے، تو جمعرات کو پچھنا لگواؤ، اللہ برکت دے گا، البتہ بدھ، جمعہ، سنیچر اور اتوار کو پچھنا لگوانے سے بچو، اور ان دنوں کا قصد نہ کرو، پھر سوموار (دوشنبہ) اور منگل کے دن پچھنا لگواؤ، اس لیے کہ منگل وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام کو بیماری سے نجات دی، اور بدھ کے دن آپ کو اس بیماری میں مبتلا کیا تھا، چنانچہ جذام (کوڑھ) اور برص (سفید داغ) کی بیماریاں (عام طور سے) بدھ کے دن یا بدھ کی رات میں پیدا ہوتی ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3487]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت نافع رحمہ اللہ سے فرمایا: میرے خون میں جوش (اور حرارت) کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے، لہٰذا میرے لیے سینگی لگانے والا تلاش کرو، ہو سکے تو نرم مزاج آدمی لانا، اور بہت بوڑھا یا بہت کم سن نہ لانا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہار منہ سینگی لگوانا زیادہ مفید ہے، اس میں شفا اور برکت ہے، اس سے عقل اور حافظے میں ترقی ہوتی ہے، اس لیے اللہ کا نام لے کر جمعرات کو سینگی لگوانے سے پرہیز کرو، پیر اور منگل کے دن سینگی لگوا لیا کرو، اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کو بیماری سے اسی دن شفا دی تھی اور آپ کی آزمائش (اور بیماری) بدھ سے شروع کی تھی، کوڑھ اور پھلبہری کا مرض صرف بدھ کے دن یا بدھ کی رات کو ظاہر ہوتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3487]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8421، ومصباح الزجاجة: 1215) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: 474)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
الحسن بن أبي جعفر: ضعيف
وعثمان بن مطر: ضعيف
وللحديث شواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 503

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3488
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ , حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَيْمُونٍ , عَنْ نَافِعٍ , قَالَ: قَالَ بْنُ عُمَرَ: يَا نَافِعُ , تَبَيَّغَ بِيَ الدَّمُ فَأْتِنِي بِحَجَّامٍ وَاجْعَلْهُ شَابًّا , وَلَا تَجْعَلْهُ شَيْخًا وَلَا صَبِيًّا , قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" الْحِجَامَةُ عَلَى الرِّيقِ أَمْثَلُ , وَهِيَ تَزِيدُ فِي الْعَقْلِ , وَتَزِيدُ فِي الْحِفْظِ , وَتَزِيدُ الْحَافِظَ حِفْظًا , فَمَنْ كَانَ مُحْتَجِمًا فَيَوْمَ الْخَمِيسِ عَلَى اسْمِ اللَّهِ , وَاجْتَنِبُوا الْحِجَامَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ , وَيَوْمَ السَّبْتِ , وَيَوْمَ الْأَحَدِ , وَاحْتَجِمُوا يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالثُّلَاثَاءِ , وَاجْتَنِبُوا الْحِجَامَةَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ , فَإِنَّهُ الْيَوْمُ الَّذِي أُصِيبَ فِيهِ أَيُّوبُ بِالْبَلَاءِ , وَمَا يَبْدُو جُذَامٌ وَلَا بَرَصٌ , إِلَّا فِي يَوْمِ الْأَرْبِعَاءِ أَوْ لَيْلَةِ الْأَرْبِعَاءِ".
