صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
17. باب التَّخْيِيرِ فِي الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي السَّفَرِ:
باب: سفر میں روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کے اختیار کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1121 ترقیم شاملہ: -- 2625
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: سَأَلَ حَمْزَةُ بْنُ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ؟، فَقَالَ: " إِنْ شِئْتَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ ".
قتیبہ بن سعید، لیث، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزے رکھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تو چاہے تو روزہ رکھ لے اور اگر تو چاہے تو روزہ افطار کر لے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2625]
حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو روزہ رکھ لو اور چاہو تو نہ رکھو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2625]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1121
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1121 ترقیم شاملہ: -- 2626
وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ أَسْرُدُ الصَّوْمَ، أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ؟، قَالَ: " صُمْ إِنْ شِئْتَ، وَأَفْطِرْ إِنْ شِئْتَ "،
ابوربیع، حماد، ابن زید، ہشام، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں ایک ایسا آدمی ہوں کہ مسلسل روزے رکھتا ہوں تو کیا میں سفر میں بھی روزہ رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو چاہے تو روزہ رکھ لے اور اگر چاہے تو افطار کر لے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2626]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایک ایسا انسان ہوں جو مسلسل روزے رکھتا ہے تو کیا میں سفر میں روزہ رکھ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ رکھ لو اگر چاہو اور روزہ چھوڑدو اگر چاہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2626]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1121
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1121 ترقیم شاملہ: -- 2627
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ: إِنِّي رَجُلٌ أَسْرُدُ الصَّوْمَ،
یحییٰ بن یحییٰ، ابومعاویہ، ہشام سے اس سند کے ساتھ اسی طرح حدیث نقل کی گئی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2627]
امام صاحب اپنے استاد یحییٰ بن یحییٰ سے یہی روایت ہشام ہی کی سند سے نقل کرتے ہیں کہ اس نے کہا: میں ایک آدمی ہوں میں ہمیشہ روزے رکھتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2627]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1121
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1121 ترقیم شاملہ: -- 2628
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ كِلَاهُمَا، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَنَّ حَمْزَةَ، قَالَ: إِنِّي رَجُلٌ أَصُومُ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ؟.
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابن نمیر، ابوبکر، عبدالرحیم بن سلیمان، ہشام سے اس سند کے ساتھ روایت ہے کہ حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ایک روزے دار آدمی ہوں تو کیا میں سفر میں بھی روزہ رکھوں؟ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2628]
امام صاحب اپنے دواور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں کہ حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا: میں روزہ رکھنے والا آدمی ہوں کیا میں سفر میں بھی روزہ رکھ سکتا ہوں؟ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2628]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1121
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1121 ترقیم شاملہ: -- 2629
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، قَالَ هَارُونُ حَدَّثَنَا، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَجِدُ بِي قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللَّهِ، فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ، فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ "، قَالَ هَارُونُ فِي حَدِيثِهِ: " هِيَ رُخْصَةٌ "، وَلَمْ يَذْكُرْ مِنَ اللَّهِ.
ابوطاہر، ہارون بن سعید، ہارون، ابوطاہر، ابن وہب، عمرو بن حارث، ابواسود، عروہ بن زبیر، ابومرواح، حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں سفر میں روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں تو کیا مجھ پر کوئی گناہ تو نہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ کی طرف سے ایک رخصت ہے تو جس نے اس رخصت پر عمل کیا تو اس نے اچھا کیا اور جس نے روزہ رکھنا پسند کیا تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔“ ہارون نے اپنی حدیث میں رخصۃ کا لفظ کہا ہے اور من اللہ کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2629]
حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سفر میں روزہ رکھنے کی قوت رکھتا ہوں تو کیا مجھ پر گناہ ہو گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ افطار کرنا اللہ کی طرف سے رخصت ہے تو جس نے اس کو قبول کیا تو اچھا کیا اور جس نے روزہ رکھنا پسند کیا تو اس پر کوئی گناہ یا تنگی نہیں ہے۔“ ہارون کی حدیث میں وہی صرف ”رخصت“ کے الفاظ ہیں۔ من اللہ (اللہ کی طرف سے) کا لفظ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2629]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1121
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1122 ترقیم شاملہ: -- 2630
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ، حَتَّى إِنْ كَانَ أَحَدُنَا لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ، وَمَا فِينَا صَائِمٌ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ ".
داود بن رشید، ولید بن مسلم، سعید بن عبدالعزیز، اسماعیل، عبیداللہ، ام درداء، حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے مہینے میں گرمی کے موسم میں ایک سفر میں نکلے یہاں تک کہ گرمی کی وجہ سے ہم میں سے کچھ لوگ اپنے ہاتھوں کو اپنے سر پر رکھ لیتے تھے اور ہم میں سے کوئی بھی روزہ دار نہیں تھا سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2630]
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ماہ رمضان میں شدید گرمی میں سفر پر نکلتے حتی کہ گرمی کی شدت کی وجہ سے ہمارے بعض اپنے سرپر اپنا ہاتھ رکھتے تھے اور ہم میں روزہ دار صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2630]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1122
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1122 ترقیم شاملہ: -- 2631
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَيَّانَ الدِّمَشْقِيِّ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، قَالَتْ: قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : " لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ، وَمَا مِنَّا أَحَدٌ صَائِمٌ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ ".
عبداللہ بن مسلمہ، ہشام بن سعید، عثمان بن حیان، دمشقی، حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سخت گرمیوں کے دنوں میں بعض سفروں میں دیکھا کہ لوگ سخت گرمی کی وجہ سے اپنے ہاتھوں کو اپنے سروں پر رکھ لیتے ہیں اور ہم میں سے سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے کوئی بھی روزہ دار نہیں تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2631]
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ساتھیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض سفروں میں شدید گرمی میں دیکھا حتیٰ کہ انسان گرمی کی شدت کی بنا پر اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھتا تھا اور ہم میں روزہ دار صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2631]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1122
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
18. باب اسْتِحْبَابِ الْفِطْرِ لِلْحَاجِّ بِعَرَفَاتٍ يَوْمَ عَرَفَةَ:
باب: حاجی کے لئے عرفات کے میدان میں عرفہ کے دن روزہ نہ رکھنے کے استحباب کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1123 ترقیم شاملہ: -- 2632
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ : " أَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُوَ صَائِمٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بِصَائِمٍ، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ بِعَرَفَةَ، فَشَرِبَهُ "،
یحییٰ بن یحییٰ، مالک، ابونضر، عمیر، مولی ابن عباس، حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے ان کے پاس عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے بارے میں بات چیت کی ان میں سے کچھ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں تھے اور کچھ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں نہیں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دودھ کا ایک پیالہ اس وقت بھیجا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر عرفہ کے دن سوار تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دودھ پی لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2632]
حضرت اُم الفضل بنت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے ان کے پاس عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ کے بارے میں بحث کی تو بعض نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا روزہ ہے اور بعض نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا روزہ نہیں ہے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ کا پیالہ بھیجا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں اپنے اونٹ پر ٹھہرے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2632]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1123
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1123 ترقیم شاملہ: -- 2633
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ " وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ "، وَقَالَ: عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ،
اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر، سفیان، ابونصر سے اس سند کے ساتھ روایت ہے لیکن اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اونٹ پر سوار ہونے کا ذکر نہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2633]
امام صاحب اپنے دواساتذہ سے ابو نضر کی سند ہی سے یہ روایت بیان کرتے ہیں لیکن اس میں اپنے اونٹ پر ٹھہرے ہونے کا ذکر نہیں ہے اور عمیر مولیٰ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بجائے عمیر مولیٰ اُم الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2633]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1123
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1123 ترقیم شاملہ: -- 2634
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَقَالَ: عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ.
زہیر بن حرب، عبدالرحمن بن مہدی، سفیان، سالم بن ابی النضر سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2634]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے ابن عیینہ کی حدیث بیان کرتے ہیں اور اس میں عمیر مولیٰ اُم الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2634]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1123
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة