صحيفه همام بن منبه کل احادیث 139 :حدیث نمبر
صحيفه همام بن منبه
متفرق
विभिन्न हदीसें
58. اگر بنی اسائیل اور حواء نہ ہوتیں تو
५८. “ अगर बनी इसराईल और अम्मा हव्वा न होतीं ”
حدیث نمبر: 58
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب Hindi
((حديث مرفوع) (حديث موقوف)) قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لولا بنو إسرائيل، لم يخبث الطعام ولم يخنز اللحم، ولولا حواء، لم تخن انثى زوجها الدهر"((حديث مرفوع) (حديث موقوف)) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلا بَنُو إِسْرَائِيلَ، لَمْ يَخْبُثِ الطَّعَامُ وَلَمْ يَخْنَزِ اللَّحْمُ، وَلَوْلا حَوَّاءُ، لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا الدَّهْرَ"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو نہ کھانا خراب ہوتا اور نہ گوشت سڑتا اور اگر حوا نہ ہوتی تو کوئی عورت اپنے خاوند سے کبھی بھی خیانت نہ کرتی۔
रसूल अल्लाह सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम ने फ़रमाया ! “अगर बनि इस्राइल न होते तो न खाना ख़राब होता और न मांस सड़ता और अगर हव्वा न होती तो कोई औरत अपने पति से कभी भी ख़यानत न करती।”

تخریج الحدیث: «صحيح بخاري، كتاب أحاديث الأنبياء، باب قول الله تعالٰى ﴿وَاِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰي اَرْبَعِيْنَ لَيْلَةً﴾، رقم: 3399، حدثنا عبدالله بن محمد الجعفي: حدثنا عبدالرزاق: أخبرنا معمر عن همام، عن أبى هريرة رضى الله عنه قال: قال النبى صلى الله عليه وسلم.... - صحيح مسلم، كتاب الرضاع، باب لولا حواء لم تخن أنثى زوجها الدهر، رقم: 1468/63، حدثنا محمد بن رافع: حدثنا عبدالرزاق: أخبرنا معمر عن همام بن منبه، قال: هذا، حدثنا أبو هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، فذكر أحاديث منها: وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم.... - مسند أحمد، رقم: 59/8155 - شرح السنة، باب المدارة مع النساء، رقم: 2335.»

   صحيح البخاري3399عبد الرحمن بن صخرلولا بنو إسرائيل لم يخنز اللحم لولا حواء لم تخن أنثى زوجها الدهر
   صحيح البخاري3330عبد الرحمن بن صخرلولا بنو إسرائيل لم يخنز اللحم لولا حواء لم تخن أنثى زوجها
   صحيح مسلم3647عبد الرحمن بن صخرلولا حواء لم تخن أنثى زوجها الدهر
   صحيح مسلم3648عبد الرحمن بن صخرلولا بنو إسرائيل لم يخبث الطعام ولم يخنز اللحم لولا حواء لم تخن أنثى زوجها الدهر
   صحيفة همام بن منبه58عبد الرحمن بن صخرلولا بنو إسرائيل لم يخبث الطعام ولم يخنز اللحم لولا حواء لم تخن أنثى زوجها الدهر

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 3399  
´بنی اسرائیل اور گوشت کا سڑنا`
«. . . لَوْلَا بَنُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يَخْنَزْ اللَّحْمُ، وَلَوْلَا حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا الدَّهْرَ . . .»
اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے (سلویٰ کا گوشت جمع کر کے نہ رکھتے) تو گوشت کبھی نہ سڑتا۔ اور اگر حوا نہ ہوتیں (یعنی آدم علیہ السلام سے دغا نہ کرتیں) تو کوئی عورت اپنے شوہر کی خیانت کبھی نہ کرتی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ: 3399]

تخریج الحدیث:
یہ روایت صحیح بخاری میں دو مقامات پر ہے:
[3399 من طريق عبدالرزاق]
[3330، من طريق عبدالله بن المبارك كلاهما عن معمر عن همام عن أبي هريره به]
صحیح بخاری کے علاوہ یہ روایت درج ذیل کتابوں میں موجود ہے:
صحيح مسلم [63؍1468 وترقيم دارالسلام: 3648]
صحيح ابن حبان [الاحسان: 4157، نسخة محققه: 4169]
شرح السنة للبغوي [9؍164 ح2335 وقال: هذا حديث متفق على صحته]
المستخرج على صحيح مسلم لابي نعيم الاصبهاني [4؍143 ح3450]
امام بخاری سے پہلے اسے درج ذیل محدثین نے روایت کیا ہے:
ہمام بن منبہ [الصحيفة: 58]
أحمد بن حنبل [المسند 2؍315 ح8155]
ہمام بن منبہ بالاجماع ثقہ ہیں، لہٰذا یہ روایت بلحاظ اصول حدیث بالکل صحیح ہے۔
اس کے دوسرے شواہد کے لئے دیکھئیے:
مسند اسحاق بن راہویہ [117]
ومسند أحمد [2؍304]
وحلیۃ الاولیاء [8؍389]
ومستدرک الحاکم [4؍175]
منکرین حدیث نے اس حدیث کو رد کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب کہ تجربہ اس بات پر شاہد ہے کہ گوشت سڑنے کی وجہ قوم بنی اسرائیل نہیں بلکہ جراثیم ہیں۔۔۔
↰ عرض ہے کہ کیا ان جراثیم کی وجہ سے خود بخود گوشت خراب ہو جاتا ہے یا اس کے خراب ہونے میں اللہ تعالیٰ کی مشیت ہے اور یہ جراثیم اسی کے پیدا کردہ ہیں؟
نام نہاد تجربے کی وجہ سے صحیح حدیث کا رد کرنا انہی لوگوں کا کام ہے جو یہ کہتے ہیں کہ رسول کا کام صرف قرآن پہنچانا تھا، اس نے پہنچا دیا۔ اب قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لئے منکرین حدیث کے نزدیک رسول کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔!!
منکرین حدیث سے درخواست ہے کہ اس صحیح حدیث کو رد کرنے کے لئے قرآن مجید کی وہ آیت پیش کریں جس میں یہ لکھا ہوا ہو کہ بنی اسرائیل کے وجود سے پہلے بھی دنیا میں گوشت گل سڑ جاتا تھا۔ اگر قرآن سے دلیل پیش نہ کر سکیں تو پھر ایسی مشین ایجاد کریں جس کے ذریعے وہ لوگوں کو زمانہ بنی اسرائیل سے پہلے والے دور میں لے جا کر دکھا دیں کہ دیکھو یہ گوشت گل سڑ رہا ہے۔ اور اگر ایسا نہ کر سکیں تو پھر سوچ لیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان رد کرنے والوں کا کیا انجام ہو گا؟
تنبیہ: بعض علماء نے اس حدیث کی دیگر تشریحات بھی لکھی ہیں، مثلاً دیکھئے: [مشكلات الأحاديث النبوية وبيانها، ص11]
لیکن ظاہر الفاظ کتاب و سنت پر ایمان لانے میں ہی نجات ہے۔ اِلا یہ کہ کوئی صحیح دلیل قرینہ صارفہ بن کر ظاہر کو مجاز کی طرف پھیر دے۔ «والحمدلله»
   ماہنامہ الحدیث حضرو ، شمارہ 24، حدیث\صفحہ نمبر: 22   
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 3330  
´حوا علیہا السلام کا آدم علیہ السلام کو درخت کا پھل کھانے پر آمادہ کرنا`
«. . . عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ يَعْنِي:" لَوْلَا بَنُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يَخْنَزْ اللَّحْمُ، وَلَوْلَا حَوَّاءُ لَمْ تَخُنَّ أُنْثَى زَوْجَهَا . . .»
. . . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا (عبدالرزاق کی) روایت کی طرح کہ اگر قوم بنی اسرائیل نہ ہوتی تو گوشت نہ سڑا کرتا اور اگر حواء نہ ہوتیں تو عورت اپنے شوہر سے دغا نہ کرتی . . . [صحيح البخاري/كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ: 3330]

فوائد و مسائل:
یہ روایت درج ذیل کتابوں میں بھی ہے:
[صحيح مسلم:1468، دارالسلام:3648]
[مسند احمد:315/2،ح8170]
[صحيفه همام بن منبه:57]
[صحيح ابن حبان:الاحسان:4157، 4169]
[شرح السنة للبغوي:164/9، ح2325، وقال:ھذا حدیث متفق علٰی صحتہ]
اس حدیث میں خیانت سے مراد یہ ہے کہ حوا علیہا السلام نے آدم علیہ السلام کو اس درخت کا پھل کھانے پر آمادہ کیا جس درخت سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا تھا۔ یعنی اگر اس درخت کا پھل نہ کھایا جاتا تو آدم علیہ السلام جنت سے نہ اتارے جاتے اور نہ دنیا کی یہ خیانتیں ظہور پذیر ہوتیں۔ دیکھئے: [مشکلات الاحادیث النبویہ اللقصیمی:ص12،11]
اس حدیث میں خیانت سے مراد فواحش کا ارتکاب نہیں بلکہ صرف یہ ہے کہ حواء نے ابلیس کے وسوسے سے سہواً قبول کر کے آدم علیہ السلام کے سامنے پیش کر دیا پھر وہ کام ہو گیا جس کی وجہ سے جنت سے نکلنا پڑا۔ دیکھئے: [فتح الباری:368/6 ح3330]
امام بخاری رحمہ اللہ نے حوا علیہا السلام کو نہ خائن کہا اور نہ بدنام بلکہ ایک صحیح حدیث بیان کر دی جو ان کی پیدائش سے پہلے دنیا میں موجود تھی۔
   توفيق الباري في تطبيق القرآن و صحيح بخاري، حدیث\صفحہ نمبر: 32   
  الشيخ محمد حسين ميمن حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 3330  
´اللہ تعالیٰ کا (سورۃ البقرہ میں) یہ فرمانا اے رسول! وہ وقت یاد کر جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا میں زمین میں ایک (قوم کو) جانشین بنانے والا ہوں`
«. . . عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ يَعْنِي:" لَوْلَا بَنُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يَخْنَزْ اللَّحْمُ، وَلَوْلَا حَوَّاءُ لَمْ تَخُنَّ أُنْثَى زَوْجَهَا . . .»
. . . ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا (عبدالرزاق کی) روایت کی طرح کہ اگر قوم بنی اسرائیل نہ ہوتی تو گوشت نہ سڑا کرتا اور اگر حواء نہ ہوتیں تو عورت اپنے شوہر سے دغا نہ کرتی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ: 3330]
صحیح بخاری کی حدیث نمبر: 3330 باب: «بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلاَئِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الأَرْضِ خَلِيفَةً}

باب اور حدیث میں مناسبت:
ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت بظاہر بہت مشکل ہے، کیوں کہ باب میں حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کی تخلیق کا ذکر ہے، جبکہ حدیث شریف میں گوشت کے سکڑنے اور عورت کے دغا کرنے کا ذکر ہے۔
اگر باریک بینی سے غور کیا جائے تو یہاں پر باب سے حدیث کی مناسبت ظاہر ہو سکتی ہے، حدیث کو دو حصوں میں تقسیم کیجئے، پہلا حصہ اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے، اس حصے کا ترجمۃ الباب سے مناسبت یہ ہے کہ بنی اسرائیل بھی حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں، یعنی حدیث کے اس جزء میں حضرت آدم علیہ السلام کی اولادوں کا ذکر ہے، اور دوسرا جو جزء ہے اس کا تعلق ترجمۃ الباب سے یہ ہے کہ اگر حضرت حواء علیہا السلام نہ ہوتیں، دراصل حضرت حواء حضرت آدم علیہ السلام کی مضاف الیہ ہیں۔
علامہ عبدالحق الھاشمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«مطابقة للترجمة يمكن أن تكون من حيث أن خلق حواء مضاف إلى خلق آدم عليه السلام.» (1)
ترجمۃ الباب سے حدیث کی مناسبت کچھ یوں ہے کہ ممکن ہے کہ حضرت حواء مضاف ہوں حضرت آدم علیہ السلام کی خلقت کی طرف۔
یعنی جس طرح حضرت آدم علیہ السلام کی بقیہ ساری اولادیں ہیں، بعین اسی طرح امی حواء علیہا السلام کی بھی ساری اولادیں ہی ہیں۔
لہذا یہاں سے حضرت آدم علیہ السلام کی خلقت کا ہونا ثابت ہوتا ہے، جو واضح ترجمۃ الباب سے مناسبت رکھتا ہے۔
ایک اشکال اور اس کا جواب:
مذکورہ حدیث پر ایک اشکال وارد ہوتا ہے کہ کیا تمام خواتین کی دغے کی ذمہ دار حضرت حواء علیہا السلام ہیں؟ حدیث کے متن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بنات آدم علیہ السلام میں دغا حضرت حواء علیہا السلام کی وجہ سے پیدا ہوا۔
جواب:
اس اشکال کا جواب کئی طریقوں سے دیا جا سکتا ہے، حقیقتا تمام خواتین کی ماں حضرت حواء علیہا السلام ہیں، یعنی خلقت اور عادات و اطوار کے اعتبار سے خواتین اپنی ماں پر گئی ہیں۔
علامہ القصیمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علامہ محمد بھجۃ البیطار اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ:
«أن طبيعة النساء واحدة، و استعدادهن واحد فى الخلقة والقابلية، لا فرق بين حواء وغيرها من اللائي جئن بعدها.» (2)
یعنی تمام خواتین کی طبیعت، استعداد، خلقت اور قابلیت میں یکساں ہیں، نہ حضرت حواء علیہا السلام میں ان اشیاء میں فرق ہے اور نہ ہی بعد میں آنے والی دیگر خواتین میں۔
علامہ صاحب کے اس قول سے خیانت سے کیا مراد ہے، واضح ہوتا ہے، لہذا خیانت سے مراد ہرگز وہ خیانت نہیں ہے کہ عورت فحش کام کرے تو اس کام کی ابتداء حضرت حواء علیہا السلام سے ہوئی، اس اعتراض کو دور کرتے ہوئے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
«فيه اشارة إلى ما وقع من حواء فى تذيينها لآدم عليه السلام الأكل من الشجرة حتى وقع فى ذالك، فمعنى خيانتها انها قبلت ما زين لها إبليس حتى زينته لآدم عليه السلام . . . . . وليس المراد بالخيانة هنا ارتكاب الفواحش و حاشا كلا، ولكن لما مالت إلى شهوة النفس من أكل الشجرة و حسنت ذالك لآدم عليه السلام عد ذالك خيانة له، و أما من جاء بعدها من النساء فخيانة كل واحدة منهن بحسبها.» (1)
اس حدیث میں اس چیز کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت حواء علیہا السلام نے درخت کے کھانے کو حضرت آدم علیہ السلام کے لیے مزین کیا، لہذا حضرت آدم علیہ السلام نے (ان کے کہنے پر) درخت میں سے کھا لیا، چنانچہ حدیث میں جو خیانت کے الفاظ ہیں، اس سے مراد یہ ہے کہ درخت کے کھانے کے عمل کو ابلیس نے حضرت حواء علیہا السلام پر مزین کیا، یہاں تک اس فعل کو حضرت حواء علیہا السلام نے حضرت آدم علیہ السلام کے لیے مزین کیا، (یہاں سے مراد ہے خیانت کی) . . . . . اور خیانت سے مراد ہرگز شہوت نہیں ہے، حضرت حواء علیہا السلام کا نفس راغب ہوا اور انہیں یہ اچھا لگا اور اس کی رغبت حضرت آدم علیہ السلام کو بھی دی اور وہ بھی اس طرف پیش قدم ہو گئے، اور عورتیں حضرت حواء علیہا السلام کے بعد آئیں، وہ بھی اس خیانت میں اپنے اپنے حساب سے شریک ہوئیں۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے اقتباسات پر غور کرنے سے یہ جواب ملتا ہے کہ حدیث میں جس خیانت کا ذکر ہے، اس سے مراد فطری میلان ہے، یعنی اولاد اپنے والدین کے طور و طریقے پر ہوتی ہے، اسی طرح حضرت حواء علیہا السلام چونکہ تمام خواتین کی ماں ہیں، اسی لیے تمام خواتین حضرت حواء علیہا السلام کی مشابہ ہیں عادتا اور فطرتا، یہی مراد ہے حدیث کی۔
«قلت:» - یہ عاجز اور حقیر بندہ کہتا ہے کہ اس اشکال کا آسان ترین جواب یہ بھی ہے کہ اگر حدیث کے متن پر غور کیا جائے تو اشکال کا جواب حدیث کے متن ہی میں موجود ہے، غور کیجئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر حواء نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر سے دغا نہ کرتی۔
یعنی جب حضرت حواء علیہا السلام ہی نہ ہوتیں تو عورتیں کہاں سے پیدا ہوتیں، کیوں کہ تمام عورتوں کی والدہ حضرت حواء علیہا السلام ہیں، جب وہ ہی نہ ہوتیں تو کوئی اور خاتون کیسے ہوئی؟ لہذا حدیث سے مراد ہرگز یہ نہیں ہے کہ عورتوں کو خیانت کا ارتکاب کرنا امی حواء علیہا السلام نے سکھایا ہے، بلکہ اس سے مراد یہی ہے کہ اگر حضرت حواء علیہا السلام پیدا نہ ہوتیں تو عورتیں اپنے شوہر سے دغا نہ کرتیں۔
   عون الباری فی مناسبات تراجم البخاری ، جلد دوئم، حدیث\صفحہ نمبر: 22   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.