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: نافع! میرا خون جوش میں ہے، لہٰذا کوئی پچھنا لگانے والا لاؤ، جو جوان ہو، ناکہ بوڑھا یا بچہ، نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: نہار منہ پچھنا لگانا بہتر ہے، اس سے عقل بڑھتی ہے، حافظہ تیز ہوتا ہے، اور یہ حافظ کے حافظے کو بڑھاتی ہے، لہٰذا جو شخص پچھنا لگائے تو اللہ کا نام لے کر جمعرات کے دن لگائے، جمعہ، ہفتہ (سنیچر) اور اتوار کو پچھنا لگانے سے بچو، پیر (دوشنبہ) اور منگل کو لگاؤ پھر چہار شنبہ (بدھ) سے بھی بچو، اس لیے کہ یہی وہ دن ہے جس میں ایوب علیہ السلام بیماری سے دوچار ہوئے، اور جذام و برص کی بیماریاں بھی بدھ کے دن یا بدھ کی رات ہی کو نمودار ہوتی ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3488]
حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نافع! میرے خون میں جوش پیدا ہو گیا ہے، لہٰذا میرے پاس سینگی لگانے والا لاؤ۔ جوان آدمی لانا، بوڑھا یا بچہ نہ لانا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہار منہ سینگی لگوانا زیادہ مفید ہے، اس سے عقل بڑھتی ہے، اور حافظہ تیز ہوتا ہے، اور اچھی یادداشت والے کی یادداشت بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ تو جس نے سینگی لگوانی ہو وہ اللہ کا نام لے کر جمعرات کو لگوا لے۔ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو سینگی لگوانے سے اجتناب کرو۔ اور سوموار اور منگل کو سینگی لگوا لیا کرو۔ اور بدھ کو بھی سینگی لگوانے سے پرہیز کرو کیونکہ حضرت ایوب علیہ السلام کو اسی دن آزمائش (اور بیماری) آئی تھی۔ جذام اور برص صرف بدھ کے دن یا بدھ کی رات کو ظاہر ہوتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3488]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7667، ومصباح الزجاجة: 1216) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں عثمان و عبداللہ بن عصمہ اور سعید بن میمون مجہول ہیں، لیکن متابعات کی وجہ سے حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 766)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
(ح 3489،ترمذي 2055،انظر ص 242،317)
عبد اللّٰه بن عصمة:مجهول وشيخه سعيد بن ميمون: مجهول (تقريب: 3478،2402)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 503

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابُ: الْكَيِّ
باب: آگ یا لوہا سے بدن داغنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3489
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ , عَنْ لَيْثٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ عَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" مَنِ اكْتَوَى أَوِ اسْتَرْقَى , فَقَدْ بَرِئَ مِنَ التَّوَكُّلِ".
مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے (آگ یا لوہا سے بدن) داغنے یا منتر (جھاڑ پھونک) سے علاج کیا، وہ توکل سے بری ہو گیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3489]
حضرت عقار رضی اللہ عنہ اپنے والد (حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے خود کو داغا، یا دم کروایا، وہ توکل سے محروم ہو گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3489]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطب 14 (2055)، (تحفة الأشراف: 11518)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/249، 251، 253) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: وہ دم (جھاڑ پھونک) ممنوع ہے جس میں شرکیہ الفاظ یا ایسے الفاظ ہوں جو معنی و مفہوم کے لحاظ سے واضح نہ ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3490
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , عَنْ مَنْصُورٍ , وَيُونُسُ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنِ الْكَيِّ فَاكْتَوَيْتُ , فَمَا أَفْلَحْتُ وَلَا أَنْجَحْتُ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (آگ یا لوہے سے جسم) داغنے سے منع فرمایا، لیکن میں نے داغ لگایا، تو نہ میں کامیاب ہوا، اور نہ ہی میری بیماری دور ہوئی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3490]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے داغنے سے منع فرمایا، میں نے خود کو داغا تو مجھے فائدہ نہ ہوا اور میں کامیاب نہ ہوا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3490]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10809، 10814)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطب 7 (3865)، سنن الترمذی/الطب 10 (2049)، مسند احمد (4/427، 444، 446) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ نہی کراہت تنزیہی ہے یعنی خلاف اولیٰ پر محمول ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود سعد بن معاذ اور اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہما کو اپنے ہاتھ سے داغا، اگر حرام ہوتا تو ایسا نہ کرتے، کراہت کی وجہ یہ ہے کہ یہ آگ کا عذاب ہے جو اللہ رب العالمین کے لیے خاص ہے، یہ عمل نہ کرنا اولیٰ و افضل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3491
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ , حَدَّثَنَا سَالِمٌ الْأَفْطَسُ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ:" الشِّفَاءُ فِي ثَلَاثٍ: شَرْبَةِ عَسَلٍ , وَشَرْطَةِ مِحْجَمٍ , وَكَيَّةٍ بِنَارٍ , وَأَنْهَى أُمَّتِي عَنِ الْكَيِّ , رَفَعَهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ شفاء تین چیزوں میں ہے: گھونٹ بھر شہد پینے میں، پچھنا لگانے میں اور انگار سے ہلکا سا داغ دینے میں، اور میں اپنی امت کو داغ دینے سے منع کرتا ہوں، یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مرفوع روایت کی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3491]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شفا تین چیزوں میں ہے: شہد پینے میں، سینگی کے زخم میں اور آگ کے ساتھ داغنے میں۔ اور میں اپنی امت کو داغنے سے منع کرتا ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3491]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطب 3 (5680، 5681)، (تحفة الأشراف: 5509) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ: مَنِ اكْتَوَى
باب: جو داغ لگوائے اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3492
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ , حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ الْأَنْصَارِيُّ , قال: سَمِعَتُ عَمِّي يَحْيَى , وَمَا أَدْرَكْتُ رَجُلًا مِنَّا بِهِ شَبِيهًا يُحَدِّثُ النَّاسَ , أَنَّ سَعْدَ بْنَ زُرَارَةَ وَهُوَ جَدُّ مُحَمَّدٍ مِنْ قِبَلِ أُمِّهِ , أَنَّهُ أَخَذَهُ وَجَعٌ فِي حَلْقِهِ يُقَالُ لَهُ: الذُّبْحَةُ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَأُبْلِغَنَّ أَوْ لَأُبْلِيَنَّ فِي أَبِي أُمَامَةَ عُذْرًا" , فَكَوَاهُ بِيَدِهِ فَمَاتَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِيتَةَ سَوْءٍ لِلْيَهُودِ , يَقُولُونَ: أَفَلَا دَفَعَ عَنْ صَاحِبِهِ , وَمَا أَمْلِكُ لَهُ وَلَا لِنَفْسِي شَيْئًا".
