سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ: دَوَاءِ عِرْقِ النَّسَا
باب: عرق النسا کی دوا کا بیان۔
حدیث نمبر: 3463
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , وَرَاشِدُ بْنُ سَعِيدٍ الرَّمْلِيُّ , قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ , حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ , أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" شِفَاءُ عِرْقِ النَّسَا , أَلْيَةُ شَاةٍ أَعْرَابِيَّةٍ تُذَابُ , ثُمَّ تُجَزَّأُ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ , ثُمَّ يُشْرَبُ عَلَى الرِّيقِ فِي كُلِّ يَوْمٍ جُزْءٌ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” «عرق النسا» ۱؎ کا علاج یہ ہے کہ جنگلی بکری کی (چربی) کی چکتی لی جائے اور اسے پگھلایا جائے، پھر اس کے تین حصے کئے جائیں، اور ہر حصے کو روزانہ نہار منہ پیا جائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3463]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «عِرْقُ النِّسَا» کا علاج یہ ہے کہ جنگلی بھیڑ (یا جنگلی دنبہ) کی چکتی کو لے کر پگھلا لیا جائے، پھر اس کے تین حصے کر لیے جائیں، پھر روزانہ ایک حصہ نہار منہ پی لیا جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3463]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 239، ومصباح الزجاجة: 1207)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/219) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «عرق النسا» ایک قسم کا درد ہے جو پیر کی ایک رگ میں ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
15. بَابُ: دَوَاءِ الْجِرَاحَةِ
باب: زخم کے علاج کا بیان۔
حدیث نمبر: 3464
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ , قَالَ:" جُرِحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ , وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ , وَهُشِمَتِ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسِهِ , فَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَغْسِلُ الدَّمَ عَنْهُ , وَعَلِيٌّ يَسْكِبُ عَلَيْهِ الْمَاءَ بِالْمِجَنِّ , فَلَمَّا رَأَتْ فَاطِمَةُ أَنَّ الْمَاءَ لَا يَزِيدُ الدَّمَ إِلَّا كَثْرَةً , أَخَذَتْ قِطْعَةَ حَصِيرٍ فَأَحْرَقَتْهَا حَتَّى إِذَا صَارَ رَمَادًا أَلْزَمَتْهُ الْجُرْحَ , فَاسْتَمْسَكَ الدَّمُ".
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے دن زخمی ہو گئے، آپ کے سامنے کا ایک دانت ٹوٹ گیا، اور خود ٹوٹ کر آپ کے سر میں گھس گیا تو فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کا خون دھو رہی تھیں اور علی رضی اللہ عنہ ڈھال سے پانی لا لا کر ڈال رہے تھے، جب فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ پانی کی وجہ سے خون بجائے رکنے کے بڑھتا ہی جاتا ہے تو چٹائی کا ایک ٹکڑا لے کر جلایا، جب وہ راکھ ہو گیا تو اسے زخم میں بھر دیا، اور اس طرح خون رک گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3464]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جنگِ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سامنے والا دانت ٹوٹ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرِ مبارک میں خود (لوہے کی ٹوپی) ٹوٹ کر گھس گئی۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک سے خون کو دھو کر صاف کرنے لگیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ڈھال میں پانی لا کر ڈال رہے تھے۔ جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ پانی ڈالنے سے خون اور زیادہ بہتا ہے تو انہوں نے ایک چٹائی کا ٹکڑا لے کر جلایا۔ جب اس کی راکھ بن گئی تو وہ زخم پر لگا دی، تب خون رک گیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3464]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 73 (243)، الجہاد 85 (2911)، الطب/27 (5722)، صحیح مسلم/الجہاد 37 (1790)، سنن الترمذی/الطب 34 (2085)، (تحفة الأشراف: 4706) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3465
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ , عَنْ عَبْدِ الْمُهَيْمِنِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ:" إِنِّي لَأَعْرِفُ يَوْمَ أُحُدٍ مَنْ جَرَحَ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَمَنْ كَانَ يُرْقِئُ الْكَلْمَ مِنْ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُدَاوِيهِ , وَمَنْ يَحْمِلُ الْمَاءَ فِي الْمِجَنِّ وَبِمَا دُووِيَ بِهِ الْكَلْمُ حَتَّى رَقَأَ , قَالَ: أَمَّا مَنْ كَانَ يَحْمِلُ الْمَاءَ فِي الْمِجَنِّ فَعَلِيٌّ , وَأَمَّا مَنْ كَانَ يُدَاوِي الْكَلْمَ فَفَاطِمَةُ , أَحْرَقَتْ لَهُ حِينَ لَمْ يَرْقَأْ قِطْعَةَ حَصِيرٍ خَلَقٍ , فَوَضَعَتْ رَمَادَهُ عَلَيْهِ فَرَقَأَ الْكَلْمُ".
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے معلوم ہے کہ غزوہ احد کے دن کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو زخمی کیا تھا؟ اور کون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے زخموں کو دھو رہا تھا، اور ان کا علاج کر رہا تھا؟ کون تھا جو ڈھال میں پانی بھر کر لا رہا تھا؟ اور کس چیز کے ذریعے آپ کے زخم کا علاج کیا گیا، یہاں تک کہ خون تھما، ڈھال میں پانی بھر کر لانے والے علی رضی اللہ عنہ تھے، زخموں کا علاج کرنے والی فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں، جب خون نہیں رکا تو انہوں نے پرانی چٹائی کا ایک ٹکڑا جلایا، اور اس کی راکھ زخم پر لگا دی، اس طرح زخم سے خون کا بہنا بند ہوا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3465]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”مجھے معلوم ہے کہ جنگِ احد کے موقع پر کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو زخمی کیا، اور کون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کے زخم کا خون بند کر رہا تھا اور زخم کا علاج کر رہا تھا، اور کون ڈھال میں پانی لا رہا تھا، اور زخم کا علاج کس چیز سے کیا گیا کہ خون بند ہو گیا۔“ پھر فرمایا: ”ڈھال میں پانی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ لا رہے تھے اور زخموں کا علاج حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کر رہی تھیں۔ جب خون بند نہ ہوا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پرانی چٹائی کا ایک ٹکڑا لے کر اس کی راکھ زخم پر رکھی تو زخم سے خون رک گیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3465]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4803) (صحیح)» (سند میں عبدالمہیمن ضعیف ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: مشہور یہ ہے کہ عبد اللہ بن قمیہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زخمی کیا، اور بعضوں نے کہا کہ چار ملعون کافروں (یعنی عبداللہ بن قمیہ اور عتبہ بن ابی وقاص اور عبد اللہ بن شہاب زہری، اور ابی بن خلف) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا عہد کیا تھا، امام نووی تہذیب الأسماء واللغات میں کہتے ہیں کہ عتبہ بن ابی وقاص وہی ہے جس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک زخمی کیا، اور احد کے دن آپ کا دانت توڑا میں نہیں جانتا کہ وہ مسلمان ہوا ہو، اور نہ آگے اس کو صحابہ میں ذکر کیا، اور بعضوں نے کہا وہ کافر مرا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد المھيمن بن عباس ضعيف
و الحديث السابق (الأصل: 3464) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502
إسناده ضعيف
عبد المھيمن بن عباس ضعيف
و الحديث السابق (الأصل: 3464) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502
16. بَابُ: مَنْ تَطَبَّبَ وَلَمْ يُعْلَمْ مِنْهُ طِبٌّ
باب: طب نہ جانتے ہوئے علاج معالجہ کرنے والے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3466
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , وَرَاشِدُ بْنُ سَعِيدٍ الرَّمْلِيُّ , قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَطَبَّبَ , وَلَمْ يُعْلَمْ مِنْهُ طِبٌّ قَبْلَ ذَلِكَ , فَهُوَ ضَامِنٌ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص علاج کرنے لگے حالانکہ اس سے پہلے اس کے طبیب ہونے کا کسی کو علم نہیں تھا، تو وہ ضامن (ذمہ دار) ہو گا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3466]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص علاج کرے، حالانکہ اس سے پہلے وہ طبیب کے طور پر معروف نہیں تو وہ ذمہ دار ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3466]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 25 (4586)، سنن النسائی/القسامة 34 (4834)، (تحفة الأشراف: 8746) (حسن)» (سند میں ابن جریج مدلس راوی ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، لیکن شاہد کی وجہ سے یہ حسن ہے)
وضاحت: ۱؎: اگر جان جاتی رہی تو اس کو آدھی دیت دینی ہو گی، اور جو کوئی عضو بیکار ہو جائے اس کی بھی دیت دینا ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4586) نسائي (4834)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4586) نسائي (4834)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502
17. بَابُ: دَوَاءِ ذَاتِ الْجَنْبِ
باب: ذات الجنب کی دوا کا بیان۔
حدیث نمبر: 3467
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ , حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاق , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْمُونٍ , حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ , قَالَ:" نَعَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ , وَرْسًا , وَقُسْطًا , وَزَيْتًا يُلَدُّ بِهِ".
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «ذات الجنب» کے علاج کے لیے یہ نسخہ بتایا کہ «ورس» اور «قسط» (عود ہندی) کو زیتون کے تیل میں ملا کر منہ میں ڈال دیا جائے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3467]
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «ذَاتِ الْجَنْبِ» (پسلی کے درد) کا علاج یہ تجویز فرمایا کہ ورس، عود ہندی اور زیتون کے تیل کا لدود کیا جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3467]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطب 28 (2078، 2079)، (تحفة الأشراف: 3684)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/369، 372)، (ضعیف)» (عبدالرحمن بن میمون اور ان کے والد میمون دونوں ضعیف راوی ہیں)
وضاحت: ۱؎: «ذات الجنب» : یعنی الوہ ایک ورم ہے جو پسلی میں ہوتا ہے، اور یہ مرض بہت سخت ہے جس سے اکثر موت ہو جاتی ہے۔ «ورس» : ایک زرد رنگ کی خوشبو دار گھاس، ان تینوں دواؤں کو ملا کر منہ میں ایک طرف ڈال دئیے جائیں، «لدود» اس دوا کو کہتے ہیں، جو بیمار کے منہ میں لگائی جائے تاکہ پیٹ میں چلی جائے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2078)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502
إسناده ضعيف
ترمذي (2078)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502
حدیث نمبر: 3468
حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , أَنْبَأَنَا يُونُسُ , وَابْنُ سَمْعَانَ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ , عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكُمْ بِالْعُودِ الْهِنْدِيِّ يَعْنِي: بِهِ الْكُسْتَ , فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ" , قَالَ ابْنُ سَمْعَانَ فِي الْحَدِيثِ:" فَإِنَّ فِيهِ شِفَاءً مِنْ سَبْعَةِ أَدْوَاءٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ".
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے «عود ہندی» کا استعمال لازمی ہے «کست» کا اس لیے کہ اس میں سات بیماریوں سے شفاء ہے، ان میں ایک «ذات الجنب» بھی ہے“۔ ابن سمعان کے الفاظ اس حدیث میں یہ ہیں: «فإن فيه شفاء من سبعة أدواء منها ذات الجنب» ”اس میں سات امراض کا علاج ہے، ان میں سے ایک مرض «ذات الجنب» ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3468]
حضرت ام قیس (آمنہ) بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «الْعُودَ الْهِنْدِيَّ» (عودِ ہندی) (علاج کے لیے) اختیار کرو، اس میں سات شفائیں ہیں (سات امراض کی شفا ہے)، ان میں سے ایک (بیماری) «ذَاتُ الْجَنْبِ» (ذات الجنب) ہے۔“ ابن سمعان نے اپنی روایت میں بیان کیا ہے کہ ”عودِ ہندی میں سات بیماریوں کی شفا ہے، ان میں سے ایک (بیماری) ذات الجنب ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3468]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطب 21 (5713)، صحیح مسلم/السلام 28 (2214)، سنن ابی داود/الطب 13 (3877)، (تحفة الأشراف: 18343)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/355، 356) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
18. بَابُ: الْحُمَّى
باب: بخار کا بیان۔
حدیث نمبر: 3469
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ , عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ , عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: ذُكِرَتِ الْحُمَّى عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَّهَا رَجُلٌ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَسُبَّهَا , فَإِنَّهَا تَنْفِي الذُّنُوبَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْحَدِيدِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بخار کا ذکر آیا تو ایک شخص نے بخار کو گالی دی (برا بھلا کہا)، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے گالی نہ دو (برا بھلا نہ کہو) اس لیے کہ اس سے گناہ اس طرح ختم ہو جاتے ہیں جیسے آگ سے لوہے کا کچرا صاف ہو جاتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3469]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بخار کا ذکر ہوا تو ایک آدمی نے اسے برا بھلا کہا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس (بخار) کو برا نہ کہو، اس سے گناہ اس طرح دور ہو جاتے ہیں جس طرح آگ سے لوہے کی میل کچیل دور ہو جاتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3469]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12270، ومصباح الزجاجة: 1208) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: 394)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ:
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ:
حدیث نمبر: 3470
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْأَشْعَرِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ عَادَ مَرِيضًا وَمَعَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ مِنْ وَعْكٍ كَانَ بِهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْشِرْ فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: هِيَ نَارِي أُسَلِّطُهَا عَلَى عَبْدِي الْمُؤْمِنِ فِي الدُّنْيَا , لِتَكُونَ حَظَّهُ مِنَ النَّارِ فِي الْآخِرَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بخار کے ایک مریض کی عیادت کی، آپ کے ساتھ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خوش ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یہ میری آگ ہے، میں اسے اپنے مومن بندے پر اس دنیا میں اس لیے مسلط کرتا ہوں تاکہ وہ آخرت کی آگ کا بدل بن جائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3470]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک بیمار کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے جسے بخار تھا، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی ساتھ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مریض سے) فرمایا: ”خوش ہو جاؤ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بخار میری آگ ہے جسے دنیا میں اپنے مومن بندے پر مسلط کرتا ہوں تاکہ آخرت میں جہنم کے عذاب کے عوض اس کا حصہ اس (بخار) کو قرار دیا جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3470]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15439، ومصباح الزجاجة: 1209)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/440) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
19. بَابُ: الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ
باب: بخار جہنم کی بھاپ ہے، اسے پانی سے ٹھنڈا کرو۔
حدیث نمبر: 3471
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ , فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار جہنم کی بھاپ ہے، لہٰذا اسے پانی سے ٹھنڈا کرو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3471]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار جہنم کی بھاپ سے ہے، لہٰذا اسے پانی کے ذریعے سے ٹھنڈا کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3471]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/السلام 26 (2210)، (تحفة الأشراف: 16987)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطب 28 (5725)، وبدء الخلق 10 (3263)، سنن الترمذی/الطب 25 (2074)، مسند احمد (6/50) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: خود حدیث دلالت کرتی ہے کہ یہاں وہ بخار مراد ہے جو گرمی سے ہو، کیونکہ پانی سے وہی ٹھنڈا ہو گا،اور جو بخار سردی سے ہو گا اس میں تو آگ سے گرم کرنا مفید ہو گا، اور بخار جہنم کی آگ سے ہے، اس میں کوئی اشکال نہیں کیونکہ دوسری حدیث میں ہے کہ گرمی اور سردی دونوں جہنم کی سانس سے ہوتی ہیں، گرمی تو اس حصہ جہنم کی بھاپ سے ہوتی ہیں جو گرم انگار ہے، اور سردی اس حصے کی بھاپ سے ہے جو زمہریر ہے، اور بخار ہمیشہ یا گرمی کی وجہ سے ہوتا ہے یا سردی سے پس یہ کہنا بالکل صحیح ہوا کہ بخار جہنم کی بھاپ سے ہے کیونکہ سبب کا ایک سبب ہوتا ہے، اور علت کی علت خود علت ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3472
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ شِدَّةَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ , فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے لہٰذا اسے پانی سے ٹھنڈا کرو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3472]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار جہنم کی بھاپ میں سے (ایک قسم) ہے، لہٰذا اسے پانی کے ذریعے سے ٹھنڈا کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3472]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/السلام 26 (2209)، (تحفة الأشراف: 7954)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطب 28 (5723)، بدء الخلق 10 (3264)، موطا امام مالک/العین 6 (16) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم