🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. بَابُ: الْخِضَابِ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ
باب: مہندی اور کتم لگانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5083
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ الْأَجْلَحِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَحْسَنَ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّيْبَ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ". خَالَفَهُ الْجُرَيْرِيُّ، وَكَهْمَسٌ.
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہتر چیز جس سے تم بڑھاپے کا رنگ بدلو، مہندی اور کتم ہے۔ جریری اور کہمس نے ان کی مخالفت کی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5083]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین وہ چیز جس سے تم سفید بالوں کو رنگین کرو، مہندی اور وسمے کا مجموعہ ہے۔ جریری اور کہمس نے (اس روایت کے بیان کرنے میں اجلح کی) مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5083]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5081 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اجلح کی مخالفت کی ہے، اور دونوں کی سندوں میں انقطاع ہے جو واضح ہے (ان دونوں کی روایتیں آگے آ رہی ہیں)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5084
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَحْسَنَ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّيْبَ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ".
عبداللہ بن بریدہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہتر چیز جس سے تم بڑھاپے کا رنگ بدلو، مہندی اور کتم ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5084]
حضرت عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے اچھی چیز جس کے ساتھ تم سفید بالوں کا رنگ بدلو، مہندی اور وسمے کا آمیزہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5084]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5081 (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، عبداللہ بن بریدہ تابعی ہیں، لیکن پچھلی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح لغیرہ ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5085
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ كَهْمَسًا يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ أَحْسَنَ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّيْبَ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ".
عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ انہیں معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہتر چیز جس سے تم بڑھاپے کا رنگ بدلو، مہندی اور کتم ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5085]
حضرت عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین وہ چیز جس کے ساتھ تم سفید بالوں کا رنگ تبدیل کرو، مہندی اور وسمے کا مرکب ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5085]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5081 (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، عبداللہ بن بریدہ تابعی ہیں، لیکن پچھلی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح لغیرہ ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5086
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ:" أَتَيْتُ أَنَا وَأَبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ قَدْ لَطَخَ لِحْيَتَهُ بِالْحِنَّاءِ".
ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اس وقت آپ نے اپنی ڈاڑھی میں مہندی لگا رکھی تھی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5086]
حضرت ابورمثہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اپنے والد محترم کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی داڑھی کو مہندی لگا رکھی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5086]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1573 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: آگے انس رضی اللہ عنہ کی حدیث (نمبر: ۵۰۸۹) میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں میں اتنے سفید بال تھے ہی نہیں کہ آپ خضاب لگاتے۔ دونوں حدیثوں میں باہم یوں تطبیق دی جاتی ہے کہ واقعی اتنے زیادہ بال تھے نہیں کہ آپ کو ان کے رنگ تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی (یعنی بذریعہ خضاب) مگر آپ نے ان کا رنگ تبدیل کیا تاکہ امت کے لیے نمونہ ہو، اس عمل کو انس رضی اللہ عنہ کو دیکھنے کا اتفاق نہ ہو سکا۔ رہی ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اگلی حدیث (نمبر: ۵۰۸۸) کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیلے رنگ سے اپنے بال رنگتے تھے تو پیلے رنگ کا استعمال بعد میں منسوخ ہو گیا تھا جس کی خبر ابن عمر رضی اللہ عنہما کو نہیں ہو سکی تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5087
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَرَأَيْتُهُ قَدْ لَطَخَ لِحْيَتَهُ بِالصُّفْرَةِ".
ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے دیکھا کہ آپ اپنی داڑھی میں پیلے رنگ لگائے ہوئے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5087]
حضرت ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے داڑھی زرد کر رکھی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5087]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1573 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ: الْخِضَابِ بِالصُّفْرَةِ
باب: پیلا (زرد) خضاب لگانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5088
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ بِالْخَلُوقِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّكَ تُصَفِّرُ لِحْيَتَكَ بِالْخَلُوقِ، قَالَ:" إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَفِّرُ بِهَا لِحْيَتَهُ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ مِنَ الصِّبْغِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْهَا , وَلَقَدْ كَانَ يَصْبُغُ بِهَا ثِيَابَهُ كُلَّهَا حَتَّى عِمَامَتَهُ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَهَذَا أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ.
زید بن اسلم کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی ڈاڑھی خلوق سے پیلی کرتے تھے، میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! آپ اپنی ڈاڑھی خلوق سے پیلی کرتے ہیں؟ کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس سے اپنی ڈاڑھی پیلی کرتے تھے، اور کوئی بھی رنگ آپ کو اس سے زیادہ پسند نہیں تھا، آپ اس سے اپنے تمام کپڑے یہاں تک کہ اپنی پگڑی بھی رنگتے تھے ۲؎۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ابوقتیبہ کی حدیث کے مقابلے میں یہ زیادہ قرین صواب ہے ۳؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5088]
حضرت زید بن اسلم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، انہوں نے اپنی داڑھی کو خلوق سے زرد کر رکھا تھا۔ میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! آپ اپنی داڑھی کو خلوق سے رنگتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خلوق سے داڑھی رنگتے دیکھا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بڑھ کر کوئی رنگ پیارا نہیں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اپنے سب کپڑے حتیٰ کہ پگڑی بھی رنگ لیا کرتے تھے۔ ابوعبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے کہا: یہ حدیث ابوقتیبہ کی حدیث کی نسبت زیادہ صحیح ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5088]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 18 (4064)، (تحفة الأشراف: 6728)، ویأتی برقم 5118 (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: خلوق ایک قسم کی خوشبو ہے جو کئی چیز سے بنتی ہے، اس میں ورس اور زعفران بھی شامل ہے۔ ۲؎: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو پیلے رنگ کی اجازت منسوخ ہو جانے کی خبر نہیں مل سکی تھی، پیلا رنگ عورتوں کا رنگ ہونے کے سبب مردوں کے لیے منسوخ کر دیا گیا۔ ۳؎: ابوقتیبہ کی روایت مؤلف کے یہاں آگے آ رہی ہے (حدیث نمبر ۵۲۴۵) اس روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کرنے والے زید بن اسلم کی جگہ عبید ہیں، مؤلف یہی بتار ہے ہیں کہ سائل زید ہیں نہ کہ عبید۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5089
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ سَأَلَهُ: هَلْ خَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" لَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ إِنَّمَا كَانَ شَيْءٌ فِي صُدْغَيْهِ".
قتادہ کہتے ہیں کہ انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب لگایا تھا؟ کہا: آپ کو اس کی حاجت نہ تھی، کیونکہ صرف تھوڑی سی سفیدی کان کے پاس تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5089]
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں کو رنگا ہے؟ آپ نے فرمایا: اس کی نوبت ہی نہیں آئی تھی، صرف آپ کی کنپٹیوں میں کچھ ہی بال سفید تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5089]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المناقب 23 (3550) (وراجع أیضا اللباس 66 (5894)، (تحفة الأشراف: 1398)، مسند احمد (4/192، 251، 266) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5090
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَخْضِبُ إِنَّمَا كَانَ الشَّمَطُ عِنْدَ الْعَنْفَقَةِ يَسِيرًا وَفِي الصُّدْغَيْنِ يَسِيرًا، وَفِي الرَّأْسِ يَسِيرًا".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خضاب نہیں لگاتے تھے، کیونکہ تھوڑی سی سفیدی آپ کے ہونٹ کے نیچے تھے، تھوڑی سی کان کے پاس ڈاڑھی میں اور تھوڑی سی سر میں۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5090]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالوں کو نہیں رنگتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بال تھوڑے سے داڑھی بچہ میں تھے، کچھ کنپٹیوں میں تھے اور کچھ معمولی سے سر مبارک میں تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5090]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/فضائل29(2341)، (تحفة الأشراف: 1328)، مسند احمد (3/216) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5091
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ الرُّكَيْنَ يُحَدِّثُ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ:" أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ عَشْرَ خِصَالٍ: الصُّفْرَةَ يَعْنِي الْخَلُوقَ، وَتَغْيِيرَ الشَّيْبِ، وَجَرَّ الْإِزَارِ، وَالتَّخَتُّمَ بِالذَّهَبِ، وَالضَّرْبَ بِالْكِعَابِ، وَالتَّبَرُّجَ بِالزِّينَةِ لِغَيْرِ مَحَلِّهَا , وَالرُّقَى إِلَّا بِالْمُعَوِّذَاتِ، وَتَعْلِيقَ التَّمَائِمِ، وَعَزْلَ الْمَاءِ بِغَيْرِ مَحَلِّهِ، وَإِفْسَادَ الصَّبِيِّ غَيْرَ مُحَرِّمِهِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دس عادتیں ناپسند تھیں: پیلا رنگ لگانا یعنی خلوق، بڑھاپے کا رنگ بدلنا ۱؎، تہبند (لنگی) ٹخنے سے نیچے لٹکانا، سونے کی انگوٹھی پہننا، چوسر شطرنج کھیلنا، بے موقع و محل عورتوں کا اجنبیوں کے سامنے بن ٹھن کر نکلنا، معوذات کے علاوہ دوسرے منتر پڑھنا، تعویذ لٹکانا، ناجائز جگہ میں منی بہانا، بچے کو صحت مند نہ ہونے دینا، ۲؎ البتہ آپ اسے حرام نہیں کہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5091]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم دس کاموں کو ناپسند فرماتے تھے: (مردوں کا) خلوق لگانا، سفید بالوں کو سیاہ کرنا، تہبند (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانا، (مردوں کے لیے) سونے کی انگوٹھی پہننا، شطرنج کھیلنا، نامناسب مقام پر عورت کا اظہارِ زینت کرنا، معوذات وغیرہ کے علاوہ دم کرنا، تمیمے لٹکانا، منی غلط مقام پر ضائع کرنا اور چھوٹے بچے میں خرابی ڈالنا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس (آخری کام) کو حرام نہیں فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5091]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الخاتم 3 (4222)، (تحفة الأشراف: 9355)، مسند احمد (3/380، 397، 439) (منکر) (اس کے راوی ’’قاسم‘‘ اور ”عبدالرحمن‘‘ لین الحدیث ہیں)»
وضاحت: ۱؎: بڑھاپے کا رنگ بدلنا یعنی انہیں اکھیڑنا یا ان میں کالا خضاب لگانا۔ بچے کو صحت مند نہ ہونے دینا یعنی ایام رضاعت میں بچے کی ماں سے صحبت کرنا۔
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4222) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 360

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بَابُ: الْخِضَابِ لِلنِّسَاءِ
باب: عورتوں کے خضاب لگانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5092
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُطِيعُ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَتْنَا صَفِيَّةُ بِنْتُ عِصْمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً مَدَّتْ يَدَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكِتَابٍ، فَقَبَضَ يَدَهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَدَدْتُ يَدِي إِلَيْكَ بِكِتَابٍ، فَلَمْ تَأْخُذْهُ، فَقَالَ:" إِنِّي لَمْ أَدْرِ أَيَدُ امْرَأَةٍ هِيَ، أَوْ رَجُلٍ؟" قَالَتْ: بَلْ يَدُ امْرَأَةٍ، قَالَ:" لَوْ كُنْتِ امْرَأَةً لَغَيَّرْتِ أَظْفَارَكِ بِالْحِنَّاءِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط دینے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا تو آپ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، وہ بولی: اللہ کے رسول! میں نے ایک خط دینے کے لیے آپ کی طرف ہاتھ بڑھایا تو آپ نے اسے نہیں لیا۔ آپ نے فرمایا: مجھے نہیں معلوم کہ وہ عورت کا ہاتھ ہے یا مرد کا، میں نے عرض کیا: عورت کا ہاتھ ہے۔ آپ نے فرمایا: اگر تم عورت ہوتی تو اپنے ناخنوں کو مہندی سے رنگا ہوتا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5092]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے اپنے ہاتھ میں ایک تحریر پکڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنے ہاتھ میں ایک تحریر پکڑ کر آپ کی طرف بڑھائی تھی لیکن آپ نے نہیں پکڑی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ عورت کا ہاتھ ہے یا مرد کا؟ میں نے کہا: یہ عورت کا ہاتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو عورت ہوتی تو اپنے ناخن مہندی کے ساتھ رنگ لیتی۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5092]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الترجل 4 (4164)، (تحفة الأشراف: 17868)، مسند احمد (6/262) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے اس بات کی تاکید معلوم ہوتی ہے کہ عورتوں کو اپنی نسوانیت کی علامت اختیار کئے رہنا چاہیئے اور مردوں سے مشابہت کی کوئی بات اختیار نہیں کرنی چاہیئے اس کی حکمت دراصل اللہ کی تخلیق کو اپنی جگہ برقرار رکھنے کی بات ہے، اللہ کی خلقت کو بدلنا حرام عمل ہے، اس کی خواہ کوئی صورت ہو، نسوانیت کی علامت کے سلسلے میں بھی خاص خاص مرد اور عورت کے امتیازی علامات کے علاوہ چیزوں میں علاقہ و سماج کے عزت و رواج کا لحاظ کیا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4166) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 360

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں