صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب إذا بعث الإمام رسولا فى حاجة أو أمره بالمقام هل يسهم له:
باب: اگر امام کسی شخص کو سفارت پر بھیجے یا کسی خاص جگہ ٹھہرنے کا حکم دے تو کیا اس کا بھی حصہ (غنیمت میں) ہو گا؟
حدیث نمبر: 3130
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَوْهَبٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: إِنَّمَا تَغَيَّبَ عُثْمَانُ عَنْ بَدْرٍ فَإِنَّهُ كَانَتْ تَحْتَهُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ مَرِيضَةً، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لَكَ أَجْرَ رَجُلٍ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمَهُ".
ہم سے موسیٰ بن اسمعٰیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عثمان بن موہب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عثمان رضی اللہ عنہ بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہو سکے تھے۔ ان کے نکاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی تھیں اور وہ بیمار تھیں۔ ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا بدر میں شریک ہونے والے کسی شخص کو ‘ اور اتنا ہی حصہ بھی ملے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3130]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں اس لیے حاضر نہ ہو سکے کہ ان کی بیوی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں، ان دنوں بیمار تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا: ”(تم ٹھہر جاؤ) تمہیں اس شخص کے برابر ثواب اور حصہ دیا جائے گا جو بدر میں شریک ہوا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3130]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3698
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا شَاذَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كُنَّا فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَعْدِلُ بِأَبِي بَكْرٍ أَحَدًا , ثُمَّ عُمَرَ ثُمَّ عُثْمَانَ ثُمَّ نَتْرُكُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُفَاضِلُ بَيْنَهُمْ". تَابَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ.
مجھ سے محمد بن حاتم بن بزیع نے بیان کیا، کہا ہم سے شاذان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ ماجشون نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر کسی کو نہیں قرار دیتے تھے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ کو پھر عثمان رضی اللہ عنہ کو۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر ہم کوئی بحث نہیں کرتے تھے اور کسی کو ایک دوسرے پر فضیلت نہیں دیتے تھے، اس حدیث کو عبداللہ بن صالح نے بھی عبدالعزیز سے روایت کیا ہے۔ اس کو اسماعیلی نے وصل کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3698]
حضرت عثمان بن مواہب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اہل مصر سے ایک شخص آیا، اس نے بیت اللہ کا حج کیا تو لوگوں کو ایک جگہ بیٹھے ہوئے دیکھا۔ پوچھا: ”یہ کون لوگ ہیں؟“ لوگوں نے کہا: ”یہ قریش کے لوگ ہیں۔“ اس نے پوچھا: ”ان میں یہ بزرگ کون ہیں؟“ لوگوں نے بتایا: ”یہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔“ مصری نے کہا: ”اے عبد اللہ بن عمر! میں آپ سے چند باتوں کی وضاحت چاہتا ہوں۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اُحد کے دن میدان سے بھاگ نکلے تھے؟“ انہوں نے فرمایا: ”ہاں (مجھے اس بات کا علم ہے)۔“ پھر اس نے کہا: ”کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ جنگ بدر سے بھی غائب تھے؟“ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں (مجھے اس کا بھی علم ہے)۔“ اس نے کہا: ”کیا آپ اس سے آگاہ ہیں کہ وہ بیعت رضوان سے بھی غائب تھے اور اس میں شریک نہ ہوئے تھے؟“ انہوں نے فرمایا: ”ہاں (جانتا ہوں)۔“ تب اس شخص نے نعرہ تکبیر بلند کیا۔ اس پر حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ادھر آ، میں تجھے ان کی وضاحت کرتا ہوں۔ اُحد سے بھاگ جانے کی بابت تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا اور انہیں بخش دیا۔ رہا بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہونا! تو اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے نکاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر تھیں، وہ ان دنوں بیمار ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”(تم اس کی تیمارداری کرو) تمہیں جنگ بدر میں شریک ہونے والوں کے برابر حصہ اور ثواب ملے گا۔“ باقی رہا ان کا بیعت رضوان سے غائب رہنا! تو اگر کوئی شخص مکہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے زیادہ باعزت ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے روانہ کر دیتے، لہٰذا انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا تو وہ چلے گئے اور جب بیعت رضوان ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ قرار دے کر اسے اپنے بائیں ہاتھ کے اوپر رکھا اور فرمایا: ”یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت ہے۔“ پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے فرمایا: ”اب ان باتوں کو بھی اپنے ساتھ لے جا۔““ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3698]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3704
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَسَأَلَهُ عَنْ عُثْمَانَ فَذَكَرَ عَنْ مَحَاسِنِ عَمَلِهِ، قَالَ: لَعَلَّ ذَاكَ يَسُوءُكَ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَرْغَمَ اللَّهُ بِأَنْفِكَ ثُمَّ سَأَلَهُ عَنْ عَلِيٍّ فَذَكَرَ مَحَاسِنَ عَمَلِهِ، قَالَ: هُوَ ذَاكَ بَيْتُهُ أَوْسَطُ بُيُوتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: لَعَلَّ ذَاكَ يَسُوءُكَ، قَالَ: أَجَلْ، قَالَ: فَأَرْغَمَ اللَّهُ بِأَنْفِكَ انْطَلِقْ فَاجْهَدْ عَلَيَّ جَهْدَكَ".
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے حسین نے، ان سے زائدۃ نے، ان سے ابوحصین نے، ان سے سعد بن عبیدہ نے بیان کیا کہ ایک شخص عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں آیا اور عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کے محاسن کا ذکر کیا، پھر کہا کہ شاید یہ باتیں تمہیں بری لگی ہوں گی، اس نے کہا جی ہاں، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا اللہ تیری ناک خاک آلودہ کرے پھر اس نے علی رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا، انہوں نے ان کے بھی محاسن ذکر کئے اور کہا کہ علی رضی اللہ عنہ کا گھرانہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کا نہایت عمدہ گھرانہ ہے، پھر کہا شاید یہ باتیں بھی تمہیں بری لگی ہوں گی، اس نے کہا کہ جی ہاں، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بولے اللہ تیری ناک خاک آلودہ کرے، جا، اور میرا جو بگاڑنا چاہے بگاڑ لینا، کچھ کمی نہ کرنا۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3704]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ان کے پاس ایک آدمی آیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے ان کے کچھ اچھے اعمال ذکر کیے، پھر فرمایا: ”شاید یہ باتیں تیرے لیے ناگوار ہوں!“ اس نے کہا: ”ہاں۔“ انہوں نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تیری ناک خاک آلود کرے۔“ پھر اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا تو آپ نے ان کی کچھ خوبیاں بیان کیں اور فرمایا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں کے درمیان ان کا گھر ہے۔“ پھر کہا کہ: ”شاید یہ باتیں بھی تجھے بری لگتی ہوں گی۔“ اس نے کہا: ”ہاں۔“ انہوں نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تجھے ذلیل و خوار کرے! یہاں سے دفع ہو جا اور میرے خلاف تو جو کرنا چاہتا ہے کر لے۔“ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3704]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4066
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ حَجَّ الْبَيْتَ فَرَأَى قَوْمًا جُلُوسًا فَقَالَ مَنْ هَؤُلاَءِ الْقُعُودُ قَالُوا هَؤُلاَءِ قُرَيْشٌ. قَالَ مَنِ الشَّيْخُ قَالُوا ابْنُ عُمَرَ. فَأَتَاهُ فَقَالَ: إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ شَيْءٍ أَتُحَدِّثُنِي، قَالَ أَنْشُدُكَ بِحُرْمَةِ هَذَا الْبَيْتِ أَتَعْلَمُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَرَّ يَوْمَ أُحُدٍ قَالَ نَعَمْ. قَالَ فَتَعْلَمُهُ تَغَيَّبَ عَنْ بَدْرٍ فَلَمْ يَشْهَدْهَا قَالَ نَعَمْ. قَالَ فَتَعْلَمُ أَنَّهُ تَخَلَّفَ عَنْ بَيْعَةِ الرُّضْوَانِ فَلَمْ يَشْهَدْهَا قَالَ نَعَمْ. قَالَ فَكَبَّرَ. قَالَ ابْنُ عُمَرَ تَعَالَ لأُخْبِرَكَ وَلأُبَيِّنَ لَكَ عَمَّا سَأَلْتَنِي عَنْهُ، أَمَّا فِرَارُهُ يَوْمَ أُحُدٍ فَأَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَفَا عَنْهُ، وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَدْرٍ فَإِنَّهُ كَانَ تَحْتَهُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ مَرِيضَةً، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لَكَ أَجْرَ رَجُلٍ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمَهُ» . وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَيْعَةِ الرُّضْوَانِ فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ أَحَدٌ أَعَزَّ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ لَبَعَثَهُ مَكَانَهُ، فَبَعَثَ عُثْمَانَ، وَكَانَ بَيْعَةُ الرُّضْوَانِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ عُثْمَانُ إِلَى مَكَّةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى: «هَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ» . فَضَرَبَ بِهَا عَلَى يَدِهِ فَقَالَ: «هَذِهِ لِعُثْمَانَ» . اذْهَبْ بِهَذَا الآنَ مَعَكَ.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوحمزہ نے خبر دی، ان سے عثمان بن موہب نے بیان کیا کہ ایک صاحب بیت اللہ کے حج کے لیے آئے تھے۔ دیکھا کہ کچھ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ پوچھا کہ یہ بیٹھے ہوئے کون لوگ ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ قریش ہیں۔ پوچھا کہ ان میں شیخ کون ہیں؟ بتایا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما۔ وہ صاحب ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ میں آپ سے ایک بات پوچھتا ہوں۔ آپ مجھ سے واقعات (صحیح) بیان کر دیجئیے۔ اس گھر کی حرمت کی قسم دے کر میں آپ سے پوچھتا ہوں۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے غزوہ احد کے موقع پر راہ فرار اختیار کی تھی؟ انہوں نے کہا کہ ہاں صحیح ہے۔ انہوں نے پوچھا آپ کو یہ بھی معلوم ہے عثمان رضی اللہ عنہ بدر کی لڑائی میں شریک نہیں تھے؟ کہا کہ ہاں یہ بھی ہوا تھا۔ انہوں نے پوچھا اور آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ وہ بیعت رضوان (صلح حدیبیہ) میں بھی پیچھے رہ گئے تھے اور حاضر نہ ہو سکے تھے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں یہ بھی صحیح ہے۔ اس پر ان صاحب نے (مارے خوشی کے) اللہ اکبر کہا لیکن ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا۔ یہاں آؤ میں تمہیں بتاؤں گا اور جو سوالات تم نے کئے ہیں ان کی میں تمہارے سامنے تفصیل بیان کر دوں گا۔ احد کی لڑائی میں فرار سے متعلق جو تم نے کہا تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی غلطی معاف کر دی ہے۔ بدر کی لڑائی میں ان کے نہ ہونے کے متعلق جو تم نے کہا تو اس کی وجہ یہ تھی۔ کہ ان کے نکاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی (رقیہ رضی اللہ عنہا) تھیں اور وہ بیمار تھیں۔ آپ نے فرمایا تھا کہ تمہیں اس شخص کے برابر ثواب ملے گا جو بدر کی لڑائی میں شریک ہو گا اور اسی کے برابر مال غنیمت سے حصہ بھی ملے گا۔ بیعت رضوان میں ان کی عدم شرکت کا جہاں تک سوال ہے تو وادی مکہ میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے زیادہ کوئی شخص ہر دل عزیز ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بجائے اسی کو بھیجتے۔ اس لیے عثمان رضی اللہ عنہ کو وہاں بھیجنا پڑا اور بیعت رضوان اس وقت ہوئی جب وہ مکہ میں تھے۔ (بیعت لیتے ہوئے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کو اٹھا کر فرمایا کہ یہ عثمان کا ہاتھ ہے اور اسے اپنے (بائیں) ہاتھ پر مار کر فرمایا کہ یہ بیعت عثمان کی طرف سے ہے۔ اب جا سکتے ہو۔ البتہ میری باتوں کو یاد رکھنا۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 4066]
حضرت عثمان بن موہب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک شخص بیت اللہ کا حج کرنے آیا تو کچھ لوگوں کو بیٹھے ہوئے دیکھا۔ اس نے پوچھا: ”یہ بیٹھے ہوئے لوگ کون ہیں؟“ لوگوں نے بتایا: ”یہ قریش ہیں۔“ اس نے پھر پوچھا: ”یہ بوڑھا بزرگ کون ہے؟“ لوگوں نے بتایا: ”یہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔“ وہ آپ کے پاس آ کر کہنے لگا: ”میں آپ سے کچھ پوچھنے والا ہوں کیا آپ مجھے جواب دیں گے؟“ پھر اس نے کہا: ”میں آپ کو اس گھر کی حرمت و عزت کی قسم دیتا ہوں کیا آپ کو علم ہے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ احد کی لڑائی سے بھاگ گئے تھے؟“ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: ”کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ غزوہ بدر میں بھی موجود نہیں تھے بلکہ غیر حاضر تھے؟“ انہوں نے فرمایا: ”ہاں۔“ پھر اس نے کہا: ”کیا آپ کے علم میں ہے کہ وہ بیعت رضوان سے بھی پیچھے رہ گئے تھے اور وہاں حاضر نہ تھے؟“ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔“ تب اس نے نعرہ تکبیر بلند کیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ادھر آ! میں تجھے بتاؤں اور جو تو نے سوال کیا اس کی حقیقت سے آگاہ کروں۔ رہا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا احد کے دن راہ فرار اختیار کرنا تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا ہے۔ اور ان کا غزوہ بدر سے غائب رہنا اس وجہ سے تھا کہ ان کی شریک حیات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں وہ بیمار تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”اے عثمان! تم ان کی تیمارداری کرو۔ تمہیں شرکائے بدر کے برابر ثواب ملے گا اور ان کے حصے کے برابر تمہیں مال غنیمت بھی ملے گا۔“ اور بیعت رضوان سے ان کا پیچھے رہنا اس وجہ سے تھا کہ اگر مکہ مکرمہ میں کوئی شخص حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے عزیز تر ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی جگہ اسے مکے بھیجتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور بیعت رضوان ان کے مکہ جانے کے بعد عمل میں آئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔“ اور اسے اپنے دست اقدس پر رکھتے ہوئے فرمایا: ”یہ عثمان کی بیعت ہے۔“ اب ان جوابات کو ساتھ لے جاؤ اور جو کچھ دل میں آئے کہتے پھرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 4066]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4513
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَتَاهُ رَجُلَانِ فِي فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ, فَقَالَا: إِنَّ النَّاسَ صَنَعُوا وَأَنْتَ ابْنُ عُمَرَ وَصَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَخْرُجَ، فَقَالَ:" يَمْنَعُنِي أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ دَمَ أَخِي" , فَقَالَا: أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ سورة البقرة آية 193؟ فَقَالَ:" قَاتَلْنَا حَتَّى لَمْ تَكُنْ فِتْنَةٌ وَكَانَ الدِّينُ لِلَّهِ، وَأَنْتُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تُقَاتِلُوا حَتَّى تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِغَيْرِ اللَّهِ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، ان سے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ ان کے پاس ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے فتنے کے زمانہ میں (جب ان پر حجاج ظالم نے حملہ کیا اور مکہ کا محاصرہ کیا) دو آدمی (علاء بن عرار اور حبان سلمی) آئے اور کہا کہ لوگ آپس میں لڑ کر تباہ ہو رہے ہیں۔ آپ عمر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں پھر آپ کیوں خاموش ہیں؟ اس فساد کو رفع کیوں نہیں کرتے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میری خاموشی کی وجہ صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے کسی بھی بھائی مسلمان کا خون مجھ پر حرام قرار دیا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نہیں فرمایا ہے «وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة» کہ ”اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فساد باقی نہ رہے۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ہم (قرآن کے حکم کے مطابق) لڑے ہیں، یہاں تک کہ فتنہ یعنی شرک و کفر باقی نہیں رہا اور دین خالص اللہ کے لیے ہو گیا، لیکن تم لوگ چاہتے ہو کہ تم اس لیے لڑو کہ فتنہ اور فساد پیدا ہو اور دین اسلام ضعیف ہو، کافروں کو جیت ہو اور اللہ کے برخلاف دوسروں کا حکم سنا جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 4513]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے دورِ ابتلا میں ان کے پاس دو شخص آئے اور کہنے لگے: ”لوگ آپس میں لڑ بھڑ کر تباہ ہو رہے ہیں جبکہ آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اور صحابیِ رسول ہونے کے باوجود خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ آپ کو باہر نکل کر انہیں روکنے سے کون سی چیز رکاوٹ ہے؟“ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”مجھے اس بات نے روکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے کسی بھی بھائی کا خون مجھ پر حرام کیا ہے۔“ انہوں نے کہا: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ﴾ [سورة البقرة: 193] ”ان سے لڑو یہاں تک کہ فساد باقی نہ رہے۔“ اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ہم تو اس وقت تک لڑے ہیں یہاں تک کہ فتنہ (کفر و شرک) باقی نہ رہا اور حاکمیت خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہو گئی، لیکن تم لوگ فتنہ و فساد کے لیے لڑنا چاہتے ہو تاکہ اللہ کے سوا دوسروں کی حاکمیت ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 4513]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4514
وَزَادَ عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ , عَنْ ابْنِ وَهْبٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي فُلَانٌ، وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ , عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيِّ , أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ، عَنْ نَافِعٍ , أَنَّ رَجُلًا , أَتَى ابْنَ عُمَرَ , فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ , مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ تَحُجَّ عَامًا، وَتَعْتَمِرَ عَامًا، وَتَتْرُكَ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَقَدْ عَلِمْتَ مَا رَغَّبَ اللَّهُ فِيهِ؟ قَالَ:" يَا ابْنَ أَخِي بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ إِيمَانٍ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَالصَّلَاةِ الْخَمْسِ، وَصِيَامِ رَمَضَانَ، وَأَدَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ" , قَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَلَا تَسْمَعُ مَا ذَكَرَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ سورة الحجرات آية 9 وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ سورة البقرة آية 193 , قَالَ:" فَعَلْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ الْإِسْلَامُ قَلِيلًا، فَكَانَ الرَّجُلُ يُفْتَنُ فِي دِينِهِ إِمَّا قَتَلُوهُ وَإِمَّا يُعَذِّبُونَهُ حَتَّى كَثُرَ الْإِسْلَامُ، فَلَمْ تَكُنْ فِتْنَةٌ".
اور عثمان بن صالح نے زیادہ بیان کیا کہ ان سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہیں فلاں شخص عبداللہ بن ربیعہ اور حیوہ بن شریح نے خبر دی، انہیں بکر بن عمرو معافری نے، ان سے بکیر بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ ایک شخص (حکیم) ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ اے ابوعبدالرحمٰن! تم کو کیا ہو گیا ہے کہ تم ایک سال حج کرتے ہو اور ایک سال عمرہ اور اللہ عزوجل کے راستے میں جہاد میں شریک نہیں ہوتے۔ آپ کو خود معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جہاد کی طرف کتنی رغبت دلائی ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میرے بھتیجے! اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا، پانچ وقت کی نماز پڑھنا، رمضان کے روزے رکھنا، زکٰوۃ دینا اور حج کرنا۔“ انہوں نے کہا: اے ابا عبدالرحمٰن! کتاب اللہ میں جو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کیا آپ کو وہ معلوم نہیں ہے «وإن طائفتان من المؤمنين اقتتلوا فأصلحوا بينهما» کہ ”مسلمانوں کی دو جماعتیں اگر آپس میں جنگ کریں تو ان میں صلح کراؤ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «إلى أمر الله» تک (اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ ان سے جنگ کرو) یہاں تک کہ فساد باقی نہ رہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما بولے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ہم یہ فرض انجام دے چکے ہیں اس وقت مسلمان بہت تھوڑے تھے، کافروں کا ہجوم تھا تو کافر لوگ مسلمانوں کا دین خراب کرتے تھے، کہیں مسلمانوں کو مار ڈالتے، کہیں تکلیف دیتے یہاں تک کہ مسلمان بہت ہو گئے فتنہ جاتا رہا۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 4514]
حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”اے ابو عبدالرحمٰن! کیا وجہ ہے کہ آپ ایک سال حج کرتے ہیں اور دوسرے سال عمرے کے لیے جاتے ہیں، نیز آپ نے جہاد فی سبیل اللہ ترک کر رکھا ہے، حالانکہ آپ خوب جانتے ہیں کہ اللہ نے اس کے متعلق کس قدر رغبت دلائی ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”اے میرے بھتیجے! اسلام کی بنیاد تو پانچ چیزوں پر ہے: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا، پانچ وقت نماز پڑھنا، رمضان کے روزے رکھنا، زکاۃ ادا کرنا اور حج کرنا۔“ اس نے کہا: ”اے ابو عبدالرحمٰن! کتاب اللہ میں اللہ کا ارشادِ گرامی آپ کو معلوم نہیں: ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ﴾ [سورة الحجرات: 9] ”اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دو، پھر اگر ان دونوں میں سے کوئی جماعت دوسری جماعت پر زیادتی کرتی ہے تو تم سب اس کے خلاف لڑو جو جماعت زیادتی کرتی ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔““ (اور اللہ تعالیٰ کا یہ بھی ارشادِ گرامی ہے:) ﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ﴾ [سورة البقرة: 193] ”تم ان کے خلاف جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ و فساد کا خاتمہ ہو جائے۔“ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ہم یہ فرض ادا کر چکے ہیں۔ اس وقت مسلمان بہت تھوڑے تھے۔ انسان اپنے دین کے بارے میں آزمائش سے دوچار ہوتا تھا۔ مخالفین اسے قتل کر دیتے یا سنگین سزا سے دوچار کر دیتے۔ اب اسلام بڑھ چکا ہے اور وہ فتنہ و فساد باقی نہیں رہا۔“ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 4514]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4566
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَكِبَ عَلَى حِمَارٍ عَلَى قَطِيفَةٍ فَدَكِيَّةٍ، وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَرَاءَهُ يَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ، قَالَ: حَتَّى مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ، فَإِذَا فِي الْمَجْلِسِ أَخْلَاطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَالْمُشْرِكِينَ، عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ، وَالْيَهُودِ، وَالْمُسْلِمِينَ، وَفِي الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ، فَلَمَّا غَشِيَتِ الْمَجْلِسَ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ، خَمَّرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ، ثُمَّ قَالَ: لَا تُغَبِّرُوا عَلَيْنَا، فَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ وَقَفَ، فَنَزَلَ، فَدَعَاهُمْ إِلَى اللَّهِ وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ، فَقَالَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ: أَيُّهَا الْمَرْءُ، إِنَّهُ لَا أَحْسَنَ مِمَّا تَقُولُ، إِنْ كَانَ حَقًّا فَلَا تُؤذْيِنَا بِهِ فِي مَجْلِسِنَا، ارْجِعْ إِلَى رَحْلِكَ، فَمَنْ جَاءَكَ فَاقْصُصْ عَلَيْهِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَاغْشَنَا بِهِ فِي مَجَالِسِنَا، فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِكَ، فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْيَهُودُ حَتَّى كَادُوا يَتَثَاوَرُونَ، فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ حَتَّى سَكَنُوا، ثُمَّ رَكِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَابَّتَهُ، فَسَارَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا سَعْدُ، أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالَ أَبُو حُبَابٍ؟ يُرِيدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ، قَالَ: كَذَا وَكَذَا"، قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اعْفُ عَنْهُ، وَاصْفَحْ عَنْهُ، فَوَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ، لَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالْحَقِّ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ، لَقَدِ اصْطَلَحَ أَهْلُ هَذِهِ الْبُحَيْرَةِ عَلَى أَنْ يُتَوِّجُوهُ فَيُعَصِّبُوهُ بِالْعِصَابَةِ، فَلَمَّا أَبَى اللَّهُ ذَلِكَ بِالْحَقِّ الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ شَرِقَ بِذَلِكَ، فَذَلِكَ فَعَلَ بِهِ مَا رَأَيْتَ، فَعَفَا عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ يَعْفُونَ عَنِ الْمُشْرِكِينَ وَأَهْلِ الْكِتَابِ كَمَا أَمَرَهُمُ اللَّهُ، وَيَصْبِرُونَ عَلَى الْأَذَى، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا سورة آل عمران آية 186 الْآيَةَ، وَقَالَ اللَّهُ: وَدَّ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُمْ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ سورة البقرة آية 109 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَأَوَّلُ الْعَفْوَ مَا أَمَرَهُ اللَّهُ بِهِ، حَتَّى أَذِنَ اللَّهُ فِيهِمْ، فَلَمَّا غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدْرًا فَقَتَلَ اللَّهُ بِهِ صَنَادِيدَ كُفَّارِ قُرَيْشٍ، قَالَ ابْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَعَبَدَةِ الْأَوْثَانِ: هَذَا أَمْرٌ قَدْ تَوَجَّهَ، فَبَايَعُوا الرَّسُولَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَأَسْلَمُوا.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہیں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے کی پشت پر فدک کی بنی ہوئی ایک موٹی چادر رکھنے کے بعد سوار ہوئے اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے بٹھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو حارث بن خزرج میں سعد بن عبادہ رضی اللہ کی مزاج پرسی کے لیے تشریف لے جا رہے تھے۔ یہ جنگ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے۔ راستہ میں ایک مجلس سے آپ گزرے جس میں عبداللہ بن ابی ابن سلول (منافق) بھی موجود تھا، یہ عبداللہ بن ابی کے ظاہری اسلام لانے سے بھی پہلے کا قصہ ہے۔ مجلس میں مسلمان اور مشرکین یعنی بت پرست اور یہودی سب ہی طرح کے لوگ تھے، انہیں میں عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ سواری کی (ٹاپوں سے گرد اڑی اور) مجلس والوں پر پڑی تو عبداللہ بن ابی نے چادر سے اپنی ناک بند کر لی اور بطور تحقیر کہنے لگا کہ ہم پر گرد نہ اڑاؤ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی قریب پہنچ گئے اور انہیں سلام کیا، پھر آپ سواری سے اتر گئے اور مجلس والوں کو اللہ کی طرف بلایا اور قرآن کی آیتیں پڑھ کر سنائیں۔ اس پر عبداللہ بن ابی ابن سلول کہنے لگا، جو کلام آپ نے پڑھ کر سنایا ہے، اس سے عمدہ کوئی کلام نہیں ہو سکتا۔ اگرچہ یہ کلام بہت اچھا، پھر بھی ہماری مجلسوں میں آ آ کر آپ ہمیں تکلیف نہ دیا کریں، اپنے گھر بیٹھیں، اگر کوئی آپ کے پاس جائے تو اسے اپنی باتیں سنایا کریں۔ (یہ سن کر) عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا، ضرور یا رسول اللہ! آپ ہماری مجلسوں میں تشریف لایا کریں، ہم اسی کو پسند کرتے ہیں۔ اس کے بعد مسلمان، مشرکین اور یہودی آپس میں ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے اور قریب تھا کہ فساد اور لڑائی تک کی نوبت پہنچ جاتی لیکن آپ نے انہیں خاموش اور ٹھنڈا کر دیا اور آخر سب لوگ خاموش ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہو کر وہاں سے چلے آئے اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے بھی اس کا ذکر کیا کہ سعد! تم نے نہیں سنا، ابوحباب، آپ کی مراد عبداللہ بن ابی ابن سلول سے تھی، کیا کہہ رہا تھا؟ اس نے اس طرح کی باتیں کی ہیں۔ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اسے معاف فرما دیں اور اس سے درگزر کر دیں۔ اس ذات کی قسم! جس نے آپ پر کتاب نازل کی ہے اللہ نے آپ کے ذریعہ وہ حق بھیجا ہے جو اس نے آپ پر نازل کیا ہے۔ اس شہر (مدینہ) کے لوگ (پہلے) اس پر متفق ہو چکے تھے کہ اس (عبداللہ بن ابی) کو تاج پہنا دیں اور (شاہی) عمامہ اس کے سر پر باندھ دیں لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اس حق کے ذریعہ جو آپ کو اس نے عطا کیا ہے، اس باطل کو روک دیا تو اب وہ چڑ گیا ہے اور اس وجہ سے وہ معاملہ اس نے آپ کے ساتھ کیا جو آپ نے ملاحظہ فرمایا ہے۔ آپ نے اسے معاف کر دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم مشرکین اور اہل کتاب سے درگزر کیا کرتے تھے اور ان کی اذیتوں پر صبر کیا کرتے تھے۔ اسی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ”اور یقیناً تم بہت سی دل آزاری کی باتیں ان سے بھی سنو گے، جنہیں تم سے پہلے کتاب مل چکی ہے اور ان سے بھی جو مشرک ہیں اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو یہ بڑے عزم و حوصلہ کی بات ہے“ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”بہت سے اہل کتاب تو دل ہی سے چاہتے ہیں کہ تمہیں ایمان (لے آنے) کے بعد پھر سے کافر بنا لیں، حسد کی راہ سے جو ان کے دلوں میں ہے۔“ آخر آیت تک۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ کفار کو معاف کر دیا کرتے تھے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے ساتھ جنگ کی اجازت دے دی اور جب آپ نے غزوہ بدر کیا تو اللہ تعالیٰ کی منشا کے مطابق قریش کے کافر سردار اس میں مارے گئے تو عبداللہ بن ابی ابن سلول اور اس کے دوسرے مشرک اور بت پرست ساتھیوں نے آپس میں مشورہ کر کے ان سب نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کر لی اور ظاہراً اسلام میں داخل ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 4566]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر علاقہ فدک کی بنی ہوئی موٹی چادر ڈالی گئی تھی اور مجھے بھی اپنے پیچھے بٹھا لیا۔ آپ قبیلہ حارث بن خزرج کے محلے میں حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لے جا رہے تھے۔ یہ واقعہ غزوہ بدر سے پہلے کا ہے۔ راستے میں آپ ایک مجلس سے گزرے جس میں ملے جلے لوگ، یعنی مسلمان، مشرکین اور یہودی موجود تھے۔ ان میں عبداللہ بن ابی بن سلول (رئیس المنافقین) بھی موجود تھا، جو ابھی مسلمان نہیں ہوا تھا اور اسی مجلس میں حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ جب سواری کی گرد و غبار ان لوگوں پر پڑی تو عبداللہ بن ابی نے اپنی ناک پر چادر ڈالی اور کہنے لگا: ”ہم پر گرد وغبار نہ اڑاؤ۔“ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» ”تم پر سلامتی ہو“ کہا اور ٹھہر گئے۔ اپنی سواری سے اتر کر آپ نے انہیں اسلام کی دعوت دی اور قرآن پڑھ کر سنایا تو عبداللہ بن ابی بن سلول نے کہا: ”اے نوجوان! آپ کی باتیں بہت اچھی ہیں، تاہم آپ جو کچھ کہتے ہیں اگر سچ بھی ہو تب بھی آپ ہماری مجالس میں آ کر ہمیں تکلیف نہ دیا کریں بلکہ اپنے گھر واپس چلے جائیں، پھر جو شخص آپ کے پاس آئے آپ اسے اپنی باتیں سنائیں۔“ اس پر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کے رسول! آپ ضرور ہماری مجالس میں تشریف لا کر ہمیں یہ باتیں سنایا کریں کیونکہ ہم ان باتوں کو پسند کرتے ہیں۔“ آخر کار بات اس حد تک بڑھ گئی کہ مسلمان، مشرک اور یہودی ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ وہ ایک دوسرے پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل ان کو خاموش کراتے رہے یہاں تک وہ خاموش ہو گئے۔ بعد ازاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر بیٹھ کر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے سعد! ابوحباب، یعنی عبداللہ بن ابی نے جو کچھ کہا ہے کیا تم نے سن لیا ہے؟ اس شخص نے یہ یہ باتیں کی ہیں۔“ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! اسے معاف کر دیں اور درگزر سے کام لیں۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ہے! اللہ کی طرف سے آپ پر جو کچھ نازل ہوا ہے وہ برحق اور سچ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اس بستی والوں نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ اس شخص کی تاج پوشی کریں اور اس کے سر پر سرداری کی پگڑی باندھیں، لیکن جب اللہ تعالیٰ نے یہ منصوبہ اس حق کے ذریعے سے مسترد کر دیا جو آپ کو عطا فرمایا ہے تو وہ اس وجہ سے جل بھن گیا ہے اور جو کچھ اس نے کہا ہے اس حسد کا نتیجہ ہے“، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی یہ عادت رہی ہے کہ بت پرستوں اور یہودیوں کی ناشائستہ حرکات کو معاف کر دیا کرتے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا اور ان کی ایذاء رسانی پر صبر کیا کرتے تھے۔ ارشاد باری تعالیٰ اسی سے متعلق ہے: ﴿لَتُسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا ۚ وَإِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ﴾ [سورة آل عمران: 186] ”اور یقینا تم اپنے سے پیشتر اہل کتاب اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں ضرور سنو گے (اور اگر تم صبر سے کام لو اور تقویٰ اختیار کرو تو یہ بڑے حوصلے اور دل گردے کی بات ہے)۔“ اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا: ﴿وَدَّ كَثِيرٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُم مِّن بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِندِ أَنفُسِهِم﴾ [سورة البقرة: 109] ”بہت سے اہل کتاب تو اپنے دلوں کے حسد و بغض کی بنا پر یہ تمنا رکھتے ہیں کہ تمہیں ایمان سے پھیر کر دوبارہ کافر بنا ڈالیں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق عفو و درگزر کو اپنا وطیرہ بنائے رکھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اہل کفر کی بابت جہاد کی اجازت دے دی، پھر جب آپ نے جنگ بدر لڑی اور اس جہاد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے قریش کے بڑے بڑے سرداروں کو مار ڈالا تو عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھی جو مشرک اور بت پرست تھے، کہنے لگے: ”اب یہ امر، یعنی اسلام ظاہر و غالب ہو چکا ہے“، تب انہوں نے (بادل نخواستہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر لی اور مسلمان ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 4566]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4650
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَلَا تَسْمَعُ مَا ذَكَرَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا سورة الحجرات آية 9 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ لَا تُقَاتِلَ كَمَا ذَكَرَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ؟ فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، أَغْتَرُّ بِهَذِهِ الْآيَةِ وَلَا أُقَاتِلُ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَغْتَرَّ بِهَذِهِ الْآيَةِ الَّتِي، يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا سورة النساء آية 93 إِلَى آخِرِهَا، قَالَ: فَإِنَّ اللَّهَ، يَقُولُ: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ سورة البقرة آية 193، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: قَدْ فَعَلْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ كَانَ الْإِسْلَامُ قَلِيلًا، فَكَانَ الرَّجُلُ يُفْتَنُ فِي دِينِهِ، إِمَّا يَقْتُلُونَهُ، وَإِمَّا يُوثِقُونَهُ حَتَّى كَثُرَ الْإِسْلَامُ، فَلَمْ تَكُنْ فِتْنَةٌ، فَلَمَّا رَأَى أَنَّهُ لَا يُوَافِقُهُ فِيمَا يُرِيدُ، قَالَ: فَمَا قَوْلُكَ فِي عَلِيٍّ وَعُثْمَانَ؟ قَالَ ابْنُ عُمَرَ:" مَا قَوْلِي فِي عَلِيٍّ وَعُثْمَانَ، أَمَّا عُثْمَانُ، فَكَانَ اللَّهُ قَدْ عَفَا عَنْهُ، فَكَرِهْتُمْ أَنْ يَعْفُوَ عَنْهُ، وَأَمَّا عَلِيٌّ، فَابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَتَنُهُ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ، وَهَذِهِ ابْنَتُهُ أَوْ بِنْتُهُ حَيْثُ تَرَوْنَ".
ہم سے حسن بن عبدالعزیز نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن یحییٰ نے، کہا ہم سے حیوہ بن شریح نے، انہوں نے بکر بن عمرو سے، انہوں نے بکیر سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ ایک شخص (حبان یا علاء بن عرار نامی) نے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! آپ نے قرآن کی یہ آیت نہیں سنی «وإن طائفتان من المؤمنين اقتتلوا» کہ ”جب مسلمانوں کی دو جماعتیں لڑنے لگیں“ الخ، اس آیت کے بموجب تم (علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما دونوں سے) کیوں نہیں لڑتے جیسے اللہ نے فرمایا «فقاتلوا التي تبغيإ» ۔ انہوں نے کہا میرے بھتیجے! اگر میں اس آیت کی تاویل کر کے مسلمانوں سے نہ لڑوں تو یہ مجھ کو اچھا معلوم ہوتا ہے بہ نسبت اس کے کہ میں اس آیت «ومن يقتل مؤمنا متعمدا» کی تاویل کروں۔ وہ شخص کہنے لگا اچھا اس آیت کو کیا کرو گے جس میں مذکور ہے «وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة» کہ ”ان سے لڑو تاکہ فتنہ باقی نہ رہے اور سارا دین اللہ کا ہو جائے۔“ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا (واہ، واہ) یہ لڑائی تو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں کر چکے، اس وقت مسلمان بہت تھوڑے تھے اور مسلمان کو اسلام اختیار کرنے پر تکلیف دی جاتی۔ قتل کرتے، قید کرتے یہاں تک کہ اسلام پھیل گیا۔ مسلمان بہت ہو گئے اب فتنہ جو اس آیت میں مذکور ہے وہ کہاں رہا۔ جب اس شخص نے دیکھا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کسی طرح لڑائی پر اس کے موافق نہیں ہوتے تو کہنے لگا اچھا بتلاؤ علی رضی اللہ عنہ اور عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں تمہارا کیا اعتقاد ہے؟ انہوں نے کہا ہاں یہ کہو تو سنو، علی اور عثمان رضی اللہ عنہما کے بارے میں اپنا اعتقاد بیان کرتا ہوں۔ عثمان رضی اللہ عنہ کا جو قصور تم بیان کرتے ہو (کہ وہ جنگ احد میں بھاگ نکلے) تو اللہ نے ان کا یہ قصور معاف کر دیا مگر تم کو یہ معافی پسند نہیں (جب تو اب تک ان پر قصور لگاتے جاتے ہو) اور علی رضی اللہ عنہ تو (سبحان اللہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور آپ داماد بھی تھے اور ہاتھ سے اشارہ کر کے بتلایا یہ ان کا گھر ہے جہاں تم دیکھ رہے ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 4650]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: ”اے ابو عبدالرحمٰن! کیا آپ نے نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کیا فرمایا ہے؟ ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ۖ فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَىٰ فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ اللَّهِ﴾ [سورة الحجرات: 9] ”اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں لڑ پڑیں (تو ان میں مصالحت کرا دیا کرو۔ پھر اگر ان دونوں میں سے ایک جماعت دوسری پر زیادتی کرے تو تم سب اس گروہ سے جو زیادتی کرتا ہے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے)۔“ ان حالات میں آپ کو لڑائی کرنے سے کس نے روکا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے؟“ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اے میرے بھتیجے! میں اس آیت کی تاویل کر کے مسلمانوں سے نہ لڑوں تو یہ مجھے اچھا معلوم ہوتا ہے بہ نسبت اس کے کہ اس آیت کی تاویل کروں جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا﴾ [سورة النساء: 93] ”اور جو کوئی کسی مومن کو دانستہ قتل کر دے (اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔)““ پھر اس آدمی نے کہا: ”اچھا اس آیت کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے: ﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ﴾ [سورة البقرة: 193] ”ان سے قتال کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے۔““ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ہم یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کر چکے ہیں جبکہ اس وقت اہل اسلام تھوڑے تھے اور مسلمانوں کو اسلام اختیار کرنے پر اذیت دی جاتی تھی۔ وہ لوگ اہل ایمان کو قتل کر دیتے تھے یا رسیوں میں جکڑ دیتے تھے، یہاں تک کہ اسلام پھیل گیا اور فتنوں کا خاتمہ ہو گیا۔“ جب اس آدمی نے دیکھا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس کے ہمنوا نہیں ہو رہے تو کہنے لگا: ”اچھا یہ بتاؤ کہ تمہارا حضرت علی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کے متعلق کیا خیال ہے؟“ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”حضرت علی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کے متعلق میرا کیا خیال ہو سکتا ہے؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو تو اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیا ہے مگر تم لوگوں کو یہ معافی پسند نہیں ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد اور آپ کے داماد ہیں اور ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا کہ یہ ان کی لختِ جگر (کا گھر) ہے جسے تم دیکھ رہے ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 4650]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4651
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا بَيَانٌ، أَنَّ وَبَرَةَ حَدَّثَهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا أَوْ إِلَيْنَا ابْنُ عُمَرَ، فَقَالَ رَجُلٌ: كَيْفَ تَرَى فِي قِتَالِ الْفِتْنَةِ؟ فَقَالَ:" وَهَلْ تَدْرِي مَا الْفِتْنَةُ؟ كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَاتِلُ الْمُشْرِكِينَ، وَكَانَ الدُّخُولُ عَلَيْهِمْ فِتْنَةً، وَلَيْسَ كَقِتَالِكُمْ عَلَى الْمُلْكِ".
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے بیان نے بیان کیا، ان سے وبرہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سعید بن جبیر نے بیان کیا، کہا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس تشریف لائے، تو ایک صاحب نے ان سے پوچھا کہ (مسلمانوں کے باہمی) فتنہ اور جنگ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے پوچھا تمہیں معلوم بھی ہے ”فتنہ“ کیا چیز ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین سے جنگ کرتے تھے اور ان میں ٹھہر جانا ہی فتنہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگ تمہاری ملک و سلطنت کی خاطر جنگ کی طرح نہیں تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 4651]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس تشریف لائے تو ایک صاحب نے ان سے دریافت کیا: ”فتنے کی لڑائی کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”کیا تجھے فتنے کے متعلق علم ہے کہ وہ کیا ہے؟ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین سے جنگ کرتے تھے جبکہ ان میں ٹھہر جانا ہی فتنہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگ تمہاری ملک و سلطنت کی خاطر جنگ کی طرح نہیں تھی۔“” [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 4651]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7095
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ وَبَرَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ:" خَرَجَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، فَرَجَوْنَا أَنْ يُحَدِّثَنَا حَدِيثًا حَسَنًا، قَالَ: فَبَادَرَنَا إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدِّثْنَا عَنِ الْقِتَالِ فِي الْفِتْنَةِ، وَاللَّهُ يَقُولُ: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ سورة البقرة آية 193، فَقَالَ: هَلْ تَدْرِي مَا الْفِتْنَةُ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ؟، إِنَّمَا كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يُقَاتِلُ الْمُشْرِكِينَ وَكَانَ الدُّخُولُ فِي دِينِهِمْ فِتْنَةً، وَلَيْسَ كَقِتَالِكُمْ عَلَى الْمُلْكِ".
ہم سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خلف بن عبداللہ طحان نے بیان کیا، ان سے بیان ابن بصیر نے، ان سے وبرہ بن عبدالرحمٰن نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس آئے تو ہم نے امید کی کہ وہ ہم سے کوئی اچھی بات کریں گے۔ اتنے میں ایک صاحب حکیم نامی ہم سے پہلے ان کے پاس پہنچ گئے اور پوچھا: اے ابوعبدالرحمٰن! ہم سے زمانہ فتنہ میں قتال کے متعلق حدیث بیان کیجئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا تمہیں معلوم بھی ہے کہ فتنہ کیا ہے؟ تمہاری ماں تمہیں روئے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فتنہ رفع کرنے کے لیے مشرکین سے جنگ کرتے تھے، شرک میں پڑنا یہ فتنہ ہے۔ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑائی تم لوگوں کی طرح بادشاہت حاصل کرنے کے لیے ہوتی تھی؟ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 7095]
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس آئے تو ہم نے امید کی کہ وہ ہم سے کوئی عمدہ حدیث بیان کریں گے۔ اس دوران میں ایک آدمی ہم سے پہلے ان کے پاس پہنچ گیا اور کہنے لگا: ”اے ابو عبدالرحمن! ہمیں فتنے کے دور میں جنگ و قتال کے متعلق کوئی حدیث بیان کریں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ﴾ [سورة البقرة: 193] ”تم ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے۔““ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تجھے تیری ماں روئے! کیا تجھے معلوم ہے کہ فتنہ کیا ہوتا ہے؟ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو (فتنہ ختم کرنے کے لیے) مشرکین سے جنگ کرتے تھے، ان کے نزدیک مسلمانوں کا دین اسلام میں داخل ہونا فتنہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگ تمہاری طرح ملک گیری کے لیے نہ تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 7095]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة