سنن ابي داود کل احادیث 5274 :حدیث نمبر
سنن ابي داود
كِتَاب السُّنَّةِ
کتاب: سنتوں کا بیان
Model Behavior of the Prophet (Kitab Al-Sunnah)
16. باب الدَّلِيلِ عَلَى زِيَادَةِ الإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ
باب: ایمان کی کمی اور زیادتی کے دلائل کا بیان۔
Chapter: Proof Of Increase And Decrease Of Faith.
حدیث نمبر: 4680
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا محمد بن سليمان الانباري، وعثمان بن ابي شيبة المعنى، قالا: حدثنا وكيع، عن سفيان، عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال:" لما توجه النبي صلى الله عليه وسلم إلى الكعبة، قالوا: يا رسول الله فكيف الذين ماتوا وهم يصلون إلى بيت المقدس؟ فانزل الله تعالى: وما كان الله ليضيع إيمانكم سورة البقرة آية 143".
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" لَمَّا تَوَجَّهَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْكَعْبَةِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يُصَلُّونَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ سورة البقرة آية 143".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب (نماز میں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کی طرف رخ کرنا شروع کیا تو لوگ کہنے لگے: اللہ کے رسول! ان لوگوں کا کیا ہو گا جو مر گئے، اور وہ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تھے؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «وما كان الله ليضيع إيمانكم» ایسا نہیں ہے کہ اللہ تمہارے ایمان یعنی نماز ضائع فرما دے (البقرہ: ۱۴۳) ۱؎۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏سنن الترمذی/تفسیرالقرآن 3 (2964)، (تحفة الأشراف: 6108)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/295، 304، 347) (صحیح) (صحیح بخاری کی براء رضی اللہ عنہ کی حدیث سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ عکرمہ سے سماک کی روایت میں اضطراب پایا جاتا ہے)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: اس آیت میں نماز کو اللہ تعالیٰ نے ایمان قرار دیا ہے، کیونکہ سوال ان صلاتوں کے بارے میں تھا جو بیت اللہ کی طرف رخ کرنے سے پہلے بیت المقدس کی طرف رخ کرکے ادا کی گئی تھیں، اور بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم انتقال بھی کر چکے تھے تو اللہ نے فرمایا: بیت المقدس کی طرف رخ کر کے پڑھی گئی نمازیں ضائع نہیں کرے گا، پس ایمان سے مراد نماز ہے۔

Ibn Abbas said: when the Prophet ﷺ turned towards the Kaabah (in prayer), the people asked: Messenger of Allah ﷺ! what will happen with those who died while they prayed with their faces towards Jerusalem ? Allah the Exalted, then revealed: “And never would Allah make your faith of no effect. ”
USC-MSA web (English) Reference: Book 41 , Number 4663


قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 4681
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا مؤمل بن الفضل، حدثنا محمد بن شعيب بن شابور، عن يحيى بن الحارث، عن القاسم، عن ابي امامة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، انه قال:" من احب لله وابغض لله واعطى لله ومنع لله، فقد استكمل الإيمان".
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ وَأَبْغَضَ لِلَّهِ وَأَعْطَى لِلَّهِ وَمَنَعَ لِلَّهِ، فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ ہی کے رضا کے لیے محبت کی، اللہ ہی کے رضا کے لیے دشمنی کی، اللہ ہی کے رضا کے لیے دیا، اللہ ہی کے رضا کے لیے منع کر دیا تو اس نے اپنا ایمان مکمل کر لیا ۱؎۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4903) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں اعمال کو ایمان کی تکمیل کا سبب قرار دیا گویا ان اعمال کی کمی ایمان کی کمی ٹھہری، پتہ چلا ایمان گھٹتا بڑھتا ہے۔

Narrated Abu Umamah: The Prophet ﷺ said: If anyone loves for Allah's sake, hates for Allah's sake, gives for Allah's sake and withholds for Allah's sake, he will have perfect faith.
USC-MSA web (English) Reference: Book 41 , Number 4664


قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 4682
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يحيى بن سعيد، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" اكمل المؤمنين إيمانا احسنهم خلقا".
(مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومنوں میں سب سے کامل ایمان والا وہ ہے جو ان میں سب سے بہتر اخلاق والا ہے۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15109)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الرضاع 11 (1162)، مسند احمد (2/472، 527) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏

Narrated Abu Hurairah: The Prophet ﷺ said: The most perfect believer in respect of faith is he who is best of them in manners.
USC-MSA web (English) Reference: Book 41 , Number 4665


قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
حدیث نمبر: 4683
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا محمد بن ثور، عن معمر، قال: واخبرني الزهري، عن عامر بن سعد بن ابي وقاص، عن ابيه، قال:" اعطى رسول الله صلى الله عليه وسلم رجالا ولم يعط رجلا منهم شيئا، فقال سعد: يا رسول الله، اعطيت فلانا وفلانا ولم تعط فلانا شيئا وهو مؤمن، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: او مسلم حتى اعادها سعد ثلاثا والنبي صلى الله عليه وسلم، يقول: او مسلم ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم: إني اعطي رجالا وادع من هو احب إلي منهم لا اعطيه شيئا مخافة ان يكبوا في النار على وجوههم".
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاص، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجَالًا وَلَمْ يُعْطِ رَجُلًا مِنْهُمْ شَيْئًا، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطَيْتَ فُلَانًا وَفُلَانًا وَلَمْ تُعْطِ فُلَانًا شَيْئًا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْ مُسْلِمٌ حَتَّى أَعَادَهَا سَعْدٌ ثَلَاثًا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَوْ مُسْلِمٌ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي أُعْطِي رِجَالًا وَأَدَعُ مَنْ هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُمْ لَا أُعْطِيهِ شَيْئًا مَخَافَةَ أَنْ يُكَبُّوا فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دیا اور ان میں سے ایک شخص کو کچھ نہیں دیا تو سعد نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے فلاں اور فلاں کو دیا لیکن فلاں کو کچھ بھی نہیں دیا حالانکہ وہ مومن ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا مسلم ہے سعد نے تین بار یہی عرض کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے رہے: یا مسلم ہے پھر آپ نے فرمایا: میں بعض لوگوں کو دیتا ہوں اور ان میں تجھے جو زیادہ محبوب ہے اسے چھوڑ دیتا ہوں، میں اسے کچھ بھی نہیں دیتا، ایسا اس اندیشے سے کہ کہیں وہ جہنم میں اوندھے منہ نہ ڈال دیئے جائیں ۱؎۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الإیمان 19(27)، الزکاة 53 (1478)، صحیح مسلم/الإیمان 67 (150)، الزکاة 45 (150)، سنن النسائی/الإیمان وشرائعہ 7 (4995)، (تحفة الأشراف: 3891) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: کیونکہ یہ شخص پکا سچا مومن ہے اگر میں اس کو نہ دوں گا تو بھی اس کے ایمان میں کوئی فرق نہیں پڑے گا، لیکن یہ لوگ جن کو دیتا ہوں ناقص ایمان والے ہیں نہ دوں گا تو ان کے ایمان میں فرق پڑے گا کہ ان کا ایمان ابھی پختہ نہیں، لہٰذا مصلحتا میں ایسا کرتا ہوں، پتہ چلا ایمان گھٹتا بڑھتا ہے۔

Saad bin Abi Waqqas said: The Prophet ﷺ gave some people and did not give anything to a man of them. Saad said: Messenger of Allah! You gave so and so, so and so, but did not give anything to so and so while he is a believer. The Prophet ﷺ said: Or he is a Muslim. Saad repeated it thrice and the Prophet ﷺ then said: I give some people and leave him who is dearer to me than them. I do not give him anything fearing lest he should fall into Hell on his face.
USC-MSA web (English) Reference: Book 41 , Number 4666


قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 4684
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(موقوف) حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا ابن ثور، عن معمر، قال: وقال الزهري" قل لم تؤمنوا ولكن قولوا اسلمنا سورة الحجرات آية 14، قال: نرى ان الإسلام الكلمة والإيمان العمل".
(موقوف) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، قَالَ: وَقَالَ الزُّهْرِيُّ" قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا سورة الحجرات آية 14، قَالَ: نَرَى أَنَّ الْإِسْلَامَ الْكَلِمَةُ وَالْإِيمَانَ الْعَمَلُ".
‏‏‏‏ ابن شہاب زہری آیت کریمہ «قل لم تؤمنوا ولكن قولوا أسلمنا» آپ کہہ دیجئیے تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ مسلمان ہوئے (سورۃ الحجرات: ۱۴) کی تفسیر میں کہتے ہیں: ہم سمجھتے ہیں کہ (اس آیت میں) اسلام سے مراد زبان سے کلمے کی ادائیگی اور ایمان سے مراد عمل ہے۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19377) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏

Explaining the verse, “say ; You have no faith, but you only say: We have submitted our wills to Allah”, Al-Zuhri said: We think that ISLAM is a word, and faith is an action.
USC-MSA web (English) Reference: Book 41 , Number 4667


قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
حدیث نمبر: 4685
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق. ح وحدثنا إبراهيم بن بشار، حدثنا سفيان المعنى، قالا: حدثنا معمر، عن الزهري، عن عامر بن سعد، عن ابيه،" ان النبي صلى الله عليه وسلم قسم بين المسلمين قسما فقلت اعط فلانا، فإنه مؤمن، قال: او مسلم إني لاعطي الرجل العطاء وغيره احب إلي منه مخافة ان يكب على وجهه".
(مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ. ح وحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ قَسْمًا فَقُلْتُ أَعْطِ فُلَانًا، فَإِنَّهُ مُؤْمِنٌ، قَالَ: أَوْ مُسْلِمٌ إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ الْعَطَاءَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ مَخَافَةَ أَنْ يُكَبَّ عَلَى وَجْهِهِ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں میں کچھ تقسیم فرمایا تو میں نے عرض کیا: فلاں کو بھی دیجئیے، وہ بھی مومن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا مسلم ہے، میں ایک شخص کو کچھ عطا کرتا ہوں حالانکہ اس کے علاوہ دوسرا مجھے اس سے زیادہ محبوب ہوتا ہے (جس کو نہیں دیتا) اس اندیشے سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں اس کو نہ دوں تو وہ اوندھے منہ (جہنم میں) ڈال دیا جائے۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (4683)، (تحفة الأشراف: 3891) (صحیح)» ‏‏‏‏

Saad said: The Prophet ﷺ distributed (spoils) among the people I said to him: Give so and so for he is a believer. He said: Or he is a Muslim. I give a man something while another man is dearer to me than him, fearing that he may fall into Hell on his face.
USC-MSA web (English) Reference: Book 41 , Number 4668


قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 4686
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا شعبة، قال: واقد بن عبد الله اخبرني، عن ابيه، انه سمع ابن عمر، يحدث عن النبي صلى الله عليه وسلم، انه قال:" لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض".
(مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: وَاقِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردن مارنے لگے ۱؎۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏* تخريج:صحیح البخاری/المغازي 77 (4402)، الأدب 95 (6166)، الحدود 9 (6785)، الدیات 2 (6868)، الفتن 8 (7077)، صحیح مسلم/الإیمان 29 (66)، سنن النسائی/المحاربة 25 (4130)، سنن ابن ماجہ/الفتن 5 (2943)، (تحفة الأشراف: 7418)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/85، 87، 104، 135) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں ایک دوسرے کی گردن مارنے کو ایمان کے منافی قرار دیا، حدیث کا معنی یہ ہے کہ: میرے بعد فرقہ بندی میں پڑ کر ایک دوسرے کی گردن مت مارنے لگ جانا کہ یہ کام کافروں کے مشابہ ہے کیونکہ کافر آپس میں دشمن اور مومن آپس میں بھائی ہیں۔

Ibn Umar reported the Prophet ﷺ as saying: Do not turn unbelievers after me ; one of you may strike the neck of the other.
USC-MSA web (English) Reference: Book 41 , Number 4669


قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 4687
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن فضيل بن غزوان، عن نافع، عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" ايما رجل مسلم اكفر رجلا مسلما، فإن كان كافرا وإلا كان هو الكافر".
(مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَكْفَرَ رَجُلًا مُسْلِمًا، فَإِنْ كَانَ كَافِرًا وَإِلَّا كَانَ هُوَ الْكَافِرُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان کسی مسلمان کو کافر قرار دے تو اگر وہ کافر ہے (تو کوئی بات نہیں) ورنہ وہ (قائل) خود کافر ہو جائے گا۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8254)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب 73 (6104)، صحیح مسلم/الإیمان 26 (111)، سنن الترمذی/الإیمان 16 (1237)، مسند احمد (2/23، 60) (صحیح)» ‏‏‏‏

Ibn Umar reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: If any believing man calls another believing man an unbeliever, if he is actually an infidel, it is all right ; if not, he will become an infidel.
USC-MSA web (English) Reference: Book 41 , Number 4670


قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 4688
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(مرفوع) حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، حدثنا الاعمش، عن عبد الله بن مرة، عن مسروق، عن عبد الله بن عمرو، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" اربع من كن فيه فهو منافق خالص، ومن كانت فيه خلة منهن كان فيه خلة من نفاق حتى يدعها: إذا حدث كذب، وإذا وعد اخلف، وإذا عاهد غدر، وإذا خاصم فجر".
(مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ فَهُوَ مُنَافِقٌ خَالِصٌ، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَلَّةٌ مِنْهُنَّ كَانَ فِيهِ خَلَّةٌ مِنْ نِفَاقٍ حَتَّى يَدَعَهَا: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار خصلتیں جس میں ہوں وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، معاہدہ کرے تو اس کو نہ نبھائے، اگر کسی سے جھگڑا کرے تو گالی گلوچ دے۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الإیمان 24 (34)، المظالم 17 (2459)، الجزیة 17 (3178)، صحیح مسلم/الإیمان 25 (58)، سنن الترمذی/الإیمان 14 (2632)، سنن النسائی/الإیمان وشرائعہ20 (5023)، (تحفة الأشراف: 8931)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/189، 198، 200) (صحیح)» ‏‏‏‏

Abdullah bin Amr reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Four characteristics constitute anyone who possesses them a sheer hypocrite, and anyone who possesses one of them possesses a characteristics of hypocrisy till he abandons it: when he talks he lies, when he makes a promise he violates it, when he makes a covenant he acts treacherously, and when he quarrels, he deviates from the Truth.
USC-MSA web (English) Reference: Book 41 , Number 4671


قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 4689
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا ابو صالح الانطاكي، اخبرنا ابو إسحاق الفزاري، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" لا يزني الزاني حين يزني وهو مؤمن، ولا يسرق حين يسرق وهو مؤمن ولا يشرب الخمر حين يشربها وهو مؤمن والتوبة معروضة بعد".
(مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الْأَنْطَاكِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَالتَّوْبَةُ مَعْرُوضَةٌ بَعْدُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زانی زنا کے وقت مومن نہیں رہتا، چور چوری کے وقت مومن نہیں رہتا، شرابی شراب پیتے وقت مومن نہیں رہتا (یعنی ایمان اس سے جدا ہو جاتا ہے پھر بعد میں واپس آ جاتا ہے) توبہ کا دروازہ اس کے بعد بھی کھلا ہوا ہے (یعنی اگر توبہ کر لے تو توبہ قبول ہو جائے گی اللہ بخشنے والا ہے)۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح البخاری/المظالم 30 (2475)، الأشربة 1 (5578)، الحدود 1 (6772)، صحیح مسلم/الإیمان 23 (57)، سنن الترمذی/الإیمان 11 (2625)، سنن النسائی/قطع السارق 1 (4874)، الأشربة 42 (5662، 5663)، (تحفة الأشراف: 14863، 12489)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الأشربة 11 (2152)، الأضاحی 23 (2037) (صحیح)» ‏‏‏‏

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: When one commits fornication, one is not a believer ; when one steals, one is not a believer ; when one drinks, one is not a believer ; and repentance is placed before him.
USC-MSA web (English) Reference: Book 41 , Number 4672


قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 4690
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا إسحاق بن سويد الرملي، حدثنا ابن ابي مريم، اخبرنا نافع يعني ابن زيد، قال: حدثني ابن الهاد، ان سعيد بن ابي سعيد المقبري حدثه، انه سمع ابا هريرة يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" بإذا زنى الرجل خرج منه الإيمان كان عليه كالظلة فإذا انقطع رجع إليه الإيمان".
(مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بإِذَا زَنَى الرَّجُلُ خَرَجَ مِنْهُ الْإِيمَانُ كَانَ عَلَيْهِ كَالظُّلَّةِ فَإِذَا انْقَطَعَ رَجَعَ إِلَيْهِ الْإِيمَانُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی زنا کرتا ہے تو ایمان اس سے نکل جاتا ہے اور بادل کے ٹکڑے کی طرح اس کے اوپر لٹکا رہتا ہے، پھر جب زنا سے الگ ہوتا ہے تو دوبارہ ایمان اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13079) (صحیح)» ‏‏‏‏

Narrated Abu Hurairah: The Prophet ﷺ said: When a man commits fornication, faith departs from him and there is something like a canvas roof over his head; and when he quits that action, faith returns to him.
USC-MSA web (English) Reference: Book 41 , Number 4673


قال الشيخ الألباني: صحيح

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.