سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. باب الرَّضَاعُ
باب: رضاعت کا بیان
ترقیم العلمیہ : 4275 ترقیم الرسالہ : -- 4354
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ، نَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ سَأَلَهُ:" تَرَى تُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَرَّةٌ وَاحِدَةٌ؟، قَالَ: نَعَمْ" .
ابوزبیر بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: ”آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ایک مرتبہ رضاعت کے ذریعے حرمت ثابت ہو جاتی ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں!“۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 4354]
ترقیم العلمیہ: 4275
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4354، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم العلمیہ : 4276 ترقیم الرسالہ : -- 4355
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، وَابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالا:" يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعِ قَلِيلُهُ وَكَثِيرُهُ" .
مجاہد بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما یہ فرماتے ہیں: ”رضاعت تھوڑی ہو یا زیادہ ہو، وہ حرمت کو ثابت کر دیتی ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 4355]
ترقیم العلمیہ: 4276
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3314، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5439، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15741، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4355، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17311، 17312»
ترقیم العلمیہ : 4277 ترقیم الرسالہ : -- 4356
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ سَلامٍ السَّوَّاقُ ، قَالا: نَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، نَا أَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں، جبکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے، ان میں سے ایک کے الفاظ یہ ہیں: ”ایک مرتبہ یا دو مرتبہ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔“ دوسرے راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”ایک مرتبہ منہ میں لینے یا دو مرتبہ منہ میں لینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 4356]
ترقیم العلمیہ: 4277
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1450،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4225، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3312، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2063، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1150، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1941، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4357، 4367، 4383، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16360،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17302»
«قال ابن عبدالبر: لا يصح مرفوعا، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 275) _x000D_»
«قال ابن عبدالبر: لا يصح مرفوعا، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 275) _x000D_»
ترقیم العلمیہ : 4277/1 ترقیم الرسالہ : -- 4357
وَأَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحَدُهُمَا:" لا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ، وَقَالَ الآخَرُ: لا تُحَرِّمُ الإِمْلاجَةُ وَالإِمْلاجَتَانِ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے، ان میں سے ایک کے الفاظ یہ ہیں: ”ایک مرتبہ یا دو مرتبہ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔“ دوسرے راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”ایک مرتبہ منہ میں لینے یا دو مرتبہ منہ میں لینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 4357]
ترقیم العلمیہ: 4277/1
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1450،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4225، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3312، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2063، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1150، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1941، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4357، 4367، 4383، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16360،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17302»
«قال الترمذي: هو الصحيح، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 217)»
«قال الترمذي: هو الصحيح، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 217)»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 4278 ترقیم الرسالہ : -- 4358
نَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا أَبِي ، نَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْهِلالِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلا كَانَ فِي سَفَرٍ فَوَلَدَتِ امْرَأَتُهُ فَاحْتَبَسَ لَبَنُهَا فَخَشِيَ عَلَيْهَا فَجَعَلَ يَمُصُّهُ وَيَمُجُّهُ فَدَخَلَ فِي حَلْقِهِ، فَسَأَلَ أَبَا مُوسَى، فَقَالَ: حُرِّمَتْ عَلَيْكَ، فَأَتَى ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ، إِلا مَا أَنْبَتَ اللَّحْمَ، وَأَنْشَرَ الْعَظْمَ" .
ابوموسیٰ ہلالی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص سفر کر رہا تھا، اس کی بیوی نے ایک بچے کو جنم دیا، لیکن اس عورت کا دودھ جاری نہیں ہوا۔ اس شخص کو اس عورت کی طرف سے اندیشہ ہوا، تو اس نے اس عورت کی چھاتی کو چوسنا شروع کیا، جس کی وجہ سے دودھ اس کے حلق تک پہنچ گیا، اس نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا، تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وہ عورت تم پر حرام ہو گئی ہے۔“ پھر وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، ان سے اس بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”وہی رضاعت حرمت کو ثابت کرتی ہے، جو گوشت پیدا کرے اور ہڈیوں کی نشوونما کا باعث بنے (یعنی جو کم عمری میں ہو)۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 4358]
ترقیم العلمیہ: 4278
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1205، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2059، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4358، 4361، 4362، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4196، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17308»
«قال أبوحاتم الرازي: وأبو موسى وأبوه مجهولان، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 8)»
«قال أبوحاتم الرازي: وأبو موسى وأبوه مجهولان، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 8)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 4279 ترقیم الرسالہ : -- 4359
نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْكَاتِبُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ تَمَامٍ ، نَا حَنْظَلَةُ ، نَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا تُحَرِّمُ الرَّضْعَةُ وَلا الرَّضْعَتَانِ" .
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”ایک مرتبہ یا دو مرتبہ (ایک گھونٹ) پی لینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 4359]
ترقیم العلمیہ: 4279
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15738، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4359، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17306»
ترقیم العلمیہ : 4280 ترقیم الرسالہ : -- 4360
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا جَرِيرٌ . ح وَنا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْكَرْخِيُّ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، قَالَ: كَانَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لا تُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ الْمَصَّةُ وَلا الْمَصَّتَانِ، وَلا يُحَرِّمُ إِلا مَا فَتَقَ الأَمْعَاءَ" ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: فَذَكَرْتُهُ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، فَقَالَ:" إِذَا دَخَلَتْ قَطْرَةٌ وَاحِدَةٌ فِي جَوْفِ الصَّبِيِّ وَهُوَ صَغِيرٌ حُرِّمَتْ عَلَيْهِ"، وَقَالَ عُثْمَانُ:" إِلا مَا فَتَقَ الأَمْعَاءَ مِنَ اللَّبَنِ، وَلَمْ يَزِدْ عَلَى هَذَا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”ایک مرتبہ یا دو مرتبہ چوس لینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی، حرمت اس کے ذریعے ثابت ہوتی ہے، جو انتڑیوں کو سیراب کر دے۔“ ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ میں نے یہ روایت سعید بن مسیب کے سامنے ذکر کی، تو وہ بولے: ”جب دودھ کا ایک قطرہ بھی بچے کے پیٹ تک پہنچ جائے، جبکہ وہ ابھی چھوٹا ہو، تو اس کے لیے حرمت ثابت ہو جاتی ہے۔“ جبکہ عثمان نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ ”صرف اسی کے ذریعے حرمت ثابت ہوتی ہے، جو دودھ انتڑیوں کو سیراب کر دے۔“ انہوں نے اس کے علاوہ اور کوئی لفظ نقل نہیں کیا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 4360]
ترقیم العلمیہ: 4280
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1200، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5437، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1946، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4356، 4360، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17340، 17341»
«قال ابن عبدالبر: لا يصح مرفوعا، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 9)»
«قال ابن عبدالبر: لا يصح مرفوعا، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 9)»
ترقیم العلمیہ : 4281 ترقیم الرسالہ : -- 4361
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا خَلادُ بْنُ أَسْلَمَ ، نَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، نَا أَبُو مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنٍ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَجُلا كَانَ مَعَهُ امْرَأَتُهُ وَهُوَ فِي سَفَرٍ فَوَلَدَتْ فَجَعَلَ الصَّبِيُّ لا يَمُصُّ، فَأَخَذَ زَوْجُهَا يَمُصُّ لَبَنَهَا وَيَمُجُّهُ، قَالَ: حَتَّى وَجَدْتُ طَعْمَ لَبَنِهَا فِي حَلْقِي، فَأَتَى أَبَا مُوسَى الأَشْعَرِيَّ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: حُرِّمَتْ عَلَيْكَ امْرَأَتُكَ، فَأَتَاهُ ابْنُ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ:" أَنْتَ الَّذِي تُفْتِي مَا هَذَا بِكَذَا وَكَذَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لا رَضَاعَ إِلا مَا شَدَّ الْعَظْمَ، وَأَنْبَتَ اللَّحْمَ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ایک شخص کے ساتھ اس کی بیوی سفر کر رہی تھی، اس عورت نے بچے کو جنم دیا، وہ بچہ دودھ نہیں چوس سکتا تھا، تو اس عورت کے شوہر نے اس عورت کے دودھ کو چوسنا شروع کیا، یہاں تک کہ اسے اس دودھ کا ذائقہ اپنے حلق میں محسوس ہوا، وہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے فرمایا: ”تمہاری بیوی تمہارے لیے حرام ہو گئی ہے۔“ پھر وہ شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے: ”آپ نے یہ فتویٰ دیا ہے، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’رضاعت وہی ہوتی ہے، جو ہڈی کو مضبوط کرتی ہے اور گوشت کو پیدا کرتی ہے۔‘“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 4361]
ترقیم العلمیہ: 4281
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1205، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2059، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4358، 4361، 4362، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4196، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17308»
«قال أبوحاتم الرازي: وأبو موسى وأبوه مجهولان، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 8)»
«قال أبوحاتم الرازي: وأبو موسى وأبوه مجهولان، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 8)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 4282 ترقیم الرسالہ : -- 4362
نَا نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، نَا أَبُو حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي مُوسَى، فَقَالَ:" إِنَّ امْرَأَتِي وَرِمَ ثَدْيُهَا فَمَصَصْتُهُ فَدَخَلَ فِي حَلْقِي شَيْءٌ سَبَقَنِي، فَشَدَّدَ عَلَيْهِ أَبُو مُوسَى، فَأَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ: سَأَلْتَ أَحَدًا غَيْرِي؟، قَالَ: نَعَمْ أَبَا مُوسَى فَشَدَّدَ عَلَيَّ، فَأَتَى أَبَا مُوسَى، فَقَالَ: أَرَضِيعٌ هَذَا؟، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: لا تَسْأَلُونِي مَا دَامَ هَذَا الْحَبْرُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ" .
ابوعطیہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: ”میری بیوی کی چھاتی میں ورم آ گیا تھا، میں نے اسے چوسا، تو میرے حلق میں تھوڑا سا دودھ چلا گیا۔“ تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اسے سخت ڈانٹا، پھر وہ شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، تو انہوں نے دریافت کیا: ”کیا تم نے میرے علاوہ بھی کسی سے یہ مسئلہ دریافت کیا ہے؟“ اس نے جواب دیا: ”جی ہاں! سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے اور انہوں نے مجھے اس بارے میں سخت ڈانٹا ہے۔“ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے: ”کیا یہ شخص دودھ پینے والا بچہ ہے؟“ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب تک اتنے بڑے عالم تمہارے درمیان موجود ہیں، تم لوگ مجھ سے کوئی مسئلہ نہ پوچھا کرو۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 4362]
ترقیم العلمیہ: 4282
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1205، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2059، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4358، 4361، 4362، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4196، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17308»
ترقیم العلمیہ : 4283 ترقیم الرسالہ : -- 4363
نَا نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ يَقُولُ:" لا رَضَاعَ بَعْدَ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”دو سال گزر جانے کے بعد رضاعت کا اعتبار نہیں ہوتا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 4363]
ترقیم العلمیہ: 4283
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 27، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 980، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15766،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4363، 4364، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17334، 17335»
«قال ابن حجر: سند صحيح، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 414)»
«قال ابن حجر: سند صحيح، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 414)»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح