صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
لین دین کے مسائل
16. باب النَّهْيِ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَعَنِ الْمُخَابَرَةِ وَبَيْعِ الثَّمَرَةِ قَبْلَ بُدُوِّ صَلاَحِهَا وَعَنْ بَيْعِ الْمُعَاوَمَةِ وَهُوَ بَيْعُ السِّنِينَ:
16. باب: محاقلہ اور مزابنہ اور مخابرہ کی ممانعت اور پھل کی بیع قبل صلاحیت کے اور معاومہ کا منع ہونا۔
حدیث نمبر: 3912
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثنا عبد الله بن هاشم ، حدثنا بهز ، حدثنا سليم بن حيان ، حدثنا سعيد بن ميناء ، عن جابر بن عبد الله ، قال: " نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن: المزابنة، والمحاقلة، والمخابرة، وعن بيع الثمرة حتى تشقح "، قال: قلت لسعيد: ما تشقح؟ قال: تحمار، وتصفار، ويؤكل منها.وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ: الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تُشْقِحَ "، قَالَ: قُلْتُ لِسَعِيدٍ: مَا تُشْقِحُ؟ قَالَ: تَحْمَارُّ، وَتَصْفَارُّ، وَيُؤْكَلُ مِنْهَا.
زید بن ابی انیسہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم سے ابوولید مکی نے حدیث بیان کی جبکہ وہ عطاء بن ابی رباح کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں (زید) نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ، مزابنہ، مخابرہ اور اس بات سے منع فرمایا ہے کہ اِشقاہ سے پہلے (درخت پر لگا ہوا) کھجور (کا پھل) خریدا جائے۔ اِشقاہ یہ ہے کہ اس میں سرخی یا زردی پیدا ہو جائے یا اس میں سے کچھ کھایا جا سکے 0سارا پھل بیک وقت نہیں بکتا، کچھ کھانے کے قابل ہو جائے تو بیع جائز ہے۔) اور محاقلہ یہ ہے کہ کھیتی کی بیع غلے کی متعین مقدار (صاع، وسق وغیرہ یا وزن) کے ساتھ کی جائے اور مزابنہ یہ ہے کہ درخت پر لگی کھجور کی بیع خشک کھجور کی (ماپ یا تول کے ذریعے سے) متعین مقدار کے ساتھ کی جائے اور مخابرہ یہ ہے کہ زمین کو (جواز کی شروط پوری کیے بغیر) تہائی، چوتھائی یا اس طرح کے (کسی متعین) حصے کے عوض (بٹائی پر) دیا جائے۔ زید نے کہا: میں نے (ساتھ بیٹھے) عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا: کیا آپ نے (بھی) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ، محاقلہ اور مخابرہ سے منع فرمایا ہے، اور اس سے بھی کہ پھل رنگت کے تبدیل ہونے سے پہلے بیچے جائیں۔ سعید بن میناء کے شاگرد نے ان سے پوچھا اشقاح کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا، سرخ اور زرد ہو جائیں اور ان کو کھایا جا سکے۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 1536
   صحيح البخاري2381جابر بن عبد اللهالمخابرة والمحاقلة عن المزابنة عن بيع الثمر حتى يبدو صلاحها لا تباع إلا بالدينار والدرهم إلا العرايا
   صحيح مسلم3919جابر بن عبد اللهيؤخذ للأرض أجر أو حظ
   صحيح مسلم3922جابر بن عبد اللهنهى عن المخابرة
   صحيح مسلم3915جابر بن عبد اللهكراء الأرض عن بيعها السنين عن بيع الثمر حتى يطيب
   صحيح مسلم3916جابر بن عبد اللهكراء الأرض
   صحيح مسلم3932جابر بن عبد اللهينهى عن المزابنة الحقول
   صحيح مسلم3913جابر بن عبد اللهالمحاقلة المزابنة المعاومة المخابرة عن الثنيا رخص في العرايا
   صحيح مسلم3910جابر بن عبد اللهالمخابرة والمحاقلة المزابنة عن بيع الثمرة
   صحيح مسلم3911جابر بن عبد اللهنهى عن المحاقلة المزابنة المخابرة تشترى النخل حتى تشقه
   صحيح مسلم3912جابر بن عبد اللهعن المزابنة المحاقلة المخابرة عن بيع الثمرة حتى تشقح
   صحيح مسلم3908جابر بن عبد اللهالمحاقلة المزابنة المخابرة عن بيع الثمر حتى يبدو صلاحه لا يباع إلا بالدينار والدرهم إلا العرايا
   جامع الترمذي1313جابر بن عبد اللهالمحاقلة المزابنة المخابرة المعاومة رخص في العرايا
   جامع الترمذي1290جابر بن عبد اللهالمحاقلة المزابنة المخابرة الثنيا إلا أن تعلم
   سنن أبي داود3404جابر بن عبد اللهالمحاقلة المزابنة المخابرة المعاومة
   سنن أبي داود3405جابر بن عبد اللهعن المزابنة المحاقلة عن الثنيا إلا أن يعلم
   سنن أبي داود3406جابر بن عبد اللهمن لم يذر المخابرة فليأذن بحرب من الله ورسوله
   سنن أبي داود3375جابر بن عبد اللهنهى عن المعاومة
   سنن النسائى الصغرى4637جابر بن عبد اللهالمحاقلة المزابنة المخابرة عن الثنيا إلا أن تعلم
   سنن النسائى الصغرى4554جابر بن عبد اللهنهى عن المخابرة المزابنة المحاقلة عن بيع الثمر حتى يطعم
   سنن النسائى الصغرى3913جابر بن عبد اللهنهى عن الحقل وهي المزابنة
   سنن النسائى الصغرى3909جابر بن عبد اللهكراء الأرض
   سنن النسائى الصغرى3910جابر بن عبد اللهنهى عن المخابرة المزابنة المحاقلة بيع الثمر حتى يطعم إلا العرايا
   سنن النسائى الصغرى3911جابر بن عبد اللهالمحاقلة المزابنة المخابرة عن الثنيا إلا أن تعلم
   سنن النسائى الصغرى3914جابر بن عبد اللهنهى عن المزابنة المخاضرة المخاضرة بيع الثمر قبل أن يزهو المخابرة بيع الكرم بكذا وكذا صاع
   سنن النسائى الصغرى4638جابر بن عبد اللهعن المحاقلة المزابنة المخابرة المعاومة والثنيا رخص في العرايا
   سنن النسائى الصغرى3952جابر بن عبد اللهالمخابرة والمحاقلة المزابنة
   سنن النسائى الصغرى4527جابر بن عبد اللهالمخابرة المزابنة المحاقلة يباع الثمر حتى يبدو صلاحه لا يباع إلا بالدنانير والدراهم رخص في العرايا
   سنن النسائى الصغرى4528جابر بن عبد اللهنهى عن المخابرة المزابنة المحاقلة بيع الثمر حتى يطعم إلا العرايا
   سنن ابن ماجه2266جابر بن عبد اللهالمحاقلة المزابنة
   بلوغ المرام672جابر بن عبد اللهنهى عن المحاقلة،‏‏‏‏ والمزابنة،‏‏‏‏ والمخابرة،‏‏‏‏ وعن الثنيا،‏‏‏‏ إلا ان تعلم
   المعجم الصغير للطبراني532جابر بن عبد الله عن الثنيا ، إلا أن يعلم ما هي
   مسندالحميدي1292جابر بن عبد اللهنهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المخابرة

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1290  
´بیع میں استثناء کرنے کی ممانعت کا بیان۔`
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ، مزابنہ ۱؎ مخابرہ ۲؎ اور بیع میں کچھ چیزوں کو مستثنیٰ کرنے سے منع فرمایا ۳؎ الا یہ کہ استثناء کی ہوئی چیز معلوم ہو۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1290]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
محاقلہ اورمزابنہ کی تفسیرگزرچکی ہے دیکھئے حدیث نمبر(1224)

2؎:
مخابرہ کے معنیٰ مزارعت کے ہیں یعنی ثلث یا ربع پیداوار پر زمین بٹائی پر لینا،
یہ بیع مطلقاً ممنوع نہیں،
بلکہ لوگ زمین کے کسی حصہ کی پیداوارمزارع کے لیے اورکسی حصہ کی مالک زمین کے لیے مخصوص کرلیتے تھے،
ایسا کرنے سے منع کیا گیاہے،
کیونکہ بسا اوقات مزارع والا حصہ محفوظ رہتا اورمالک والا تباہ ہوجاتا ہے،
اورکبھی اس کے برعکس ہوجاتاہے،
اس طرح معاملہ باہمی نزاع اور جھگڑے تک پہنچ جاتاہے،
اس لیے ایساکرنے سے منع کیا گیاہے۔

3؎:
اس کی صورت یہ ہے کہ مثلاً کوئی کہے کہ میں اپنا باغ بیچتا ہوں مگر اس کے کچھ درخت نہیں دوں گا اور ان درختوں کی تعیین نہ کرے تو یہ درست نہیں کیو نکہ مستثنیٰ کئے ہوئے درخت مجہول ہیں۔
اوراگرتعیین کردے توجائز ہے جیساکہ اوپرحدیث میں اس کی اجازت موجودہے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 1290   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3375  
´کئی سال کے لیے پھل بیچ دینا منع ہے۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاومہ (کئی سالوں کے لیے درخت کا پھل بیچنے) سے روکا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ان میں سے ایک (یعنی ابو الزبیر) نے (معاومہ کی جگہ) «بيع السنين» کہا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3375]
فوائد ومسائل:

کسی باغ یا مخصوص درختوں کے پھل کوکئی سالوں کےلئے پیشگی فروخت کرنا منع ہے۔
کیونکہ معلوم نہیں کہ ان پر پھل آئے گا بھی یا نہیں۔
کم آئے گا یا زیادہ۔
لیکن بیع سلم (یا سلف) مختلف بیع ہے۔
اس میں خریدار بائع کو پیشگی رقم ادا کر دیتا ہے۔
کہ موسم آنے پر فلاں پھل یا فلاں جنس اس معیارکی اتنی مقدار میں مہیا کرنا ہوگی تو یہ جائز ہے کیونکہ یہ کسی خاص کھیت یا خاص درخت یا باغ کی پیداوار کا سودا نہیں ہوتا۔
بلکہ ایک خاص معیار کی جنس یا پھل کا سودا ہوتا ہے۔
جو کہیں سے بھی حاصل ہوسکتا ہے۔


اس وقت جو سودے ہوچکے تھے۔
اور آفات کی جگہ سے پیداوار میں نقصان ہوا تھا اس کی تلافی کرائی گئی اور آئندہ کےلئے پھل وغیرہ قابل استعمال ہونے کے بعد بیع کرنے کا حکم دیا۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 3375   
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3912  
1
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
حتي تشقه اور حتي تشقحدونوں کا اصل معنی رنگت کی تبدیلی ہے،
پوری طرح سرخ اور زرد ہونا مراد نہیں ہے۔
راوی نے بات سمجھانے کے لیے اس کو سرخی اور زردی سے تعبیر کر دیا ہے۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث\صفحہ نمبر: 3912   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.