محمد بن عبدالرحمٰن بن اسعد بن زرارہ انصاری سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے چچا یحییٰ بن اسعد بن زرارہ سے سنا، اور ان کا کہنا ہے کہ اپنوں میں ان جیسا متقی و پرہیزگار مجھے کوئی نہیں ملا لوگوں سے بیان کرتے تھے کہ سعد بن زرارہ ۱؎ (جو محمد بن عبدالرحمٰن کے نانا تھے) کو ایک بار حلق کا درد ہوا، اس درد کو «ذُبحہ» کہا جاتا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ابوامامہ (یعنی! اسعد رضی اللہ عنہ) کے علاج میں اخیر تک کوشش کرتا رہوں گا تاکہ کوئی عذر نہ رہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ہاتھ سے داغ دیا، پھر ان کا انتقال ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود بری موت مریں، اب ان کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اپنے ساتھی کو موت سے کیوں نہ بچا لیا، حالانکہ نہ میں اس کی جان کا مالک تھا، اور نہ اپنی جان کا ذرا بھی مالک ہوں ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3492]
حضرت محمد بن عبدالرحمن بن سعد بن زرارہ انصاری اپنے چچا یحییٰ بن سعد بن زرارہ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ محمد رضی اللہ عنہ کے نانا حضرت سعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کو حلق میں درد ہوا جسے «الذَّبَحُ» (ذبح) کہتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ابو امامہ (سعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ) کے علاج کی پوری کوشش کروں گا حتی کہ معاملہ میرے بس سے باہر ہو جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ہاتھ سے داغا لیکن وہ (جان بر نہ ہو سکے اور) فوت ہو گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہودیوں کو بری موت نصیب ہو! وہ کہتے ہیں: اس (نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اپنے ساتھی کی جان کیوں نہ بچا لی؟ میں تو اس کے لیے یا اپنے لیے (اللہ کے فیصلے کے مقابلے میں) کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3492]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11821، ومصباح الزجاجة: 1217)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العین 5 (13) (حسن) دون قولہ: '' لأبلغن ''» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اسعد بن زرارہ یا سعد بن زرارہ اس کے لئے دیکھئے: تحفۃ الاشراف والاصابہ۔
۲؎: اسعد بن زرارہ انصار کے سردار تھے، بڑے مومن کامل تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں تک ہو سکا ان کا علاج کیا، لیکن موت میں کسی کا زرونہیں چلتا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہ اختیار نہ تھا کہ کسی کی موت آئے اور وہ روک دیں، لیکن یہودیوں کو جو شروع سے بے ایمان تھے، یہ کہنے کا موقع ملا کہ اگر یہ سچے رسول ہوتے تو اپنے ساتھی سے موت کو دور کر دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا رد کیا، اور فرمایا: رسول کو اس سے کیا علاقہ؟ مجھ کو خود اپنی جان پر اختیار نہیں ہے، تو بھلا دوسرے کی جان پر کیا ہو گا، اور افسوس ہے کہ یہودی اتنا نہ سمجھے کہ اگلے تمام انبیاء و رسل جب ان کی موت آئی فوت ہو گئے بلکہ ہارون علیہ السلام جو موسیٰ کے بھائی تھے، موسیٰ کی زندگی میں فوت ہوئے اور موسیٰ علیہ السلام ان کو نہ بچا سکے،بھلا امر الٰہی کو کوئی روک سکتا ہے، ولی ہوں یا نبی، اللہ تعالی کے سامنے سب عاجز بندے اور غلام ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن دون ميتة سوء
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں