صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب
4. باب مِنْ فَضَائِلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
4. باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بزرگی کا بیان۔
حدیث نمبر: 6220
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا قتيبة بن سعيد ، ومحمد بن عباد ، وتقاربا في اللفظ، قالا: حدثنا حاتم وهو ابن إسماعيل ، عن بكير بن مسمار ، عن عامر بن سعد بن ابي وقاص ، عن ابيه ، قال: " امر معاوية بن ابي سفيان سعدا، فقال: ما منعك ان تسب ابا التراب؟ فقال: اما ما ذكرت ثلاثا، قالهن له رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلن اسبه لان تكون لي واحدة منهن احب إلي من حمر النعم، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول له: خلفه في بعض مغازيه، فقال له علي: يا رسول الله، خلفتني مع النساء والصبيان، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: اما ترضى ان تكون مني بمنزلة هارون من موسى، إلا انه لا نبوة بعدي، وسمعته يقول يوم خيبر: لاعطين الراية رجلا يحب الله ورسوله، ويحبه الله ورسوله "، قال: فتطاولنا لها، فقال: ادعوا لي عليا، فاتي به ارمد فبصق في عينه، ودفع الراية إليه ففتح الله عليه، ولما نزلت هذه الآية: فقل تعالوا ندع ابناءنا وابناءكم سورة آل عمران آية 61، دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم عليا، وفاطمة، وحسنا، وحسينا، فقال: اللهم هؤلاء اهلي.حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " أَمَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَعْدًا، فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ؟ فَقَالَ: أَمَّا مَا ذَكَرْتُ ثَلَاثًا، قَالَهُنَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَنْ أَسُبَّهُ لَأَنْ تَكُونَ لِي وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لَهُ: خَلَّفَهُ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خَلَّفْتَنِي مَعَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ خَيْبَرَ: لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ "، قَالَ: فَتَطَاوَلْنَا لَهَا، فَقَالَ: ادْعُوا لِي عَلِيًّا، فَأُتِيَ بِهِ أَرْمَدَ فَبَصَقَ فِي عَيْنِهِ، وَدَفَعَ الرَّايَةَ إِلَيْهِ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ سورة آل عمران آية 61، دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا، وَفَاطِمَةَ، وَحَسَنًا، وَحُسَيْنًا، فَقَالَ: اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي.
بکیر بن مسمار نے عامر بن سعد بن ابی وقاص سے، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، کہا: آپ کو اس سے کیا چیز روکتی ہے کہ آپ ابوتراب (حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ) کو براکہیں۔انھوں نے جواب دیا: جب تک مجھے وہ تین باتیں یاد ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (حضر ت علی رضی اللہ عنہ) سے کہی تھیں، میں ہرگز انھیں برا نہیں کہوں گا۔ان میں سے کوئی ایک بات بھی میرے لئے ہوتو وہ مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ پسند ہوگی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناتھا، آپ ان سے (اس وقت) کہہ رہے تھے جب آپ ایک جنگ میں ان کو پیچھے چھوڑ کر جارہے تھے اور علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا تھا: اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ مجھے عورتوں اوربچوں میں پیچھے چھوڑ کرجارہے ہیں؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: "تمھیں یہ پسند نہیں کہ تمھارا میرے ساتھ وہی مقام ہو جوحضرت ہارون علیہ السلام کاموسیٰ علیہ السلام کےساتھ تھا، مگر یہ کہ میرے بعد نبوت نہیں ہے۔"اسی طرح خیبر کے دن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سناتھا: "اب میں جھنڈ ا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا ر سول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت کرتے ہیں۔"کہا: پھر ہم نے اس بات (مصداق جاننے) کے لئے اپنی گردنیں اٹھا اٹھا کر (ہرطرف) دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "علی کو میرے پاس بلاؤ۔"انھیں شدید آشوب چشم کی حالت میں لایا گیا۔آپ نےان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا اورجھنڈا انھیں عطافرمادیا۔اللہ نے ان کے ہاتھ پر خیبر فتح کردیا۔اورجب یہ آیت اتری: " (تو آپ کہہ دیں: آؤ) ہم اپنے بیٹوں اور تمھارے بیٹوں کو بلالیں۔"تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضر ت علی رضی اللہ عنہ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ، اورحضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: "اے اللہ! یہ میرے گھر والے ہیں۔"
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے عامر اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں،حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو امیرمقررکیا تو پوچھا،تمہیں ابوتراب کو خطاکاردینے سے کون سی چیزروکتی ہے؟توانھوں نے جواب دیا:جب تک مجھے وہ تین باتیں یاد ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان(حضر ت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے کہی تھیں،میں ہرگز انھیں برا نہیں کہوں گا۔ان میں سے کوئی ایک بات بھی میرے لئے ہوتو وہ مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ پسند ہوگی،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناتھا،آپ ان سے(اس وقت) کہہ رہے تھے جب آپ ایک جنگ میں ان کو پیچھے چھوڑ کر جارہے تھے اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا تھا:اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ مجھے عورتوں اوربچوں میں پیچھے چھوڑ کرجارہے ہیں؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:"تمھیں یہ پسند نہیں کہ تمھارا میرے ساتھ وہی مقام ہو جوحضرت ہارون ؑ کاموسیٰ ؑ کےساتھ تھا،مگر یہ کہ میرے بعد نبوت نہیں ہے۔"اسی طرح خیبر کے دن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سناتھا:"اب میں جھنڈ ا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا ر سول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت کرتے ہیں۔"کہا:پھر ہم نے اس بات (مصداق جاننے) کے لئے اپنی گردنیں اٹھا اٹھا کر(ہرطرف) دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"علی کو میرے پاس بلاؤ۔"انھیں شدید آشوب چشم کی حالت میں لایا گیا۔آپ نےان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا اورجھنڈا انھیں عطافرمادیا۔اللہ نے ان کے ہاتھ پر خیبر فتح کردیا۔اورجب یہ آیت اتری:"(تو آپ کہہ دیں:آؤ) ہم اپنے بیٹوں اور تمھارے بیٹوں کو بلالیں۔(آل عمران،نمبر 61)"تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضر ت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ،حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ،حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ،اورحضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلایا اور فرمایا:"اے اللہ! یہ میرے گھر والے ہیں۔"
ترقیم فوادعبدالباقی: 2404
   صحيح البخاري4416سعد بن مالكألا ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه ليس نبي بعدي
   صحيح البخاري3706سعد بن مالكأما ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى
   صحيح مسلم6221سعد بن مالكأما ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى
   صحيح مسلم6220سعد بن مالكأما ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبوة بعدي لأعطين الراية رجلا يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله
   صحيح مسلم6217سعد بن مالكأنت مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي
   صحيح مسلم6218سعد بن مالكأما ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى غير أنه لا نبي بعدي
   جامع الترمذي3731سعد بن مالكأنت مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي
   سنن ابن ماجه121سعد بن مالكمن كنت مولاه فعلي مولاه أنت مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي أعطين الراية اليوم رجلا يحب الله ورسوله
   سنن ابن ماجه115سعد بن مالكألا ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى
   المعجم الصغير للطبراني890سعد بن مالكأنت مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي
   المعجم الصغير للطبراني895سعد بن مالك أنت مني بمنزلة هارون من موسى ، إلا أنه لا نبي بعدي
   مسندالحميدي71سعد بن مالكأما ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث115  
´علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔`
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا تم اس بات پر خوش نہیں کہ تم میری طرف سے ایسے ہی رہو جیسے ہارون موسیٰ کی طرف سے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 115]
اردو حاشہ:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد اس وقت فرمایا تھا، جب نبی علیہ السلام غزوہ تبوک کے لیے تشریف لے گئے اور مدینہ منورہ کے انتظام کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جہاد سے پیچھے رہنے پر افسوس ہوا اور عرض کیا:
کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑے جاتے ہیں۔
اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ بالا ارشاد فرمایا:
(صحيح البخاري، المغازي، باب غزوه تبوك، حديث: 4416)

(2)
بعض لوگوں نے اس سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلا فصل ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، وہ کہتے ہیں:
حضرت ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ تھے اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ ہیں۔
