🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

قرآن مجيد
سورة الحاقة
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
نمبر آیت تفسیر
1
الحاقة
وہ ہو کر رہنے والی۔
2
ما الحاقة
کیا ہے وہ ہو کر رہنے والی؟
ابن کثیر ↑
3
وما أدراك ما الحاقة
اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ وہ ہو کر رہنے والی کیا ہے؟
ابن کثیر ↑
4
كذبت ثمود وعاد بالقارعة
ثمود اور عاد نے اس کھٹکھٹانے والی(قیامت) کو جھٹلادیا۔
ابن کثیر ↑
5
فأما ثمود فأهلكوا بالطاغية
سو جو ثمود تھے وہ حد سے بڑھی ہوئی (آواز) کے ساتھ ہلاک کر دیے گئے۔
ابن کثیر ↑
6
وأما عاد فأهلكوا بريح صرصر عاتية
اور جو عاد تھے وہ سخت ٹھنڈی، تند آندھی کے ساتھ ہلاک کر دیے گئے، جو قابو سے باہر ہونے والی تھی۔
7
سخرها عليهم سبع ليال وثمانية أيام حسوما فترى القوم فيها صرعى كأنهم أعجاز نخل خاوية
اس نے اسے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلائے رکھا۔ سو تو ان لوگوں کو اس میں اس طرح (زمین پر) گرے ہوئے دیکھے گا جیسے وہ گری ہوئی کھجوروں کے تنے ہوں۔
ابن کثیر ↑
8
فهل ترى لهم من باقية
تو کیا تو ان کا کوئی بھی باقی رہنے والا دیکھتا ہے؟
ابن کثیر ↑
9
وجاء فرعون ومن قبله والمؤتفكات بالخاطئة
اور فرعون نے اور اس سے پہلے لوگوں نے اور الٹ جانے والی بستیوں نے گناہ کا ارتکاب کیا۔
ابن کثیر ↑
10
فعصوا رسول ربهم فأخذهم أخذة رابية
پس انھوں نے اپنے رب کے رسول کی نافرمانی کی تو اس نے انھیں ایک سخت گرفت میں پکڑ لیا۔
ابن کثیر ↑
11
إنا لما طغى الماء حملناكم في الجارية
بلاشبہ ہم نے ہی جب پانی حد سے تجاوز کرگیا، تمھیں کشتی میں سوار کیا۔
ابن کثیر ↑
12
لنجعلها لكم تذكرة وتعيها أذن واعية
تاکہ ہم اسے تمھارے لیے ایک یاد دہانی بنا دیں اور یاد رکھنے والا کان اسے یاد رکھے۔
ابن کثیر ↑
13
فإذا نفخ في الصور نفخة واحدة
پس جب صور میں پھونکا جائے گا، ایک بار پھونکنا۔
14
وحملت الأرض والجبال فدكتا دكة واحدة
اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھایا جائے گا، پس دونوں ٹکرا دیے جائیں گے، ایک بار ٹکرا دینا۔
ابن کثیر ↑
15
فيومئذ وقعت الواقعة
تو اس دن ہونے والی ہو جائے گی۔
ابن کثیر ↑
16
وانشقت السماء فهي يومئذ واهية
اور آسمان پھٹ جائے گا، پس وہ اس دن کمزور ہو گا۔
ابن کثیر ↑
17
والملك على أرجائها ويحمل عرش ربك فوقهم يومئذ ثمانية
اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے اور تیرے رب کا عرش اس دن آٹھ (فرشتے) اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔
ابن کثیر ↑
18
يومئذ تعرضون لا تخفى منكم خافية
اس دن تم پیش کیے جاؤ گے، تمھاری کوئی چھپی ہوئی بات چھپی نہیں رہے گی۔
ابن کثیر ↑
19
فأما من أوتي كتابه بيمينه فيقول هاؤم اقرءوا كتابيه
سو جسے اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا تو وہ کہے گا لو پکڑو، میرا اعمال نامہ پڑھو۔
20
إني ظننت أني ملاق حسابيه
یقینا میں نے سمجھ لیا تھا کہ میں اپنے حساب سے ملنے والا ہوں۔
ابن کثیر ↑
21
فهو في عيشة راضية
پس وہ ایک خوشی والی زندگی میں ہو گا۔
