🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب النهي عن الصلاة بالهاجرة
ٹھیک دوپہر کے وقت نماز کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 28
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ، فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تیز گرمی ہو تو تاخیر کرو نماز کی ٹھنڈک تک، کیونکہ تیزی گرمی کی جہنم کے جوش سے ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 28]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 533، 536، 3260، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 615، 617، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 329، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1504، 1506، 1507، 1510، 7466، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 499، 501، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1499، 1500، وأبو داود فى «سننه» برقم: 402، والترمذي فى «جامعه» برقم: 157، 2592، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1243، 2887، 2888، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 677، 678، 4319، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 2089، 2090، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7251، 7366، والحميدي فى «مسنده» برقم: 971، 972، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5871، والطبراني فى «الصغير» برقم: 384، شركة الحروف نمبر: 26، فواد عبدالباقي نمبر: 1 - كِتَابُ وُقُوتِ الصَّلَاةِ-ح: 29»
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، أبو داود
Newعبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت عالم
👤←👥عبد الله بن ذكوان القرشي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن ذكوان القرشي ← عبد الرحمن بن هرمز الأعرج
إمام ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
1397
أبردوا بالصلاة فإن شدة الحر من فيح جهنم
صحيح مسلم
1395
أبردوا بالصلاة فإن شدة الحر من فيح جهنم
صحيح مسلم
1398
الحر من فيح جهنم فأبردوا بالصلاة
صحيح مسلم
1399
أبردوا عن الحر في الصلاة فإن شدة الحر من فيح جهنم
صحيح مسلم
1402
أبردوا عن الصلاة فإن شدة الحر من فيح جهنم النار اشتكت إلى ربها فأذن لها في كل عام بنفسين نفس في الشتاء ونفس في الصيف
جامع الترمذي
157
أبردوا عن الصلاة فإن شدة الحر من فيح جهنم
سنن أبي داود
402
إذا اشتد الحر فأبردوا عن الصلاة
سنن النسائى الصغرى
501
أبردوا عن الصلاة فإن شدة الحر من فيح جهنم
سنن ابن ماجه
677
أبردوا بالصلاة فإن شدة الحر من فيح جهنم
سنن ابن ماجه
678
أبردوا بالظهر فإن شدة الحر من فيح جهنم
موطأ مالك رواية يحيى الليثي
26
أبردوا عن الصلاة فإن شدة الحر من فيح جهنم
موطأ مالك رواية يحيى الليثي
28
أبردوا عن الصلاة فإن شدة الحر من فيح جهنم
موطا امام مالك رواية ابن القاسم
25
إذا كان الحر فابردوا عن الصلاة فإن شدة الحر من فيح جهنم
المعجم الصغير للطبراني
228
إذا اشتد الحر فأبردوا بالصلاة ، فإن شدة الحر من فيح جهنم
مسندالحميدي
971
إذا اشتد الحر فأبردوا بالصلاة، فإن شدة الحر من فيح جهنم
مسندالحميدي
972
موطا امام مالك رواية يحييٰ کی حدیث نمبر 28 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافظ ابو سمیعہ محمود تبسم، فوائد، موطا امام مالک : 28
فائدہ:
اس باب کی احادیث سے امام مالک رحمہ اللہ عنوان میں بیان کردہ مسئلے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ جب زوالِ آفتاب کے بعد بھی کچھ تاخیر سے نماز پڑھنے کا حکم ہے تو دن کے عین درمیان میں جب گرمی کا مکمل عروج ہو، نماز ادا نہیں کرنا چاہیے۔
دراصل رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے پانچ اوقات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے:
➊ جب سورج طلوع ہو رہا ہو.
➋ جب سورج غروب ہو رہا ہو کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان میں طلوع اور غروب ہوتا ہے (یعنی ان دونوں اوقات میں شیطان سورج کے آگے کھڑا ہو جاتا ہے تا کہ جو لوگ اس کے ورغلانے سے سورج کی پوجا کریں تو اُن کا سجدہ وغیرہ سورج کی بجائے خود شیطان کی طرف ہو) اور (ان دونوں اوقات میں نماز کی ممانعت کا سبب کفار کی مشابہت ہے)، فرمانِ نبوی ہے: «وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ» اور اس وقت (سورج کی پوجا کرنے والے) کافر اُسے سجدہ کر رہے ہوتے ہیں۔
➌ دن کے عین درمیان میں اس وقت جہنم کو بھڑکایا جا رہا ہوتا ہے۔ [صحيح مسلم: 832]
➍ نمازِ فجر کے بعد سے لے کر طلوع آفتاب تک۔
➎ نمازِ عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک۔
پہلے تین اوقات میں کوئی بھی نماز شروع کرنا ممنوع ہے لیکن آخری دونوں اوقات میں قضا ہونے والی فرض نمازیں اور بعض پیش آمدہ اسباب کی بنا پر بعض نفلی نمازیں پڑھنے کی گنجائش ہے۔
[موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 28]

Muwatta Imam Malik Riwayat Yahya Hadith 28 in Urdu