🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب بَيَانِ نَسْخِ قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ} بِقَوْلِهِ: {فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ}:
باب: آیت «وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ» کے منسوخ ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1145 ترقیم شاملہ: -- 2685
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى سَلَمَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ سورة البقرة آية 184 كَانَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُفْطِرَ وَيَفْتَدِيَ، حَتَّى نَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي بَعْدَهَا فَنَسَخَتْهَا ".
قتیبہ بن سعید، بکر یعنی ابن مضر، عمرو بن حارث، بکیر، یزید مولیٰ سلمہ، حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: «وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ» اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہوں وہ روزہ کے بدلہ میں ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں، جس آدمی کا روزہ چھوڑنے کا ارادہ ہوتا تو وہ فدیہ دے دیتا، یہاں تک کہ اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی جس نے اس حکم کو منسوخ کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2685]
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت اتری جو لوگ روزہ کی طاقت رکھتے ہوں (لیکن وہ روزہ نہ رکھیں) تو وہ ہر روزہ کے بدلہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں۔ (البقرۃ، آیت184) تو جو انسان روزہ نہ رکھ کر فدیہ دینا چاہتا وہ ایسا کر لیتا، حتیٰ کہ بعد والی آیت: ﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ﴾ اتری تو اس نے اس رخصت کو منسوخ کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2685]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1145
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1145 ترقیم شاملہ: -- 2686
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: " كُنَّا فِي رَمَضَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ فَافْتَدَى بِطَعَامِ مِسْكِينٍ، حَتَّى أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ سورة البقرة آية 185 ".
عمرو بن سواد عامری، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، بکیر بن اشجع، یزید مولیٰ سلمہ بن اکوع، حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رمضان کے مہینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ مبارک میں ہم سے جو چاہتا روزہ رکھ لیتا اور جو چاہتا روزہ چھوڑ دیتا اور ایک مسکین کو کھانا کھلا کر ایک روزے کا فدیہ دے دیتا، یہاں تک کہ یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: «فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ» تو جو تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو تو اسے چاہیے کہ وہ روزہ رکھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2686]
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دورمبارک میں ہم میں سے جو چاہتا روزہ رکھ لیتا اور جو چاہتا روزہ نہ رکھتا، اور ایک مسکین کا کھانا بطور فدیہ دے دیتا حتی کہ یہ آیت اتری جوشخص تم میں سے اس ماہ (رمضان) کو پا لے (اس میں مقیم ہو) وہ روزے رکھے۔ (بقرہ آیت 185) [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2686]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1145
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. باب جَوَازِ تَأْخِيرِ قَضَّاءِ رَمَضَانَ مَالَمْ يَجِيْ رَمَضَانَ آخَرُ، لِمَنْ أَفْطَرَ بِعُذْرِ مَرَضٍ وَّسَفَرٍ وَّحَيْضٍ وَّ نَحْوِ ذَلِكَ
باب: قضاء رمضان کی تاخیر کا جواز جب تک کہ دوسرا رمضان نہ آ جائے، یہ اس کے لیے ہے جس نے کسی عذر کی بناء پر روزہ چھوڑا ہو، جیسے: بیماری، سفر، حیض وغیرہ۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1146 ترقیم شاملہ: -- 2687
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: " كَانَ يَكُونُ عَلَيَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ، فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقْضِيَهُ إِلَّا فِي شَعْبَانَ الشُّغْلُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "،
احمد بن عبداللہ بن یونس، زہیر، یحییٰ بن سعید، حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ رمضان کے روزے مجھ سے قضا ہو جاتے تھے، تو میں ان روزوں کی قضا شعبان کے سوا نہیں کر سکتی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مشغولیت کی وجہ سے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2687]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں میرے ذمہ رمضان کے روزے ہوتے تو میں ان کی شعبان کے سوا کسی ماہ میں قضائی نہ دے سکتی تھی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی مصروفیت ہوتی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2687]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1146
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1146 ترقیم شاملہ: -- 2688
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " وَذَلِكَ لِمَكَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "،
اسحاق بن ابراہیم، بشر بن عمر زہرانی، سلیمان بن بلال، یحییٰ بن سعید، اس سند کے ساتھ اس طرح بیان کرتے ہیں سوائے اس کہ اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وجہ سے مشغول رہتی تھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2688]
مصنف ایک اور استاد سے یحییٰ بن سعید ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں اس میں ہے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی کی بنا پر ہوتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2688]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1146
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1146 ترقیم شاملہ: -- 2689
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: فَظَنَنْتُ أَنَّ ذَلِكَ لِمَكَانِهَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَحْيَى يَقُولُهُ،
محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، یحییٰ بن سعید، اس سند کے ساتھ اس طرح بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ یہ تاخیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مشغولیت کی وجہ سے ہوتی تھی۔ یہ بات یحییٰ کہتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2689]
مصنف ایک اور استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں اس میں یہ ہے کہ یحییٰ بن سعید کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ یہ ان کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کی بنا پر ہوتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر وہ روزہ نہیں رکھ سکتی تھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2689]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1146
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1146 ترقیم شاملہ: -- 2690
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا، عَنْ يَحْيَى : بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرَا فِي الْحَدِيثِ " الشُّغْلُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
محمد بن مثنیٰ، عبدالوہاب، عمرو ناقد، سفیان، یحییٰ سے اس سند کے ساتھ روایت ہے اور اس حدیث میں یہ ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وجہ سے قضا میں تاخیر ہوتی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2690]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے یہی روایت یحییٰ ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں۔ لیکن اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشغولیت کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2690]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1146
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1146 ترقیم شاملہ: -- 2691
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: إِنْ كَانَتْ إِحْدَانَا لَتُفْطِرُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا تَقْدِرُ عَلَى أَنْ تَقْضِيَهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَأْتِيَ شَعْبَانُ ".
محمد بن ابی عمر مکی، عبدالعزیز بن محمد دراوردی، یزید بن عبداللہ بن ہاد، محمد بن ابراہیم، ابی سلمہ بن عبدالرحمان، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ اگر ہم میں سے کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کوئی روزہ چھوڑتی تھی تو وہ قدرت نہ رکھتی کہ ان کی قضا کر لے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے، یہاں تک کہ شعبان آ جاتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2691]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم میں سے ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں روزہ (حیض وغیرہ) کی بنا پر افطار کرتی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں شعبان کی آمد تک قضائی نہیں دے سکتی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2691]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1146
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. باب قَضَاءِ الصِّيَامِ عَنِ الْمَيِّتِ:
باب: میت کی طرف سے روزوں کی قضا کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1147 ترقیم شاملہ: -- 2692
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ، صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ ".
ہارون بن سعید، احمد بن عیسیٰ، ابن وہب، عمر بن حارث، عبیداللہ بن ابی جعفر، محمد بن جعفر بن زبیر، عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی انتقال کر جائے اور اس پر کچھ روزے لازم ہوں تو اس کا وارث اس کی طرف سے روزے رکھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2692]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو انسان اس حالت میں فوت ہو جائے کہ اس کے ذمہ کچھ روزے ہوں تو اس کی طرف سے اس کا ولی روزے رکھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2692]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1147
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1148 ترقیم شاملہ: -- 2693
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ، فَقَالَ: " أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكُنْتِ تَقْضِينَهُ؟ "، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: " فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ بِالْقَضَاءِ ".
اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، اعمش، مسلم، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی کہ میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے اور اس پر ایک مہینے کے روزے لازم ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا کیا خیال ہے کہ اگر اس پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تو اسے ادا کرتی؟ اس نے عرض کیا: ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا قرض زیادہ حق ہے کہ اسے ادا کیا جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2693]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میری والدہ فوت ہو گئی ہے اور اس کے ذمہ ایک ماہ کے روزے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بتائیے اگر اس کے ذمہ قرض ہوتا تو کیا تو اس کو ادا کرتی؟ اس نے کہا ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اللہ کا قرض ادائیگی کا زیادہ حق دار ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2693]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1148
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1148 ترقیم شاملہ: -- 2694
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا؟، فَقَالَ: " لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ عَنْهَا؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى "، قَالَ سُلَيْمَانُ : فَقَالَ الْحَكَمُ ، وَسَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ جَمِيعًا: وَنَحْنُ جُلُوسٌ حِينَ حَدَّثَ مُسْلِمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَا: سَمِعْنَا مُجَاهِدًا يَذْكُرُ هَذَا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ .
احمد بن عمر وکیعی، حسین بن علی، زائدہ، سلیمان، مسلم، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے اور اس پر ایک مہینے کے روزوں کی قضا لازم ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تیری ماں پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تو وہ قرض اس کی طرف سے ادا کرتی؟ عرض کیا: ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا قرض زیادہ اس کا حق دار ہے کہ اسے ادا کیا جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2694]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اوراس نےکہا: اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری ماں فوت ہو گئی ہے اور اس کے ذمہ ایک ماہ کے روزے ہیں تومیں ان کو اس کی طرف سے رکھ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تیری ماں کے ذمہ قرض ہوتا تو کیا تو اس کی طرف سےاسے ادا کرتا؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اللہ کا قرض زیادہ حق دار ہے کہ اس کو چکایا جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2694]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1148
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں