🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. بَابُ: الْكَمْأَةِ وَالْعَجْوَةِ
باب: کھمبی اور عجوہ کھجور کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3455
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا الْكَمْأَةَ , فَقَالُوا: هُوَ جُدَرِيُّ الْأَرْضِ , فَنُمِيَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ , وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ , وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السَّمِّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گفتگو کر رہے تھے کہ کھمبی کا ذکر آ گیا، تو لوگوں نے کہا: وہ تو زمین کی چیچک ہے، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھمبی «منّ» میں سے ہے، اور عجوہ کھجور جنت کا پھل ہے، اور اس میں زہر سے شفاء ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3455]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بات چیت کر رہے تھے، کھمبی کا ذکر آ گیا۔ بعض حضرات نے کہا: یہ تو زمین کی چیچک ہے۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ، وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ» کھمبی من (کی قسموں میں) سے (ایک قسم) ہے اور عجوہ کھجور جنت سے ہے اور وہ زہر سے شفا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3455]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطب 22 (2068)، (تحفة الأشراف: 13496)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/301، 305، 356، 357، 421، 488، 490، 511)، سنن الدارمی/الرقاق 115 (2882) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3456
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا الْمُشْمَعِلُّ بْنُ إِيَاسٍ الْمُزَنِيُّ , حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ , قَالَ: سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ عَمْرٍو الْمُزَنِيَّ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" الْعَجْوَةُ وَالصَّخْرَةُ مِنَ الْجَنَّةِ" , قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: حَفِظْتُ الصَّخْرَةَ مِنْ فِيهِ.
رافع بن عمرو مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: عجوہ کھجور اور صخرہ یعنی بیت المقدس کا پتھر جنت کی چیزیں ہیں۔ عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں: لفظ «صخرہ» میں نے ان کے منہ سے سن کر یاد کیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3456]
حضرت رافع بن عمرو مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد سنا: عجوہ اور صخرہ جنت سے (آئے) ہیں۔ حضرت عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ نے کہا: میں نے صخرہ کا لفظ خود اپنے استاد (مشمعل بن ایاس مزنی رضی اللہ عنہ) کے منہ سے سنا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3456]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3598، ومصباح الزجاجة: 1203)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/426، 5/31، 65) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (مشعمل نے کبھی «الصخرة» کہا اور کبھی «الشجرہ» اس اضطراب کی وجہ سے یہ ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ: السَّنَا وَالسَّنُّوتِ
باب: سنا اور سنوت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3457
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ سَرْحٍ الْفِرْيَابِيُّ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ بَكْرٍ السَّكْسَكِيُّ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُبَيِّ بْنَ أُمِّ حَرَامٍ , وَكَانَ قَدْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَتَيْنِ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" عَلَيْكُمْ بِالسَّنَى وَالسَّنُّوتِ , فَإِنَّ فِيهِمَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ , إِلَّا السَّامَ" , قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ: وَمَا السَّامُ؟ قَالَ:" الْمَوْتُ" , قَالَ عَمْرٌو: قَالَ ابْنُ أَبِي عَبْلَةَ: السَّنُّوتُ: الشِّبِتُّ , وقَالَ آخَرُونَ: بَلْ هُوَ الْعَسَلُ الَّذِي يَكُونُ فِي زِقَاقِ السَّمْنِ , وَهُوَ قَوْلُ الشَّاعِرِ: هُمُ السَّمْنُ بِالسَّنُّوتِ لَا أَلْسَ فِيهِمْ وَهُمْ يَمْنَعُونَ جَارَهُمْ أَنْ يُقَرَّدَا.
ابو ابی بن ام حرام رضی اللہ عنہا (وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھ چکے ہیں) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: «تمسنا» اور «سنوت» ۱؎ کا استعمال لازم کر لو، اس لیے کہ «سام» کے سوا ان میں ہر مرض کے لیے شفاء ہے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! «سام» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موت۔ عمرو کہتے ہیں کہ ابن ابی عبلہ نے کہا: «سنوت»: «سویے» کو کہتے ہیں، بعض دوسرے لوگوں نے کہا ہے کہ وہ شہد ہے جو گھی کی مشکوں میں ہوتا ہے، شاعر کا یہ شعر اسی معنی میں وارد ہے۔ «هم السمن بالسنوت لا ألس فيهم وهم يمنعون جارهم أن يقردا» وہ لوگ ملے ہوئے گھی اور شہد کی طرح ہیں ان میں خیانت نہیں، اور وہ لوگ تو اپنے پڑوسی کو بھی دھوکا دینے سے منع کرتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3457]
حضرت ابو ابی عبداللہ بن ام حرام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی ہے، انہوں نے بیان کیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «السَّنَا وَالسَّنُّوتُ» سنا اور سنوت اپناؤ، ان میں «السَّامُ» سام کے سوا ہر بیماری سے شفا ہے۔ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! سام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الْمَوْتُ» موت۔ ابن ابی عبلہ رحمہ اللہ نے فرمایا: سنوت سے مراد شبت (خوشبودار پتے جو کھانے میں ڈالے جاتے ہیں) ہے۔ دوسرے حضرات کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ شہد ہے جو گھی کی مشکوں میں رکھا گیا ہو۔ ایک شاعر کا شعر ہے: وہ لوگ شہد ملے گھی کی طرح ہیں، وہ خیانت نہیں کرتے (یا آپس میں نہیں لڑتے) اور اپنے ہمسائے کی حفاظت کرتے ہیں تاکہ اسے دھوکا نہ دیا جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3457]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11858، ومصباح الزجاجة: 1204) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: «سنا» : ایک مسہل (دست لانے والی) دو ا کا نام ہے، اور «سنوت» : سویا یا بعض لوگوں کے بقول شہد کو کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ: الصَّلاَةُ شِفَاءٌ
باب: نماز کے شفاء ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3458
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ , حَدَّثَنَا السَّرِيُّ بْنُ مِسْكِينٍ , حَدَّثَنَا ذَوَّادُ بْنُ عُلْبَةَ , عَنْ لَيْثٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: هَجَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَجَّرْتُ , فَصَلَّيْتُ , ثُمَّ جَلَسْتُ فَالْتَفَتَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" اشكمت درد؟" , قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" قُمْ فَصَلِّ , فَإِنَّ فِي الصَّلَاةِ شِفَاءً".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار دوپہر کو چلے، میں بھی چلا، تو میں نے نماز پڑھی پھر بیٹھ گیا، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے تو آپ نے فرمایا: «اشكمت درد» کیا پیٹ میں درد ہے؟ میں نے کہا: ہاں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اٹھو اور نماز پڑھو، اس لیے کہ نماز میں شفاء ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3458]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت (ظہر کی نماز کے اول وقت میں، مسجد میں) تشریف لے گئے۔ میں بھی اول وقت (مسجد میں) چلا گیا۔ میں نے (نفل) نماز پڑھی، پھر بیٹھ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: «أَشِكَمَت دَرْد؟» کیا تیرے پیٹ میں درد ہے؟ میں نے کہا: ہاں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اٹھ کر نماز پڑھ؛ کیونکہ نماز میں شفا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فارسی میں کہا: «أَشِكَمَت دَرْد؟» کیا تیرے پیٹ میں درد ہے؟ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3458]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14351، ومصباح الزجاجة: 1205)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/390، 403) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں ذوّاد بن علبہ اور لیث بن ابی سلیم دونوں ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ذواد: ضعيف عابد (تقريب: 1844) وتابعه الصلت بن الحجاج وعامة حديثه مناكير (ديوان الضعفاء للذهبي: 1969) وليث بن أبي سليم: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 501

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3458M
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْقَطَّانُ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ , حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ , حَدَّثَنَا ذَوَّادُ بْنُ عُلْبَةَ , فَذَكَرَ نَحْوَهُ , وَقَالَ فِيهِ:" اشكمت درد" , يَعْنِي: تَشْتَكِي بَطْنَكَ بِالْفَارِسِيَّةِ , قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: حَدَّثَ بِهِ رَجُلٌ لِأَهْلِهِ , فَاسْتَعْدَوْا عَلَيْهِ.
ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فارسی میں فرمایا «اشكمت درد» کیا تیرے پیٹ میں درد ہے؟ امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ایک آدمی نے یہ حدیث اپنے خاندان والوں کو سنائی تو انہوں نے (قاضی سے) اس کی شکایت کر دی۔ (حدیث کے ضعیف ہونے کی طرف اشارہ ہے)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3458M]
قال الشيخ الألباني: صحيح

11. بَابُ: النَّهْيِ عَنِ الدَّوَاءِ الْخَبِيثِ
باب: ناپاک دواؤں سے علاج کرنے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3459
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنِ الدَّوَاءِ الْخَبِيثِ , يَعْنِي: السُّمَّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپاک (یا حرام) دوا سے منع فرمایا، یعنی زہر سے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3459]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بری دوا سے منع فرمایا ہے، اس سے مراد زہر ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3459]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطب 10 (3870)، سنن الترمذی/الطب 7 (2075)، (تحفة الأشراف: 14346)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/305، 446، 478) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: دوسری روایت میں ہے کہ حرام سے دوا مت کرو، اور زہر سب حرام ہے اس مقدار میں جس سے مرنے کا اندیشہ ہو، بیہقی نے کہا: اگر یہ دونوں حدیثیں صحیح ہوں، تو مراد خبیث حرام سے مسکر ہے، یعنی جس چیز میں نشہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3460
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ شَرِبَ سُمًّا فَقَتَلَ نَفْسَهُ , فَهُوَ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے زہر پی کر اپنے آپ کو مار ڈالا، تو وہ اسے جہنم میں بھی پیتا رہے گا جہاں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3460]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے زہر پی کر خود کشی کر لی وہ جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ ابد تک زہر پیتا رہے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3460]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 47 (175)، سنن الترمذی/الطب 7 (2044)، (تحفة الأشراف: 12466)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطب 56 (5778)، سنن ابی داود/الطب 11 (3872)، سنن النسائی/الجنائز 68 (1976)، مسند احمد (2/254، 478، 488)، سنن الدارمی/الدیات 10 (2407) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ: دَوَاءِ الْمَشْيِ
باب: دست لانے والی دوا کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3461
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ , عَنْ زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ مَوْلًى لِمَعْمَرٍ التَّيْمِيِّ , عَنْ مَعْمَرٍ التَّيْمِيِّ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ , قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِمَاذَا كُنْتِ تَسْتَمْشِينَ؟" , قُلْتُ: بِالشُّبْرُمِ , قَالَ:" حَارٌّ جَارٌّ" , ثُمَّ اسْتَمْشَيْتُ بِالسَّنَى , فَقَالَ:" لَوْ كَانَ شَيْءٌ يَشْفِي مِنَ الْمَوْتِ , كَانَ السَّنَي وَالسَّنَي شِفَاءٌ مِنَ الْمَوْتِ".
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: تم مسہل کس چیز کا لیتی تھی؟ میں نے عرض کیا: «شبرم» سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تو بہت گرم ہے، پھر میں «سنا» کا مسہل لینے لگی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی چیز موت سے نجات دے سکتی تو وہ «سنا» ہوتی، «سنا» ہر قسم کی جان لیوا امراض سے شفاء دیتی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3461]
حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم کون سی چیز سے جلاب لیتی ہو؟ میں نے کہا: «شُبْرُم» سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو بہت گرم ہے۔ پھر میں نے اس مقصد کے لیے سنا مکی استعمال کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی چیز موت سے بچا سکتی تو وہ سنا ہوتی، اور سنا موت سے شفا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3461]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطب 30 (2081)، (تحفة الأشراف: 15759)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/369) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (زرعہ بن عبد الرحمن مجہول اورمولی معمر مبہم راوی ہیں)
وضاحت: ۱؎: ایک گرم اور سخت قسم کا چنے کے برابر دانہ ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مولي لمعمر التيمي ھو عتبة بن عبد اللّٰه ومن طريقه أخرجه الترمذي (2081) وفي سماعه من أسماء نظر وللحديث طريق آخر ضعيف عند الحاكم (200/4،201) فيه ابن جريج عنعن
تنبيه: قوله: ’’ عن معمر التيمي ‘‘ وهم في جميع النسخ والصواب عدمه كما في تحفة الأشراف وغيره ومعمر ھذا لم أجد له ترجمة !
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 501

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ: دَوَاءِ الْعُذْرَةِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْغَمْزِ
باب: حلق کے ورم کی دوا کا بیان اور حلق دبانے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3462
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَة , وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ , قَالَتْ: دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ , فَقَالَ:" عَلَامَ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْعِلَاقِ؟ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ , فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ يُسْعَطُ بِهِ مِنَ الْعُذْرَةِ , وَيُلَدُّ بِهِ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ".
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اپنے بچے کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اور اس سے پہلے میں نے «عذرہ» ۱؎ (ورم حلق) کی شکایت سے اس کا حلق دبایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: آخر کیوں تم لوگ اپنے بچوں کے حلق دباتی ہو؟ تم یہ عود ہندی اپنے لیے لازم کر لو، اس لیے کہ اس میں سات بیماریوں کا علاج ہے، اگر «عذرہ» ۱؎ (ورم حلق) کی شکایت ہو تو اس کو ناک ٹپکایا جائے، اور اگر «ذات الجنب» ۲؎ (نمونیہ) کی شکایت ہو تو اسے منہ سے پلایا جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3462]
حضرت ام قیس (آمنہ) بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں اپنے ایک بچے کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ اس کو گلے پڑ گئے تھے اور میں نے انہیں انگلی سے دبایا تھا (جو اس بیماری کا رائج علاج تھا۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس بیماری کا علاج بچوں کا گلا انگلی سے دبا کر کیوں کرتی ہو؟ «الْعُودُ الْهِنْدِيُّ» عود ہندی استعمال کیا کرو۔ اس میں سات شفائیں ہیں۔ گلے پڑ جانے کی صورت میں ناک میں ٹپکایا جائے، «ذَاتُ الْجَنْبِ» ذات الجنب کی صورت میں پلایا جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3462]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطب 10 (5692)، 21 (5713)، 23 (5715)، 26 (5718)، صحیح مسلم/السلام 28 (2214)، سنن ابی داود/الطب 13 (3877)، (تحفة الأشراف: 18343)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/355، 356) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: «عذرہ» : ایک ورم ہے حلق میں بچوں کو اکثر ہو جاتا ہے، عورتیں دبا کر انگلی سے اس کا علاج کرتی ہیں۔
۲؎: «ذات الجنب» : ایک بیماری ہے جسے نمونیہ کہا جاتا ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3462M
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , أَنْبَأَنَا يُونُسُ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بِنَحْوِهِ , قَالَ يُونُسُ: أَعْلَقْتُ يَعْنِي: غَمَزْتُ.
اس سند سے بھی ام قیس رضی اللہ عنہا سے اسی طرح روایت مرفوعاً وارد ہے، یونس کہتے ہیں: «أعلقت» کے معنی ہیں «غمزت» یعنی میں نے دبایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3462M]