الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 

صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ
حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب
47. باب فَضْلِ مَنْ يَمُوتُ لَهُ وَلَدٌ فَيَحْتَسِبُهُ:
باب: جس شخص کا بچہ مرے اور وہ صبر کرے۔
حدیث نمبر: 6696
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا يحيي بن يحيي ، قال: قرات على مالك ، عن ابن شهاب ، عن سعيد بن المسيب ، عن ابي هريرة ، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " لا يموت لاحد من المسلمين ثلاثة من الولد، فتمسه النار إلا تحلة القسم ".حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَمُوتُ لِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ، فَتَمَسَّهُ النَّارُ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ ".
‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کے تین بچے مر جائیں اس کو جہنم کی آگ نہ لگے گی مگر قسم اتارنے کے لیے۔ (یعنی اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو دوزخ پر سے نہ گزرے اس وجہ سے اس کا بھی گزر دوزخ پر سے ہو گا پر اور کسی طرح عذاب نہ ہو گا)۔
حدیث نمبر: 6697
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وعمرو الناقد ، وزهير بن حرب ، قالوا: حدثنا سفيان بن عيينة . ح وحدثنا عبد بن حميد وابن رافع ، عن عبد الرزاق ، اخبرنا معمر كلاهما، عن الزهري بإسناد مالك، وبمعنى حديثه، إلا ان في حديث سفيان: فيلج النار إلا تحلة القسم.حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَابْنُ رَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ مَالِكٍ، وَبِمَعْنَى حَدِيثِهِ، إِلَّا أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ: فَيَلِجَ النَّارَ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ.
‏‏‏‏ زہری نے مالک کی سند کے مطابق اس کے ہم معنی روایت کی ہے مگر سفیان کی روایت میں ہے: آگ نہ لگے گی مگر صرف قسم اتارنے کے لیے۔
حدیث نمبر: 6698
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا عبد العزيز يعني ابن محمد ، عن سهيل ، عن ابيه ، عن ابي هريرة ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال لنسوة من الانصار: " لا يموت لإحداكن ثلاثة من الولد، فتحتسبه إلا دخلت الجنة "، فقالت امراة منهن: او اثنين يا رسول الله، قال: او اثنين.حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِنِسْوَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ: " لَا يَمُوتُ لِإِحْدَاكُنَّ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ، فَتَحْتَسِبَهُ إِلَّا دَخَلَتِ الْجَنَّةَ "، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: أَوِ اثْنَيْنِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَوِ اثْنَيْنِ.
‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی عورتو ں سے فرمایا: تم میں سے جس کے تین لڑکے مر جائیں اور وہ اللہ کی رضا مندی کے واسطے صبر کرے تو جنت میں جائے گی۔ ایک عورت بولی: یا رسول اللہ! اگر دو بچے مریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو ہی سہی۔
حدیث نمبر: 6699
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا ابو كامل الجحدري فضيل بن حسين ، حدثنا ابو عوانة ، عن عبد الرحمن بن الاصبهاني ، عن ابي صالح ذكوان ، عن ابي سعيد الخدري ، قال: جاءت امراة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله، ذهب الرجال بحديثك، فاجعل لنا من نفسك يوما ناتيك فيه تعلمنا مما علمك الله، قال: اجتمعن يوم كذا وكذا، فاجتمعن فاتاهن رسول الله صلى الله عليه وسلم، فعلمهن مما علمه الله، ثم قال: " ما منكن من امراة تقدم بين يديها من ولدها ثلاثة إلا كانوا لها حجابا من النار "، فقالت امراة: واثنين، واثنين، واثنين، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " واثنين، واثنين، واثنين.حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَهَبَ الرِّجَالُ بِحَدِيثِكَ، فَاجْعَلْ لَنَا مِنْ نَفْسِكَ يَوْمًا نَأْتِيكَ فِيهِ تُعَلِّمُنَا مِمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ، قَالَ: اجْتَمِعْنَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، فَاجْتَمَعْنَ فَأَتَاهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَلَّمَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ: " مَا مِنْكُنَّ مِنَ امْرَأَةٍ تُقَدِّمُ بَيْنَ يَدَيْهَا مِنْ وَلَدِهَا ثَلَاثَةً إِلَّا كَانُوا لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ "، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: وَاثْنَيْنِ، وَاثْنَيْنِ، وَاثْنَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَاثْنَيْنِ، وَاثْنَيْنِ، وَاثْنَيْنِ.
‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ساری باتیں آپ کی مرد ہی سنا کر تے ہیں تو ہمارے لیے بھی ایک دن مقرر کیجئیے جس دن ہم آپ کے پاس آیا کر یں اور آپ ہم کو وہ باتیں سکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھلائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا، فلاں دن تم جمع ہونا۔ وہ جمع ہوئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، پھر فرمایا: تم میں سے جس عورت نے اپنے آگے تین بچے بھیجے (یعنی تین بچے اس کے مر گئے) تو وہ اس کی آڑ ہو جائیں گے جہنم سے۔ ایک عورت بولی: اور دو بچے، دو بچے، دو بچے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور دو بچے، دو بچے، دو بچے۔ (یعنی ان کا بھی یہی حکم ہے)۔
حدیث نمبر: 6700
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا محمد بن المثنى ، وابن بشار ، قالا: حدثنا محمد بن جعفر . ح وحدثنا عبيد الله بن معاذ ، حدثنا ابي ، حدثنا شعبة ، عن عبد الرحمن بن الاصبهاني ، في هذا الإسناد بمثل معناه وزادا جميعا، عن شعبة، عن عبد الرحمن بن الاصبهاني، قال: سمعت ابا حازم يحدث، عن ابي هريرة ، قال: ثلاثة لم يبلغوا الحنث.حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ وَزَادَا جَمِيعًا، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: ثَلَاثَةً لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ.
‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے اوپر جو گزرا۔ اس میں اتنا زیادہ ہے کہ وہ تین بچے سیانے نہ ہوئے ہوں۔
حدیث نمبر: 6701
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا سويد بن سعيد ، ومحمد بن عبد الاعلى وتقاربا في اللفظ، قالا: حدثنا المعتمر ، عن ابيه ، عن ابي السليل ، عن ابي حسان ، قال: قلت لابي هريرة : " إنه قد مات لي ابنان، فما انت محدثي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم بحديث تطيب به انفسنا عن موتانا؟ قال: قال: نعم، صغارهم دعاميص الجنة يتلقى احدهم اباه، او قال: ابويه فياخذ بثوبه، او قال: بيده كما آخذ انا بصنفة ثوبك هذا فلا يتناهى، او قال: فلا ينتهي حتى يدخله الله واباه الجنة ". وفي رواية سويد، قال: حدثنا ابو السليل،حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : " إِنَّهُ قَدْ مَاتَ لِيَ ابْنَانِ، فَمَا أَنْتَ مُحَدِّثِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثٍ تُطَيِّبُ بِهِ أَنْفُسَنَا عَنْ مَوْتَانَا؟ قَالَ: قَالَ: نَعَمْ، صِغَارُهُمْ دَعَامِيصُ الْجَنَّةِ يَتَلَقَّى أَحَدُهُمْ أَبَاهُ، أَوَ قَالَ: أَبَوَيْهِ فَيَأْخُذُ بِثَوْبِهِ، أَوَ قَالَ: بِيَدِهِ كَمَا آخُذُ أَنَا بِصَنِفَةِ ثَوْبِكَ هَذَا فَلَا يَتَنَاهَى، أَوَ قَالَ: فَلَا يَنْتَهِي حَتَّى يُدْخِلَهُ اللَّهُ وَأَبَاهُ الْجَنَّةَ ". وَفِي رِوَايَةِ سُوَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو السَّلِيلِ،
‏‏‏‏ سیدنا ابوحسان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا:: میرے دو بیٹے مر گئے تو تم مجھ سے حدیث نہیں بیان کرتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جس سے ہمارا دل خوش ہو۔ انہوں نے کہا: اچھا: چھوٹے بچے تو جنت کے کیڑے ہیں (یعنی جنت سے جدا نہ ہوں گے جیسے پانی کا کیڑا پانی سے جدا نہیں ہوتا) وہ اپنے باپوں سے ملیں گے یا ماں باپ سے اور ان کا کپڑا پکڑیں گے یا ہاتھ جیسے میں اس وقت تیرے کپڑے کا کنارہ پکڑے ہوں، پھر نہ چھوڑیں گے یہاں تک کہ اللہ ان کو اور ان کے باپوں کو جنت میں داخل کرے گا۔
حدیث نمبر: 6702
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثنيه عبيد الله بن سعيد ، حدثنا يحيي يعني ابن سعيد ، عن التيمي ، بهذا الإسناد، وقال: فهل سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم شيئا تطيب به انفسنا عن موتانا؟ قال: نعم.وحَدَّثَنِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ التَّيْمِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: فَهَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا تُطَيِّبُ بِهِ أَنْفُسَنَا عَنْ مَوْتَانَا؟ قَالَ: نَعَمْ.
‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
حدیث نمبر: 6703
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، ومحمد بن عبد الله بن نمير ، وابو سعيد الاشج ، واللفظ لابي بكر، قالوا: حدثنا حفص يعنون ابن غياث . ح وحدثنا عمر بن حفص بن غياث ، حدثنا ابي ، عن جده طلق بن معاوية ، عن ابي زرعة بن عمرو بن جرير ، عن ابي هريرة ، قال: " اتت امراة النبي صلى الله عليه وسلم بصبي لها، فقالت: يا نبي الله، ادع الله له فلقد دفنت ثلاثة، قال: دفنت ثلاثة؟ قالت: نعم، قال: لقد احتظرت بحظار شديد من النار ". قال عمر من بينهم: عن جده، وقال الباقون: عن طلق، ولم يذكروا الجد.حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنُونَ ابْنَ غِيَاثٍ . ح وحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ جَدِّهِ طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " أَتَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ لَهَا، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ لَهُ فَلَقَدْ دَفَنْتُ ثَلَاثَةً، قَالَ: دَفَنْتِ ثَلَاثَةً؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: لَقَدِ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ ". قَالَ عُمَرُ مِنْ بَيْنِهِمْ: عَنْ جَدِّهِ، وقَالَ الْبَاقُونَ: عَنْ طَلْقٍ، وَلَمْ يَذْكُرُوا الْجَدَّ.
‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک عورت ایک بچہ لے کر آئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی، دعا کیجئیے اس کے لیے (عمر دراز ہو نے کی) کیونکہ میں تین بچوں کو دفنا چکی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: تو نے ایک مضبوط آڑ کر لی جہنم سے۔
حدیث نمبر: 6704
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا قتيبة بن سعيد ، وزهير بن حرب ، قالا: حدثنا جرير ، عن طلق بن معاوية النخعي ابي غياث ، عن ابي زرعة بن عمرو بن جرير ، عن ابي هريرة ، قال: " جاءت امراة إلى النبي صلى الله عليه وسلم بابن لها، فقالت: يا رسول الله، إنه يشتكي، وإني اخاف عليه قد دفنت ثلاثة، قال: لقد احتظرت بحظار شديد من النار "، قال زهير: عن طلق ولم يذكر الكنية.حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيِّ أَبِي غِيَاثٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ يَشْتَكِي، وَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْهِ قَدْ دَفَنْتُ ثَلَاثَةً، قَالَ: لَقَدِ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ "، قَالَ زُهَيْرٌ: عَنْ طَلْقٍ وَلَمْ يَذْكُرِ الْكُنْيَةَ.
‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے اس بیٹے کے لیے دعا فرمائیے وہ بیمار ہے اور میں ڈرتی ہوں کہیں مر نہ جائے، میں تین بچوں کو دفنا چکی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے تو ایک مضبوط روک کر لی جہنم کی۔

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.