صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
غلامی سے آزادی کا بیان
6. باب فَضْلِ الْعِتْقِ:
6. باب: غلام آزاد کرنے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 3796
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثنا داود بن رشيد ، حدثنا الوليد بن مسلم ، عن محمد بن مطرف ابي غسان المدني ، عن زيد بن اسلم ، عن علي بن حسين ، عن سعيد ابن مرجانة ، عن ابي هريرة ، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " من اعتق رقبة، اعتق الله بكل عضو منها عضوا من اعضائه من النار، حتى فرجه بفرجه ".وحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ أَبِي غَسَّانَ الْمَدَنِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ مَرْجَانَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً، أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْ أَعْضَائِهِ مِنَ النَّارِ، حَتَّى فَرْجَهُ بِفَرْجِهِ ".
علی بن حسین نے سعید بن مرجانہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: "جس نے کسی مومن گردن کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے اس (آزاد کرنے والے) کے اعضاء میں سے وہی عضو آگ سے آزاد فرمائے گا حتی کہ اس کی شرمگاہ کے بدلے اس کی شرمگاہ کو بھی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے گردن آزاد کی، اللہ اس کے ہر عضو کے بدلہ میں، اس کے اعضاء میں ایک عضو آگ سے آزاد فرمائے گا، حتیٰ کہ اس کی شرم گاہ کے عوض اس کی شرم گاہ آزاد کرے گا۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 1509

   صحيح البخاري2517عبد الرحمن بن صخرأيما رجل أعتق امرأ مسلما استنقذ الله بكل عضو منه عضوا منه من النار
   صحيح البخاري6715عبد الرحمن بن صخرمن أعتق رقبة مسلمة أعتق الله بكل عضو منه عضوا من النار حتى فرجه بفرجه
   صحيح مسلم3798عبد الرحمن بن صخرأيما امرئ مسلم أعتق امرأ مسلما استنقذ الله بكل عضو منه عضوا منه من النار
   صحيح مسلم3797عبد الرحمن بن صخرمن أعتق رقبة مؤمنة أعتق الله بكل عضو منه عضوا من النار حتى يعتق فرجه بفرجه
   صحيح مسلم3796عبد الرحمن بن صخرمن أعتق رقبة أعتق الله بكل عضو منها عضوا من أعضائه من النار حتى فرجه بفرجه
   صحيح مسلم3795عبد الرحمن بن صخرمن أعتق رقبة مؤمنة أعتق الله بكل إرب منها إربا منه من النار
   جامع الترمذي1541عبد الرحمن بن صخرأعتق رقبة مؤمنة أعتق الله منه بكل عضو منه عضوا من النار حتى يعتق فرجه بفرجه
   بلوغ المرام1220عبد الرحمن بن صخر أيما امرىء مسلم أعتق أمرأ مسلما استنقذ الله بكل عضو منه عضوا منه من النار
   المعجم الصغير للطبراني1062عبد الرحمن بن صخر من أعتق رقبة مسلمة أعتق الله بكل عضو منه عضوا من النار

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1220  
´(آزادی کے متعلق احادیث)`
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس مسلمان نے کسی مسلمان غلام کو آزاد کیا اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کو اس کے ہر عضو کے بدلے جہنم کی آگ سے آزاد فرما دے گا۔ (بخاری و مسلم) اور ترمذی میں ابوامامہ کی روایت ہے جسے ترمذی نے صحیح قرار دیا ہے کہ جس مسلمان مرد نے دو مسلمان لونڈیوں کو آزاد کیا تو وہ دونوں اس مرد کے دوزخ سے آزاد ہونے کا سبب بن جائیں گی۔ اور ابوداؤد میں کعب بن مرہ کی روایت میں ہے کہ جو مسلمان خاتون کسی مسلمان لونڈی کو آزاد کرے گی تو وہ اس کی جہنم سے آزاد ہونے کا موجب ہو گی۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1220»
تخریج:
«أخرجه البخاري، العتق، باب في العتق وفضله، حديث:2517، ومسلم، العتق، باب فضل العتق، حديث:1509، وحديث أبي أمامة: أخرجه الترمذي، النذور والأيمان، حديث:1547 وهو حديث صحيح، وحديث كعب ابن مرة: أخرجه أبوداود، العتق، حديث:3967، والنسائي، الجهاد، حديث:3147، وابن ماجه، العتق، حديث:2522 وسنده ضعيف لا نقطا عه.»
تشریح:
1. اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کسی مسلمان غلام کو نعمت آزادی سے بہرہ ور کرنا بخشش و مغفرت اور جہنم سے آزادی کا موجب ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف انداز میں اس کی بڑی ترغیب دی ہے۔
2. یہ انسانیت پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت بڑا احسان ہے کہ آپ نے غلامی کی زنجیروں سے انسانوں کو آزادی کی نعمت سے نوازا ہے اور غلاموں کے حقوق سے خبردار کیا ہے‘ ورنہ غلاموں کو تو جانوروں سے بھی بدتر حالات سے دوچار ہونا پڑتا تھا۔
راویٔ حدیث:
«حضرت کعب بن مُرّہ رضی اللہ عنہ» ‏‏‏‏ بعض حضرات انھیں مرہ بن کعب بھی کہتے ہیں۔
پہلے بصرہ آئے، پھر اردن منتقل ہو گئے، اور وہیں ۵۷ یا ۵۹ ہجری میں وفات پائی۔
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث\صفحہ نمبر: 1220   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1541  
´غلام آزاد کرنے کے ثواب کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے ایک مومن غلام کو آزاد کیا، اللہ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے آزاد کرنے والے کے ایک ایک عضو کو آگ سے آزاد کرے گا، یہاں تک کہ اس (غلام) کی شرمگاہ کے بدلے اس کی شرمگاہ کو آزاد کرے گا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب النذور والأيمان/حدیث: 1541]
اردو حاشہ: 1؎:
اس باب اور اگلے باب میں مذکور احادیث کا تعلق 'كتاب الأيمان' سے یہ ہے کہ قسم کے کفارہ میں پہلے غلام آزاد کرنا ہی ہے،
واللہ اعلم۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 1541   
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3796  
1
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جو لوگ اتنی بڑی بڑی،
نیکیاں کرتے ہیں یقیناً وہ لوگ اپنی گناہوں کی بخشش کی دعا بھی کرتے رہتے ہیں،
اس لیے یہ اشکال بے محل ہے کہ غلام آزاد کرنے سے کیا،
مرتکب کبیرہ کی بھی بخشش ہوجاتی ہے جبکہ اس پر اتفاق ہے کہ گناہ کبیرہ بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث\صفحہ نمبر: 3796   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.