🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. بَابُ: تَحْرِيمِ الْوَشْرِ
باب: دانتوں کو رگڑ کر باریک کرنے کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5113
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ، عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ الْحِمْيَرِيِّ، أَنَّهُ كَانَ هُوَ وَصَاحِبٌ لَهُ يَلْزَمَانِ أَبَا رَيْحَانَةَ يَتَعَلَّمَانِ مِنْهُ خَيْرًا، قَالَ: فَحَضَرَ صَاحِبِي يَوْمًا , فَأَخْبَرَنِي صَاحِبِي , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا رَيْحَانَةَ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" حَرَّمَ الْوَشْرَ، وَالْوَشْمَ، وَالنَّتْفَ".
ابوالحصین حمیری کہتے ہیں کہ وہ اور ان کے ایک ساتھی ابوریحانہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہتے تھے اور خیر و بھلائی کی باتیں سیکھتے تھے، ایک دن میرے ساتھی میرے یہاں آئے اور مجھے بتایا کہ انہوں نے ابوریحانہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دانتوں کو رگڑ کر باریک کرنے، گودنے اور بال اکھاڑنے کو حرام قرار دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5113]
حضرت ابوالحصین حمیری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں اور میرا ایک ساتھی حضرت ابوریحانہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہر وقت رہتے تھے اور ان سے اچھی باتیں سیکھتے (علم حاصل کرتے) تھے۔ ایک دن میرا ساتھی ان کے پاس گیا اور پھر اس نے مجھے بتایا کہ میں نے حضرت ابوریحانہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دانتوں کو باریک کرنا، رنگ بھرنا اور بال اکھیڑنا حرام قرار دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5113]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5094 (ضعیف) (اس کے ایک راوی مبہم ہیں، اور وہ ابوعامر معافری ہیں جن کی صراحت سابقہ حدیث نمبر میں موجود ہے، یہ لین الحدیث ہیں، لیکن اگلی سند سے یہ روایت متصل اور صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، تقدم (5094) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5114
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ، قَالَ: بَلَغَنَا , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْوَشْرِ، وَالْوَشْمِ".
ابوریحانہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دانتوں کو رگڑ کر باریک کرنے اور گودنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5114]
حضرت ابوریحانہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دانتوں کو باریک کرنے اور گودنے (جسم کو چھید کر نقش و نگار بنانے اور رنگ بھرنے) سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5114]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5094 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر حديث السابق (5094) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5115
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ، قَالَ: بَلَغَنَا , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْوَشْرِ وَالْوَشْمِ".
ابوریحانہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دانتوں کو رگڑ کر باریک کرنے اور گودنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5115]
حضرت ابوریحانہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دانتوں کو باریک کرنے اور رنگ بھرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5115]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5094 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر حديث السابق (5094) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. بَابُ: الْكُحْلِ
باب: سرمہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5116
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ مِنْ خَيْرِ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدَ، إِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ، وَيُنْبِتُ الشَّعَرَ". أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ لَيِّنُ الْحَدِيثِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہترین سرمہ اثمد (ایک پتھر) ہوتا ہے، وہ نظر تیز کرتا اور بال اگاتا ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: عبداللہ بن عثمان بن خثیم لین الحدیث ہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5116]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے بہترین سرمہ اثمد ہے۔ یہ نظر کو تیز کرتا ہے اور (پلکوں کے) بال بڑھاتا ہے۔ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے فرمایا: عبداللہ بن عثمان بن خثیم «لَيِّنُ الْحَدِيثِ» ہے (مطلب یہ کہ اس کی حدیث ضعیف ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5116]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الشمائل 7، سنن ابن ماجہ/الطب 25 (3497)، (تحفة الأشراف: 5535)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطب 14 (3878)، اللباس 16 (4061)، سنن الترمذی/اللباس 23 (1757)، الطب 9 (2038)، مسند احمد (1/231، 247، 274، 355، 363 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: لیکن دیگر بہت سے أئمہ نے ان کی توثیق کی ہے، نیز بقول حافظ ابن حجر: ایک روایت کے مطابق خود امام نسائی نے ان کی توثیق کی ہے، (دیکھئیے تہذیب التہذیب)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. بَابُ: الدَّهْنِ
باب: خوشبو (دہن عود) اور تیل کے استعمال کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5117
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ سُئِلَ عَنْ شَيْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" كَانَ إِذَا ادَّهَنَ رَأْسَهُ لَمْ يُرَ مِنْهُ، وَإِذَا لَمْ يُدَّهَنْ رُئِيَ مِنْهُ".
سماک کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کی سفیدی کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا: جب آپ اپنے سر میں خوشبو (دہن عود) یا تیل لگاتے تو ان بالوں کی سفیدی نظر نہ آتی اور جب نہ لگاتے تو نظر آتی۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5117]
حضرت سماک سے روایت ہے کہ میرے سامنے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بالوں کے بارے میں پوچھا گیا، انہوں نے فرمایا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر کو تیل لگا لیتے تھے تو سفید بال نظر نہیں آتے تھے اور جب تیل نہیں لگاتے تھے تو نظر آتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5117]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الفضائل 29 (2344)، سنن الترمذی/الشمائل 5 (39)، (تحفة الأشراف: 2182)، مسند احمد (5/86، 88، 90، 95) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. بَابُ: الزَّعْفَرَانِ
باب: زعفران کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5118
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَصْبُغُ ثِيَابَهُ بِالزَّعْفَرَانِ، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ".
