🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. بَابُ: الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ
باب: بخار جہنم کی بھاپ ہے، اسے پانی سے ٹھنڈا کرو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3473
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ , حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ , عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ , قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ" , فَدَخَلَ عَلَى ابْنٍ لِعَمَّارٍ , فَقَالَ:" اكْشِفِ الْبَاسَ , رَبَّ النَّاسِ , إِلَهَ النَّاسِ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بخار جہنم کی بھاپ ہے، لہٰذا اسے پانی سے ٹھنڈا کرو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمار کے ایک لڑکے کے پاس تشریف لے گئے (وہ بیمار تھا) اور یوں دعا فرمائی: «اكشف الباس رب الناس إله الناس» لوگوں کے رب، لوگوں کے معبود! (اے اللہ) تو اس بیماری کو دور فرما۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3473]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمان سنا: بخار جہنم کی بھاپ سے ہے، لہٰذا اسے پانی کے ذریعے سے ٹھنڈا کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمار کے ایک بیٹے کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: «اِكْشِفِ الْبَأْسَ، رَبَّ النَّاسِ، اِلٰهَ النَّاسِ» تکلیف دور کر دے، اے لوگوں کے مالک! اے لوگوں کے معبود! [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3473]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ بدء الخلق 10 (3262)، صحیح مسلم/السلام 26 (2212)، سنن الترمذی/الطب 25 (2073)، (تحفة الأشراف: 3562)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/463، 4/141)، سنن الدارمی/الرقاق 55 (2811) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3474
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ , أَنَّهَا كَانَتْ تُؤْتَى بِالْمَرْأَةِ الْمَوْعُوكَةِ , فَتَدْعُو بِالْمَاءِ فَتَصُبُّهُ فِي جَيْبِهَا , وَتَقُولُ: إِنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" ابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ" , وَقَالَ" إِنَّهَا مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ".
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے پاس بخار کی مریضہ ایک عورت لائی جاتی تھی، تو وہ پانی منگواتیں، پھر اسے اس کے گریبان میں ڈالتیں، اور کہتیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اسے پانی سے ٹھنڈا کرو نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ یہ جہنم کی بھاپ ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3474]
حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب کسی بخار والی عورت کو ان کے پاس لایا جاتا تو وہ پانی طلب فرماتیں اور اسے اس (مریض عورت) کے گریبان میں ڈال دیتیں، اور فرماتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اسے پانی کے ذریعے سے ٹھنڈا کرو اور فرمایا ہے: یہ بخار جہنم کی بھاپ میں سے ہے- [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3474]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطب 28 (5724)، صحیح مسلم/السلام 26 (2211)، سنن الترمذی/الطب 25 (2074)، (تحفة الأشراف: 15744) وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العین 6 (15)، مسند احمد (6/346) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3475
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" الْحُمَّى كِيرٌ مِنْ كِيرِ جَهَنَّمَ , فَنَحُّوهَا عَنْكُمْ بِالْمَاءِ الْبَارِدِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بخار جہنم کی بھٹیوں میں سے ایک بھٹی ہے لہٰذا اسے ٹھنڈے پانی سے دور کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3475]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بخار جہنم کی ایک دھونکنی ہے۔ اسے ٹھنڈے پانی کے ذریعے سے دور ہٹاؤ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3475]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12261، ومصباح الزجاجة: 1210) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. بَابُ: الْحِجَامَةِ
باب: حجامت (پچھنا لگوانے) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3476
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِمَّا تَدَاوَوْنَ بِهِ خَيْرٌ , فَالْحِجَامَةُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جن چیزوں سے تم علاج کرتے ہو اگر ان میں سے کسی میں خیر ہے تو پچھنے میں ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3476]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جن چیزوں سے تم علاج کرتے ہو، اگر ان میں سے کسی میں بھلائی (اور فائدہ ہے) تو وہ (سینگی لگوانے میں) ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3476]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطب 3 (3857)، (تحفة الأشراف: 10511)، وقد أخرجہ، مسند احمد (2/242، 423) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: پچھنا لگوانے کے کافی فوائد ہیں، بالخصوص جب بدن میں خون کی کثرت ہو تو یہ نہایت مفید ہوتا ہے، اور بعض امراض میں اس سے اللہ تعالیٰ کے حکم سے فوراً آرام ہو جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3477
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ , حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ , حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" مَا مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي بِمَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ , إِلَّا كُلُّهُمْ , يَقُولُ لِي: عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ بِالْحِجَامَةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معراج کی رات میرا گزر فرشتوں کی جس جماعت پر بھی ہوا اس نے یہی کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ پچھنے کو لازم کر لیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3477]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے سیر کرائی گئی (اور معراج ہوئی)، میں فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرا، وہ سب مجھے یہی کہتے رہے: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سینگی لگوایا کریں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3477]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطب 12 (2053)، (تحفة الأشراف: 6138)، وقد أخرجہ: (1/354) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں عباد بن منصور صدوق اور مدلس ہیں، اور آخری عمر میں حافظہ میں تبدیلی پیدا ہو گئی تھی، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: حدیث 3479، وحدیث ابن عمر فی مسند البزار و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2263)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2053)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3478
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى , حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نِعْمَ الْعَبْدُ الْحَجَّامُ , يَذْهَبُ بِالدَّمِ , وَيُخِفُّ الصُّلْبَ , وَيَجْلُو الْبَصَرَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھنا لگانے والا بہت بہتر شخص ہے کہ وہ خون نکال دیتا ہے، کمر کو ہلکا اور نگاہ کو تیز کرتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3478]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سینگی لگانے والا کتنا اچھا بندہ ہے، وہ خون لے جاتا ہے، کمر کو ہلکا کرتا ہے اور بینائی کو تیز کرتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3478]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطب 12 (2053)، (تحفة الأشراف: 2053) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں عباد بن منصور صدوق اور مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز آخری عمر میں حافظہ میں تبدیلی آ گئی تھی، ترمذی نے حدیث کی تحسین کی ہے، اور حاکم نے تصحیح، اور ان کی موافقت ذہبی نے ایک جگہ (4؍212) کی ہے، اور دوسری جگہ نہیں (4؍410)، البانی صاحب نے اس کو ذہبی کا وہم بتایا ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2036)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2053)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3479
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ , حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ , سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي بِمَلَإٍ , إِلَّا قَالُوا: يَا مُحَمَّدُ , مُرْ أُمَّتَكَ بِالْحِجَامَةِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس رات معراج ہوئی میرا گزر فرشتوں کی جس جماعت پر ہوا اس نے کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اپنی امت کو پچھنا لگانے کا حکم دیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3479]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے اسراء (اور معراج) ہوئی، میں (فرشتوں کی) جس جماعت کے پاس سے گزرا، انہوں نے کہا: حضرت محمد! اپنی امت کو سینگی لگوانے کا حکم دیجیے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3479]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1448، ومصباح الزجاجة: 1211) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں جبارہ اور کثیر بن سلیم ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: حدیث: 3478)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
جبارة وكثير بن سليم مجروحان
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3480
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ , أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , اسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحِجَامَةِ ," فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا" , وَقَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ كَانَ أَخَاهَا مِنَ الرِّضَاعَةِ أَوْ غُلَامًا لَمْ يَحْتَلِمْ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھنا لگانے کی اجازت طلب کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطیبہ کو حکم دیا کہ وہ انہیں پچھنا لگائے، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ ابوطیبہ یا تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھائی تھے یا پھر نابالغ لڑکے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3480]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سینگی لگوانے کی اجازت طلب کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طیبہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ انہیں سینگی لگا دیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: میرے خیال میں ابو طیبہ رضی اللہ عنہ ام المومنین کے رضاعی بھائی تھے، یا نابالغ لڑکے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3480]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/السلام 26 (2206)، سنن ابی داود/اللباس 35 (4105)، (تحفة الأشراف: 2909)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/350) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ورنہ اجنبی مرد کو آپ پچھنے لگانے کا کیسے حکم دیتے، اگرچہ ضرورت کے وقت بیماری کے مقام کو طبیب کا دیکھنا جائز ہے بیماری کے مقام کی طرف۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابُ: مَوْضِعِ الْحِجَامَةِ
باب: حجامت (پچھنا لگوانے) کی جگہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3481
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ , حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجَ , قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُحَيْنَةَ , يَقُولُ:" احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بِلَحْيِ جَمَلٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَسَطَ رَأْسِهِ".
عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حالت میں مقام لحی جمل میں اپنے سر کے بیچ میں پچھنا لگوایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3481]
حضرت عبداللہ (بن مالک) ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لحی جمل کے مقام پر احرام کی حالت میں سر کے درمیان (تالو میں) سینگی لگوائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3481]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/جزاء الصید 11 (1836)، الطب 14 (5698)، صحیح مسلم/الحج 11 (1203)، سنن النسائی/الحج 95 (2853)، (تحفة الأشراف: 9156)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/345)، سنن الدارمی/المناسک 20 (1861) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3482
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , عَنْ سَعْدٍ الْإِسْكَافِ , عَنْ الْأَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَةَ , عَنْ عَلِيٍّ , قَالَ:" نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِجَامَةِ الْأَخْدَعَيْنِ وَالْكَاهِلِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام گردن کی دونوں رگوں اور دونوں مونڈھوں کے درمیان کی جگہ پر پچھنا لگانے کا حکم لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3482]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت جبریل علیہ السلام نے نازل ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گردن کی رگوں پر اور دونوں کندھوں کے درمیان (گردن کے قریب) سینگی لگوانے کی ہدایت کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3482]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10025، ومصباح الزجاجة: 1212) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏» ‏‏‏‏ (سند میں سوید بن سعید، سعد الاسکاف دونوں ضعیف ہیں، اور اصبغ بن نباتہ متروک ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
الأصبغ بن نباتة وسعد الأسكاف: متروكان (تقريب: 537،2241) ورميا بالرفض
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں