سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
197. باب السهو في السجدتين
باب: سجدہ سہو کا بیان۔
حدیث نمبر: 1013
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ:" وَلَمْ يَسْجُدِ السَّجْدَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تُسْجَدَانِ إِذَا شَكَّ حَتَّى لَقَاهُ النَّاسُ". قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي بِهَذَا الْخَبَرِ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، وَعِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،وَالْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَن أَبِيه جَمِيعًا، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، وَلَمْ يَذْكُرْ" أَنَّهُ سَجَدَ السَّجْدَتَيْنِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِيهِ:" وَلَمْ يَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ".
ابن شہاب سے روایت ہے کہ ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ نے انہیں خبر دی کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سجدوں کو جو شک کی وجہ سے کئے جاتے ہیں نہیں کیا یہاں تک کہ لوگوں نے آپ کو ان کی یاددہانی کرائی۔ ابن شہاب کہتے ہیں: اس حدیث کی خبر مجھے سعید بن مسیب نے ابوہریرہ کے واسطے سے دی ہے، نیز مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن، ابوبکر بن حارث بن ہشام اور عبیداللہ بن عبداللہ نے بھی خبر دی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یحییٰ بن ابوکثیر اور عمران بن ابوانس نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے اور علاء بن عبدالرحمٰن نے اپنے والد سے روایت کیا ہے اور ان سبھوں نے اس واقعہ کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے لیکن اس میں انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ آپ نے دو سجدے کئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زبیدی نے زہری سے، زہری نے ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے اور ابوبکر بن سلیمان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ آپ نے سہو کے دونوں سجدے نہیں کئے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1013]
ابن شہاب سے روایت ہے کہ ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ (تابعی) نے ان سے بیان کیا کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ خبر پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شک کی بنا پر کیے جانے والے سجدے اس وقت تک نہیں کیے جب تک کہ لوگوں نے مل کر نہیں بتایا۔“ ابن شہاب کہتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث سعید بن مسیب نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کی (علاوہ ازیں) کہا کہ مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن، ابوبکر بن حارث بن ہشام اور عبیداللہ بن عبداللہ (نے بھی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے)۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”یحییٰ بن ابی کثیر اور عمران بن ابی انس نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور علاء بن عبدالرحمٰن سے بواسطہ ان کے والد کے روایت کی ہے اور یہ سب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ قصہ بیان کرتے ہیں اور اس میں دو سجدے کرنے کا ذکر نہیں ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”اور زبیدی نے زہری سے، وہ ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں اور اس میں کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے دونوں سجدے نہیں کیے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1013]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/السہو 22 (1232)، (تحفة الأشراف: 13180، 15192) (صحیح)» (صحیح مرفوع احادیث سے تقویت پاکر یہ مرسل حدیث بھی صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
صححه ابن خزيمة (1043 وسنده صحيح) وله شاھد صحيح عند النسائي (1232ب)
صححه ابن خزيمة (1043 وسنده صحيح) وله شاھد صحيح عند النسائي (1232ب)
حدیث نمبر: 1020
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: فَلَا أَدْرِي زَادَ أَمْ نَقَصَ، فَلَمَّا سَلَّمَ، قِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟ قَالَ:" وَمَا ذَاكَ؟" قَالُوا: صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا، فَثَنَى رِجْلَهُ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَلَمَّا انْفَتَلَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ، وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي" وَقَالَ:" إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ لِيُسَلِّمْ، ثُمَّ لِيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ".
علقمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی (ابراہیم کی روایت میں ہے: تو میں نہیں جان سکا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں زیادتی کی یا کمی)، پھر جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا نماز میں کوئی نئی چیز ہوئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیا؟“، لوگوں نے کہا: آپ نے اتنی اتنی رکعتیں پڑھی ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پیر موڑا اور قبلہ رخ ہوئے، پھر لوگوں کے ساتھ دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا، جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اگر نماز میں کوئی نئی بات ہوئی ہوتی تو میں تم کو اس سے باخبر کرتا، لیکن انسان ہی تو ہوں، میں بھی بھول جاتا ہوں جیسے تم لوگ بھول جاتے ہو، لہٰذا جب میں بھول جایا کروں تو تم لوگ مجھے یاد دلا دیا کرو“، اور فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک پیدا ہو جائے تو سوچے کہ ٹھیک کیا ہے، پھر اسی حساب سے نماز پوری کرے، اس کے بعد سلام پھیرے پھر (سہو کے) دو سجدے کرے“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1020]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، ابراہیم نے کہا: ”معلوم نہیں اس میں کوئی کمی کر دی یا بیشی۔“ جب سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا نماز کے متعلق کوئی نیا حکم آیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ہوا؟“ کہنے لگے کہ ”آپ نے ایسے ایسے نماز پڑھائی ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پاؤں موڑا، قبلہ رخ ہوئے اور انہیں دو سجدے کرائے، پھر سلام پھیرا۔ جب پھرے تو ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”بلاشبہ اگر نماز کے متعلق کوئی نیا حکم آتا تو میں تمہیں بتلا دیتا، لیکن میں بشر ہوں، ویسے ہی بھولتا ہوں جیسے تم بھولتے ہو۔ جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد کرا دیا کرو۔“ اور فرمایا: ”جب کسی کو نماز میں شک ہو جائے تو چاہیے کہ غور کرے کہ ٹھیک کیا ہے اور اسی پر اپنی نماز کو مکمل کرے، پھر سلام پھیرے پھر دو سجدے کرے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1020]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 31 (401)، الإیمان 15 (6671)، صحیح مسلم/المساجد 19 (572)، سنن النسائی/السہو 25 (1244)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 133 (1212)، (تحفة الأشراف: 9451)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/379، 419، 438، 455) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (401) صحيح مسلم (572)
حدیث نمبر: 1024
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُّ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُلْقِ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ، فَإِذَا اسْتَيْقَنَ التَّمَامَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، فَإِنْ كَانَتْ صَلَاتُهُ تَامَّةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ نَافِلَةً وَالسَّجْدَتَانِ، وَإِنْ كَانَتْ نَاقِصَةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ تَمَامًا لِصَلَاتِهِ وَكَانَتِ السَّجْدَتَانِ مُرْغِمَتَيِ الشَّيْطَانِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ زَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَدِيثُ أَبِي خَالِدٍ أَشْبَعُ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے (کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں) تو شک دور کرے اور یقین کو بنیاد بنائے، پھر جب اسے نماز پوری ہو جانے کا یقین ہو جائے تو دو سجدے کرے، اگر اس کی نماز (درحقیقت) پوری ہو چکی تھی تو یہ رکعت اور دونوں سجدے نفل ہو جائیں گے، اور اگر پوری نہیں ہوئی تھی تو اس رکعت سے پوری ہو جائے گی اور یہ دونوں سجدے شیطان کو ذلیل و خوار کرنے والے ہوں گے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ہشام بن سعد اور محمد بن مطرف نے زید سے، زید نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے، اور ابوسعید نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور ابوخالد کی حدیث زیادہ مکمل ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1024]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے تو چاہیے کہ شک کو دور کرے اور یقین کو بنیاد بنائے۔ جب یقین پر نماز مکمل کر لے تو دو سجدے کرے۔ اگر اس کی نماز (دراصل) پوری ہوئی تو اس کی زائد رکعت اور دونوں سجدے نفل ہوں گے۔ اور اگر ناقص ہوئی تو یہ رکعت اس کی نماز کی تکمیل ہو گی اور دو سجدے شیطان کی ذلت کا باعث ہوں گے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اسے ہشام بن سعد اور محمد بن مطرف نے زید سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور ابوخالد کی حدیث زیادہ بھرپور ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1024]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 19 (571)، سنن النسائی/السھو 24 (1239)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 132 (1210)، (تحفة الأشراف: 4163، 19091)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 16(62مرسلاً)، مسند احمد (3/37، 51، 53)، سنن الدارمی/الصلاة 174 (1536) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (571)