ابن کثیر ↑
22
في جنة عالية
ایک بلند جنت میں۔
ابن کثیر ↑
23
قطوفها دانية
جس کے میوے قریب ہوں گے۔
ابن کثیر ↑
24
كلوا واشربوا هنيئا بما أسلفتم في الأيام الخالية
کھاؤ اور پیو مزے سے، ان اعمال کی وجہ سے جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں آگے بھیجے۔
ابن کثیر ↑
25
وأما من أوتي كتابه بشماله فيقول يا ليتني لم أوت كتابيه
اور لیکن جسے اس کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا گیا تو وہ کہے گا اے کاش! مجھے میرا اعمال نامہ نہ دیا جاتا۔
26
ولم أدر ما حسابيه
اور میں نہ جانتا میرا حساب کیا ہے۔
ابن کثیر ↑
27
يا ليتها كانت القاضية
اے کاش کہ وہ ( موت) کام تمام کردینے والی ہوتی۔
ابن کثیر ↑
28
ما أغنى عني ماليه
میرا مال میرے کسی کام نہ آیا۔
ابن کثیر ↑
29
هلك عني سلطانيه
میری حکومت مجھ سے برباد ہو گئی۔
ابن کثیر ↑
30
خذوه فغلوه
اسے پکڑو، پس اسے طوق پہنادو۔
ابن کثیر ↑
31
ثم الجحيم صلوه
پھر اسے بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونک دو۔
ابن کثیر ↑
32
ثم في سلسلة ذرعها سبعون ذراعا فاسلكوه
پھر ایک زنجیر میں، جس کی پیمائش ستر ہاتھ ہے، پس اسے داخل کردو۔
ابن کثیر ↑
33
إنه كان لا يؤمن بالله العظيم
بلاشبہ وہ بہت عظمت والے اللہ پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔
ابن کثیر ↑
34
ولا يحض على طعام المسكين
اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔
ابن کثیر ↑
35
فليس له اليوم هاهنا حميم
سو آج یہاں نہ اس کا کوئی دلی دوست ہے۔
ابن کثیر ↑
36
ولا طعام إلا من غسلين
اور نہ اس کے لیے زخموں کے دھوون کے سوا کوئی کھانا ہے۔
ابن کثیر ↑
37
لا يأكله إلا الخاطئون
جسے گناہ گاروں کے سوا کوئی نہیں کھاتا۔
ابن کثیر ↑
38
فلا أقسم بما تبصرون
پس نہیں! میں قسم کھاتا ہوں اس کی جسے تم دیکھتے ہو!
39
وما لا تبصرون
اور جسے تم نہیں دیکھتے!
ابن کثیر ↑
40
إنه لقول رسول كريم
بلاشبہ یہ (قرآن) یقینا ایک معزز پیغام لانے والے کا قول ہے۔
ابن کثیر ↑
41
وما هو بقول شاعر قليلا ما تؤمنون
اور یہ کسی شاعرکا قول نہیں، تم بہت کم ایمان لاتے ہو۔
ابن کثیر ↑
42
ولا بقول كاهن قليلا ما تذكرون
اور نہ کسی کاہن کا قول ہے، تم بہت کم نصیحت پکڑتے ہو۔
ابن کثیر ↑
43
تنزيل من رب العالمين
(یہ) جہانوں کے رب کی طرف سے اتارا ہوا ہے۔
ابن کثیر ↑
44
ولو تقول علينا بعض الأقاويل
اور اگر وہ ہم پر کوئی بات بنا کر لگا دیتا۔
45
لأخذنا منه باليمين
تو یقینا ہم اس کو دائیں ہاتھ سے پکڑتے۔
ابن کثیر ↑
46
ثم لقطعنا منه الوتين
پھر یقینا ہم اس کی جان کی رگ کاٹ دیتے۔
ابن کثیر ↑
47
فما منكم من أحد عنه حاجزين
پھر تم میں سے کوئی بھی( ہمیں) اس سے روکنے والا نہ ہوتا۔
ابن کثیر ↑
48
وإنه لتذكرة للمتقين
اور بے شک یہ (قرآن) ڈرنے والوں کے لیے یقینا ایک نصیحت ہے۔
ابن کثیر ↑
49
وإنا لنعلم أن منكم مكذبين
اور بلاشبہ یقینا ہم جانتے ہیں کہ بے شک تم میں سے کچھ لوگ جھٹلانے والے ہیں۔
ابن کثیر ↑
50
وإنه لحسرة على الكافرين
اور بے شک وہ یقینا کافروں کے لیے حسرت (کا باعث) ہے۔
ابن کثیر ↑