🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. بَابُ: أَبْوَالِ الإِبِلِ
باب: اونٹ کے پیشاب کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3503
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ , عَنْ أَنَسٍ , أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدٍ لَنَا , فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا" فَفَعَلُوا.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ آئے، انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہ آئی، اور بیمار ہو گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کے دودھ اور پیشاب پیتے (تو اچھا ہوتا)، تو انہوں نے ایسا ہی کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3503]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ افراد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اگر تم ہمارے اونٹوں کے ریوڑ میں چلے جاؤ اور ان کا دودھ اور پیشاب پیو (تو صحت یاب ہو جاؤ گے)، چنانچہ انہوں نے ایسے ہی کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3503]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 67 (237)، الزکاة 68 (1501)، الجہاد 152 (3018)، المغازي 37 (4192، 4193)، الطب 5 (5685)، 6 (5686)، 29 (5727)، الحدود 1 (6802)، 2 (6803)، 3 (6804)، 4 (6805)، الدیات 22 (6899)، صحیح مسلم/القسامة 2 (1671)، سنن الترمذی/الحدود 3 (4364)، الأطعمة 38 (1845)، الطب 6 (2042)، سنن النسائی/الطہارة 191 (306)، (تحفة الأشراف: 728)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/161، 163، 170، 233) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 2578)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اونٹ کے پیشاب سے علاج کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مباح قرار دیا، لہذا ونٹ کے پیشاب کو شراب پر قیاس نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ شراب کے حرام ہونے اور اونٹ کے پیشاب کے مباح ہونے کے سلسلہ میں احادیث الگ الگ وارد ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. بَابُ: الذُّبَابِ يَقَعُ فِي الإِنَاءِ
باب: برتن میں مکھی گر جائے تو کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3504
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" فِي أَحَدِ جَنَاحَيِ الذُّبَابِ سُمٌّ , وَفِي الْآخَرِ شِفَاءٌ , فَإِذَا وَقَعَ فِي الطَّعَامِ فَامْقُلُوهُ فِيهِ , فَإِنَّهُ يُقَدِّمُ السُّمَّ , وَيُؤَخِّرُ الشِّفَاءَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکھی کے ایک پر میں زہر اور دوسرے میں شفاء ہے، اگر وہ کھانے میں گر جائے تو اسے اس میں پوری طرح ڈبو دو، اس لیے کہ وہ زہر والا پر آگے رکھتی ہے (اور وہی کھانے میں ڈالتی ہے) اور شفاء والا پیچھے رکھتی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3504]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکھی کے ایک پر میں زہر اور دوسرے میں شفا ہے۔ جب وہ کھانے (یا پینے) میں گر پڑے تو اسے اس میں ڈبو دو، (پھر نکال کر پھینک دو) کیونکہ وہ زہر (والا پر) آگے اور شفا (والا پر) پیچھے رکھتی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3504]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الفرع والعتیرة 10 (4267)، (تحفة الأشراف: 4426، ومصباح الزجاجة: 1222)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/24، 67) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3505
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ , عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ , عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي شَرَابِكُمْ فَلْيَغْمِسْهُ فِيهِ , ثُمَّ لِيَطْرَحْهُ , فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً , وَفِي الْآخَرِ شِفَاءً".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے پینے کی چیز میں مکھی گر جائے تو اسے اس میں پوری طرح ڈبو دو، پھر نکال کر پھینک دو، اس لیے کہ اس کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے میں شفاء ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3505]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے (کسی) کے مشروب میں مکھی گر پڑے تو اسے چاہیے کہ اس میں ڈبو دے، پھر (باہر نکال کر) پھینک دے کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے میں شفا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3505]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/بدء الخلق 17 (3320)، الطب 58 (5782)، سنن ابی داود/الأطعمة 49 (3844)، (تحفة الأشراف: 14126)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/229، 246، 443)، سنن الدارمی/الأطعمة 12 (2081) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. بَابُ: الْعَيْنِ
باب: نظر بد کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3506
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ , حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى , عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ هِنْدٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" الْعَيْنُ حَقٌّ".
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نظر کا لگنا حقیقت ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3506]
حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نظر کا لگنا حقیقت ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3506]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5037، ومصباح الزجاجة: 1223)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/274، 294، 2/222، 289، 319، 3/447) (صحیح متواتر)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح متواتر
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3507
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ , عَنْ الْجُرَيْرِيِّ , عَنْ مُضَارِبِ بْنِ حَزْنٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْعَيْنُ حَقٌّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نظر کا لگنا حقیقت ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3507]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نظر کا لگنا حقیقت ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3507]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14613)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطب 36 (5740)، صحیح مسلم/السلام 16 (2187)، سنن ابی داود/الطب 15 (3879)، مسند احمد (2/319) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3508
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ , حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ , عَنْ أَبِي وَاقِدٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ , فَإِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی پناہ طلب کرو، اس لیے کہ نظر بد حق ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3508]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (نظر سے) اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ نظر کا لگنا ایک حقیقت ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3508]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17725، ومصباح الزجاجة: 1224) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں ابو واقد ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہدکی بنا پر صحیح ہے، اور اصل حدیث متواتر ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو واقد صالح بن محمد بن زائدة: ضعيف
والحديث السابق (الأصل: 3507) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 503

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3509
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ , قَالَ: مَرَّ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ , بِسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ وَهُوَ يَغْتَسِلُ , فَقَالَ: لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ وَلَا جِلْدَ مُخَبَّأَةٍ , فَمَا لَبِثَ أَنْ لُبِطَ بِهِ , فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ لَهُ: أَدْرِكْ سَهْلًا صَرِيعًا , قَالَ:" مَنْ تَتَّهِمُونَ بِهِ؟" , قَالُوا: عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ , قَالَ:" عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مِنْ أَخِيهِ مَا يُعْجِبُهُ , فَلْيَدْعُ لَهُ بِالْبَرَكَةِ" , ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ , فَأَمَرَ عَامِرًا أَنْ يَتَوَضَّأَ , فَيَغْسِلْ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ , وَرُكْبَتَيْهِ وَدَاخِلَةَ إِزَارِهِ , وَأَمَرَهُ أَنْ يَصُبَّ عَلَيْهِ , قَالَ سُفْيَانُ : قَالَ مَعْمَرٌ : عَنْ الزُّهْرِيِّ : وَأَمَرَهُ أَنْ يَكْفَأَ الْإِنَاءَ مِنْ خَلْفِهِ.
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کا گزر سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ (ابوامامہ کے باپ) کے پاس ہوا، سہل رضی اللہ عنہ اس وقت نہا رہے تھے، عامر نے کہا: میں نے آج کے جیسا پہلے نہیں دیکھا، اور نہ پردہ میں رہنے والی کنواری لڑکی کا بدن ایسا دیکھا، سہل رضی اللہ عنہ یہ سن کر تھوڑی ہی دیر میں چکرا کر گر پڑے، تو انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، اور عرض کیا گیا کہ سہل کی خبر لیجئیے جو چکرا کر گر پڑے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم لوگوں کا گمان کس پر ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کہ عامر بن ربیعہ پر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس بنیاد پر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے، جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی کسی ایسی چیز کو دیکھے جو اس کے دل کو بھا جائے تو اسے اس کے لیے برکت کی دعا کرنی چاہیئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا، اور عامر کو حکم دیا کہ وضو کریں، تو انہوں نے اپنا چہرہ اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک، اور اپنے دونوں گھٹنے اور تہبند کے اندر کا حصہ دھویا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سہل رضی اللہ عنہ پر وہی پانی ڈالنے کا حکم دیا۔ سفیان کہتے ہیں کہ معمر کی روایت میں جو انہوں نے زہری سے روایت کی ہے اس طرح ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ برتن کو ان کے پیچھے سے ان پر انڈیل دیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3509]
حضرت ابو امامہ (اسعد) بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نہا رہے تھے کہ حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ گزرے، انہوں نے (سہل کو دیکھ کر) کہا: جیسا (خوش رنگ جسم) آج دیکھا ہے، (پہلے) کبھی نہیں دیکھا۔ کسی پردہ نشین (کنواری لڑکی) کی جلد بھی ایسی (خوش رنگ) نہیں (ہوتی)۔ وہ فوراً ہی زمین پر گر پڑے (اچانک تیز بخار ہوا کہ کھڑے نہ رہ سکے)۔ انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا اور کہا گیا: سہل رضی اللہ عنہ کی خبر لیجیے، وہ تو گر پڑے ہیں (اٹھ بھی نہیں سکتے)۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اس کے بارے میں کس پر شک ہے؟ لوگوں نے کہا: عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ (کی نظر لگی ہے)۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وجہ ہے کہ ایک آدمی اپنے بھائی کو قتل کرنے والی حرکت کرتا ہے؟ اگر کسی کو اپنے بھائی کی کوئی چیز نظر آئے جو اسے اچھی لگے تو اسے چاہیے کہ اسے برکت کی دعا دے۔ پھر پانی طلب فرمایا اور عامر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وضو کریں، چنانچہ انہوں نے اپنا چہرہ، ہاتھ کہنیوں تک، دونوں گھٹنے اور تہبند کا اندرونی حصہ دھویا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پانی سہل رضی اللہ عنہ پر ڈالنے کا حکم دیا۔ سفیان نے کہا: معمر نے امام زہری رحمہ اللہ سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: اور وہ برتن ان (سہل رضی اللہ عنہ) کے پیچھے سے (ان پر) انڈیل دیا جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3509]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 136، ومصباح الزجاجة: 1225)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العین 1 (1) مسند احمد (3/486) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
33. بَابُ: مَنِ اسْتَرْقَى مِنَ الْعَيْنِ
باب: نظر بد لگنے پر دم کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3510
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَامِرٍ , عَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ , قَالَ: قَالَتْ أَسْمَاءُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ بَنِي جَعْفَرٍ تُصِيبُهُمُ الْعَيْنُ , فَأَسْتَرْقِي لَهُمْ , قَالَ:" نَعَمْ فَلَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ , سَبَقَتْهُ الْعَيْنُ".