زید سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے کپڑوں کو زعفران میں رنگتے تھے۔ ان سے (اس بارے میں) کہا گیا۔ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی رنگتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5118]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے کپڑے زعفران سے رنگا کرتے تھے۔ ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی (اپنے کپڑوں کو) اس سے رنگتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5118]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5088 (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: دیکھے حاشیہ حدیث نمبر: ۵۰۸۸
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. بَابُ: الْعَنْبَرِ
باب: عنبر کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5119
أَخْبَرَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرٌ الْمُزَلِّقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَاءٍ الْهَاشِمِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَطَيَّبُ؟ قَالَتْ:" نَعَمْ، بِذِكَارَةِ الطِّيبِ الْمِسْكِ وَالْعَنْبَرِ".
محمد بن علی باقر کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوشبو لگاتے تھے؟ کہا: ہاں، مردانہ خوشبو: مشک اور عنبر۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5119]
حضرت محمد بن علی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوشبو لگایا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، مردوں والی خوشبوئیں لگایا کرتے تھے، کستوری اور عنبر۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5119]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 17592) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی بکر اور عبداللہ ہاشمی حافظے کے کمزور ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، عبداﷲ بن عطاء مدلس وعنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. بَابُ: الْفَصْلِ بَيْنَ طِيبِ الرِّجَالِ وَطِيبِ النِّسَاءِ
باب: مرد اور عورت کی خوشبو میں فرق کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5120
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي الْحَفَرِيَّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" طِيبُ الرِّجَالِ مَا ظَهَرَ رِيحُهُ، وَخَفِيَ لَوْنُهُ، وَطِيبُ النِّسَاءِ مَا ظَهَرَ لَوْنُهُ، وَخَفِيَ رِيحُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی مہک ظاہر ہو اور رنگ چھپا ہو اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو اور مہک چھپی ہو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5120]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی خوشبو ظاہر ہو اور رنگ مخفی، اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ نمایاں ہو لیکن خوشبو مخفی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5120]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/النکاح 50 (2174)، سنن الترمذی/الأدب 36 (الاستئذان70) (2787)، (تحفة الأشراف: 15486)، مسند احمد (2/447، 540) (حسن) (شواہد اور متابعات سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے ورنہ اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے)»
وضاحت: ۱؎: مردوں کے لیے رنگلین خوشبو اس لیے منع ہے کہ رنگ عورتوں کی چیز ہے جو مردانہ وجاہت کے خلاف ہے، رنگدار خوشبو جیسے زعفران اور خلوق جس کا تذکرہ حدیث نمبر: ۵۱۲۳ (وما بعدہ) میں آ رہا ہے، سند کے لحاظ سے گرچہ وہ روایتیں ضعیف ہیں مگر اس حدیث سے ان کے معنی کو تقویت حاصل ہو رہی ہے اور عورتوں کے لیے یہ ممانعت اس صورت میں ہے جب عورت گھر سے باہر نکلے، ورنہ شوہر کے ساتھ گھر میں رہتے ہوئے ہر طرح کی خوشبو استعمال کر سکتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (2787) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5121
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ الطَّفَاوِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" طِيبُ الرِّجَالِ مَا ظَهَرَ رِيحُهُ وَخَفِيَ لَوْنُهُ، وَطِيبُ النِّسَاءِ مَا ظَهَرَ لَوْنُهُ وَخَفِيَ رِيحُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردوں کی خوشبو وہ ہے کہ جس کی مہک ظاہر ہو اور رنگ چھپا ہو، عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو اور مہک چھپی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5121]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردوں کی زینت (یا خوشبو) وہ ہے جس کی خوشبو ظاہر ہو، رنگ مخفی ہو اور عورتوں کی زینت (یا خوشبو) وہ ہے جس کا رنگ نمایاں ہو، خوشبو مخفی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5121]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (حسن لغیرہ) (اس کے راوی ’’طفاوی‘‘ مبہم ہیں)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، ضعيف، انظر الحديث السابق (5120) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
33. بَابُ: أَطْيَبِ الطِّيبِ
باب: سب سے عمدہ خوشبو کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5122
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ اتَّخَذَتْ خَاتِمًا مِنْ ذَهَبٍ وَحَشَتْهُ مِسْكًا"، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ أَطْيَبُ الطِّيبِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل کی ایک عورت نے سونے کی ایک انگوٹھی بنائی اور اس میں مشک بھر دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سب سے عمدہ خوشبو ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5122]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک بنی اسرائیل کی ایک عورت نے سونے کی انگوٹھی بنائی اور اس میں کستوری بھری۔ (پھر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بہترین خوشبو ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5122]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1906 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں