سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
81. باب : طرح الخاتم وترك لبسه
باب: انگوٹھی اتار دینے اور نہ پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5294
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، وَكَانَ جَعَلَ فَصَّهُ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ مِنْ ذَهَبٍ، فَطَرَحَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ، وَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ , فَكَانَ يَخْتِمُ بِهِ وَلَا يَلْبَسُهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھا، تو لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوائیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگوٹھی اتار دی تو لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار دیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی، جس سے آپ (خطوط پر) مہر لگاتے تھے اور اس کو پہنتے نہیں تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5294]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا نگینہ ہتھیلی کی جانب رکھا کرتے تھے، لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوالیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار پھینکا، لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار پھینکیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوا لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مہر لگاتے تھے اور اسے (عموما) نہیں پہنتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5294]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5221 (صحیح) (اس میں لفظ ’’ولا یلبسہ‘‘ شاذ ہے، بقیہ حدیث صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله ولا يلبسه فإنه شاذ
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5167
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَ الذَّهَبِ، فَلَبِسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ الذَّهَبِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي كُنْتُ أَلْبَسُ هَذَا الْخَاتَمَ وَإِنِّي لَنْ أَلْبَسَهُ أَبَدًا"، فَنَبَذَهُ، فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی، پھر اسے پہنا، تو لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھی بنوائی، آپ نے فرمایا: ”میں یہ انگوٹھی پہنتا تھا لیکن اب کبھی نہیں پہنوں گا“ اور اسے پھینک دی تو لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5167]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پہلے) سونے کی انگوٹھی بنوائی اور پہنی تو لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوا لیں۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں یہ (سونے کی) انگوٹھی پہنا کرتا تھا لیکن آئندہ اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔“ یہ فرمانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی اتار پھینکی تو لوگوں نے بھی اپنی (سونے کی) انگوٹھیاں اتار پھینکیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5167]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7145)، مسند احمد (2/109)، ویأتي عند المؤلف برقم: (5277) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5199
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ:" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ، فَصُّهُ حَبَشِيٌّ وَنُقِشَ فِيهِ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی جس کا نگینہ حبشی تھا ۱؎ اور اس میں ـ «محمد رسول اللہ» نقش کیا گیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5199]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی، اس کا نگینہ حبشی تھا اور اس میں «مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ» کے الفاظ کندہ تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5199]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 47 (5866)، 50 (5874)، 52 (5875)، 54 (5877)، صحیح مسلم/اللباس 12، 13 (92)، سنن ابی داود/الخاتم 1 (2416)، سنن الترمذی/اللباس 14 (1739)، الشمائل 11 (92)، سنن ابن ماجہ/اللباس39(3641)، (تحفة الأشراف: 1554)، مسند احمد (3/161، 181، 209، 223)، وانظر الأرقام: 5279، 5281 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایک دوسری حدیث نمبر (۵۲۰۱) کے مطابق نگینہ چاندی ہی کا تھا، تطبیق کی صورت یہ ہے کہ حبشی طرز کا تھا یا اس کا بنانے والا حبشی تھا، ایک قول یہ بھی ہے کہ ممکن ہے آپ کے پاس دو انگوٹھیاں رہی ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 5200
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمُ فِضَّةٍ يَتَخَتَّمُ بِهِ فِي يَمِينِهِ، فَصُّهُ حَبَشِيٌّ يَجْعَلُ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي كَفَّهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چاندی کی ایک انگوٹھی تھی، اسے آپ دائیں ہاتھ میں پہنتے تھے، اس کا نگینہ حبشی تھا۔ آپ نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5200]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چاندی کی انگوٹھی تھی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں ہاتھ میں پہنتے تھے۔ اس کا نگینہ حبشہ کا بنا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نگینہ ہتھیلی کی جانب رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5200]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح) (اس کے راوی ”طلحہ“ حافظہ کے کچھ کمزور ہیں، لیکن باب کی احادیث سے تقویت پا کر صحیح لغیرہ ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5201
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ الْحِمْصِيُّ، وَكَانَ أَبُوهُ خَالِدٌ عَلَى قَضَاءِ حِمْصَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْعَوْصِيُّ، عَنْ الْحَسَنِ وَهُوَ ابْنُ صَالِحِ بْنِ حَيٍّ , عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" كَانَخَاتَمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ وَكَانَ فَصُّهُ مِنْهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ بھی چاندی ہی کا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5201]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور نگینہ بھی اسی (چاندی) کا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5201]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 697) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 5202
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدًا، عَنْ أَنَسٍ:" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ خَاتَمُهُ مِنْ وَرِقٍ فَصُّهُ مِنْهُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ بھی چاندی ہی کا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5202]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور نگینہ بھی چاندی کا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5202]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 48 (5870)، (تحفة الأشراف: 773) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 5203
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ فَصُّهُ مِنْهُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ بھی اسی کا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5203]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی مبارک چاندی کی تھی، اس کا نگینہ بھی اسی (چاندی) کا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5203]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الخاتم 1 (4216)، سنن الترمذی/اللباس15(1740)، (تحفة الأشراف: 662)، مسند احمد (3/266) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 5204
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ بِشْرٍ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ، فَقَالُوا: إِنَّهُمْ لَا يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلَّا مَخْتُومًا،" فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِهِ , وَنُقِشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رومی بادشاہ کو کچھ لکھنا چاہا تو لوگوں نے عرض کیا کہ وہ لوگ کوئی ایسی تحریر نہیں پڑھتے جس پر مہر نہ لگی ہو، چنانچہ آپ نے چاندی کی مہر بنوائی، گویا میں آپ کے ہاتھ میں اس کی سفیدی کو (ابھی ابھی) دیکھ رہا ہوں، اس میں «محمد رسول اللہ» نقش تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5204]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روم (اور فارس کے بادشاہوں) کی طرف خطوط لکھنے کا ارادہ فرمایا تو لوگوں نے کہا: وہ لوگ مہر کے بغیر خط نہیں پڑھتے تو آپ نے چاندی کی مہر (انگوٹھی) بنوا لی۔ مجھے اب بھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں آپ کے ہاتھ مبارک میں اس کی چمک دیکھ رہا ہوں، اور آپ نے اس میں «مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ» ”محمد رسول اللہ“ نقش کروایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5204]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العلم 7 (65)، والجہاد 101 (2938)، اللباس 50 (5874)، 52 (5875)، الأحکام 15 (7162)، صحیح مسلم/اللباس 13 (2092)، (تحفة الأشراف: 1256)، مسند احمد (3/168-169، 170، 223، 275)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5280 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 5205
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو الْجَوْزَاءِ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , قَالَ: حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ:" أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ حَتَّى مَضَى شَطْرُ اللَّيْلِ ثُمَّ خَرَجَ , فَصَلَّى بِنَا كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ خَاتَمِهِ فِي يَدِهِ مِنْ فِضَّةٍ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء میں تاخیر کی یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی، پھر آپ نکلے اور ہمیں نماز پڑھائی، گویا میں آپ کے ہاتھ میں چاندی کی انگوٹھی کی سفیدی (ابھی بھی) دیکھ رہا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5205]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار عشاء کی نماز میں تاخیر فرما دی حتیٰ کہ تقریباً نصف رات گزر گئی۔ پھر آپ تشریف لائے اور ہمیں نماز پڑھائی۔ مجھے اب بھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں (عالم تصور میں) آپ کے دست مبارک میں آپ کی چاندی کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5205]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 39 (640)، (تحفة الأشراف: 1326) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 5208
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي عَتَّابٍ سَهْلِ بْنِ حَمَّادٍ. ح وَأَنْبَأَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ سَهْلِ بْنِ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَكِينٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ الْمُعَيْقِيبِ، عَنْ جَدِّهِ مُعَيْقِيبٍ , أَنَّهُ قَالَ:" كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيدًا مَلْوِيًّا عَلَيْهِ فِضَّةٌ"، قَالَ: وَرُبَّمَا كَانَ فِي يَدِي، فَكَانَ مُعَيْقِيبٌ عَلَى خَاتَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
معیقیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی لوہے کی تھی جس پر چاندی چڑھی ہوئی تھی اور کبھی کبھی وہ انگوٹھی میرے ہاتھ میں بھی ہوتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5208]
حضرت معیقیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی لوہے کی تھی جس پر چاندی کا خول چڑھایا گیا تھا، اور بسا اوقات وہ میرے ہاتھ میں رہتی تھی (اور حضرت معیقیب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی مبارک کی حفاظت پر مامور تھے)۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5208]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الخاتم 4 (4224)، (تحفة الأشراف: 11486) (ضعیف شاذ) (اوپر گزرا کہ رسول اکرم صلی للہ علیہ وسلم چاندی کی انگوٹھی پہنتے تھے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 5210
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدِ اتَّخَذَ حَلْقَةً مِنْ فِضَّةٍ، فَقَالَ:" مَنْ أَرَادَ أَنْ يَصُوغَ عَلَيْهِ فَلْيَفْعَلْ , وَلَا تَنْقُشُوا عَلَى نَقْشِهِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکلے اور آپ نے چاندی ایک چھلا بنوایا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”جو اس طرح کا چھلا بنوانا چاہے تو بنوا لے، البتہ جو کچھ اس پر نقش ہے اسے نقش نہ کرائے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5210]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (گھر سے) باہر تشریف لائے جبکہ آپ نے چاندی کی انگوٹھی پہن رکھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس کے مطابق انگوٹھی بنانا چاہے، بنا لے لیکن اس کے نقش جیسا نقش نہ کروانا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5210]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1062) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5211
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا وَنَقَشَ عَلَيْهِ نَقْشًا، قَالَ:" إِنَّا قَدِ اتَّخَذْنَا خَاتَمًا وَنَقَشْنَا فِيهِ نَقْشًا، فَلَا يَنْقُشْ أَحَدٌ عَلَى نَقْشِهِ". ثُمَّ قَالَ أَنَسٌ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِهِ فِي يَدِهِ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انگوٹھی بنوائی اور اس پر نقش کرایا اور فرمایا: ”ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور اس میں کچھ نقش کرایا ہے، تو تم میں سے کوئی اسے نقش نہ کرائے“، پھر انس رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا اس کی چمک میں آپ کے ہاتھ میں (ابھی بھی) دیکھ رہا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5211]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انگوٹھی بنوائی اور اس پر «مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ» ”محمد اللہ کے رسول ہیں“ نقش کروایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور اس پر نقش کروایا ہے۔ کوئی شخص اس نقش کی طرح نقش نہ کروائے۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے (عالم تصور میں) یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں اب بھی آپ کے دست مبارک میں انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5211]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1060)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس51 (5884)، 54 (5877)، سنن ابن ماجہ/اللباس 39 (3639)، مسند احمد (3/1011، 161) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5217
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ وَجَعَلَ فَصَّهُ مِنْ قِبَلِ كَفِّهِ , فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ الذَّهَبِ، فَأَلْقَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَهُ وَقَالَ:" لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا" , وَأَلْقَى النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ اپنی ہتھیلی کی طرف رکھا، پھر لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوائیں، تو آپ نے اپنی انگوٹھی نکال پھینکی اور فرمایا: ”میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا“ پھر لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں نکال پھینک دیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5217]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھا، لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوا لیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ انگوٹھی پھینک دی اور فرمایا: ”اب میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔“ تو لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5217]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔسشراف: 8124) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی اس حدیث اور بعد کی آنے والی حدیثوں کا تعلق مذکورہ باب سے نہیں ہے، ممکن ہے صاحب کتاب نے کوئی عنوان قائم کیا ہو، مگر نساخ حدیث اسے سہوا درج نہ کر سکے ہوں، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ان تمام طرق کے ذکر سے مصنف کا مقصد یہ ہے کہ پاخانہ میں داخل ہوتے وقت انگوٹھی اتار پھینکنے کی روایت ہمام کے وہم سے خالی نہیں ہے کیونکہ عام صحیح روایات سے جو ثابت ہے وہ کسی سبب سے سونے کی انگوٹھی کا اتار پھینکنا ہے نہ کہ پاخانہ جاتے وقت انگوٹھی کا اتارنا ہے، یہ بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ ہمام کی حدیث غیر محفوظ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 5218
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ , وَجَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي كَفَّهُ , فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ , فَطَرَحَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَالَ:" لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھا۔ پھر لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوائیں، تو آپ نے وہ انگوٹھی نکال پھینکی اور فرمایا: ”میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5218]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھا، لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوالیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ انگوٹھی اتار پھینکی اور فرمایا: ”میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5218]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 11 (2091)، (تحفة الٔحشراف: 7881) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 5219
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَخَتَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، ثُمَّ طَرَحَهُ وَلَبِسَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، وَقَالَ:" لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَنْقُشَ عَلَى نَقْشِ خَاتَمِي هَذَا، ثُمَّ جَعَلَ فَصَّهُ فِي بَطْنِ كَفِّهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی پہنی پھر اسے نکال کر پھینک دی اور چاندی کی انگوٹھی پہنی اور اس میں «محمد رسول اللہ» نقش کرایا اور فرمایا: ”کسی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ میری اس انگوٹھی کے نقش کی طرح نقش کرائے“، پھر آپ نے اس کے نگینے کو ہتھیلی کی جانب کر لیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5219]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی تھی، پھر آپ نے اسے پہننا چھوڑ دیا اور چاندی کی انگوٹھی پہنی اور اس میں «مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ» ”محمد رسول اللہ“ نقش کروایا اور فرمایا: ”کسی کو لائق نہیں کہ وہ میری انگوٹھی کے نقش کے مطابق نقش بنوائے۔“ پھر آپ نے اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5219]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 11 (2091)، سنن ابی داود/الخاتم 1 (4219)، سنن ابن ماجہ/اللباس 39 (3639)، (تحفة الأشراف: 7599)، ویأتي عند المؤلف 5290) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 5220
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِسَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَلَمَّا رَآهُ أَصْحَابُهُ فَشَتْ خَوَاتِيمُ الذَّهَبِ , فَرَمَى بِهِ، فَلَا نَدْرِي مَا فَعَلَ، ثُمَّأَمَرَ بِخَاتَمٍ مِنْ فِضَّةٍ فَأَمَرَ أَنْ يُنْقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ , وَكَانَ فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى مَاتَ". وَفِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى مَاتَ، وَفِي يَدِ عُمَرَ حَتَّى مَاتَ , وَفِي يَدِ عُثْمَانَ سِتَّ سِنِينَ مِنْ عَمَلِهِ، فَلَمَّا كَثُرَتْ عَلَيْهِ الْكُتُبُ دَفَعَهُ إِلَى رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَكَانَ يَخْتِمُ بِهِ، فَخَرَجَ الْأَنْصَارِيُّ إِلَى قَلِيبٍ لِعُثْمَانَ , فَسَقَطَ , فَالْتُمِسَ فَلَمْ يُوجَدْ، فَأَمَرَ بِخَاتَمٍ مِثْلِهِ وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن تک سونے کی انگوٹھی پہنی، پھر جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ کو دیکھا تو سونے کی انگوٹھی عام ہو گئی۔ یہ دیکھ کر آپ نے اسے نکال پھینکا۔ پھر معلوم نہیں وہ کیا ہوئی، پھر آپ نے چاندی کی انگوٹھی کا حکم دیا اور حکم دیا کہ اس میں ”محمد رسول اللہ“ نقش کر دیا جائے، وہ انگوٹھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ وہ بھی وفات پا گئے، پھر عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ وہ بھی وفات پا گئے، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ان کی مدت خلافت کے چھ سال تک رہی، پھر جب خطوط کثرت سے لکھے جانے لگے تو اسے انصار کے ایک شخص کے حوالے کر دیا، وہ اس سے مہریں لگاتا تھا۔ ایک بار وہ انصاری عثمان رضی اللہ عنہ کے ایک کنوئیں پر گیا، تو وہ انگوٹھی (اس میں) گر گئی، اور تلاش کے باوجود نہ ملی۔ پھر اسی جیسی انگوٹھی بنانے کا حکم ہوا اور اس میں ”محمد رسول اللہ“ نقش کیا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5220]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن سونے کی انگوٹھی پہنی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے یہ دیکھا تو سونے کی انگوٹھیاں عام ہو گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگوٹھی اتار دی، نہ معلوم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کیا کیا؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنانے کا حکم دیا اور فرمایا: ”اس میں «مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ» ”محمد اللہ کے رسول ہیں“ کے الفاظ کندہ کیے جائیں۔“ یہ انگوٹھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں رہی حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی حتیٰ کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی حتیٰ کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے چھ سال تک ان کے ہاتھ میں رہی، پھر جب خطوط کی کثرت ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے وہ انگوٹھی ایک انصاری کے سپرد کر دی (تاکہ وہ مہر لگا دیا کرے)۔ وہ مہر لگایا کرتا تھا، ایک دفعہ وہ انصاری حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ایک کنویں کی طرف گیا تو اس سے وہ انگوٹھی (اس کنویں میں) گر پڑی، بہت تلاش کی گئی مگر نہ ملی، پھر انہوں نے اس جیسی ایک اور انگوٹھی بنانے کا حکم دیا اور اس میں بھی «مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ» ”محمد اللہ کے رسول ہیں“ کے الفاظ کندہ کروائے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5220]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الخاتم 1 (4220)، (تحفة الأشراف: 8450) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 5221
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، وَكَانَ فَصُّهُ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ مِنْ ذَهَبٍ، فَطَرَحَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ، وَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ , فَكَانَ يَخْتِمُ بِهِ وَلَا يَلْبَسُهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی، اس کا نگینہ آپ اپنی ہتھیلی کی طرف رکھتے تھے، پھر لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوائیں، یہ دیکھ کر آپ نے اسے نکال پھینکی تو لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں نکال پھینکیں، پھر آپ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی، اس سے آپ (خطوط پر) مہریں لگاتے تھے، اسے پہنتے نہیں تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5221]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھتے تھے، لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوالیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار پھینکا، لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار پھینکیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مہر لگاتے تھے، اسے پہنتے نہیں تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5221]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7614)، سنن الترمذی/الشمائل 11، رقم: 83، ویأتي عند المؤلف برقم: 5294 (صحیح) (حدیث میں ’’ولایلبسہ‘‘ کا لفظ ’’شاذ‘‘ ہے، بقیہ حدیث صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اکثر اوقات میں نہیں پہنتے تھے، ورنہ یہ ثابت ہے کہ آپ انگوٹھی پہنا کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله ولا يلبسه فإنه شاذ
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 5277
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَ الذَّهَبِ، فَلَبِسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ الذَّهَبِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي كُنْتُ أَلْبَسُ هَذَا الْخَاتَمَ وَإِنِّي لَنْ أَلْبَسَهُ أَبَدًا" , فَنَبَذَهُ فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی، پھر اسے پہنا تو لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوائیں، آپ نے فرمایا: ”میں اس انگوٹھی کو پہن رہا تھا، لیکن اب میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا“، چنانچہ آپ نے اسے پھینک دی، تو لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5277]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی اور اسے اپنے دستِ مبارک میں پہنا، لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوا لیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں یہ انگوٹھی پہنا کرتا تھا لیکن اب اسے ہرگز نہیں پہنوں گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ انگوٹھی اتار پھینکی، لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار پھینکیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5277]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5167 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5278
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" كَانَ نَقْشُ خَاتَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کا نقش «محمد رسول اللہ» تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5278]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی (کے نگینے) میں «مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ» ”محمد اللہ کے رسول ہیں“ منقش تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5278]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8106)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس 52 (5875)، صحیح مسلم/اللباس 12 (2091)، سنن ابی داود/الخاتم 1 (4218)، سنن الترمذی/الشمائل 11، مسند احمد (2/22، 141) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5279
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ:" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ، وَفَصُّهُ حَبَشِيٌّ، وَنَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی، اس کا نگینہ حبشہ کا بنا ہوا تھا، اور اس پر «محمد رسول اللہ» نقش تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5279]
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی، اس کا نگینہ حبشی انداز کا تھا اور اس پر «مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ» ”محمد اللہ کے رسول ہیں“ نقش کیا گیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5279]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5199 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5280
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ بِشْرٍ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ , فَقَالُوا: إِنَّهُمْ لَا يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلَّا مَخْتُومًا،" فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِهِ، وَنُقِشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شاہ روم کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے کہا: وہ ایسی کوئی تحریر نہیں پڑھتے جس پر مہر نہ ہو، چنانچہ آپ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی، گویا میں آپ کے ہاتھ میں اس کی سفیدی کو (اس وقت بھی) دیکھ رہا ہوں، اس میں «محمد رسول اللہ» نقش تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5280]
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رومیوں کو خط لکھنے کا ارادہ فرمایا، لوگوں نے عرض کیا: حضور! وہ لوگ مہر کے بغیر خط نہیں پڑھتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک مہر بنوالی، مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ میں اب بھی اس کی چمک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں دیکھ رہا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں «مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ» ”محمد اللہ کے رسول ہیں“ کے الفاظ کندہ کروائے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5280]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5204 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5281
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ , وَفَصُّهُ حَبَشِيٌّ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی، اس کا نگینہ حبشہ کا بنا ہوا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5281]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی، اس کا نگینہ حبشہ کا بنا ہوا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5281]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5199 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5282
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ الْحَسَنِ وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ، وَفَصُّهُ مِنْهُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ بھی چاندی کا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5282]
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ بھی چاندی ہی کا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5282]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5201 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5283
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدِ اصْطَنَعْنَا خَاتَمًا , وَنَقَشْنَا عَلَيْهِ نَقْشًا، فَلَا يَنْقُشْ عَلَيْهِ أَحَدٌ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے انگوٹھی بنوائی ہے اور اس میں «محمد رسول اللہ» نقش کرایا ہے، لہٰذا اب کوئی ایسا نقش نہ کرائے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5283]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور اس پر ایک خاص نقش «مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ» کندہ کروایا ہے، لہٰذا کوئی شخص اس جیسا نقش نہ بنوائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5283]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 12 (2092)، سنن ابن ماجہ/اللباس 29 (3640)، (تحفة الٔاشراف: 999)، مسند احمد (3/290) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 5284
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اصْطَنَعَ خَاتَمًا , فَقَالَ:" إِنَّا قَدِ اتَّخَذْنَا خَاتَمًا، وَنَقَشْنَا عَلَيْهِ نَقْشًا، فَلَا يَنْقُشْ عَلَيْهِ أَحَدٌ" , وَإِنِّي لَأَرَى بَرِيقَهُ فِي خِنْصَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انگوٹھی بنوائی اور فرمایا: ”ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور اس پر نقش کرایا ہے، لہٰذا ایسا نقش کوئی نہ کرائے“، گویا میں اس کی چمک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چھنگلی میں (اب بھی) دیکھ رہا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5284]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انگوٹھی بنوائی اور فرمایا: ”ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور ہم نے اس پر ایک عبارت کندہ کروائی ہے، کوئی شخص اس کے مطابق عبارت کندہ نہ کروائے۔“ اللہ کی قسم! میں (عالمِ تصور میں اب بھی) اس انگوٹھی کی چمک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چھنگلی میں دیکھ رہا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5284]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 51 (5874)، (تحفة الأشراف: 1044) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5286
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ خَاتَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِصْبَعِهِ الْيُسْرَى".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: گویا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی سفیدی آپ کے بائیں ہاتھ کی انگلی میں (اب بھی) دیکھ رہا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5286]
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں اب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی مبارک کی چمک آپ کی بائیں (چھوٹی) انگلی میں دیکھ رہا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5286]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 1291) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5290
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَتَّمُ بِخَاتَمٍ مِنْ ذَهَبٍ، ثُمَّ طَرَحَهُ وَلَبِسَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ، وَنُقِشَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ:" لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَنْقُشَ عَلَى نَقْشِ خَاتَمِي هَذَا"، وَجَعَلَ فَصَّهُ فِي بَطْنِ كَفِّهِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سونے کی انگوٹھی پہنتے تھے، پھر آپ نے اسے اتار پھینکا اور چاندی کی انگوٹھی پہنی، اور اس پر «محمد رسول اللہ» نقش کرایا، پھر فرمایا: ”کسی کے لیے جائز نہیں کہ میری اس انگوٹھی کے نقش پر کچھ نقش کرائے“، آپ نے اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5290]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (پہلے) سونے کی انگوٹھی پہنا کرتے تھے۔ پھر آپ نے اسے اتار پھینکا اور چاندی پہننے لگے۔ اور آپ نے اس پر «مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ» ”محمد اللہ کے رسول ہیں“ کندہ کروایا، پھر آپ نے فرمایا: ”کسی کے لیے مناسب نہیں کہ میری اس انگوٹھی کے نقش کے مطابق (اپنی انگوٹھی پر) نقش بنوائے۔“ آپ اس کا نگینہ ہتھیلی کی جانب رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5290]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5167، 5219 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5292
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اصْطَنَعَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، وَكَانَ يَلْبَسُهُ فَجَعَلَ فَصَّهُ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ، فَصَنَعَ النَّاسُ ثُمَّ إِنَّهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَنَزَعَهُ، وَقَالَ:" إِنِّي كُنْتُ أَلْبَسُ هَذَا الْخَاتَمَ , وَأَجْعَلُ فَصَّهُ مِنْ دَاخِلٍ، فَرَمَى بِهِ، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا"، فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی، آپ اسے پہنتے تھے اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھتے، تو لوگوں نے بھی (انگوٹھیاں) بنوائیں، پھر آپ منبر پر بیٹھے اور اسے اتار پھینکا اور فرمایا: ”میں یہ انگوٹھی پہنتا تھا اور اس کا نگینہ اندر کی طرف رکھتا تھا“، پھر آپ نے اسے پھینک دی، پھر فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا“، پھر لوگوں نے بھی اپنی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5292]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی، آپ اسے زیب تن فرمایا کرتے تھے، آپ اس کا نگینہ ہتھیلی کی جانب رکھتے تھے۔ لوگوں نے بھی (سونے کی) انگوٹھیاں بنوا لیں، پھر ایک دن آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے تو اسے اتار پھینکا اور فرمایا: ”میں یہ انگوٹھی پہنتا تھا اور اس کا نگینہ اندرونی جانب رکھتا تھا۔“ پھر آپ نے اسے اتار پھینکا اور فرمایا: ”اللہ کی قسم! اب میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔“ لوگوں نے بھی اپنی اپنی انگوٹھیاں اتار پھینکیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5292]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الٔلیمان 6 (6651)، صحیح مسلم/اللباس 11 (2091)، (تحفة الأشراف: 8281)، مسند احمد (2/119) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 5295
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ , وَجَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي بَطْنَ كَفِّهِ , فَاتَّخَذَ النَّاسُ الْخَوَاتِيمَ، فَأَلْقَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا"، ثُمَّ اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ , فَأَدْخَلَهُ فِي يَدِهِ، ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ، ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ عُمَرَ، ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ عُثْمَانَ حَتَّى هَلَكَ فِي بِئْرِ أَرِيسٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھا، پھر لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوائیں، تو آپ نے اسے نکال دیا اور فرمایا: ”میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور اسے اپنے ہاتھ میں پہن لیا، پھر وہ انگوٹھی ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی، پھر عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں یہاں تک کہ وہ اریس نامی کنویں میں ضائع ہو گئی۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5295]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی جانب رکھا۔ لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوالیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار پھینکا اور فرمایا: ”میں آئندہ اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوالی اور اسے اپنے دست مبارک میں پہنا۔ پھر وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں، حتیٰ کہ وہ اریس کے کنویں میں گم ہو گئی۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5295]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 12 (2091)، (تحفة الٔاشراف: 8089) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم