المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
6. باب ما جاء في الربا
سود کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 656
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ التَّمْرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاحُهُ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کو پکنے سے پہلے بیچنے سے منع کیا ہے، نیز درخت پر لگی ہوئی کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچنے سے بھی منع کیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 656]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2183، صحيح مسلم: 1539»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 657
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، أَنَّ أَبَا عَيَّاشٍ مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، حَدَّثَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنِ اشْتِرَاءِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ، فَقَالَ: " أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فَنَهَى عَنْهُ" .
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ سے تر کھجوروں کے بدلے خشک کھجوریں خریدنے کے متعلق پوچھا گیا، تو فرمایا: ”کیا تر کھجور خشک ہو کر کم ہو جاتی ہیں؟“ صحابہ نے عرض کیا: ”جی ہاں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 657]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: موطأ الإمام مالك: 624/2، مسند الإمام أحمد: 175/1، سنن أبي داود: 3359، سنن النسائي: 4549، سنن الترمذي: 1225، سنن ابن ماجه: 2264، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح کہا ہے، امام ابن حبان رحمہ اللہ (4997) اور امام حاکم رحمہ اللہ (38/2، 39) نے صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 658
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ يُبَاعَ بِخَرْصِهَا كَيْلا" .
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عرایا کی اجازت دی ہے کہ اس کا اندازہ لگا کر اس کے بدلے ماپ کر کھجوریں دے دی جائیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 658]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2188، صحيح مسلم: 1539/64»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 659
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَرْخَصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا مَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَوْ فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ" ، شَكَّ دَاودُ بْنُ الْحُصَيْنِ لا يَدْرِي خَمْسَةَ أَوْسُقٍ أَوْ دُونَ خَمْسَةِ.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ وسق یا اس سے کم بیع عرایا کی اجازت دی ہے۔ پانچ وسق ہے یا پانچ سے کم، اس میں داؤد بن حصین کو شک ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 659]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2190، صحيح مسلم: 1541»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 660
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أنا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ ، قَالَ: أنا يَحْيَى ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ أَنْ تُؤْخَذَ بِمِثْلِهَا خَرْصًا تَمْرًا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا" .
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عریہ کی اجازت دی ہے کہ اندازے سے اس کے برابر کھجوریں لے لی جائیں تاکہ خریدنے والا تازہ کھجور کھا سکے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 660]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2380، صحيح مسلم: 1539/61»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 661
حَدَّثَنَا عَبْدُ الله بْنُ هَاشِم ، قَالَ: ثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعْ ، عَنِ عَبْدُ الله ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ الْنَبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَامَلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرَجَ مِنْهَا مِنْ تَمْرٍ أَوْ زَرْعٍ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی کھجور اور اناج کی آدھی پیداوار پر وہاں کے رہنے والوں سے معاملہ طے کیا تھا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 661]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2328، صحیح مسلم: 1551»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 662
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ: ثني عُقْبَةُ ، قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، قَالَ: ثني نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا خَرَجَ مِنْهَا مِنْ زَرْعٍ أَوْ تَمْرٍ، فَكَانَ يُعْطِي أَزْوَاجَهُ كُلَّ عَامٍ مِائَةَ وَسْقٍ، ثَمَانُونَ وَسْقًا تَمْرًا، وَعِشْرُونَ وَسْقًا شَعِيرًا" ، فَلَمَّا قَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَسَّمَ خَيْبَرَ فَخَيَّرَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْطَعَ لَهُنَّ الأَرْضَ، أَوْ يَضْمَنَ لَهُنَّ الْوُسُوقَ، فَمِنْهُنَّ مَنِ اخْتَارَ أَنْ يَقْطَعَ لَهَا الأَرْضَ، وَمِنْهُنَّ مَنِ اخْتَارَ الْوُسُوقَ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِمَّنِ اخْتَارَ الْوُسُوقَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والوں (یہودیوں) سے کھجور اور اناج کی آدھی پیداوار پر معاملہ کیا تھا۔ آپ اس میں سے ہر سال اپنی ازواجِ مطہرات کو اسی (80) وسق کھجور اور بیس (20) وسق جو (کل سو (100) وسق) دیا کرتے تھے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے اور انہوں نے خیبر کی زمین تقسیم کی، تو انہوں نے ازواجِ مطہرات کو اختیار دیا کہ وہ چاہیں تو انہیں زمین کا ٹکڑا دے دیا جائے اور اگر چاہیں تو وسق ہی لیتی رہیں، چنانچہ ان میں سے بعض نے زمین لینا پسند کیا اور بعض نے وسق لینا پسند کیا۔ سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما ان میں شامل تھیں، جنہوں نے وسق لینا پسند کیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 662]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2328، صحیح مسلم: 1551»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 663
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: ثني مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَجْلَى الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ أَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا، وَكَانَتِ الأَرْضُ حِينَ ظُهِرَ عَلَيْهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُسْلِمِينَ فَأَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا، فَسَأَلَتِ الْيَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُقِرَّهُمْ بِهَا عَلَى أَنْ يَكْفُوا عَمَلَهَا وَلَهُمْ نِصْفُ التَّمْرِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نُقِرُّكُمْ بِهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا" فَقَرُّوا بِهَا حَتَّى أَجْلاهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى تَيْمَاءَ وَأَرِيحَاءَ .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہود و نصاریٰ کو سرزمینِ حجاز سے نکال دیا اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر پر فتح پائی، تو آپ نے بھی یہودیوں کو وہاں سے نکالنا چاہا تھا۔ جب آپ کو وہاں فتح حاصل ہوئی، تو اس کی زمین اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی ہوگئی۔ آپ کا ارادہ یہودیوں کو وہاں سے باہر کرنے کا تھا، لیکن یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ ہمیں یہیں رہنے دیں، ہم خیبر کی اراضی کا سارا کام خود کریں گے اور اس کی پیداوار کا نصف حصہ لے لیں گے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا، جب تک ہم چاہیں گے تمہیں اس شرط پر یہاں رہنے دیں گے۔“ چنانچہ وہ لوگ وہیں رہے اور پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں تیماء اور ایریحاء کی طرف جلا وطن کر دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 663]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2338، صحیح مسلم: 1551»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 664
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أنا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا وَرَهَنَهُ دِرْعًا مِنْ حَدِيدٍ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے غلہ خریدا اور لوہے کی زرہ اس کے پاس گروی رکھ دی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 664]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2068، صحیح مسلم: 1603»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 665
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ زَكَرِيَّا يَعْنِي ابْنَ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الظَّهْرُ يُرْكَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَيُشْرَبُ مِنْ لَبَنِ الدَّرِّ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَعَلَى الَّذِي يَشْرَبُ وَيَرْكَبُ نَفَقَتُهُ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گروی جانور پر اس کے خرچ کے عوض سواری کی جائے، اسی طرح دودھ والا جانور جب گروی ہو، تو خرچ کے بدلے اس کا دودھ پیا جائے اور جو دودھ پئے گا یا سواری کرے گا، وہی اس کا خرچ بھی اٹھائے گا۔“ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 665]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2512»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح