صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
19. باب صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ:
باب: عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1126 ترقیم شاملہ: -- 2645
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ: " إِنَّ هَذَا يَوْمٌ كَانَ يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَتْرُكَهُ فَلْيَتْرُكْهُ "، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا يَصُومُهُ إِلَّا أَنْ يُوَافِقَ صِيَامَهُ،
ابوکریب، ابواسامہ، ولید، ابن کثیر، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عاشورہ کے دن کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا کہ ”یہ وہ دن ہے جس دن جاہلیت کے لوگ روزہ رکھتے تھے تو جو کوئی پسند کرتا ہے کہ اس دن روزہ رکھے تو وہ روزہ رکھ لے اور جو کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ چھوڑ دے تو وہ چھوڑ دے۔“ اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما روزہ نہیں رکھتے تھے سوائے اس کے کہ ان روزوں سے موافقت ہو جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2645]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عاشورہ کے دن کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا: ”یہ دن جس کا اہل جاہلیت روزہ رکھتے تھے تو جو اس کا روزہ رکھنا پسند کرے وہ روزہ رکھ لے اور جو اس کا روزہ ترک کرنا پسند کرے وہ اسے ترک کر دے۔“ اور عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کا روزہ نہیں رکھتے تھے الا یہ کہ ان کے معمول کے موافق آ جاتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2645]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1126
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1126 ترقیم شاملہ: -- 2646
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْمُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ سَوَاءً.
محمد بن احمد بن ابی خلف، روح، ابومالک، عبیداللہ بن اخنس، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عاشورہ کے دن کے روزہ کا ذکر کیا گیا پھر آگے اسی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2646]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عاشورہ کے دن کا ذکر کیا گیا۔ آگے لیث بن سعد کی حدیث کے مثل بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2646]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1126
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1126 ترقیم شاملہ: -- 2647
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْعَسْقَلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: " ذَاكَ يَوْمٌ كَانَ يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ ".
احمد بن عثمان نوفلی، ابوعاصم، عمر بن محمد بن زید عسقلانی، سالم بن عبداللہ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عاشورہ کے دن کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے کہ جس دن جاہلیت کے لوگ روزہ رکھتے تھے تو جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے روزہ چھوڑ دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2647]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عاشورہ کے دن کا ذکر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس دن کا اہل جاہلیت روزہ رکھا کرتے تھے تو جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2647]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1126
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1127 ترقیم شاملہ: -- 2648
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: دَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَتَغَدَّى، فَقَالَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ادْنُ إِلَى الْغَدَاءِ، فَقَالَ: أَوَلَيْسَ الْيَوْمُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ؟، قَالَ: وَهَلْ تَدْرِي مَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ؟، قَالَ: وَمَا هُوَ؟، قَالَ: " إِنَّمَا هُوَ يَوْمٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ شَهْرُ رَمَضَانَ، فَلَمَّا نَزَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ تُرِكَ "، وقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: " تَرَكَهُ "،
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، ابوبکر، ابومعاویہ، اعمش، عمارہ، حضرت عبدالرحمن بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے اس حال میں کہ وہ صبح کا ناشتہ کر رہے تھے انہوں نے فرمایا: ”اے ابومحمد! آؤ ناشتہ کر لو۔“ تو انہوں نے کہا کہ کیا آج عاشورہ کا دن نہیں ہے؟ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تو جانتا ہے کہ عاشورہ کا دن کیا ہے؟“ اشعث نے کہا: وہ کیا ہے؟ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے کہ جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے کے روزے فرض ہونے سے پہلے روزہ رکھا کرتے تھے تو جب رمضان کے مہینے کے روزے فرض ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن کا روزہ چھوڑ دیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2648]
اشعث بن قیس رحمۃ اللہ علیہ حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے جبکہ وہ صبح کا کھانا کھا رہے تھے تو انھوں نے کہا: اے ابو محمد آؤ صبح کا کھانا کھا لوتو اشعت نے کہا کیا آج عاشورہ کا دن نہیں ہے؟ انھوں نے کہا کیا جانتے ہو، عاشورہ کے دن کی حقیقت کیا ہے؟ اشعت نے پوچھا وہ کیا ہے؟ انھوں نے جواب دیا وہ تو ایسا دن ہے جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کے روزوں کی فرضیت سے پہلے روزہ رکھا کرتے تھے۔ جب ماہ رمضان کا حکم نازل ہو گیا تو اسے چھوڑ دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2648]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1127
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1127 ترقیم شاملہ: -- 2649
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَا: " فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ تَرَكَهُ ".
زہیر بن حرب، عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اعمش سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث اس طرح نقل کی گئی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2649]
امام صاحب یہی روایت دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں اس میں جب رمضان کا حکم نازل ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ترک کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2649]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1127
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1127 ترقیم شاملہ: -- 2650
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي زُبَيْدٌ الْيَامِيُّ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَكَنٍ ، أَنَّ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ دَخَلَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَهُوَ يَأْكُلُ، فَقَالَ: " يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ادْنُ فَكُلْ "، قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: " كُنَّا نَصُومُهُ ثُمَّ تُرِكَ ".
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، یحییٰ بن سعید، سفیان، محمد بن حاتم، زبید یامی، عمارہ بن عمیر، حضرت قیس بن سکن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ عاشورہ کے دن حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اس حال میں آئے کہ آپ کھا رہے تھے تو انہوں نے فرمایا: ”اے ابومحمد! قریب ہو جاؤ اور کھاؤ۔“ انہوں نے کہا: میں روزے سے ہوں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم بھی اس دن روزہ رکھتے تھے لیکن چھوڑ دیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2650]
قیس بن سکن رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ اشعت بن قیس رحمۃ اللہ علیہ عاشورہ کے دن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گئے جبکہ وہ کھانا کھارہے تھے تو انھوں نے کہا اے ابو محمد قریب ہوں اور کھانا کھائیں اشعت نے کہا میں روزے دار ہوں عبداللہ نے کہا ہم بھی اس کا روزہ رکھا کرتے تھے پھر چھوڑدیا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2650]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1127
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1127 ترقیم شاملہ: -- 2651
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: دَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ يَأْكُلُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: " قَدْ كَانَ يُصَامُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ تُرِكَ، فَإِنْ كُنْتَ مُفْطِرًا فَاطْعَمْ ".
محمد بن حاتم، اسحاق بن منصور، اسرائیل، منصور، ابراہیم، علقمہ، اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس عاشورہ کے دن اس حال میں آئے کہ وہ کھانا کھا رہے تھے تو انہوں نے فرمایا: ”اے ابوعبدالرحمن! آج تو عاشورہ ہے؟“ تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے روزہ رکھا جاتا تھا تو جب رمضان کے روزے فرض ہو گئے یہ روزہ چھوڑ دیا گیا کہ اگر تیرا روزہ نہیں تو تو بھی کھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2651]
علقمہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے عاشورہ کے دن اشعت بن قیس رحمۃ اللہ علیہ حضرت مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں آئے، جبکہ وہ کھانا کھا رہے تھے تو اشعت نے کہا: اے عبدالرحمٰن آج کا دن تو عاشورہ کا دن ہے تو انھوں نے جواب دیا رمضان کی فرضیت کے نزول سے پہلے اس کا روزہ رکھا جاتا تھا جب رمضان کے روزوں کا حکم نازل ہو گیا اسے چھوڑ دیا گیا اس لیے اگر آپ کا روزہ نہیں ہے تو کھا لیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2651]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1127
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1128 ترقیم شاملہ: -- 2652
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِصِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، وَيَحُثُّنَا عَلَيْهِ، وَيَتَعَاهَدُنَا عِنْدَهُ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ، لَمْ يَأْمُرْنَا، وَلَمْ يَنْهَنَا، وَلَمْ يَتَعَاهَدْنَا عِنْدَهُ ".
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبیداللہ بن موسیٰ، شیبان، اشعث بن ابی شعشاء، جعفر بن ابی ثور، حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا حکم فرماتے تھے اور ہمیں اس پر آمادہ کرتے تھے اور اس کا اہتمام کرتے تھے تو جب رمضان کے روزے فرض کر دیے گئے تو پھر آپ نہ ہمیں اس کا حکم فرماتے اور نہ اس سے منع فرماتے اور نہ ہی اس کا اہتمام فرماتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2652]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں عاشورہ کے دن کے روزہ کی تلقین فرماتے تھے اور اس کے لیے ہمیں آمادہ کرتے تھے اور اس کے بارے میں ہمارا دھیان رکھتے اور نگرانی فرماتے تھے جب رمضان فرض ٹھہرا۔ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کا حکم دیا اور نہ روکا اور نہ اس دن ہماری نگرانی اور نگہداشت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2652]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1128
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1129 ترقیم شاملہ: -- 2653
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ خَطِيبًا بِالْمَدِينَةِ يَعْنِي فِي قَدْمَةٍ قَدِمَهَا خَطَبَهُمْ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِهَذَا الْيَوْمِ: " هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ، وَلَمْ يَكْتُبْ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، وَأَنَا صَائِمٌ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُفْطِرَ فَلْيُفْطِرْ "،
حرملہ بن یحییٰ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت حمید بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ انہوں نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا مدینہ میں خطبہ سنا یعنی جب وہ مدینہ آئے تو انہوں نے عاشورہ کے دن خطبہ دیا اور فرمایا: ”اے مدینہ والو! کہاں ہیں تمہارے علماء؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دن کے لیے فرماتے ہوئے سنا کہ یہ عاشورہ کا دن ہے اور اللہ تعالیٰ نے تم پر اس دن کا روزہ فرض نہیں کیا اور میں روزے سے ہوں تو جو تم میں سے پسند کرتا ہو کہ وہ روزہ رکھے تو اسے چاہیے کہ وہ روزہ رکھ لے اور جو تم میں سے پسند کرتا ہو کہ وہ افطار کر لے تو اسے چاہیے کہ وہ افطار کر لے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2653]
حمید بن عبدالرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں ایک دفعہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان مدینہ آئے اور انھوں نے عاشورہ کے دن خطبہ دیا میں نے ان سے خطبہ میں سنا، انھوں نے کہا تمھارے علماء کہاں ہیں؟ اسے اہل مدینہ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دن کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا، ”یہ یوم عاشورہ ہے اللہ تعالیٰ تم پر اس کا روزہ فرض قرار نہیں دیا میں روزے دار ہوں تو تم میں سے جو پسند کرے کہ وہ روزہ رکھے وہ روزہ رکھ لے اور جو افطار پسند کرے وہ روزہ نہ رکھے (حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ صلح حدیبیہ کے بعد مسلمان ہوئے جس کا اظہار فتح مکہ کے بعد کیا) [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2653]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1129
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1129 ترقیم شاملہ: -- 2654
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ،
ابوطاہر عبداللہ، عبداللہ بن وہب، مالک بن انس، ابن شہاب سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت کیا گیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2654]
امام صاحب ایک اور استاد سے ابن شہاب ہی کی سند سے یہ روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2654]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1129
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة