سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب : الإبراد بالظهر في شدة الحر
باب: سخت گرمی ہو تو ظہر کو ٹھنڈا کر کے (یعنی تاخیر سے) پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 678
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب گرمی سخت ہو جائے تو ظہر کو ٹھنڈا کر لیا کرو، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 678]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب گرمی شدید ہو تو ظہر کی نماز ٹھنڈی کر لو کیوں کہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 678]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 32 (615)، سنن ابی داود/الصلاة 4 (402)، سنن الترمذی/الصلاة 5 (157)، سنن النسائی/المواقیت 5 (501)، (تحفة الأشراف: 13226) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جہنم جاڑے کے دنوں میں اندر کی طرف سانس لیتی ہے اور گرمی کے دنوں میں سانس کو باہر نکالتی ہے جیسے دوسری حدیث میں وارد ہے، بعض لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ گرمی کا تعلق سورج نکلنے سے ہے لیکن یہ علت صحیح نہیں ہے، کیونکہ اونچے مقام پر گرمی نہیں ہوتی جب کہ سورج اس سے قریب ہوتا ہے، اور اصل وجہ گرمی اور جاڑے کی یہ ہے کہ زمین گرم ہو کر اپنی سانس یعنی بخارات باہر نکالتی ہے، اس سے گرمی معلوم ہوتی ہے اور کوئی مانع اس سے نہیں ہے کہ جہنم کا ایک ٹکڑا زمین کے اندر ہو، اور جیالوجی (علم الارض) سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کے اندر ہزار فٹ پر ایسی حرارت ہے کہ اگر وہاں حیوان پہنچیں تو فوراً مر جائیں، اور اس سے بھی زیادہ نیچے ایسی گرمی ہے کہ لوہا، تانبہ اور شیشہ پگھلا ہوا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ ہم کو جہنم سے بچائے، آمین، نیز جمہور نے اسے حقیقت پر محمول کیا ہے، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ یہ بطور تشبیہ و تقریب کہا گیا ہے یعنی یہ گویا جہنم کی آگ کی طرح ہے،اس لئے اس کی ضرر رسانیوں سے بچو، اور احتیاط کرو، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب جلدی پڑھتے تھے، بعض روایتوں میں شفق ڈوبنے تک مغرب کو مؤخر کرنے کا جو ذکر ملتا ہے وہ بیان جواز کے لئے ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد سعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥محمد بن رمح التجيبي، أبو عبد الله محمد بن رمح التجيبي ← الليث بن سعد الفهمي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
1397
| أبردوا بالصلاة فإن شدة الحر من فيح جهنم |
صحيح مسلم |
1395
| أبردوا بالصلاة فإن شدة الحر من فيح جهنم |
صحيح مسلم |
1398
| الحر من فيح جهنم فأبردوا بالصلاة |
صحيح مسلم |
1399
| أبردوا عن الحر في الصلاة فإن شدة الحر من فيح جهنم |
صحيح مسلم |
1402
| أبردوا عن الصلاة فإن شدة الحر من فيح جهنم النار اشتكت إلى ربها فأذن لها في كل عام بنفسين نفس في الشتاء ونفس في الصيف |
جامع الترمذي |
157
| أبردوا عن الصلاة فإن شدة الحر من فيح جهنم |
سنن أبي داود |
402
| إذا اشتد الحر فأبردوا عن الصلاة |
سنن النسائى الصغرى |
501
| أبردوا عن الصلاة فإن شدة الحر من فيح جهنم |
سنن ابن ماجه |
677
| أبردوا بالصلاة فإن شدة الحر من فيح جهنم |
سنن ابن ماجه |
678
| أبردوا بالظهر فإن شدة الحر من فيح جهنم |
موطأ مالك رواية يحيى الليثي |
26
| أبردوا عن الصلاة فإن شدة الحر من فيح جهنم |
موطأ مالك رواية يحيى الليثي |
28
| أبردوا عن الصلاة فإن شدة الحر من فيح جهنم |
موطا امام مالك رواية ابن القاسم |
25
| إذا كان الحر فابردوا عن الصلاة فإن شدة الحر من فيح جهنم |
المعجم الصغير للطبراني |
228
| إذا اشتد الحر فأبردوا بالصلاة ، فإن شدة الحر من فيح جهنم |
مسندالحميدي |
971
| إذا اشتد الحر فأبردوا بالصلاة، فإن شدة الحر من فيح جهنم |
مسندالحميدي |
972
|
Sunan Ibn Majah Hadith 678 in Urdu
سعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي