قرآن مجيد
سورة الحاقة
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
| نمبر | آیت | تفسیر |
|---|---|---|
1 |
وہ ہو کر رہنے والی۔
|
|
2 |
کیا ہے وہ ہو کر رہنے والی؟
|
ابن کثیر ↑
|
3 |
اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ وہ ہو کر رہنے والی کیا ہے؟
|
ابن کثیر ↑
|
4 |
ثمود اور عاد نے اس کھٹکھٹانے والی(قیامت) کو جھٹلادیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
5 |
سو جو ثمود تھے وہ حد سے بڑھی ہوئی (آواز) کے ساتھ ہلاک کر دیے گئے۔
|
ابن کثیر ↑
|
6 |
اور جو عاد تھے وہ سخت ٹھنڈی، تند آندھی کے ساتھ ہلاک کر دیے گئے، جو قابو سے باہر ہونے والی تھی۔
|
|
7 |
اس نے اسے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلائے رکھا۔ سو تو ان لوگوں کو اس میں اس طرح (زمین پر) گرے ہوئے دیکھے گا جیسے وہ گری ہوئی کھجوروں کے تنے ہوں۔
|
ابن کثیر ↑
|
8 |
تو کیا تو ان کا کوئی بھی باقی رہنے والا دیکھتا ہے؟
|
ابن کثیر ↑
|
9 |
اور فرعون نے اور اس سے پہلے لوگوں نے اور الٹ جانے والی بستیوں نے گناہ کا ارتکاب کیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
10 |
پس انھوں نے اپنے رب کے رسول کی نافرمانی کی تو اس نے انھیں ایک سخت گرفت میں پکڑ لیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
11 |
بلاشبہ ہم نے ہی جب پانی حد سے تجاوز کرگیا، تمھیں کشتی میں سوار کیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
12 |
تاکہ ہم اسے تمھارے لیے ایک یاد دہانی بنا دیں اور یاد رکھنے والا کان اسے یاد رکھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
13 |
پس جب صور میں پھونکا جائے گا، ایک بار پھونکنا۔
|
|
14 |
اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھایا جائے گا، پس دونوں ٹکرا دیے جائیں گے، ایک بار ٹکرا دینا۔
|
ابن کثیر ↑
|
15 |
تو اس دن ہونے والی ہو جائے گی۔
|
ابن کثیر ↑
|
16 |
اور آسمان پھٹ جائے گا، پس وہ اس دن کمزور ہو گا۔
|
ابن کثیر ↑
|
17 |
اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے اور تیرے رب کا عرش اس دن آٹھ (فرشتے) اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
18 |
اس دن تم پیش کیے جاؤ گے، تمھاری کوئی چھپی ہوئی بات چھپی نہیں رہے گی۔
|
ابن کثیر ↑
|
19 |
سو جسے اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا تو وہ کہے گا لو پکڑو، میرا اعمال نامہ پڑھو۔
|
|
20 |
یقینا میں نے سمجھ لیا تھا کہ میں اپنے حساب سے ملنے والا ہوں۔
|
ابن کثیر ↑
|
21 |
پس وہ ایک خوشی والی زندگی میں ہو گا۔
|
ابن کثیر ↑
|
22 |
ایک بلند جنت میں۔
|
ابن کثیر ↑
|
23 |
جس کے میوے قریب ہوں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
24 |
کھاؤ اور پیو مزے سے، ان اعمال کی وجہ سے جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں آگے بھیجے۔
|
ابن کثیر ↑
|
25 |
وَ اَمَّا مَنۡ اُوۡتِیَ کِتٰبَہٗ بِشِمَالِہٖ ۬ۙ فَیَقُوۡلُ یٰلَیۡتَنِیۡ لَمۡ اُوۡتَ کِتٰبِیَہۡ ﴿ۚ۲۵﴾
اور لیکن جسے اس کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا گیا تو وہ کہے گا اے کاش! مجھے میرا اعمال نامہ نہ دیا جاتا۔
|
|
26 |
اور میں نہ جانتا میرا حساب کیا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
27 |
اے کاش کہ وہ ( موت) کام تمام کردینے والی ہوتی۔
|
ابن کثیر ↑
|
28 |
میرا مال میرے کسی کام نہ آیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
29 |
میری حکومت مجھ سے برباد ہو گئی۔
|
ابن کثیر ↑
|
30 |
اسے پکڑو، پس اسے طوق پہنادو۔
|
ابن کثیر ↑
|
31 |
پھر اسے بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونک دو۔
|
ابن کثیر ↑
|
32 |
پھر ایک زنجیر میں، جس کی پیمائش ستر ہاتھ ہے، پس اسے داخل کردو۔
|
ابن کثیر ↑
|
33 |
بلاشبہ وہ بہت عظمت والے اللہ پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔
|
ابن کثیر ↑
|
34 |
اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔
|
ابن کثیر ↑
|
35 |
سو آج یہاں نہ اس کا کوئی دلی دوست ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
36 |
اور نہ اس کے لیے زخموں کے دھوون کے سوا کوئی کھانا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
37 |
جسے گناہ گاروں کے سوا کوئی نہیں کھاتا۔
|
ابن کثیر ↑
|
38 |
پس نہیں! میں قسم کھاتا ہوں اس کی جسے تم دیکھتے ہو!
|
|
39 |
اور جسے تم نہیں دیکھتے!
|
ابن کثیر ↑
|
40 |
بلاشبہ یہ (قرآن) یقینا ایک معزز پیغام لانے والے کا قول ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
41 |
اور یہ کسی شاعرکا قول نہیں، تم بہت کم ایمان لاتے ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
42 |
اور نہ کسی کاہن کا قول ہے، تم بہت کم نصیحت پکڑتے ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
43 |
(یہ) جہانوں کے رب کی طرف سے اتارا ہوا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
44 |
اور اگر وہ ہم پر کوئی بات بنا کر لگا دیتا۔
|
|
45 |
تو یقینا ہم اس کو دائیں ہاتھ سے پکڑتے۔
|
ابن کثیر ↑
|
46 |
پھر یقینا ہم اس کی جان کی رگ کاٹ دیتے۔
|
ابن کثیر ↑
|
47 |
پھر تم میں سے کوئی بھی( ہمیں) اس سے روکنے والا نہ ہوتا۔
|
ابن کثیر ↑
|
48 |
اور بے شک یہ (قرآن) ڈرنے والوں کے لیے یقینا ایک نصیحت ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
49 |
اور بلاشبہ یقینا ہم جانتے ہیں کہ بے شک تم میں سے کچھ لوگ جھٹلانے والے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
50 |
اور بے شک وہ یقینا کافروں کے لیے حسرت (کا باعث) ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|