🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ: الحلف بمُقَلِّب القُلُوب
باب: «مقلب القلوب» (دلوں کو پھیرنے والے) کی قسم کھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3792
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرُّهَاوِيُّ، وَمُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَتْ يَمِينٌ يَحْلِفُ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو قسم کھاتے تھے وہ یہ تھی «‏لا ومقلب القلوب» نہیں، اس کی قسم جو دلوں کو پھیر نے والا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3792]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (عموماً) یوں قسم کھایا کرتے تھے: قسم اس ذات کی جو دلوں کو پھیرنے والی ہے! بات ایسے نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3792]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/القدر 14 (6617)، الأیمان 3 (6628)، التوحید 11 (7391)، سنن الترمذی/الأیمان 12 (1540)، (تحفة الأشراف: 7024)، مسند احمد (2/26، 67، 68، 127)، سنن الدارمی/النذور 12 (2395) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ: الْحَلِفِ بِمُصَرِّفِ الْقُلُوبِ
باب: «مقلب القلوب» (دلوں کو پھیرنے والے) کی قسم کھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3793
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَتْ يَمِينُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي يَحْلِفُ بِهَا:" لَا وَمُصَرِّفِ الْقُلُوبِ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو قسم کھاتے تھے وہ یہ تھی «لا ومصرف القلوب» نہیں، اس کی قسم جو دلوں کو پھیرنے والا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3793]
حضرت سالم کے والد محترم (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً اٹھایا کرتے تھے، یہ تھی: «لَا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ» مجھے قسم ہے اس ذات کی جو دلوں کو پھیرنے والی ہے! معاملہ ایسے نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3793]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الکفارات 1 (2092)، (تحفة الأشراف: 6865) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (2092) الزهري عنعن. والحديث السابق (الأصل: 3792) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 349

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ: الْحَلِفِ بِعِزَّةِ اللَّهِ تَعَالَى .
باب: اللہ تعالیٰ کی عزت اور غلبے کی قسم کھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3794
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ , أَرْسَلَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام إِلَى الْجَنَّةِ، فَقَالَ: انْظُرْ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُ لِأَهْلِهَا فِيهَا. فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَرَجَعَ، فَقَالَ: وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا فَأَمَرَ بِهَا فَحُفَّتْ بِالْمَكَارِهِ، فَقَالَ: اذْهَبْ إِلَيْهَا فَانْظُرْ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُ لِأَهْلِهَا فِيهَا. فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَإِذَا هِيَ قَدْ حُفَّتْ بِالْمَكَارِهِ، فَقَالَ: وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَدْخُلَهَا أَحَدٌ. قَالَ: اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَى النَّارِ وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُ لِأَهْلِهَا فِيهَا. فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَإِذَا هِيَ يَرْكَبُ بَعْضُهَا بَعْضًا فَرَجَعَ، فَقَالَ: وَعِزَّتِكَ لَا يَدْخُلُهَا أَحَدٌ. فَأَمَرَ بِهَا فَحُفَّتْ بِالشَّهَوَاتِ، فَقَالَ: ارْجِعْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا. فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَإِذَا هِيَ قَدْ حُفَّتْ بِالشَّهَوَاتِ فَرَجَعَ، وَقَالَ: وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَنْجُوَ مِنْهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے جب جنت اور جہنم کو پیدا کیا تو جبرائیل کو جنت کے پاس بھیجا اور فرمایا: اسے اور ان چیزوں کو دیکھو جو میں نے اس میں اس کے مستحقین کے لیے تیار کی ہیں، چنانچہ انہوں نے اسے دیکھا اور لوٹ کر آئے تو کہا: قسم ہے تیری عزت اور غلبے کی! ۱؎ جو کوئی بھی اس کے بارے میں سنے گا اس میں داخل ہوئے بغیر نہ رہے گا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے مکروہ ناپسندیدہ چیزوں سے گھیر دیا گیا ۲؎، پھر کہا: جاؤ اسے اور ان چیزوں کو دیکھو جو میں نے اس میں اس کے مستحقین کے لیے تیار کی ہیں، چنانچہ انہوں نے اس پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ وہ ناپسندیدہ چیزوں سے گھیر دی گئی ہے، انہوں نے کہا: تیری عزت اور غلبے کی قسم! مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ اس میں کوئی داخل نہ ہو گا، کہا: جاؤ اور جہنم کو اور ان چیزوں کو دیکھو جو میں نے اس کے مستحقین کے لیے تیار کی ہیں، انہوں نے اس پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے پر چڑھا جا رہا ہے ۳؎، وہ لوٹ کر آئے اور بولے: تیری عزت اور غلبے کی قسم! اس میں کوئی داخل نہ ہو گا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو وہ دل کو بھانے والی چیزوں سے گھیر دی گئی۔ (پھر اللہ تعالیٰ نے) کہا: واپس جا کر اب اسے دیکھو۔ انہوں نے اس پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ وہ پسندیدہ چیزوں سے گھیر دی گئی ہے۔ وہ لوٹے اور کہا: تیرے غلبے کی قسم! مجھے ڈر ہے کہ اس میں تو کوئی داخل ہونے سے نہ بچ سکے گا ۴؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3794]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے جنت اور جہنم کو پیدا فرمایا تو حضرت جبریل علیہ السلام کو جنت کی طرف بھیجا اور فرمایا: جاؤ، جنت اور اس میں جنتیوں کے لیے بنائی ہوئی چیزوں کو دیکھو۔ انہوں نے جا کر دیکھا، پھر واپس آئے تو کہنے لگے: تیری عزت کی قسم! جو شخص بھی جنت کے بارے میں سنے گا، ضرور اس میں داخل ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تو جنت کو سختیوں اور طبعاً ناگوار گزرنے والی چیزوں سے گھیر دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اب پھر جاؤ اور دیکھو کہ میں نے جنت میں اپنے بندوں کے لیے کیا کچھ بنایا ہے۔ انہوں نے جا کر دیکھا تو جنت کے ارد گرد سختیوں اور مشکلات کی باڑ لگی ہوئی تھی، وہ آ کر کہنے لگے: تیری عزت کی قسم! مجھے خطرہ ہے کہ کوئی شخص بھی اس میں داخل نہیں ہو (سکے) گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جاؤ آگ (جہنم) کو دیکھو اور جو کچھ میں نے اہل جہنم کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ انہوں نے جا کر دیکھا تو آگ کے شعلے ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے، وہ واپس آ کر کہنے لگے: تیری عزت کی قسم! کوئی اس میں داخل نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تو اس کے ارد گرد طبعاً مرغوب چیزوں کی باڑ لگا دی گئی۔ فرمایا: اب جا کر دیکھو۔ انہوں نے دیکھا تو اس کے ارد گرد خوشنما چیزوں کی باڑ لگ چکی تھی، وہ واپس آ کر کہنے لگے: تیری عزت کی قسم! مجھے خطرہ ہے کہ کوئی شخص اس سے نہیں بچ سکے گا بلکہ ضرور داخل ہو جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3794]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15084)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/السنة 25 (4744)، سنن الترمذی/صفة الجنة 21 (2560)، مسند احمد (2/333، 373) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اسی جملے میں باب سے مطابقت ہے۔ ۲؎: یعنی صلاۃ، صوم، زکاۃ اور جہاد جیسے نیک اعمال سے اسے گھیر دیا گیا، ان اعمال کی ادائیگی اسی وقت ممکن ہے جب انسان اپنے نفس پر قابو رکھتے ہوئے انہیں اداء کرے، اور کتاب و سنت کے مطابق ان کی ادائیگی کے بغیر حصولِ جنت کا تصور ناممکن ہے، اس لیے کہ انہیں سارے اعمال صالحہ کی وجہ سے وہ اللہ کی رحمت کا مستحق ہو گا اور اس رحمت کے نتیجے میں وہ جنت میں داخل ہو گا۔ ۳؎: یعنی اس میں اس قدر شدت پائی جاتی ہے کہ لگتا ہے اس کا ایک حصہ دوسرے کو کھائے جا رہا ہے۔ ۴؎: کیونکہ انسان اگر خواہشات کے پیچھے پڑ گیا اور اپنے نفس پر کنٹرول نہ رکھ سکا تو ڈر ہے کہ وہ جہنم میں داخل ہونے سے نہ بچ سکے گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ: التَّشْدِيدِ فِي الْحَلِفِ بِغَيْرِ اللَّهِ تَعَالَى
باب: غیر اللہ کی قسم کھانے کی شناعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3795
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلَا يَحْلِفْ إِلَّا بِاللَّهِ"، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تَحْلِفُ بِآبَائِهَا، فَقَالَ:" لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو قسم کھائے تو وہ اللہ کے سوا کسی اور کی قسم نہ کھائے، اور قریش اپنے باپ دادا کی قسم کھاتے تھے تو آپ نے فرمایا: تم اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3795]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قسم کھانا چاہے وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی قسم نہ کھائے۔ قریش اپنے آباؤ اجداد کی قسمیں کھایا کرتے تھے، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے آباؤ اجداد کی قسمیں نہ کھایا کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3795]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/مناقب الأنصار 26 (3836)، الأیمان 4 (6648)، صحیح مسلم/الأیمان 1(1646)، مسند احمد (2/98)، سنن الدارمی/النذور والأیمان 6 (2386) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3796
أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ فِي مَجْلِسِ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ وَهُوَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے روکتا ہے کہ تم اپنے باپ دادا کی قسم کھاؤ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3796]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہیں منع فرماتا ہے کہ تم اپنے آباؤ اجداد کی قسمیں کھاؤ۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3796]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7034)، مسند احمد (2/48) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: غیر اللہ کی قسم کھانے کی ممانعت کی حکمت یہ ہے کہ قسم سے اس چیز کی تعظیم مقصود ہوتی ہے جس کی قسم کھائی جاتی ہے حالانکہ حقیقی عظمت و تقدس صرف اللہ رب العالمین کی ذات کے ساتھ خاص ہے، یہی وجہ ہے کہ اللہ کے اسماء (نام) اور اس کی صفات (خوبیوں) کے علاوہ کی قسم کھانا جائز نہیں، اس سلسلہ میں ملائکہ، انبیاء، اولیاء وغیرہ سب برابر ہیں، ان میں سے کسی کی قسم نہیں کھائی جا سکتی ہے۔ رہ گئی بات حدیث میں وارد لفظ «أفلح و أبیہ» کی تو اس سلسلہ میں صحیح بات یہ ہے کہ اس طرح کا کلمہ عربوں کی زبان پر جاری ہو جاتا تھا، جس کا مقصود قسم نہیں ہوتا تھا، اور ممکن ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ کلمہ اس ممانعت سے پہلے نکلا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ: الْحَلِفِ بِالآبَاءِ
باب: باپ دادا کی قسم کھانے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3797
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لَهُ , قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ مَرَّةً وَهُوَ يَقُولُ: وَأَبِي , وَأَبِي. فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ"، فَوَاللَّهِ مَا حَلَفْتُ بِهَا بَعْدُ ذَاكِرًا , وَلَا آثِرًا.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: میرے باپ کی قسم! میرے باپ کی قسم! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے روکتا ہے کہ تم اپنے باپ دادا کی قسم کھاؤ۔ (عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) اللہ کی قسم! اس کے بعد پھر میں نے کبھی ان کی قسم نہیں کھائی، نہ تو خود اپنی بات بیان کرتے ہوئے اور نہ ہی دوسرے کی بات نقل کرتے ہوئے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3797]
حضرت سالم کے والد محترم (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ایک دفعہ کہتے سنا: میرے باپ کی قسم! میرے باپ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں آباؤ اجداد کے نام کی قسمیں کھانے سے منع فرماتا ہے۔ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) اللہ کی قسم! اس کے بعد میں نے کبھی بھی ایسی قسم نہیں کھائی، نہ اپنے طور پر، نہ کسی کی نقل کرتے ہوئے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3797]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأیمان 4 (6647تعلیقًا)، صحیح مسلم/الأیمان 1 (1646)، سنن الترمذی/الأیمان والنذور 8 (1533)، (تحفة الأشراف: 6818)، موطا امام مالک/ مسند احمد (2/7، 8) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3798
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ"، قَالَ عُمَرُ: فَوَاللَّهِ مَا حَلَفْتُ بِهَا بَعْدُ ذَاكِرًا وَلَا آثِرًا.
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے روکتا ہے کہ تم اپنے باپ دادا کی قسم کھاؤ۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! اس کے بعد پھر کبھی میں نے خود اپنی بات بیان کرتے ہوئے یا دوسرے کی بات نقل کرتے ہوئے ان کی قسم نہیں کھائی۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3798]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں آبا و اجداد کی قسم کھانے سے منع فرماتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اس کے بعد میں نے کبھی ایسی قسم نہیں کھائی، نہ اپنے طور پر، نہ کسی سے نقل کرتے ہوئے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3798]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأیمان 4 (6647)، صحیح مسلم/الأیمان 1 (1646)، سنن ابی داود/الأیمان 5 (2350)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 2 (2094)، (تحفة الأشراف: 10518)، مسند احمد (1/18، 36) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3799
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ حَرْبٍ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ"، قَالَ عُمَرُ: فَوَاللَّهِ مَا حَلَفْتُ بِهَا بَعْدُ ذَاكِرًا , وَلَا آثِرًا.
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے روکتا ہے کہ تم اپنے باپ دادا کی قسم کھاؤ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے اس کے بعد ان کی قسم نہیں کھائی، نہ تو خود کچھ بیان کرتے ہوئے اور نہ ہی کسی دوسرے کی بات نقل کرتے ہوئے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3799]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہیں آباؤ اجداد کی قسمیں کھانے سے روکتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے اس کے بعد کبھی آباؤ اجداد کی قسم نہیں کھائی، نہ اپنے طور پر، نہ کسی سے نقل کرتے ہوئے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3799]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ: الْحَلِفِ بِالأُمَّهَاتِ
باب: ماں کی قسم کھانے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3800
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ وَلَا بِأُمَّهَاتِكُمْ وَلَا بِالْأَنْدَادِ، وَلَا تَحْلِفُوا إِلَّا بِاللَّهِ، وَلَا تَحْلِفُوا إِلَّا وَأَنْتُمْ صَادِقُونَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے ماں باپ، دادا، دادی اور شریکوں ۱؎ کی قسم نہ کھاؤ، اور نہ اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھاؤ اور تم قسم نہ کھاؤ سوائے اس کے کہ تم سچے ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3800]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ تم آبا و اجداد کی قسم کھاؤ، نہ ماؤں کی اور نہ بتوں کی، بلکہ صرف اللہ کی قسم کھاؤ اور صرف اسی وقت کھاؤ جب تم سچے ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3800]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأیمان 5 (3248)، (تحفة الأشراف: 14483) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی بتوں اور معبودان باطلہ کی قسم نہ کھاؤ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ: الْحَلِفِ بِمِلَّةٍ سِوَى الإِسْلاَمِ
باب: اسلام کے سوا کسی دوسری ملت اور مذہب کی قسم کھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3801
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ خَالِدٍ. ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى الْإِسْلَامِ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ"، قَالَ قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ:" مُتَعَمِّدًا"، وَقَالَ يَزِيدُ:" كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عَذَّبَهُ اللَّهُ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ".
ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام کے سوا کسی اور ملت و مذہب کی جو کوئی جھوٹی قسم کھائے تو وہ ویسا ہی ہو گا جیسا اس نے کہا، قتیبہ نے اپنی حدیث میں «متعمدا» کہا ہے (یعنی دوسری ملت کی جان بوجھ کر قسم کھائے) اور یزید نے «كاذبا» کہا ہے (جو دوسری ملت کی جھوٹی قسم کھائے گا) تو وہ ویسا ہی ہو گا جیسا اس نے کہا ۱؎ اور جو کوئی اپنے آپ کو کسی چیز سے قتل کر لے گا تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی آگ میں اسی چیز سے عذاب دے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3801]
حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص جھوٹا ہونے کے باوجود عمداً اسلام کے علاوہ کسی اور دین کی قسم کھائے تو وہ ایسے ہی ہوگا جیسے اس نے کہا، اور جس شخص نے کسی چیز سے خودکشی کر لی، اللہ تعالیٰ جہنم کی آگ میں اسے اسی چیز کے ساتھ عذاب دیتا رہے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3801]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 83 (1363)، الأدب 44 (6047)، 73 (6105)، الأیمان 7 (6652)، صحیح مسلم/الإیمان 47 (110)، سنن ابی داود/الأیمان 9 (3257)، سنن الترمذی/الأیمان 15 (1543)، سنن ابن ماجہ/الکفارات3(2098)، مسند احمد (4/33، 34)، (تحفة الأشراف: 2062)، سنن الدارمی/الدیات 10 (2406)، و یأتي عند المؤلف برقم: 3844 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی کسی نے قسم کھائی کہ اگر یہ کام مجھ سے نہ ہوا تو میں یہودی یا نصرانی یا مذہب اسلام سے بیزار و متنفر ہوں اور وہ اپنی اس قسم میں پورا نہیں اترا بلکہ جھوٹا ثابت ہوا تو وہ اپنے کہے کے مطابق ہو گا، لیکن علماء کا کہنا ہے کہ یہ وعید اور دھمکی کے طور پر ہے، اگر دلی طور پر وہ اپنے ایمان سے مطمئن ہے تو اسے اپنے اس قول سے کچھ بھی نقصان پہنچنے والا نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں