سنن ابي داود کل احادیث 5274 :حدیث نمبر
سنن ابي داود
کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
Wages (Kitab Al-Ijarah)
حدیث نمبر: 3426
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا هاشم بن القاسم، حدثنا عكرمة، حدثني طارق بن عبد الرحمن القرشي، قال: جاء رافع بن رفاعة إلى مجلس الانصار، فقال:" لقد نهانا نبي الله صلى الله عليه وسلم اليوم فذكر اشياء ونهى عن كسب الامة إلا ما عملت بيدها، وقال: هكذا باصابعه نحو الخبز، والغزل، والنفش".
(مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، حَدَّثَنِي طَارِقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ، قَالَ: جَاءَ رَافِعُ بْنُ رِفَاعَةَ إِلَى مَجْلِسِ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ:" لَقَدْ نَهَانَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ فَذَكَرَ أَشْيَاءَ وَنَهَى عَنْ كَسْبِ الْأَمَةِ إِلَّا مَا عَمِلَتْ بِيَدِهَا، وَقَالَ: هَكَذَا بِأَصَابِعِهِ نَحْوَ الْخَبْزِ، وَالْغَزْلِ، وَالنَّفْشِ".
طارق بن عبدالرحمٰن قرشی کہتے ہیں رافع بن رفاعہ رضی اللہ عنہ انصار کی ایک مجلس میں آئے اور کہنے لگے کہ آج اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا ہے، پھر انہوں نے کچھ چیزوں کا ذکر کیا اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی کی کمائی (زنا کی کمائی) سے منع فرمایا سوائے اس کمائی کے جو اس نے ہاتھ سے محنت کر کے کمائی ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیوں سے اشارہ کر کے بتایا، مثلاً روٹی پکانا، چرخہ کاتنا، روئی دھننا، جیسے کام۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3593)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/341) (حسن)» ‏‏‏‏

Narrated Tariq ibn Abdur Rahman al-Qarash: Rafi ibn Rifaah came to a meeting of the Ansar and said: The Prophet of Allah ﷺ forbade us (from some things) today, and he mentioned some things. He forbade the earning of a slave-girl except what she earned with her hand. He indicated (some things) with his fingers such as baking, spinning, and ginning.
USC-MSA web (English) Reference: Book 23 , Number 3419


قال الشيخ الألباني: حسن
حدیث نمبر: 3427
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن ابي فديك، عن عبيد الله يعني ابن هرير، عن ابيه، عن جده رافع هو ابن خديج، قال:" نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن كسب الامة حتى يعلم من اين هو".
(مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ هُرَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعٍ هُوَ ابْنُ خَدِيجٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْأَمَةِ حَتَّى يُعْلَمَ مِنْ أَيْنَ هُوَ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی کی کمائی سے منع فرمایا ہے جب تک کہ یہ معلوم نہ ہو جائے کہ اس نے کہاں سے حاصل کیا ہے ۱؎؟۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3587)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/141) (حسن) بما قبلہ» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: جب تک معلوم نہ ہو جائے کہ لونڈی نے کہاں سے کمایا ہے، حلال طریقے سے یا حرام اس کی کمائی لینا صحیح نہیں ہے، علماء کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈیوں کی کمائی سے اس واسطے منع کیا ہے کہ لوگ ان پر محصول مقرر کرتے تھے، اور وہ جہاں سے بھی ہوتا اسے لا کر اپنے مالک کو دیتی، اگر کام نہ پاتیں تو زنا کی کمائی سے لا کر دیتیں اس واسطے ان کی کمائی سے اس وقت تک منع فرمایا جب تک کہ اس بات کی تحقیق نہ ہو جائے کہ اس کی کمائی حلال طریقے سے ہے، بعض لوگوں کے نزدیک کمائی سے مراد زنا کاری کی کمائی ہے۔

Narrated Rafi bin Khadij: The Messenger of Allah ﷺ forbade earnings of a slave-girl unless it is known from where it came.
USC-MSA web (English) Reference: Book 23 , Number 3420


قال الشيخ الألباني: حسن لغيره
5. باب فِي حُلْوَانِ الْكَاهِنِ
5. باب: کاہن اور نجومی کی اجرت کا بیان۔
Chapter: Regarding The Fee Of A Fortune-Teller.
حدیث نمبر: 3428
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا قتيبة، عن سفيان، عن الزهري، عن ابي بكر بن عبد الرحمن، عن ابي مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم، انه" نهى عن ثمن الكلب، ومهر البغي، وحلوان الكاهن".
(مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ" نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ".
ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت ۱؎، زانیہ عورت کی کمائی ۲؎، اور کاہن کی اجرت ۳؎ لینے سے منع فرمایا ہے۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح البخاری/البیوع 113 (2237)، الإجارة 20 (2282)، الطلاق 51 (5346)، الطب 46 (5761)، صحیح مسلم/المساقاة 9 (1567)، سنن الترمذی/البیوع 46 (1276)، النکاح 37 (1133)، الطب 23 (2071)، سنن النسائی/الصید والذبائح 15 (4297)، سنن ابن ماجہ/التجارات 9 (2159)، (تحفة الأشراف: 10010)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 29(68)، مسند احمد (4/118، 120، 140، 141)، سنن الدارمی/البیوع 34 (2610) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: کتا نجس ہے اس لئے اس سے حاصل ہونے والی قیمت بھی ناپاک ہوگی، اس کی نجاست کا حال یہ ہے کہ شریعت نے اس برتن کو جس میں کتا منہ ڈال دے سات مرتبہ دھونے کا حکم دیا جس میں ایک مرتبہ مٹی سے دھونا بھی شامل ہے، اسی سبب سے کتے کی خرید و فروخت اور اس سے فائدہ اٹھانا منع ہے الا یہ کہ کسی اشد ضرورت مثلاً گھر، جائداد اور جانوروں کی حفاظت کے لئے ہو۔
۲؎: چونکہ زنا گناہ کبیرہ ہے اور فحش امور میں سے ہے اس لئے اس سے حاصل ہونے والی اجرت بھی ناپاک اور حرام ہے اس میں کوئی فرق نہیں کہ زانیہ لونڈی ہو یا آزاد عورت۔
۳؎: علم غیب رب العالمین کے لئے خاص ہے اس کا دعویٰ کرنا عظیم گناہ ہے اسی طرح اس دعویٰ کی آڑ میں کاہن اور نجومی عوام سے باطل طریقے سے جو مال حاصل کرتے ہیں وہ بھی حرام ہے۔

Narrated Abu Masud: The Prophet ﷺ forbade the price paid for a dog, the hire paid to a prostitute, and the gift given to a soothsayer.
USC-MSA web (English) Reference: Book 23 , Number 3421


قال الشيخ الألباني: صحيح
6. باب فِي عَسْبِ الْفَحْلِ
6. باب: نر سے جفتی کرانے کی اجرت کا بیان۔
Chapter: Regarding Stud Fees For A Stallion.
حدیث نمبر: 3429
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا مسدد بن مسرهد، حدثنا إسماعيل، عن علي بن الحكم، عن نافع، عن ابن عمر، قال:" نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن عسب الفحل".
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَال:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الإجارة 21 (2284)، سنن الترمذی/البیوع 45 (1273)، سنن النسائی/البیوع 92 (4675)، (تحفة الأشراف: 8233)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/14) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: چونکہ مادہ کے حاملہ اور غیر حاملہ ہونے دونوں کا شبہ ہے اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینے سے منع فرمایا ہے۔

Narrated Abdullah ibn Umar: The Messenger of Allah ﷺ forbade (taking hire for) a stallion's covering.
USC-MSA web (English) Reference: Book 23 , Number 3422


قال الشيخ الألباني: صحيح
7. باب فِي الصَّائِغِ
7. باب: سنار (جوہری) کا بیان۔
Chapter: Regarding Goldsmiths.
حدیث نمبر: 3430
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سلمة، اخبرنا محمد بن إسحاق، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابي ماجدة، قال:" قطعت من اذن غلام او قطع من اذني، فقدم علينا ابو بكر حاجا، فاجتمعنا إليه، فرفعنا إلى عمر بن الخطاب، فقال عمر: إن هذا قد بلغ القصاص ادعوا لي حجاما ليقتص منه، فلما دعي الحجام، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: إني وهبت لخالتي غلاما، وانا ارجو ان يبارك لها فيه، فقلت لها: لا تسلميه حجاما، ولا صائغا، ولا قصابا"، قال ابو داود: روى عبد الاعلى، عن ابن إسحاق، قال ابن ماجدة: رجل من بني سهم، عن عمر بن الخطاب.
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَاجِدَةَ، قَالَ:" قَطَعْتُ مِنْ أُذُنِ غُلَامٍ أَوْ قُطِعَ مِنْ أُذُنِي، فَقَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ حَاجًّا، فَاجْتَمَعْنَا إِلَيْهِ، فَرَفَعَنَا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ هَذَا قَدْ بَلَغَ الْقِصَاصَ ادْعُوا لِي حَجَّامًا لِيَقْتَصَّ مِنْهُ، فَلَمَّا دُعِيَ الْحَجَّامُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنِّي وَهَبْتُ لِخَالَتِي غُلَامًا، وَأَنَا أَرْجُو أَنْ يُبَارَكَ لَهَا فِيهِ، فَقُلْتُ لَهَا: لَا تُسَلِّمِيهِ حَجَّامًا، وَلَا صَائِغًا، وَلَا قَصَّابًا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنِ ابْنِ إِسْحَاق، قَالَ ابْنُ مَاجِدَةَ: رَجُلٌ مَنْ بَنِي سَهْمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ.
ابوماجدہ کہتے ہیں میں نے ایک غلام کا کان کاٹ لیا، یا میرا کان کاٹ لیا گیا، (یہ شک راوی کو ہوا ہے) ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں حج کے ارادے سے آئے، ہم سب ان کے پاس جمع ہو گئے، تو انہوں نے ہمیں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ معاملہ تو قصاص تک پہنچ گیا ہے، کسی حجام (پچھنا لگانے والے) کو میرے پاس بلا کر لاؤ تاکہ وہ اس سے (جس نے کان کاٹا ہے) قصاص لے، پھر جب حجام (پچھنا لگانے والا) بلا کر لایا گیا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: میں نے اپنی خالہ کو ایک غلام ہبہ کیا اور میں نے امید کی کہ انہیں اس غلام سے برکت ہو گی تو میں نے ان سے کہا کہ اس غلام کو کسی حجام (سینگی لگانے والے)، سنار اور قصاب کے حوالے نہ کر دینا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالاعلی نے اسے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: ابن ماجدہ بنو سہم کے ایک فرد ہیں اور انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے (عمر رضی اللہ عنہ سے ان کی روایت مرسل ہے)

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10613)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/17) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ابو ماجدہ مجہول ہیں نیز عمر رضی اللہ عنہ سے ان کا سماع نہیں ہے)

Abu Majidah said: I cut the ear of a boy, or he cut my ear (the narrator is doubtful). Abu Bakr then came to us to perform hajj and we got together with him. But he referred us to Umar ibn al-Khattab. Umar (ibn al-Khattab) said: This reached the extent of retaliation. Call a cupper to me so that he may retaliate. When the cupper was called, he (Umar) said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: I gave a boy to my maternal aunt, and I hope that she will be blessed in respect of him. I said to her: Do not entrust him to a supper, nor to a goldsmith, nor to a butcher. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Abd al-A'la from Ibn Ishaq who said: Abu Majidah is a man of Banu Sahm narrating from Umar bin al-Khattab.
USC-MSA web (English) Reference: Book 23 , Number 3423


قال الشيخ الألباني: ضعيف
حدیث نمبر: 3431
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا يوسف بن موسى، حدثنا سلمة بن الفضل، حدثنا ابن إسحاق، عن العلاء بن عبد الرحمن الحرقي، عن ابن ماجدة السهمي، عن عمر بن الخطاب، عن النبي صلى الله عليه وسلم، نحوه.
(مرفوع) حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاق، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُرَقِيِّ، عَنِ ابْنِ مَاجِدَةَ السَّهْمِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
ابن ماجدہ سہمی نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10613) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (عمر رضی اللہ عنہ سے ابو ماجدہ کی روایت مرسل ہے نیز وہ مجہول ہیں)

A similar tradition has also been transmitted by Abu Majidah al-Sahmi from Umar bin al-Khattab through a different chain of narrators.
USC-MSA web (English) Reference: Book 23 , Number 3424

حدیث نمبر: 3432
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا الفضل بن يعقوب، حدثنا عبد الاعلى، عن محمد بن إسحاق،حدثنا العلاء بن عبد الرحمن الحرقي، عن ابن ماجدة السهمي، عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم، مثله.
(مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق،حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُرَقِيُّ، عَنِ ابْنِ مَاجِدَةَ السَّهْمِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
اس سند سے بھی ابن ماجدہ سہمی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے ہم مثل روایت کی ہے۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (3429)، (تحفة الأشراف: 10613) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (دیکھئے حدیث سابق)

Abu Majidah quoted Umar bin al-Khattab as saying: I heard the Prophet ﷺ say. . . narrating the tradition to the same effect.
USC-MSA web (English) Reference: Book 23 , Number 3425

8. باب فِي الْعَبْدِ يُبَاعُ وَلَهُ مَالٌ
8. باب: بیچے جانے والے غلام کے پاس مال ہو تو وہ کس کا ہو گا؟
Chapter: Regarding A Slave That Is Sold While He Has Wealth.
حدیث نمبر: 3433
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" من باع عبدا، وله مال، فماله للبائع إلا ان يشترطه المبتاع، ومن باع نخلا مؤبرا، فالثمرة للبائع، إلا ان يشترط المبتاع".
(مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ بَاعَ عَبْدًا، وَلَهُ مَالٌ، فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَهُ الْمُبْتَاعُ، وَمَنْ بَاعَ نَخْلًا مُؤَبَّرًا، فَالثَّمَرَةُ لِلْبَائِعِ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی غلام کو بیچا اور اس کے پاس مال ہو، تو اس کا مال بائع لے گا، الا یہ کہتے ہیں کہ خریدار پہلے سے اس مال کی شرط لگا لے ۱؎، (ایسے ہی) جس نے تابیر (اصلاح) کئے ہوئے (گابھا دئیے ہوئے کھجور کا درخت بیچا تو پھل بائع کا ہو گا الا یہ کہ خریدار خریدتے وقت شرط لگا لے (کہ پھل میں لوں گا)۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح البخاری/البیوع 90 (2203)، 92 (2206)، المساقاة 17 (2379)، الشروط 2 (2716)، صحیح مسلم/البیوع 15 (1543)، سنن الترمذی/البیوع 25 (1244)، سنن النسائی/البیوع 74 (4640)، سنن ابن ماجہ/التجارات 31 (2210)، (تحفة الأشراف: 6819، 8330)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 7 (10)، مسند احمد (2/6)، سنن الدارمی/البیوع 27 (2603) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: یعنی یہ شرط لگائے کہ غلام کے پاس جو مال ہو گا، وہ میرا ہو گا، تو پھر وہ خریدار کو ملے گا۔

Narrated Ibn Umar: The Prophet ﷺ as saying: If anyone buys a slave who possesses property. his property belongs to the seller unless buyer makes a provision and if anyone buys palm-trees after they have been fecundated, the fruit belongs to the seller unless the buyer make a provision.
USC-MSA web (English) Reference: Book 23 , Number 3426


قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 3434
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا القعنبي، عن مالك، عن نافع، عن ابن عمر، عن عمر، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، بقصة العبد، وعن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم، بقصة النخل، قال ابو داود: واختلف الزهري، ونافع، في اربعة احاديث هذا احدها.
(مرفوع) حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِقِصَّةِ الْعَبْدِ، وَعَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِقِصَّةِ النَّخْلِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَاخْتَلَفَ الزُّهْرِيُّ، وَنَافِعٌ، فِي أَرْبَعَةِ أَحَادِيثَ هَذَا أَحَدُهَا.
عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غلام کا واقعہ روایت کیا ہے، اور نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کھجور کے درخت کے واقعہ کی روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زہری اور نافع نے چار حدیثوں میں اختلاف کیا ہے جن میں سے ایک یہ ہے۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 8330، 11558) (صحیح)» ‏‏‏‏

This tradition has also been narrated by Umar from the Messenger of Allah ﷺ through a different chain of narrators. It mentions only the sale of the slave. It has also been transmitted by Nafi on the authority of Ibn Umar from the Prophet ﷺ indicating only the sale of palm-trees. Abu Dawud said: Al-Zuhri and Nafi differed among themselves in four traditions. This is one of them.
USC-MSA web (English) Reference: Book 23 , Number 3427

حدیث نمبر: 3435
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، حدثني سلمة بن كهيل، حدثني من سمع جابر بن عبد الله، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" من باع عبدا، وله مال فماله، للبائع إلا ان يشترط المبتاع".
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ بَاعَ عَبْدًا، وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ، لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی ایسا غلام بیچا جس کے پاس مال ہو تو مال بیچنے والے کو ملے گا، الا یہ کہ خریدار خریدتے وقت شرط لگا لے (کہ مال میں لوں گا تو پھر خریدار ہی پائے گا)۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3171)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/301) (صحیح)» ‏‏‏‏

Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet ﷺ said: If anyone buys a slave who possesses property, his property belongs to the seller unless the buyer makes a proviso.
USC-MSA web (English) Reference: Book 23 , Number 3428


قال الشيخ الألباني: صحيح

Previous    1    2    3    4    5    6    Next    

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.