الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
تقدیر کا بیان
6. باب مَعْنَى كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ:
6. باب: ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کا حکم کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 6764
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا ابن ابي عمر ، حدثنا سفيان ، عن ابي الزناد ، عن الاعرج ، عن ابي هريرة ، قال: " سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن اطفال المشركين من يموت منهم صغيرا؟ فقال: الله اعلم بما كانوا عاملين ".حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ مَنْ يَمُوتُ مِنْهُمْ صَغِيرًا؟ فَقَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ ".
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے بچوں کے بارے میں سوال کیا گیا، ان میں سے جو چھوٹی عمر میں فوت ہو جائیں (تو ان کا انجام کیا ہو گا؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے۔"
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کےان بچوں کے بارے میں دریافت کیا گیا،جو بچپن فوت ہو جاتے ہیں، تو آپ نے فرمایا:"اللہ کو خوب علم ہے، انھوں نے کس قسم کے عمل کرنے تھے۔"
ترقیم فوادعبدالباقی: 2659

   صحيح البخاري6598عبد الرحمن بن صخرالله أعلم بما كانوا عاملين
   صحيح البخاري1384عبد الرحمن بن صخرالله أعلم بما كانوا عاملين
   صحيح مسلم6765عبد الرحمن بن صخرالله أعلم بما كانوا عاملين
   صحيح مسلم6764عبد الرحمن بن صخرالله أعلم بما كانوا عاملين
   سنن النسائى الصغرى1951عبد الرحمن بن صخرالله أعلم بما كانوا عاملين
   سنن النسائى الصغرى1952عبد الرحمن بن صخرالله أعلم بما كانوا عاملين
   مشكوة المصابيح93عبد الرحمن بن صخرالله أعلم بما كانوا عاملين
   صحيح مسلم 6762عبد الرحمن بن صخرالله اعلم بما كانوا عاملين

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 93  
´مشرکین کے بچے جنت میں جائیں گے یا جہنم میں`
«. . . ‏‏‏‏ . . .»
. . . اور انہیں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں دریافت کیا گیا (کہ وہ جنتی ہیں یا دوزخی ہیں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ عمل کرنے والے ہوتے ہیں۔ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔ . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/0: 93]

تخریج:
[صحيح بخاري 1384]،
[صحيح مسلم 6765]

فقہ الحدیث:
➊ مشرکین کے بچے جنت میں جائیں گے یا جہنم میں؟ یہ تقدیر کا مسئلہ ہے، اسے صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ وہ دنیا میں کیا اعمال کرنے والے تھے۔
➋ مشرکین کے بچوں کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔
➌ مشرکین کے بچوں کے بارے میں سکوت کرنا بہتر ہے۔
➍ نیز دیکھئے: [اضواء المصابيح: 84، ماهنامه الحديث حضرو: 33 ص6]
   اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث\صفحہ نمبر: 93   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.