عبید بن رفاعہ زرقی کہتے ہیں کہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! جعفر کے بیٹوں کو نظر بد لگ جاتی ہے، کیا میں ان کے لیے دم کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اگر کوئی چیز لکھی ہوئی تقدیر پر سبقت لے جاتی تو نظر بد لے جاتی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3510]
حضرت عبید بن رفاعہ زرقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سیدتنا اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جعفر کے بیٹوں کو نظر لگ جاتی ہے، میں انہیں دم کروا لیا کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اگر کوئی چیز تقدیر کا مقابلہ کر سکتی تو نظر اس (تقدیر) سے آگے بڑھ جاتی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3510]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطب 17 (2059)، (تحفة الأشراف: 15758)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/438) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مقصد یہ ہے کہ نظر بد کا اثر نقصان دہ اور تکلیف پہنچانے والا ہوتا ہے، حتی کہ تقدیر کے خلاف اگر کوئی چیز پیش آ سکتی ہے اور وہ نقصان پہنچا سکتی ہے تو وہ نظر بد ہے، جس سے بچنے کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم معوذتین «قُل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» پڑھتے جو ہر بلا اور ہر بدنظری سے بچنے کے لئے مجرب ہیں، لبید بن عاصم یہودی نے جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے پر وہ گرہ دار بال بھی ایک اندھے کنویں سے منگوایا گیا، ایک ایک آیت ان سورتوں کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے جاتے تھے، اور ایک ایک گرہ کھلتی جاتی تھی، یہاں تک کہ سب گرہیں کھل گئیں، اور لبید یہودی کا سحر باطل ہوا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3511
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ عَبَّادٍ , عَنْ الْجُرَيْرِيِّ , عَنْ أَبِي نَضْرَةَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتَعَوَّذُ مِنْ: عَيْنِ الْجَانِّ وأَعْيُنِ الْإِنْسِ , فَلَمَّا نَزَلَتِ الْمُعَوِّذَتَانِ أَخَذَهُمَا وَتَرَكَ مَا سِوَى ذَلِكَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنوں کی نظر بد سے، پھر آدمیوں کی نظر بد سے پناہ مانگتے تھے، پھر جب معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) نازل ہوئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پڑھنا شروع کیا، اور باقی تمام چیزیں چھوڑ دیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3511]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنوں اور انسانوں کی نظر سے پناہ ملنے کی دعا کیا کرتے تھے، جب معوذتین ( ﴿سورة الفلق﴾ اور ﴿سورة الناس﴾) نازل ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اختیار فرما لیا اور ان کے علاوہ دوسری چیزیں چھوڑ دیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3511]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطب 16 (2058)، سنن النسائی/الإستعاذة 36 (5496)، (تحفة الأشراف: 4327) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2058) نسائي (5496)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 504

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3512
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , وَمِسْعَرٍ , عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَهَا أَنْ تَسْتَرْقِيَ مِنَ الْعَيْنِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نظر بد لگ جانے پر دم کرنے کا حکم دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3512]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نظر کا دم کروانے کا حکم دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3512]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطب 35 (5738)، صحیح مسلم/السلام 21 (2195)، (تحفة الأشراف: 16199)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/63، 138) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: امام شوکانی الدرر البہیۃ میں کہتے ہیں کہ جھاڑ پھونک میں کوئی حرج نہیں، نواب صدیق حسن الرروضۃ الندیۃ میں فرماتے ہیں کہ دم کرنے (جھاڑ پھونک) میں کچھ حرج نہیں اور شرعی قواعد اس سے مانع نہیں ہیں، بشرطیکہ اس میں شرک نہ ہوں، اور بالخصوص جب وہ قرآن یا حدیث سے ہو یا ان دونوں کے مشابہ اللہ تعالیٰ سے عاجزی اور گڑگڑانے والی دعائیں تو یہ جائز ہے، اور جن احادیث میں دم (جھاڑ پھونک) تعویذ اور تِوَلہ (یعنی وہ منتر جو عورت کو اس کے شوہر کے نزدیک پسندیدہ بنا دے، اور جو جادو وغیرہ کے ذریعے سے کیا جاتا ہے) سے ممانعت ہے، وہ شرک کے مضامین پر محمول ہیں یا اسباب پر زیادہ بھروسہ کرنا، اس طرح سے کہ انسان اللہ تعالیٰ سے غافل ہو جائے، اور شاہ ولی اللہ دہلوی المسوی شرح الموطأ میں فرماتے ہیں کہ جھاڑ پھونک کے بارے میں احادیث کا اختلاف ہے، ان میں جمع و تطبیق کی صورت یہ ہو گی کہ ان کو مختلف احوال پر محمول کیا جائے گا، تو ممنوع جھاڑ پھونک وہ ہے جس میں شرک ہے، یا جس میں بدمعاش شیطانوں کا ذکر ہوتا ہے، یا جو غیرعربی زبان میں ہوتے ہیں اور جن کا معنی معلوم نہیں ہوتا، اور شاید کہ اس میں جادو یا کفر موجود ہو، اور جو دم قرآن یا اللہ کے ذکر پر مشتمل ہو، وہ مستحب ہے۔ (الروضۃ الندیۃ ۳/۱۵۸)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں