الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 

صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ
حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب
1. باب بِرِّ الْوَالِدَيْنِ وَأَنَّهُمَا أَحَقُّ بِهِ:
باب: والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور ان دونوں سے کون زیادہ حقدار ہے۔
حدیث نمبر: 6500
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا قتيبة بن سعيد بن جميل بن طريف الثقفي ، وزهير بن حرب ، قالا: حدثنا جرير ، عن عمارة بن القعقاع ، عن ابي زرعة ، عن ابي هريرة ، قال: جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: " من احق الناس بحسن صحابتي؟ قال: امك، قال: ثم من؟ قال: ثم امك، قال: ثم من؟ قال: ثم امك؟ قال: ثم من؟ قال: ثم ابوك "، وفي حديث قتيبة: من احق بحسن صحابتي، ولم يذكر الناس.حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَمِيلِ بْنِ طَرِيفٍ الثَّقَفِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي؟ قَالَ: أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ أُمُّكَ؟ قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ أَبُوكَ "، وَفِي حَدِيثِ قُتَيْبَةَ: مَنْ أَحَقُّ بِحُسْنِ صَحَابَتِي، وَلَمْ يَذْكُرِ النَّاسَ.
‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک شخص آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور عرض کیا: یا رسول اللہ! سب لوگوں میں کس کا زیادہ حق ہے مجھ پر سلوک کرنے کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری ماں کا۔ وہ بولا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری ماں کا۔ وہ بولا: پھر کون؟ فرمایا: تیری ماں کا۔ وہ بولا: پھر کون؟ فرمایا: تیرے باپ کا۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماں کو مقدم کیا کس لیے کہ ماں بچے کے ساتھ بہت محنت کرتی ہے، حمل نو مہینے، پھر جننا، پھر دودھ پلانا، پھر پالنا، بیماری دکھ میں خبر لینا۔ حارث محاسبی نے کہا: اجماع کیا ہے علماء نے کہ ماں مقدم ہے باپ پر نیک سلوک کرنے میں اور بعضوں نے دونوں کو برابر کہا ہے اور صواب ماں کی تقدیم ہے)۔
حدیث نمبر: 6501
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا ابو كريب محمد بن العلاء الهمداني ، حدثنا ابن فضيل ، عن ابيه ، عن عمارة بن القعقاع ، عن ابي زرعة ، عن ابي هريرة ، قال: قال رجل: " يا رسول الله، من احق الناس بحسن الصحبة؟ قال: امك، ثم امك، ثم امك، ثم ابوك، ثم ادناك ادناك ".حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ؟ قَالَ: أُمُّكَ، ثُمَّ أُمُّكَ، ثُمَّ أُمُّكَ، ثُمَّ أَبُوكَ، ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ ".
‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے پوچھا: کون زیادہ حقدار ہے نیک سلوک کرنے کا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ماں، پھر ماں، پھر ماں، پھر باپ، پھر جو قریب، ہو قریب ہو۔
حدیث نمبر: 6502
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا شريك ، عن عمارة ، وابن شبرمة ، عن ابي زرعة ، عن ابي هريرة ، قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فذكر بمثل حديث جرير وزاد، فقال: نعم، وابيك لتنبان.حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عُمَارَةَ ، وَابْنِ شُبْرُمَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَزَادَ، فَقَالَ: نَعَمْ، وَأَبِيكَ لَتُنَبَّأَنَّ.
‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو گزرا۔ اس میں اتنا زیادہ ہے، وہ شخص بولا:: آپ کے باپ کی قسم آپ کو خبر پہنچے گی (نووی رحمہ اللہ نے کہا: باپ کی قسم سے قسم کھانا مقصود نہیں ہے بلکہ یہ ایک کلمہ ہے جو عادتاً زبان پر جاری ہوتا ہے)۔
حدیث نمبر: 6503
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثني محمد بن حاتم ، حدثنا شبابة ، حدثنا محمد بن طلحة . ح وحدثني احمد بن خراش ، حدثنا حبان ، حدثنا وهيب كلاهما، عن ابن شبرمة ، بهذا الإسناد في حديث وهيب: من ابر، وفي حديث محمد بن طلحة: اي الناس احق مني بحسن الصحبة، ثم ذكر بمثل حديث جرير.حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ . ح وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ كِلَاهُمَا، عَنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ: مَنْ أَبَرُّ، وَفِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ: أَيُّ النَّاسِ أَحَقُّ مِنِّي بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ.
‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو او پر گزرا۔
حدیث نمبر: 6504
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وزهير بن حرب ، قالا: حدثنا وكيع ، عن سفيان ، عن حبيب . ح وحدثنا محمد بن المثنى ، حدثنا يحيي يعني ابن سعيد القطان ، عن سفيان ، وشعبة ، قالا: حدثنا حبيب ، عن ابي العباس ، عن عبد الله بن عمرو ، قال: " جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم يستاذنه في الجهاد، فقال: احي والداك، قال: نعم، قال: ففيهما فجاهد ".حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَي يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَشُعْبَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَبِيبٌ ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْجِهَادِ، فَقَالَ: أَحَيٌّ وَالِدَاكَ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ ".
‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور اجازت چاہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد پر جا نے کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے ماں باپ زندہ ہیں۔ وہ بولا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ان ہی میں جہاد کر۔
حدیث نمبر: 6505
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا عبيد الله بن معاذ ، حدثنا ابي ، حدثنا شعبة ، عن حبيب ، سمعت ابا العباس ، سمعت عبد الله بن عمرو بن العاص ، يقول: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فذكر بمثله، قال مسلم: ابو العباس اسمه: السائب بن فروخ المكي.حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ، قَالَ مُسْلِم: أَبُو الْعَبَّاسِ اسْمُهُ: السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخَ الْمَكِّيُّ.
‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
حدیث نمبر: 6506
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا ابو كريب ، اخبرنا ابن بشر ، عن مسعر . ح وحدثني محمد بن حاتم ، حدثنا معاوية بن عمرو ، عن ابي إسحاق . ح وحدثني القاسم بن زكرياء ، حدثنا حسين بن علي الجعفي ، عن زائدة كلاهما، عن الاعمش جميعا، عن حبيب ، بهذا الإسناد مثله.حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ . ح وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ جَمِيعًا، عَنْ حَبِيبٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 6507
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا سعيد بن منصور ، حدثنا عبد الله بن وهب ، اخبرني عمرو بن الحارث ، عن يزيد بن ابي حبيب ، ان ناعما مولى ام سلمة حدثه، ان عبد الله بن عمرو بن العاص ، قال: " اقبل رجل إلى نبي الله صلى الله عليه وسلم، فقال: ابايعك على الهجرة والجهاد ابتغي الاجر من الله، قال: فهل من والديك احد حي؟ قال: نعم، بل كلاهما، قال: فتبتغي الاجر من الله؟ قال: نعم، قال: فارجع إلى والديك فاحسن صحبتهما ".حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ نَاعِمًا مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: " أَقْبَلَ رَجُلٌ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَالْجِهَادِ أَبْتَغِي الْأَجْرَ مِنَ اللَّهِ، قَالَ: فَهَلْ مِنْ وَالِدَيْكَ أَحَدٌ حَيٌّ؟ قَالَ: نَعَمْ، بَلْ كِلَاهُمَا، قَالَ: فَتَبْتَغِي الْأَجْرَ مِنَ اللَّهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَارْجِعْ إِلَى وَالِدَيْكَ فَأَحْسِنْ صُحْبَتَهُمَا ".
‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا میں آپ سے بعیت کرتا ہوں ہجرت اور جہاد پر، اللہ سے اس کا ثواب چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے ماں باپ میں سے کوئی زندہ ہے۔ وہ بولا: دونوں زندہ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اللہ سے ثواب چاہتا ہے . وہ بولا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا . تو لوٹ جا اپنے ماں باپ کے پاس اور نیک سلوک کر ان سے۔

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.