🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب : الإبراد بالظهر في شدة الحر
باب: سخت گرمی ہو تو ظہر کو ٹھنڈا کر کے (یعنی تاخیر سے) پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 678
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب گرمی سخت ہو جائے تو ظہر کو ٹھنڈا کر لیا کرو، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 678]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب گرمی شدید ہو تو ظہر کی نماز ٹھنڈی کر لو کیوں کہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 678]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 32 (615)، سنن ابی داود/الصلاة 4 (402)، سنن الترمذی/الصلاة 5 (157)، سنن النسائی/المواقیت 5 (501)، (تحفة الأشراف: 13226) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: جہنم جاڑے کے دنوں میں اندر کی طرف سانس لیتی ہے اور گرمی کے دنوں میں سانس کو باہر نکالتی ہے جیسے دوسری حدیث میں وارد ہے، بعض لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ گرمی کا تعلق سورج نکلنے سے ہے لیکن یہ علت صحیح نہیں ہے، کیونکہ اونچے مقام پر گرمی نہیں ہوتی جب کہ سورج اس سے قریب ہوتا ہے، اور اصل وجہ گرمی اور جاڑے کی یہ ہے کہ زمین گرم ہو کر اپنی سانس یعنی بخارات باہر نکالتی ہے، اس سے گرمی معلوم ہوتی ہے اور کوئی مانع اس سے نہیں ہے کہ جہنم کا ایک ٹکڑا زمین کے اندر ہو، اور جیالوجی (علم الارض) سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کے اندر ہزار فٹ پر ایسی حرارت ہے کہ اگر وہاں حیوان پہنچیں تو فوراً مر جائیں، اور اس سے بھی زیادہ نیچے ایسی گرمی ہے کہ لوہا، تانبہ اور شیشہ پگھلا ہوا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ ہم کو جہنم سے بچائے، آمین، نیز جمہور نے اسے حقیقت پر محمول کیا ہے، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ یہ بطور تشبیہ و تقریب کہا گیا ہے یعنی یہ گویا جہنم کی آگ کی طرح ہے،اس لئے اس کی ضرر رسانیوں سے بچو، اور احتیاط کرو، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب جلدی پڑھتے تھے، بعض روایتوں میں شفق ڈوبنے تک مغرب کو مؤخر کرنے کا جو ذکر ملتا ہے وہ بیان جواز کے لئے ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد
Newسعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي
أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥محمد بن رمح التجيبي، أبو عبد الله
Newمحمد بن رمح التجيبي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
1397
أبردوا بالصلاة فإن شدة الحر من فيح جهنم
صحيح مسلم
1395
أبردوا بالصلاة فإن شدة الحر من فيح جهنم
صحيح مسلم
1398
الحر من فيح جهنم فأبردوا بالصلاة
صحيح مسلم
1399
أبردوا عن الحر في الصلاة فإن شدة الحر من فيح جهنم
صحيح مسلم
1402
أبردوا عن الصلاة فإن شدة الحر من فيح جهنم النار اشتكت إلى ربها فأذن لها في كل عام بنفسين نفس في الشتاء ونفس في الصيف
جامع الترمذي
157
أبردوا عن الصلاة فإن شدة الحر من فيح جهنم
سنن أبي داود
402
إذا اشتد الحر فأبردوا عن الصلاة
سنن النسائى الصغرى
501
أبردوا عن الصلاة فإن شدة الحر من فيح جهنم
سنن ابن ماجه
677
أبردوا بالصلاة فإن شدة الحر من فيح جهنم
سنن ابن ماجه
678
أبردوا بالظهر فإن شدة الحر من فيح جهنم
موطأ مالك رواية يحيى الليثي
26
أبردوا عن الصلاة فإن شدة الحر من فيح جهنم
موطأ مالك رواية يحيى الليثي
28
أبردوا عن الصلاة فإن شدة الحر من فيح جهنم
موطا امام مالك رواية ابن القاسم
25
إذا كان الحر فابردوا عن الصلاة فإن شدة الحر من فيح جهنم
المعجم الصغير للطبراني
228
إذا اشتد الحر فأبردوا بالصلاة ، فإن شدة الحر من فيح جهنم
مسندالحميدي
971
إذا اشتد الحر فأبردوا بالصلاة، فإن شدة الحر من فيح جهنم
مسندالحميدي
972
Sunan Ibn Majah Hadith 678 in Urdu