🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. بَابُ: التَّزَعْفُرِ وَالْخَلُوقِ
باب: زعفران اور خلوق لگانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5123
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ ظَبْيَانَ، عَنْ حُكَيْمِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ رَدْعٌ مِنْ خَلُوقٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبْ فَانْهَكْهُ" , ثُمَّ أَتَاهُ، فَقَالَ:" اذْهَبْ فَانْهَكْهُ" , ثُمَّ أَتَاهُ , فَقَالَ:" اذْهَبْ فَانْهَكْهُ ثُمَّ لَا تَعُدْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، وہ خلوق میں لتھڑا ہوا تھا تو اس سے آپ نے فرمایا: جاؤ اور اسے دھو ڈالو، پھر وہ آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا : جاؤ اسے دھو ڈالو۔ وہ پھر آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: جاؤ اسے دھو ڈالو، پھر آئندہ نہ لگانا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5123]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو اس پر خلوق کا نشان تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: جاؤ، اسے اچھی طرح دھو کر آؤ۔ وہ پھر آیا تو آپ نے فرمایا: پھر جاؤ، اچھی طرح دھو کر آؤ۔ وہ پھر آیا تو آپ نے فرمایا: پھر جاؤ، اسے اچھی طرح دھو ڈالو اور دوبارہ نہ لگانا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5123]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 12271) (ضعیف) (اس کا راوی عمران بن ظبیان شیعہ اور ضعیف ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، عمران بن ظبيان: ضعيف، ورمي بالتشيع،تنا قض فيه ابن حبان (تقريب: 5158) وضعفه الجمهور. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5124
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَفْصِ بْنَ عَمْرٍو، وَقَالَ عَلَى إِثْرِهِ , يُحَدِّثُ عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، أَنَّهُ مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَخَلِّقٌ، فَقَالَ لَهُ:" هَلْ لَكَ امْرَأَةٌ؟" , قُلْتُ: لَا، قَالَ:" فَاغْسِلْهُ، ثُمَّ اغْسِلْهُ، ثُمَّ لَا تَعُدْ".
یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے، اور وہ خلوق لگائے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تمہاری بیوی ہے؟ کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: تو اسے دھوؤ اور دھوؤ پھر نہ لگانا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5124]
حضرت یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے جبکہ انہوں نے خلوق لگائی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تیری بیوی ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو دھو دے، اچھی طرح دھو دے اور پھر دوبارہ نہ لگانا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5124]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأدب 51 (الإستئذان 85) (2816)، (تحفة الأشراف: 11849)، مسند احمد (4/171، 173)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 5125-5128) (ضعیف) (اس کا راوی ابو حفص بن عمرو مجہول ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (2816) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5125
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَفْصِ بْنَ عَمْرٍو، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ رَجُلًا مُتَخَلِّقًا، قَالَ:" اذْهَبْ فَاغْسِلْهُ، ثُمَّ اغْسِلْهُ وَلَا تَعُدْ".
یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خلوق لگائے ہوئے دیکھا تو فرمایا: جاؤ اسے دھو لو، اور پھر دھو لو اور دوبارہ نہ لگانا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5125]
حضرت یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جس نے خلوق لگا رکھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جا، اس کو دھو، پھر دھو (اچھی طرح دھو) اور دوبارہ نہ لگانا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5125]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (5124) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5126
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَمْرٍو، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ يَعْلَى نَحْوَهُ , خَالَفَهُ سُفْيَانُ رَوَاهُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ يَعْلَى.
اس سند سے بھی یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) سفیان کی روایت اس کے برخلاف ہے، چنانچہ انہوں نے اسے عطاء بن سائب سے، انہوں نے عبداللہ بن حفص سے اور انہوں نے یعلیٰ سے روایت کیا ہے۔ (عبداللہ بن حفص وہی ابوحفص بن عمرو ہے جو پچھلی سند میں ہے۔) [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5126]
حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے اس قسم کی روایت منقول ہے، «خَالَفَهُ سُفْيَانُ» سفیان نے ان کی مخالفت کی ہے اس روایت میں سفیان بن عیینہ نے شعبہ کی مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5126]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5124 (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (5124) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5127
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ مُسَاوِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: أَبْصَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِي رَدْعٌ مِنْ خَلُوقٍ، قَالَ:" يَا يَعْلَى , لَكَ امْرَأَةٌ؟" , قُلْتُ: لَا، قَالَ:" اغْسِلْهُ ثُمَّ لَا تَعُدْ، ثُمَّ اغْسِلْهُ، ثُمَّ لَا تَعُدْ، ثُمَّ اغْسِلْهُ، ثُمَّ لَا تَعُدْ"، قَالَ: فَغَسَلْتُهُ، ثُمَّ لَمْ أَعُدْ ثُمَّ غَسَلْتُهُ، ثُمَّ لَمْ أَعُدْ، ثُمَّ غَسَلْتُهُ، ثُمَّ لَمْ أَعُدْ.
یعلیٰ بن مرہ ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا، مجھ پر خلوق کا داغ لگا ہوا تھا، آپ نے فرمایا: یعلیٰ! کیا تمہاری بیوی ہے؟ میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: اسے دھو لو، پھر نہ لگانا، پھر دھو لو اور نہ لگانا اور پھر دھو لو اور نہ لگانا، میں نے اسے دھو لیا اور پھر نہ لگایا، میں نے پھر دھویا اور نہ لگایا اور پھر دھویا اور نہ لگایا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5127]
حضرت یعلیٰ بن مرہ ثقفی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا جبکہ میرے جسم پر «خَلُوق» کے نشان تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یعلیٰ! تیری بیوی ہے؟ میں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جا، اسے دھو دے، پھر استعمال نہ کرنا۔ پھر دھو دے، پھر استعمال نہ کرنا۔ پھر دھو دے، پھر استعمال نہ کرنا۔ انہوں نے کہا: میں نے اسے دھو دیا، پھر دوبارہ استعمال نہیں کی، پھر دھو دیا، پھر استعمال نہیں کی، پھر دھو دیا، پھر دوبارہ استعمال نہیں کی۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5127]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5124 (ضعیف) (اس کا راوی عبداللہ بن حفص وہی ابو حفص بن عمرو ہے جو مجہول ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، يإسناده ضعيف، تقدم (5124) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5128
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ يَعْقُوبَ الصَّبِيحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مُوسَى يَعْنِي مُحَمَّدًا، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ يَعْلَى، قَالَ: مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُتَخَلِّقٌ، فَقَالَ:" أَيْ يَعْلَى , هَلْ لَكَ امْرَأَةٌ؟" , قُلْتُ: لَا، قَالَ:" اذْهَبْ فَاغْسِلْهُ، ثُمَّ اغْسِلْهُ، ثُمَّ اغْسِلْهُ، ثُمَّ لَا تَعُدْ"، قَالَ: فَذَهَبْتُ فَغَسَلْتُهُ، ثُمَّ غَسَلْتُهُ، ثُمَّ غَسَلْتُهُ، ثُمَّ لَمْ أَعُدْ.
یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا، میں خلوق لگائے ہوئے تھا، آپ نے فرمایا: یعلیٰ! کیا تمہاری بیوی ہے؟ میں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: جاؤ، اسے دھوؤ، پھر دھوؤ اور پھر دھوؤ، پھر ایسا نہ کرنا، میں گیا اور اسے دھویا پھر دھویا اور پھر دھویا پھر ایسا نہیں کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5128]
حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا جبکہ میں نے خلوق لگا رکھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یعلیٰ! تیری بیوی ہے؟ میں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے دھو دے، اچھی طرح دھو دے، بار بار دھو دے، پھر دوبارہ نہ لگانا۔ میں گیا اور اس کو دھو دیا، اچھی طرح دھو دیا، بار بار دھویا، پھر دوبارہ کبھی نہیں لگائی۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5128]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5124 (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، تقدم (5124) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
35. بَابُ: مَا يُكْرَهُ لِلنِّسَاءِ مِنَ الطِّيبِ
باب: عورتوں کے لیے ناپسندیدہ اور مکروہ خوشبو کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5129
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ وَهُوَ ابْنُ عُمَارَةَ، عَنْ غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ اسْتَعْطَرَتْ فَمَرَّتْ عَلَى قَوْمٍ لِيَجِدُوا مِنْ رِيحِهَا فَهِيَ زَانِيَةٌ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو عورت عطر لگائے اور پھر لوگوں کے سامنے سے گزرے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں تو وہ زانیہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5129]
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی عورت خوشبو لگا کر لوگوں کے پاس سے گزرتی ہے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں (اور اس کی طرف متوجہ ہوں) تو وہ بدکارہ (زانیہ) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5129]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الترجل 7 (1473)، سنن الترمذی/الأدب 35 (الاستئذان 69) (2786)، (تحفة الأشراف: 9023)، مسند احمد (4/394، 400، 407، 413، 414، 418) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یعنی وہ عطر مہک والا ہو، اور مہک والا عطر لگا کر باہر نکلنا عورتوں کے لیے حرام ہے، گھر میں شوہر کے لیے لگا سکتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
36. بَابُ: اغْتِسَالِ الْمَرْأَةِ مِنَ الطِّيبِ
باب: مسجد جانے سے پہلے عورت نہا دھو کر اپنے جسم سے خوشبو زائل کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5130
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْهَاشِمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ صَفْوَانَ بْنَ سُلَيْمٍ، وَلَمْ أَسْمَعْ مِنْ صَفْوَانَ غَيْرَهُ يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ ثِقَةٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا خَرَجَتِ الْمَرْأَةُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَلْتَغْتَسِلْ مِنَ الطِّيبِ كَمَا تَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ" مُخْتَصَرٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عورت مسجد کے لیے نکلے تو خوشبو مٹانے کے لیے اس طرح غسل کرے جیسے غسل جنابت کرتی ہے، یہ حدیث مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5130]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی عورت مسجد کو جانے لگے (اور اس نے پہلے خوشبو لگا رکھی ہو) تو وہ اچھی طرح غسل کرے، جیسے وہ غسل جنابت کرتی ہے۔ یہ روایت مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5130]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15507)، سنن ابی داود/فی الترجل7(4174)، وسنن ابن ماجہ/فی الفتن19 (4002)، وحم (2/297، 444، 461) بلفظ ’’لا تقبل صلاة لامرأة تطیب للمسجد حتی ترجع فتغسل غسلہا من الجنابة‘‘ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
37. بَابُ: النَّهْىِ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَشْهَدَ الصَّلاَةَ إِذَا أَصَابَتْ مِنَ الْبَخُورِ
باب: عورت خوشبو لگا کر نماز پڑھنے کے لیے مسجد نہ جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5131
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ عِيسَى الْبَغْدَادِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَصَابَتْ بَخُورًا فَلَا تَشْهَدْ مَعَنَا الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَا أَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ يَزِيدَ بْنَ خُصَيْفَةَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَلَى قَوْلِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. وَقَدْ خَالَفَهُ يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ رَوَاهُ , عَنْ زَيْنَبَ الثَّقَفِيَّةِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عورت خوشبو لگائے ہو تو ہمارے ساتھ عشاء کی جماعت میں نہ آئے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ کسی نے یزید بن خصیفہ کی بسر بن سعید سے روایت کرتے ہوئے «عن ابی ھریرہ» کہنے میں متابعت کی ہو۔ اس کے برعکس یعقوب بن عبداللہ بن اشج نے اسے روایت کرنے میں «عن زینب الثقفیۃ» کہا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5131]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے خوشبو لگائی ہو، وہ ہمارے ساتھ عشاء کی نماز پڑھنے مسجد میں نہ آئے۔ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق یزید بن خصیفہ کی بسر بن سعید سے مروی روایت میں اس (یزید بن خصیفہ) کے قول «عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ» کی کسی نے متابعت نہیں کی بلکہ یعقوب بن عبداللہ بن اشج نے اس کے برعکس ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی بجائے اسے زینب ثقفیہ رضی اللہ عنہا کی مسند قرار دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5131]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 30 (444)، سنن ابی داود/الترجل 7 (4175)، (تحفة الأشراف: 12207)، مسند احمد (2/304)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5265 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یزید بن خصیفہ کی روایت صحیح مسلم میں بھی ہے، یہ بالکل ممکن ہے کہ روایت یزید کے پاس دونوں سندوں سے ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5132
أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا شَهِدَتْ إِحْدَاكُنَّ صَلَاةَ الْعِشَاءِ فَلَا تَمَسَّ طِيبًا".
عبداللہ بن مسعود کی بیوی زینب رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جب تم میں سے کوئی عورت عشاء پڑھنے کے لیے (مسجد) آئے تو خوشبو نہ لگائے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5132]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی زوجۂ محترمہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی عورت کا ارادہ عشاء کی نماز مسجد میں پڑھنے کا ہو تو وہ خوشبو نہ لگائے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5132]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 30 (443)، (تحفة الأشراف: 15888)، مسند احمد (6/363) ویأتي وبأرقام: 5133- 5137، 5262-5264) (حسن، صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں