🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

31. بَابٌ في الْمَشِيئَةِ وَالإِرَادَةِ:
باب: مشیت اور ارادہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7473
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي عِيسَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَدِينَةُ يَأْتِيهَا الدَّجَّالُ، فَيَجِدُ الْمَلَائِكَةَ يَحْرُسُونَهَا فَلَا يَقْرَبُهَا الدَّجَّالُ، وَلَا الطَّاعُونُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ".
ہم سے اسحاق بن ابی عیسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو یزید بن ہارون نے خبر دی، انہیں شعبہ نے خبر دی، انہیں قتادہ نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال مدینہ تک آئے گا لیکن دیکھے گا کہ فرشتہ اس کی حفاظت کر رہے ہیں پس نہ تو دجال اس سے قریب ہو سکے گا اور نہ طاعون، اگر اللہ نے چاہا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7473]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال، مدینہ طیبہ کا رخ کرے گا تو فرشتوں کو اس کی حفاظت کرتے ہوئے پائے گا، اس لیے «إِنْ شَاءَ اللَّهُ» اگر اللہ نے چاہا تو دجال اس کے قریب نہیں ہو سکے گا اور نہ مرضِ طاعون ہی اس کا رخ کرے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7473]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7474
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ، فَأُرِيدُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَخْتَبِيَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کی ایک دعا قبول ہوتی ہے تو میں چاہتا ہوں اگر اللہ نے چاہا کہ اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7474]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کی ایک دعا مقبول ہے، «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» اگر اللہ نے چاہا میرا ارادہ ہے کہ اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7474]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7475
حَدَّثَنَا يَسَرَةُ بْنُ صَفْوَانَ بْنِ جَمِيلٍ اللَّخْمِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي عَلَى قَلِيبٍ، فَنَزَعْتُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَنْزِعَ، ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ، فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، ثُمَّ أَخَذَهَا عُمَرُ، فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَفْرِي فَرِيَّهُ حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ حَوْلَهُ بِعَطَنٍ".
ہم سے یسرہ بن صفوان بن جمیل اللحمی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو ایک کنویں پر دیکھا۔ پھر میں نے جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا اس میں سے پانی نکالا۔ اس کے بعد ابوبکر بن ابی قحافہ رضی اللہ عنہ نے ڈول لے لیا اور انہوں نے بھی ایک دو ڈول پانی نکالا البتہ ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی اور اللہ انہیں معاف کرے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اسے لے لیا اور وہ ان کے ہاتھ میں ایک بڑا ڈول بن گیا۔ میں نے کسی قوی و بہادر کو اس طرح ڈول پر ڈول نکالتے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ لوگوں نے ان کے چاروں طرف مویشیوں کے لیے باڑیں بنا لیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7475]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ایک وقت سو رہا تھا کہ خود کو ایک کنویں پر دیکھا۔ میں نے اس سے، جتنا اللہ نے چاہا، پانی نکالا۔ اس کے بعد ابن قحافہ رضی اللہ عنہ نے ڈول پکڑ لیا اور انہوں نے ایک یا دو ڈول نکالے البتہ ان کے ڈول کھینچنے میں کمزوری تھی۔ اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرمائے۔ پھر اسے عمر رضی اللہ عنہ نے لے لیا تو وہ ان کے ہاتھ میں ایک بڑا ڈول بن گیا۔ میں نے لوگوں میں سے کوئی باکمال و بے مثال نہیں دیکھا اس طرح ڈول پر ڈول نکالتا ہو یہاں تک کہ لوگوں نے اس کنویں کے ارد گرد گھاٹ بنا لیے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7475]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7476
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا أَتَاهُ السَّائِلُ، وَرُبَّمَا قَالَ: جَاءَهُ السَّائِلُ أَوْ صَاحِبُ الْحَاجَةِ، قَالَ: اشْفَعُوا فَلْتُؤْجَرُوا، وَيَقْضِي اللَّهُ عَلَى لِسَانِ رَسُولِهِ مَا شَاءَ".
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی مانگنے والا آتا یا کوئی ضرورت مند آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ اس کی سفارش کرو تاکہ تمہیں بھی ثواب ملے، اللہ اپنے رسول کی زبان پر وہی جاری کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7476]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی سائل یا ضرورت مند آتا تو فرماتے: اس کے متعلق سفارش کرو تمہیں ثواب دیا جائے گا، اور اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی زبان سے وہ عہد جاری فرماتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7476]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7477
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَقُلْ أَحَدُكُمُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ ارْحَمْنِي، إِنْ شِئْتَ ارْزُقْنِي، إِنْ شِئْتَ وَليَعْزِمْ مَسْأَلَتَهُ إِنَّهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ لَا مُكْرِهُ لَهُ".
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے ہمام نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص اس طرح دعا نہ کرے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو میری مغفرت کر، اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر، اگر تو چاہے تو مجھے روزی دے، بلکہ پختگی کے ساتھ سوال کرنا چاہئیے کیونکہ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے کوئی اس پر جبر کرنے والا نہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7477]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ان الفاظ میں دعا نہ کرے: اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے معاف کر دے، اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر، اگر تو چاہے تو مجھے رزق عطا فرما، بلکہ انسان کو چاہیے کہ وہ عزم اور پختگی کے ساتھ سوال کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ جو چاہے کرتا ہے، اسے کوئی مجبور نہیں کر سکتا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7477]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7478
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرٌو، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ تَمَارَى هُوَ وَالْحُرُّ بْنُ قَيْسِ بْنِ حِصْنٍ الْفَزَارِيُّ فِي صَاحِبِ مُوسَى أَهُوَ خَضِرٌ، فَمَرَّ بِهِمَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيُّ، فَدَعَاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: إِنِّي تَمَارَيْتُ أَنَا وَصَاحِبِي هَذَا فِي صَاحِبِ مُوسَى الَّذِي سَأَلَ السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ شَأْنَهُ؟، قَالَ: نَعَمْ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" بَيْنَا مُوسَى فِي مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: هَلْ تَعْلَمُ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْكَ؟، فَقَالَ مُوسَى: لَا، فَأُوحِيَ إِلَى مُوسَى بَلَى عَبْدُنَا خَضِرٌ، فَسَأَلَ مُوسَى السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ، فَجَعَلَ اللَّهُ لَهُ الْحُوتَ آيَةً، وَقِيلَ لَهُ: إِذَا فَقَدْتَ الْحُوتَ، فَارْجِعْ فَإِنَّكَ سَتَلْقَاهُ، فَكَانَ مُوسَى يَتْبَعُ أَثَرَ الْحُوتِ فِي الْبَحْرِ، فَقَالَ فَتَى مُوسَى لِمُوسَى: أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهِ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ؟ قَالَ مُوسَى: ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِي، فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا فَوَجَدَا خَضِرًا وَكَانَ مِنْ شَأْنِهِمَا مَا قَصَّ اللَّهُ".
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوحفص عمرو نے بیان کیا، ان سے اوزاعی نے بیان کیا ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عقبہ بن مسعود نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ وہ اور حر بن قیس بن حصین الفزاری، موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی کے بارے میں اختلاف کر رہے تھے کہ کیا وہ خضر علیہ السلام ہی تھے۔ اتنے میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا ادھر سے گزر ہوا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بلایا اور ان سے کہا کہ میں اور میرا یہ ساتھی اس بارے میں شک میں ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کے وہ صاحب کون تھے جن سے ملاقات کے لیے موسیٰ علیہ السلام نے راستہ پوچھا تھا۔ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں کوئی حدیث سنی ہے انہوں نے کہا کہ ہاں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے ایک مجمع میں تھے کہ ایک شخص نے آ کر پوچھا کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو آپ سے زیادہ علم رکھتا ہو؟ موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ نہیں۔ چنانچہ آپ پر وحی نازل ہوئی کہ کیوں نہیں ہمارا بندہ خضر ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان سے ملاقات کا راستہ معلوم کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مچھلی کو نشان قرار دیا اور آپ سے کہا گیا کہ جب تم مچھلی کو گم پاؤ تو لوٹ جانا کہ وہیں ان سے ملاقات ہو گی۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام مچھلی کا نشان دریا میں ڈھونڈنے لگے اور آپ کے ساتھی نے آپ کو بتایا کہ آپ کو معلوم ہے۔ جب ہم نے چٹان پر ڈیرہ ڈالا تھا تو وہیں میں مچھلی بھول گیا اور مجھے شیطان نے اسے بھلا دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ یہ جگہ وہی ہے جس کی تلاش میں ہم سرگرداں ہیں پس وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانوں پر واپس لوٹے اور انہوں نے خضر علیہ السلام کو پا لیا ان ہی دونوں کا یہ قصہ ہے جو اللہ نے بیان فرمایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7478]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ اور حر بن قیس بن حصن فزاری رضی اللہ عنہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی کے متعلق اختلاف کر رہے تھے کہ کیا وہ حضرت خضر علیہ السلام ہی تھے؟ اتنے میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا ادھر سے گزر ہوا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بلایا اور کہا: میں اور میرا یہ ساتھی شک میں مبتلا ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کے وہ صاحب کون تھے جن سے ملاقات کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے راستہ پوچھا تھا؟ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں کوئی حدیث سنی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے ایک مجمع میں تھے کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے پوچھا: کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو آپ سے زیادہ علم رکھتا ہو؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا: نہیں۔ پھر ان پر وحی نازل ہوئی: کیوں نہیں بلکہ ہمارا بندہ خضر ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کی ملاقات کا راستہ پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ایک مچھلی کو (نشانی قرار دیا اور فرمایا کہ اسے) گم پاؤ تو واپس لوٹ آنا، وہیں ان سے ملاقات ہوگی۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام سمندر کے کنارے مچھلی کا نشان تلاش کرتے رہے، تو موسیٰ علیہ السلام کے خادم نے کہا: ﴿أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ﴾ [سورة الكهف: 63] کیا آپ کو معلوم ہے جہاں ہم نے چٹان کے سائے میں آرام کیا تھا، میں مچھلی وہاں بھول گیا ہوں اور اسے یاد کرنے سے مجھے شیطان نے غافل کر دیا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ﴿ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ﴾ [سورة الكهف: 64] یہی وہ جگہ ہے جس کی ہم تلاش میں تھے۔ وہ فوراً اپنے پاؤں کے نشانات پر واپس ہو گئے اور انہوں نے وہاں حضرت خضر علیہ السلام کو پا لیا۔ ان دونوں کا وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7478]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7479
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" نَنْزِلُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ يُرِيدُ الْمُحَصَّبَ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) فرمایا کہ ہم کل ان شاء اللہ خیف، بنو کنانہ میں قیام کریں گے جہاں ایک زمانہ میں کفار مکہ نے کفر ہی پر قائم رہنے کی آپس میں قسمیں کھائیں تھیں آپ کی مراد وادی محصب سے تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7479]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ہم «إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ان شاء اللہ کل خیف بنو کنانہ میں قیام کریں گے جہاں (ایک زمانے میں) کفار مکہ نے کفر پر قائم رہنے کے لیے آپس میں قسمیں کھائی تھیں۔ خیف بنو کنانہ سے مراد وادیِ محصب ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7479]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7480
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ:" حَاصَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الطَّائِفِ فَلَمْ يَفْتَحْهَا، فَقَالَ: إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: نَقْفُلُ وَلَمْ نَفْتَحْ، قَالَ: فَاغْدُوا عَلَى الْقِتَالِ، فَغَدَوْا، فَأَصَابَتْهُمْ جِرَاحَاتٌ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَكَأَنَّ ذَلِكَ أَعْجَبَهُمْ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، انہوں نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے ابوالعاس (سائب بن فروخ) سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف والوں کو گھیر لیا، اس کو فتح نہیں کیا۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کل اللہ نے چاہا تو ہم مدینہ کو لوٹ چلیں گے، اس پر مسلمان بولے واہ ہم فتح کئے بغیر لوٹ جائیں، آپ نے فرمایا کہ ایسا ہے تو پھر کل سویرے لڑائی شروع کرو، صبح کو مسلمان لڑنے لگے لیکن (قلع فتح نہیں ہوا) مسلمان زخمی ہوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صبح کو اللہ نے چاہا تو ہم مدینہ لوٹ چلیں گے، اس پر مسلمان خوش ہوئے، مسلمانوں کا یہ حال دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7480]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل طائف کا محاصرہ کیا لیکن ابھی فتح نہیں کیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ان شاء اللہ کل (مدینہ طیبہ) واپس چلے جائیں گے۔ مسلمانوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم فتح کیے بغیر ہی لوٹ جائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارا یہی عزم ہے تو پھر کل صبح لڑائی شروع کرو۔ صبح انہوں نے جنگ کی تو بہت زخمی ہو گئے۔ (یہ دیکھ کر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ان شاء اللہ کل واپس جائیں گے۔ اس پر مسلمان بہت خوش ہوئے تب (یہ دیکھ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7480]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں