🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب في الشرب من ثلمة القدح
باب: پیالہ میں ٹوٹی ہوئی جگہ سے پینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3722
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي قُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ،عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشُّرْبِ مِنْ ثُلْمَةِ الْقَدَحِ، وَأَنْ يُنْفَخَ فِي الشَّرَابِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ کی ٹوٹی ہوئی جگہ سے پینے، اور پینے کی چیزوں میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3722]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأشربة 15 (1887)، (تحفة الأشراف: 4143)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صفة النبی 7 (12)، مسند احمد (3/80) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (4280)
وللحديث شاھد حسن عند الطبراني في الاوسط (6829، مجمع البحرين: 4131)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الهذلي، أبو عبد الله
Newعبيد الله بن عبد الله الهذلي ← أبو سعيد الخدري
ثقة فقيه ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبيد الله بن عبد الله الهذلي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥قرة بن عبد الرحمن المعافري، أبو محمد، أبو حيوئيل
Newقرة بن عبد الرحمن المعافري ← محمد بن شهاب الزهري
صدوق له مناكير
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← قرة بن عبد الرحمن المعافري
ثقة حافظ
👤←👥أحمد بن صالح المصري، أبو جعفر
Newأحمد بن صالح المصري ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5625
نهى رسول الله عن اختناث الأسقية
صحيح البخاري
5626
ينهى عن اختناث الأسقية
صحيح مسلم
5271
اختناث الأسقية
صحيح مسلم
5272
اختناث الأسقية أن يشرب من أفواهها
جامع الترمذي
1890
نهى عن اختناث الأسقية
سنن أبي داود
3720
نهى عن اختناث الأسقية
سنن أبي داود
3722
عن الشرب من ثلمة القدح وأن ينفخ في الشراب
سنن ابن ماجه
3418
اختناث الأسقية أن يشرب من أفواهها
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3722 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3722
فوائد ومسائل:

حدیث میں قوسین والے الفاظ صاحب بزل المجہود نے حاشیے میں زکرکرتے ہوئے ان کی بابت لکھا ہے۔
کہ سنن ابودائود کے بعض نسخوں میں یہ موجود ہیں۔
ہم نے عوام کے استفادے کےلئے انہیں تحریر کردیا ہے۔


پیالے یا پلیٹ میں ٹوٹی ہوئی جگہ کی بالمعوم کما حقہ صفائی نہیں ہوتی، اس لئے ہوسکتا ہے کہ وہ جگہ ہونٹوں کو زخمی کردے۔
یا پیتے وقت مشروب ہونٹوں سے باہر گرنے لگے جو کسی طرح مناسب نہیں۔
ایسے ہی پانی چائے دودھ یا دوسری خوراک میں پھونک مارنا کسی طرح جائز نہیں۔
مگر دم کےلئے پھونک مارنے میں اختلاف ہے۔
کچھ علماء عموم کے تحت اسے بھی ناجائز کہتے ہیں۔
جب کہ کچھ علماء کا موقف ہے کہ دم میں سورۃ فاتحہ اور مسنون دعایئں پڑھنے کی وجہ اس میں کچھ تاثیر پیدا ہوجاتی ہے۔
اس لئے دم کرکے پھونک مارنا جائز ہے۔
(تفصیلی دلائل کےلئے ملاحظہ ہو۔
ہفت روزہ الاعتصام لاہور یکم اگست 2003۔
جلد 555 شمارہ 3) خیال رہے کہ علماء کرام کا اس قسم کی احادیث میں ان منہیات کو نہی تنزہیی یا مکروہ تنزیہی کہنے کا مفہوم یہ ہوتا ہے۔
کہ اگر کبھی ایسا ہوجائے تو اس کے مرتکب کو مرتکب کبیرہ نہ سمجھا جائے۔
ارشادرسول صلی اللہ علیہ وسلم بہرحال واجب التعمیل ہوتا ہے۔
اگر کوئی اسے لایعنی جانے یا تحقیر کرتے ہوئے عمداً مخالفت کرے تو یہ کفر ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3722]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3720
مشک کا منہ موڑ کر اس میں سے پینا منع ہے۔
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزوں کا منہ موڑ کر پینے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3720]
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
اس سے اگلی حدیث (3721) میں اس کے جواز کا بیان ہے۔
لیکن وہ روایت سندا ضعیف ہے۔
اس لئے ممانعت ہی کو ترجیح ہے۔
تاہم یہ ممانعت بطور تنزیہی ہے۔
جیسا کہ اس سے پہلے حدیث (3719) کے فوائد میں وضاحت کی گئی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3720]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1890
مشکیزوں سے منہ لگا کر پینا منع ہے۔
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) مشکیزوں سے منہ لگا کر پینے سے منع کیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة/حدیث: 1890]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں:

(1)
مشکیزہ سے برابر منہ لگا کر پانی پینے سے پانی کا ذائقہ بدل سکتاہے۔

(2)
اس بات کا خدشہ ہے کہ کہیں اس میں کوئی زہریلا کیڑا مکوڑا نہ ہو۔

(3)
مشکیزہ کا منہ اگر کشادہ اور بڑا ہے تو اس کے منہ سے پانی پینے کی صورت میں پینے والا گرنے والے پانی کے چھینٹوں سے نہیں بچ سکتا،
اور اس کے حلق میں ضرورت سے زیادہ پانی جا سکتا ہے کہ جس میں اُچھو آنے کا خطرہ ہوتاہے جو نقصان دہ ہوسکتاہے۔

(4) ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ ممانعت بڑے اور کشادہ منہ والے مشکیزہ سے متعلق ہے۔

(5) کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ رخصت والی روایت اس کے لیے ناسخ ہے۔

(6) عذرکی صورت میں جائز ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1890]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5271
حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزوں کے منہ موڑنے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5271]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
اختناث:
منہ موڑنا یا اس کا سرا موڑنا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5271]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5626
5626. حضرت ابو سعید ؓ ہی سے روایت ہے فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے مشکیزوں کے اختناث سے منع فرمایا ہےعبداللہ نے کہا کہ معمر وغیرہ نے بیان کیا: اختناث مشکیزے سے منہ لگا کر پانی پینے کو کہتے ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5626]
حدیث حاشیہ:
وقد جزم الخطابي أن تفسیر الاختناث من کلام الزھري۔
یعنی بقول خطابی لفظ ''اختناث'' کی تفسیر زہری کا کلام ہے۔
مسند ابو بکر بن ابی شیبہ میں ہے کہ ایک شخص نے مشک سے منہ لگا کر پانی پیا اس کے پیٹ میں مشک سے ایک چھوٹا سانپ داخل ہو گیا، اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل سے سختی کے ساتھ منع فرمایا۔
جن روایتوں سے جواز ثابت ہوتا ہے ان کو اس واقعہ نے منسوخ قرار دیا ہے۔
(فتح الباری)
یہ تشریح گذشتہ حدیث سے متعلق ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5626]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5626
5626. حضرت ابو سعید ؓ ہی سے روایت ہے فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے مشکیزوں کے اختناث سے منع فرمایا ہےعبداللہ نے کہا کہ معمر وغیرہ نے بیان کیا: اختناث مشکیزے سے منہ لگا کر پانی پینے کو کہتے ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5626]
حدیث حاشیہ:
(19 مشکیزے کے منہ سے یا نل کو منہ لگا کر پانی پینا ایک ناپسندیدہ عمل ہے۔
ممکن ہے کہ مشکیزہ خراب ہو، اس کے علاوہ یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے اندر کوئی موذی چیز داخل ہو گئی ہو اور پینے والے کو اس کی خبر نہ ہو اور تکلیف پہنچے، چنانچہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک شخص نے اس ہدایت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رات کے وقت مشکیزے کا منہ الٹایا تو اس سے سانپ نکل آیا۔
(سنن ابن ماجة، الأشربة، حدیث: 3419) (2)
انسان کو چاہیے کہ حتی الوسع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات پر عمل کرے، بصورت دیگر نقصان کا اندیشہ ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5626]