اس بنا پر وہ لوگ خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنھم پر اعتراض کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حق لے لیا۔
در حقیقت یہ محض مغالطہ ہے کیونکہ حضرت ہارون علیہ السلام کی خلافت عارضی تھی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں تھی۔
اس طرح غزوہ تبوک میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت عارضی تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تھی۔
حضرت ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کے خلیفہ نہیں بنے کیونکہ ان کی وفات حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں ہو چکی تھی۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد ان کا منصب یوشع بن نون علیہ السلام نے سنبھالا تھا۔
اس حدیث کی روشنی میں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت مستقل تسلیم کر بھی لی جائے تو اس امر کی کوئی دلیل نہیں کہ یہ خلافت بلا فصل ہو گی۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 115   
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6220  
1
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
تطاولنا:
ہم بلند ہوئے،
گردنیں اٹھائیں،
تمنا اور آرزو کی،
مقصد یہ ہے کہ ہم آپ کے سامنے نمایاں ہوئے،
تاکہ آپ کی نظر ہم پر پڑ جائے اور یہ سعادت ہمیں حاصل ہو جائے۔
(2)
أرمد:
آشوب چشم والا،
اس کی آنکھیں دکھتی ہوں۔
(3)
اللهم هؤلاء اهل بيتي:
اے اللہ یہ میرے گھر والے ہیں،
میرے اہل بیت ہیں،
اصولی رو سے انسان کا اہل بیت اس کی بیوی ہے،
اس لیے آپ کا اہل بیت آپ کی ازواج مطہرات ہیں اور عرف و لغت کی رو سے،
اس کا اطلاق بیوی پر ہوتا ہے،
جیسا کہ قرآن مجید میں،
حضرت ابراہیم کی بیوی کو اہل بیت سے خطاب کیا گیا ہے،
دوسرا کوئی بالطبع اور ثانوی طور پر اس میں داخل ہو سکتا ہے اور آپ کی دعا کے نتیجہ میں جیسا کہ ترمذی شریف کی روایت ہے،
مذکورہ افراد بھی اہل بیت میں داخل ہیں۔
فوائد ومسائل:
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے،
حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا،
ما منعك أن تسب أبا تراب؟؟ ابو تراب پر تنقید و تبصرہ اور ان کے موقف کی تغلیط کرنے سے تمہیں کیا چیز مانع ہے،
سب کا لفظ جس طرح گالی گلوچ اور بد کلامی کے لیے آتا ہے،
اس طرح کسی غلط کام کرنے والے کو روکنے ٹوکنے اور اس کو سرزنش توبیخ کرنے کے لیے بھی آتا ہے،
جیسا کہ غزوہ تبوک کے موقعہ پر جب آپ نے راستہ میں صحابہ کرام کو فرمایا کہ کل کافی دن چڑھے تم تبوک کے چشمہ پر پہنچو گے تو پہنچنے کے بعد اس سے کوئی انسان پانی نہ پیے،
لیکن دو آدمیوں نے پانی پی لیا تو آپ نے ان کی اس حرکت کی تغلیط کی اور ان پر نقدوتبصرہ فرمایا،
اس کے لیے یہ لفظ استعمال ہوا ہے کہ فسبهما النبی صلی الله عليه وسلم،
اسی طرح آگے امام نووی نے باب باندھا ہے،
من لعنه النبی صلی الله عليه وسلم،
جس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے یا سب کیا ہے،
اس کے تحت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی آئے،
انہوں نے کسی مسئلہ پر آپ سے گفتگو کی،
جس سے آپ ناراض ہو گئے اور غصہ میں ان کو لعنهما و سبهما،
ان پر لعنت بھیجی اور ان پر تنقید و تبصرہ فرمایا،
ان کو سرزنش و توبیخ فرمائی،
اس طرح حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ تھا کہ تم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فعل اور رائے کو غلط قرار دے کر،
ان پر تنقید و تبصرہ کیوں نہیں کرتے تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا،
جو ان فضائل اور خوبیوں کا حامل ہے،
میں اس پر تنقید و تبصرہ نہیں کر سکتا اور ان کی رائے اور موقف کو ہدف تنقید نہیں بنا سکتا اور ان پر طعن و ملامت نہیں کر سکتا،
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ان کو سب و شتم اور گالی گلوچ کس طرح کوا سکتے ہیں،
جبکہ وہ ان کے فضائل و کمالات کے معترف ہیں،
جب حضرت علی رضی اللہ عنہ فوت ہوئے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی موت پر روئے،
ان کی بیوی نے پوچھا،
اس سے جنگ بھی کرتے ہو اور روتے بھی ہو؟ تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا،
تم پر افسوس،
تمہیں معلوم نہیں ہے کہ لوگ کس قدر علم،
فقہ اور فضل سے محروم ہو گئے ہیں،
(البدایۃ والنہایۃ ج 8 ص 13)
اور جب ضرار الصدائی نے حضرت معاویہ کے روبرو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب بیان کیے،
تو حضرت معاویہ رو پڑے اور کہنے لگے،
رحم الله ابا الحسن،
كان والله كذالك:
اللہ تعالیٰ ابو الحسن پر رحمت فرمائے،
وہ انہیں خوبیوں اور صفات کے حامل تھے،
(الاستیعاب لابن عبدالبر ج 3 ص 43-44)
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث\صفحہ نمبر: 6220   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.