🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

34. بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فِي الصَّلَاةِ وَالْجَهْرِ بِهَا وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ
باب: نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا واجب ہے، اسے بلند آواز میں پڑھنا اس بارے میں منقول روایات میں اختلافات
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1170 ترقیم الرسالہ : -- 1185
حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ الْكُوفِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ إِسْحَاقَ الْحِمَارُ ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَبِيبٍ ، ثنا مُوسَى بْنُ أَبِي حَبِيبٍ الطَّائِفِيُّ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُمَيْرٍ ، وَكَانَ بَدْرِيًّا، قَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَهَرَ فِي الصَّلاةِ بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، فِي صَلاةِ اللَّيْلِ وَفِي صَلاةِ الْغَدَاةِ وَصَلاةِ الْجُمُعَةِ" .
سیدنا حکم بن عمیر رضی اللہ عنہ، جو بدری (صحابی) ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں بلند آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے تھے۔ رات (عشاء کی)، صبح (فجر کی) اور جمعہ کی نماز میں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے تھے)۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1185]
ترقیم العلمیہ: 1170
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1185، وهذا من الأحاديث الغريبة المنكرة بل هو حديث باطل، نصب الراية لأحاديث الهداية: 348/1»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1171 ترقیم الرسالہ : -- 1186
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1186]
ترقیم العلمیہ: 1171
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1186، وقال ابن عدي: كل ما يرويه الحكم بن عبد الله بن سعد لا يتابعه الثقات عليه وضعفه بين على حديثه، الكامل في الضعفاء: (2 / 478»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1172 ترقیم الرسالہ : -- 1187
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الْجُرْجَانِيُّ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ. ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ:" صَلَّى مُعَاوِيَةُ بِالْمَدِينَةِ صَلاةً فَجَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَلَمْ يَقْرَأْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ لأُمِّ الْقُرْآنِ، وَلَمْ يَقْرَأْهَا لِلسُّورَةِ الَّتِي بَعْدَهَا وَلَمْ يُكَبِّرْ حِينَ يَهْوِي حَتَّى قَضَى تِلْكَ الصَّلاةَ، فَلَمَّا سَلَّمَ نَادَاهُ مَنْ سَمِعَ ذَلِكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ، يَا مُعَاوِيَةُ أَسَرَقْتَ الصَّلاةَ أَمْ نَسِيتَ؟ قَالَ: فَلَمْ يُصَلِّ بَعْدَ ذَلِكَ إِلا قَرَأَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ لأُمِّ الْقُرْآنِ، وَلِلسُّورَةِ الَّتِي بَعْدَهَا وَكَبَّرَ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا" . كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ میں نماز ادا کی۔ انہوں نے اس میں بلند آواز میں قراءت کی، لیکن بلند آواز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں پڑھی، نہ انہوں نے سورۃ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی، نہ بعد والی سورت سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی۔ اسی طرح جھکتے ہوئے (یعنی رکوع میں جاتے ہوئے یا سجدے میں جاتے ہوئے) انہوں نے تکبیر بھی نہیں کہی۔ جب انہوں نے نماز مکمل کر لی اور سلام پھیرا، تو جن مہاجرین اور انصار تک ان کی آواز پہنچتی تھی، انہوں نے بلند آواز میں انہیں مخاطب کرتے ہوئے یہ کہا: اے سیدنا معاویہ! کیا آپ نے نماز میں کمی کی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد انہوں نے جو بھی نماز ادا کی، اس میں بلند آواز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی، سورۃ فاتحہ سے پہلے بھی اور فاتحہ کے بعد والی سورت سے پہلے بھی (بلند آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی) اور سجدے میں جاتے ہوئے تکبیر بھی کہی۔ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1187]
ترقیم العلمیہ: 1172
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 857، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2447، 2448، 2449، 2450، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1187، 1188، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 2618»
«ورواه الدارقطني وقال رواته كلهم ثقات، نصب الراية لأحاديث الهداية: (1 / 353)»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1173 ترقیم الرسالہ : -- 1188
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ السِّنْدِيِّ بْنِ الْحَسَنِ ، قَالا: نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ ، ثنا أَبُو أَيُّوبَ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا، فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَلَمْ يَقْرَأْ بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ حِينَ افْتَتَحَ الْقُرْآنَ، وَقَرَأَ بِأُمِّ الْكِتَابِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ أَتَاهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالأَنْصَارُ مِنْ نَاحِيَةَ الْمَسْجِدِ، فَقَالُوا: أَتَرَكْتَ صَلاتَكَ يَا مُعَاوِيَةُ؟ أَنَسِيتَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ؟ فَلَمَّا صَلَّى بِهِمُ الأُخْرَى قَرَأَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ" . قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَى الْجَهْرَ بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَاعَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَمِنْ أَزْوَاجِهِ غَيْرَ مَنْ سَمَّيْنَا، كَتَبْنَا أَحَادِيثَهُمْ بِذَلِكَ فِي كِتَابِ الْجَهْرِ بِهَا مُفْرَدًا، وَاقْتَصَرْنَا هَاهُنَا عَلَى مَا قَدَّمْنَا ذِكْرَهُ طَلَبًا لِلاخْتِصَارِ وَالتَّخْفِيفِ، وَكَذَلِكَ ذَكَرْنَا فِي ذَلِكَ الْمَوْضِعِ أَحَادِيثَ مَنْ جَهَرَ بِهَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ لَهُمْ وَالْخَالِفِينَ بَعْدَهُمْ، رَحِمَهُمُ اللَّهُ.
اسماعیل بن عبید رحمہ اللہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ حج یا عمرہ کرنے کے لیے مدینہ منورہ تشریف لائے۔ انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے قراءت کے آغاز میں (بلند آواز میں) بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں پڑھی اور سورۃ فاتحہ پڑھنی شروع کر دی۔ جب انہوں نے نماز مکمل کر لی، تو مہاجرین اور انصار مسجد کے مختلف گوشوں سے اٹھ کر ان کے پاس آئے اور بولے: اے معاویہ! آپ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم جان بوجھ کر ترک کی ہے یا اسے پڑھنا بھول گئے تھے؟ (راوی بیان کرتے ہیں: جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو اگلی نماز پڑھائی، تو اس میں بلند آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی۔) امام دار قطنی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بلند آواز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کے بارے میں جو روایات ہم نے نقل کی ہیں، ان کے علاوہ بعض دیگر صحابہ اور ازواج مطہرات نے بھی یہ بات نقل کی ہے۔ ہم نے بلند آواز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کے مسئلے میں ان روایات کو الگ طور پر اکٹھا کیا ہے۔ یہاں ہم نے اختصار کے ساتھ وہ روایات نقل کی ہیں، جو پہلے گزر گئی تھیں، تاکہ اختصار اور تلخیص موجود رہے۔ اسی طرح ہم نے اس مقام پر وہ روایات بھی نقل کی ہیں، جو یہ واضح کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب، تابعین اور ان کے بعد آنے والے اہل علم میں سے کون سے حضرات بلند آواز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا کرتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1188]
ترقیم العلمیہ: 1173
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 857، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2447، 2448، 2449، 2450، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1187، 1188، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 2618»
«ورواه الدارقطني وقال رواته كلهم ثقات، نصب الراية لأحاديث الهداية: (1 / 353)»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1174 ترقیم الرسالہ : -- 1189
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الأَزْرَقُ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، حَدَّثَنِي جَدِّي ، ثنا أبِي ، ثنا ابْنُ سَمْعَانَ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ صَلَّى صَلاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ" ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ: إِنِّي رُبَّمَا كُنْتُ مَعَ الإِمَامِ، قَالَ: فَغَمَزَ ذِرَاعِي، ثُمَّ قَالَ: اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ. فَإِنِّي فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنِّي قَسَمْتُ الصَّلاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ فَنِصْفُهَا لَهُ، يَقُولُ عَبْدِي إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَيَذْكُرُنِي عَبْدِي، ثُمَّ يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، فَأَقُولُ: حَمِدَنِي عَبْدِي، ثُمَّ يَقُولُ: الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، فَأَقُولُ: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي، ثُمَّ يَقُولُ: مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ، فَأَقُولُ: مَجَّدَنِي عَبْدِي، ثُمَّ يَقُولُ: إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ، فَهَذِهِ الآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ، وَآخِرُ السُّورَةِ لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ" . ابْنُ سَمْعَانَ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادِ بْنِ سَمْعَانَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ، وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ جَمَاعَةٌ مِنَ الثِّقَاتِ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنْهُمْ: مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، وَرَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَابْنُ عَجْلانَ، وَالْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، وَأَبُو أُوَيْسٍ وَغَيْرُهُمْ عَلَى اخْتِلافٍ مِنْهُمْ فِي الإِسْنَادِ وَاتِّفَاقٍ مِنْهُمْ عَلَى الْمَتْنِ، فَلَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ فِي حَدِيثِهِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، وَاتِّفَاقُهُمْ عَلَى خِلافِ مَا رَوَاهُ ابْنُ سَمْعَانَ أَوْلَى بِالصَّوَاب.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو شخص نماز پڑھتے ہوئے سورۃ فاتحہ نہیں پڑھتا، وہ نماز مکمل نہیں ہوتی، پوری نہیں ہوتی۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے کہا: اے سیدنا ابوہریرہ! بعض اوقات میں امام کی اقتداء میں ہوتا ہوں۔ انہوں نے میری پنڈلی پر (کوئی چیز) چبھوتے ہوئے فرمایا: پھر تم دل میں اسے پڑھ لو، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز (میں قراءت) کو اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ اس کا نصف حصہ میرے لیے ہے۔ میرا بندہ نماز کے آغاز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتا ہے، تو میرا بندہ میرا ذکر کرتا ہے۔ پھر وہ کہتا ہے: ’الحمد للہ رب العالمین‘، تو میں کہتا ہوں: میرے بندے نے میری حمد بیان کی ہے۔ پھر وہ کہتا ہے: ’الرحمن‘، تو میں کہتا ہوں: میرے بندے نے میری تعریف کی۔ پھر وہ کہتا ہے: ’مالک‘، تو میں کہتا ہوں: میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی۔ پھر وہ کہتا ہے: ’إیاک نعبد وإیاک نستعین‘، تو یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم ہو گی۔ سورت کا آخری حصہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے نے جو مانگا ہے، وہ اسے ملے گا۔ ابن سمعان رحمہ اللہ نامی راوی، عبداللہ بن سمعان ہے اور یہ شخص متروک الحدیث ہے۔ ثقہ راویوں کی ایک جماعت نے اس حدیث کو علاء بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ ان راویوں میں امام مالک بن انس رحمہ اللہ، شیخ ابن جریج رحمہ اللہ، شیخ روح بن قاسم رحمہ اللہ، شیخ ابن عیینہ رحمہ اللہ، ابن عجلان رحمہ اللہ، حسن بن حر رحمہ اللہ، ابواویس رحمہ اللہ اور دیگر حضرات شامل ہیں۔ ان حضرات نے اس روایت کی سند میں اختلاف نقل کیا ہے، تاہم متن پر ان کا اتفاق ہے۔ ان میں سے کسی ایک نے بھی اپنی روایت میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کے الفاظ نقل نہیں کیے۔ تو ان تمام حضرات کا متفقہ طور پر ابن سمعان رحمہ اللہ کی نقل کردہ روایت کے خلاف نقل کرنا درست سمجھا جائے گا، باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1189]
ترقیم العلمیہ: 1174
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 395، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 278، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 489، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 776، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 875، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 908، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 821، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2953، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 838، 3784، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1189، 1209، 1224، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1003، 1004، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7411»
«قال الدارقطني: ابن سمعان هو عبد الله بن زياد بن سمعان وهو متروك الحديث، سنن الدارقطني: (2 / 84) برقم: (1189)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1175 ترقیم الرسالہ : -- 1190
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، ومُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالا: نا جَعْفَرُ بْنُ مُكْرَمٍ ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي نُوحُ بْنُ أَبِي بِلالٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَرَأْتُمِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ فَاقْرَءُوا: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِنَّهَا أُمُّ الْقُرْآنِ، وَأُمُّ الْكِتَابِ، وَالسَّبْعُ الْمَثَانِي، وَبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِحْدَاهَا" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ: ثُمَّ لَقِيتُ نُوحًا فَحَدَّثَنِي، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جب تم ’الحمد للہ رب العالمین‘ پڑھو، تو بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی پڑھو، کیونکہ یہ ام القرآن، ام الکتاب، اور سبع مثانی ہے اور بسم اللہ الرحمن الرحیم اس کی ایک آیت ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1190]
ترقیم العلمیہ: 1175
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4704، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 861، الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2058، والنسائی فى ((الكبریٰ)) برقم: 11141، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1457، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2875، 3124، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3416، 3417، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2427، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1190، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 8803»
«قال الدارقطني: رجال إسناده كلهم ثقات، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (3 / 558)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1177 ترقیم الرسالہ : -- 1191
قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَأَنَا أَسْمَعُ: حَدَّثَكُمْ أَبُو خَيْثَمَةَ ، وَقُرِئَ عَلَى عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ قَحْطَبَةَ ، وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمْ مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ ، قَالا: نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ، وَقُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمْ سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنَا أبِي ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَرَأَ يَقْطَعُ قِرَاءَتَهُ آيَةً: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {1} الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ {2} الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {3} مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ {4} سورة الفاتحة آية 1-4" . وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ، وَكُلُّهُمْ ثِقَاتٌ. قَالَ لَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ: وَرَوَاهُ عُمَرُ بْنُ هَارُونَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، فَزَادَ فِيهِ كَلامًا.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب قراءت کرتے تھے، تو ایک ایک آیت کو الگ الگ کر کے پڑھتے تھے۔ آپ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے تھے۔ روایت کے یہ الفاظ عبداللہ بن محمد رحمہ اللہ نامی راوی کے ہیں۔ اس کی سند مستند ہے، اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ عبداللہ بن محمد رحمہ اللہ نے ہمارے سامنے یہ بات بیان کی ہے: عمر بن ہارون رحمہ اللہ نے اسے ابن جریج رحمہ اللہ کے حوالے سے نقل کیا ہے اور اس میں کچھ اضافی الفاظ نقل کیے ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1191]
ترقیم العلمیہ: 1177
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 493، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 853، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4001، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2927، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2421، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1175، 1191، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27226»
«قال الدارقطني: إسناده صحيح، نصب الراية لأحاديث الهداية: (1 / 348)»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1178 ترقیم الرسالہ : -- 1192
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلاةَ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2، ثُمَّ سَكَتَ هُنَيْهَةً" . لَمْ يَرْفَعْهُ غَيْرُ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، وَوَقَفَهُ غَيْرُهُ مِنْ فِعْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے آغاز میں الحمد للہ رب العالمین پڑھتے تھے، پھر اس کے بعد تھوڑی دیر کے لیے خاموشی اختیار کرتے تھے۔ اس روایت کو مرفوع حدیث کے طور پر شعبہ رحمہ اللہ کے حوالے سے صرف ابوداؤد رحمہ اللہ نامی راوی نے نقل کیا ہے، جبکہ دیگر راویوں نے اسے موقوف روایت کے طور پر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے فعل کے طور پر نقل کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1192]
ترقیم العلمیہ: 1178
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1192، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 7302»
«قال الهيثمي: رجاله موثقون۔ مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (2 / 107)»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1179 ترقیم الرسالہ : -- 1193
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ أَبُو حَامِدٍ ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، ثنا أَبُو قُتَيْبَةَ ، ثنا عُمَرُ بْنُ نَبْهَانَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ وَفِي خُفَّيْهِ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جوتے پہن کر اور موزے پہن کر نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1193]
ترقیم العلمیہ: 1179
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1193، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 2912، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 387، وأخرجه البزار فى ((مسنده)) برقم: 7394، وأخرجه الطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 2901، 2904»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1180 ترقیم الرسالہ : -- 1194
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، ثنا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ وَاصِلٍ ، ثنا خَلادُ بْنُ خَالِدٍ الْمُقْرِئُ ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، قَالَ: سُئِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ السَّبْعِ الْمَثَانِي، فَقَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّمَا هِيَ سِتُّ آيَاتٍ، فَقَالَ:" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1، آيَةٌ" .
عبد خیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سبع مثانی کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو انہوں نے فرمایا: الحمد للہ۔ ان سے کہا گیا: یہ تو چھ آیات ہیں۔ انہوں نے فرمایا: بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی ایک آیت ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1194]
ترقیم العلمیہ: 1180
تخریج الحدیث: «إسناده جيد، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2426، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1194، إسناد جيد شرح الزرقاني على الموطأ:317/1»

الحكم على الحديث: إسناده جيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں