صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
20. باب أَيُّ يَوْمٍ يُصَامُ فِي عَاشُورَاءَ:
باب: عاشورہ کا روزہ کس دن رکھا جائے۔
ترقیم عبدالباقی: 1133 ترقیم شاملہ: -- 2665
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمْرٍو ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ الْأَعْرَجِ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ عِنْدَ زَمْزَمَ، عَنْ صَوْمِ عَاشُورَاءَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ.
محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، معاویہ بن عمرو، حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس حال میں پوچھا کہ وہ زم زم کے پاس اپنی چادر سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے عاشورہ کے روزے کے بارے میں پوچھا اس کے بعد اسی طرح حدیث مبارکہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2665]
حکم بن اعرج رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے (جبکہ وہ زمزم کے پاس اپنی چادر کا تکیہ بنائے ہوئے تھے) عاشورہ کے روزے کے بارے میں پوچھا؟ آگے مذکورہ بالا حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2665]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1133
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1134 ترقیم شاملہ: -- 2666
وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ أُمَيَّةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا غَطَفَانَ بْنَ طَرِيفٍ الْمُرِّيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: حِينَ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ يَوْمٌ تُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِذَا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، صُمْنَا الْيَوْمَ التَّاسِعَ "، قَالَ: فَلَمْ يَأْتِ الْعَامُ الْمُقْبِلُ، حَتَّى تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حسن بن علی حلوانی، ابن ابی مریم، یحییٰ بن ایوب، اسماعیل بن امیہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور اس کے روزے کا حکم فرمایا تو انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اس دن تو یہودی اور نصاریٰ تعظیم کرتے ہیں۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آئندہ سال آئے گا تو ہم نویں تاریخ کا بھی روزہ رکھیں گے۔“ راوی نے کہا کہ ابھی آئندہ سال نہیں آیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2666]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عاشورہ کا روزہ رکھنا اپنا معمول بنا لیا اور مسلمانوں کو بھی اس کا حکم دیا تو بعض صحابہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ وہ دن ہے جس کی یہود و نصاری تعظیم کرتے ہیں (گویا ان کا قومی و مذہبی شعارہے اور اس دن روزہ رکھنے سے ان کے ساتھ اشتراک اور تشابہ پیدا ہوتا ہے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان شاء اللہ جب اگلا سال آئے گا تو ہم نویں کو روزہ رکھیں گے۔“عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں اگلا سال آنے سے پہلے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2666]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1134
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1134 ترقیم شاملہ: -- 2667
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ ، لَعَلَّهُ قَالَ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ، لَأَصُومَنَّ التَّاسِعَ "، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: يَعْنِي يَوْمَ عَاشُورَاءَ.
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، وکیع، ابن ابی ذئب، قاسم بن عبداللہ، عبداللہ بن عمیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں آنے والے سال تک زندہ رہا تو میں نویں تاریخ کا بھی ضرور روزہ رکھوں گا۔“ اور ابوبکر کی روایت میں ہے کہ آپ نے عاشورہ کے دن کا روزہ بھی فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2667]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو نویں کا روزہ رکھوں گا۔“ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عاشورہ کا روزہ تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2667]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1134
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
21. باب مَنْ أَكَلَ فِي عَاشُورَاءَ فَلْيَكُفَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ:
باب: جس نے عاشورہ کے دن (صبح) کھانا کھا لیا ہو تو اسے چاہیے کہ باقی ماندہ دن کھانے سے رکا رہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1135 ترقیم شاملہ: -- 2668
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيل ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ مَنْ كَانَ لَمْ يَصُمْ فَلْيَصُمْ، وَمَنْ كَانَ أَكَلَ فَلْيُتِمَّ صِيَامَهُ إِلَى اللَّيْلِ ".
قتیبہ بن سعید، حاتم یعنی ابن اسماعیل، یزید بن ابی عبید، حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اسلم کے ایک آدمی کو عاشورہ کے دن بھیجا اور اسے حکم فرمایا کہ وہ لوگوں میں اعلان کر دے کہ ”جس آدمی نے روزہ نہ رکھا ہو وہ روزہ رکھ لے اور جس نے کھا لیا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے روزے کو رات تک پورا کر لے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2668]
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن اسلم قبیلہ کا ایک آدمی بھیجا اور اسے حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان کردو۔ ”جس نے روزہ نہیں رکھا وہ روزہ رکھ لے اور جس نے کھاپی لیا ہے تو وہ (دن کا باقی حصہ) رات تک روزہ پورا کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2668]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1135
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1136 ترقیم شاملہ: -- 2669
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ بْنِ لَاحِقٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ ، قَالَتْ: " أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ عَاشُورَاءَ، إِلَى قُرَى الْأَنْصَارِ الَّتِي حَوْلَ الْمَدِينَةِ، مَنْ كَانَ أَصْبَحَ صَائِمًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، وَمَنْ كَانَ أَصْبَحَ مُفْطِرًا فَلْيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ، فَكُنَّا بَعْدَ ذَلِكَ نَصُومُهُ، وَنُصَوِّمُ صِبْيَانَنَا الصِّغَارَ مِنْهُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَنَذْهَبُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَنَجْعَلُ لَهُمُ اللُّعْبَةَ مِنَ الْعِهْنِ، فَإِذَا بَكَى أَحَدُهُمْ عَلَى الطَّعَامِ، أَعْطَيْنَاهَا إِيَّاهُ عِنْدَ الْإِفْطَارِ "،
ابوبکر بن نافع، بشر بن مفضل بن لاحق، خالد بن ذکوان، حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کی صبح کو انصار کی اس بستی کی طرف جو مدینہ منورہ کے ارد گرد تھی یہ پیغام بھجوا دیا کہ ”جس آدمی نے صبح روزہ رکھا تو وہ اپنے روزے کو پورا کر لے اور جس نے صبح کو افطار کر لیا ہو تو اسے چاہیے کہ باقی دن روزہ پورا کر لے۔“ اس کے بعد ہم روزہ رکھتے تھے اور ہم اپنے چھوٹے بچوں کو بھی روزہ رکھواتے تھے اور ہم انہیں مسجد کی طرف لے جاتے اور ہم ان کے لیے روئی کی گڑیاں بناتے اور جب ان بچوں میں سے کوئی کھانے کی وجہ سے روتا تو ہم انہیں وہ گڑیا دے دیتے تاکہ وہ افطاری تک ان کے ساتھ کھیلتے رہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2669]
حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عاشورہ کی صبح مدینہ کے آس پاس کی انصارکی بستیوں میں اطلاع بھیجی کہ ”جنہوں نے صبح روزہ کی حالت میں کی (ابھی تک کچھ کھایا پیا نہیں) وہ اپنا روزہ پورا کریں اور جنھوں نے صبح افطار کی حالت میں کی (کچھ کھا پی لیا ہے) وہ دن کا باقی حصہ کا روزہ پورا کریں۔“ اس کے بعد ہم خود روزہ رکھتے تھے اور ان شاء اللہ اپنے چھوٹے بچوں کو بھی روزہ رکھواتے تھے اور ہم مسجد کو چلے جاتے تو ان کے لیے روئی کا کھلونا (گڑیا) بناتے جب ان میں سے کوئی کھانے کے لیے روتا تو ہم انہیں افطار تک اس گڑیا کے ذریعہ بہلا کر لے جاتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2669]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1136
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1136 ترقیم شاملہ: -- 2670
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ الْعَطَّارُ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ ، قَالَ: سَأَلْتُ الرُّبَيِّعَ بِنْتَ مُعَوِّذٍ عَنْ صَوْمِ عَاشُورَاءَ، قَالَتْ: " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُسُلَهُ فِي قُرَى الْأَنْصَارِ "، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ بِشْرٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " وَنَصْنَعُ لَهُمُ اللُّعْبَةَ مِنَ الْعِهْنِ، فَنَذْهَبُ بِهِ مَعَنَا، فَإِذَا سَأَلُونَا الطَّعَامَ، أَعْطَيْنَاهُمُ اللُّعْبَةَ تُلْهِيهِمْ، حَتَّى يُتِمُّوا صَوْمَهُمْ ".
یحییٰ بن یحییٰ، ابومعشر، عطار، خالد بن ذکوان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے عاشورہ کے روزے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی بستی میں اپنا نمائندہ بھیجا پھر آگے بشر کی حدیث کی طرح روایت ذکر کی سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ ہم ان بچوں کے لیے روئی کی گڑیاں بناتے تاکہ وہ ان سے کھیلیں اور وہ ہمارے ساتھ مسجد میں جاتے تو جب وہ ہم سے کھانا مانگتے تو ہم انہیں وہ گڑیاں دے دیتے اور وہ ان سے کھیل میں لگ کر روزہ بھول جاتے یہاں تک کہ ان کا روزہ پورا ہو جاتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2670]
خالد بن ذکوان رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے جب ربیع بنت معوذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عاشورہ کے روزہ کے بارے میں پوچھا؟ انھوں نے بتایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصارکی بستیوں میں اپنے پیغام بر بھیجے بشر کی طرح حدیث بیان کی، بس اتنا فرق ہے کہ اس نے کہا: ہم ان کے لیے روئی کی گڑیا بناتے اور اسے اپنے ساتھ لے جاتے تو جب وہ ہم سے کھانا مانگتے تو ہم انہیں وہ گڑیا غافل کرنے کے لیے دے دیتے تاکہ وہ اپنا روزہ پورا کرلیں یا حتی کہ وہ اپنا روزہ پورا کر لیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2670]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1136
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
22. باب النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الأَضْحَى:
باب: عید الفطر اور عیدالاضحیٰ کو روزہ رکھنے کی ممانعت۔
ترقیم عبدالباقی: 1137 ترقیم شاملہ: -- 2671
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ، أَنَّهُ قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَجَاءَ فَصَلَّى، ثُمَّ انْصَرَفَ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: " إِنَّ هَذَيْنِ يَوْمَانِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِهِمَا: يَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ، وَالْآخَرُ يَوْمٌ تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ نُسُكِكُمْ ".
یحییٰ بن یحییٰ، مالک، ابن شہاب، حضرت ابوعبید مولی بن ازہر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں عید کے دن حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا تو آپ آئے اور نماز پڑھی پھر نماز سے فارغ ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: ”یہ وہ دن ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ایک وہ دن ہے کہ جس دن تم افطار کرتے ہو اور دوسرا وہ دن ہے کہ جس میں تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2671]
ابن ازہر کے آزاد کردہ غلام ابو عبید رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عید کی نماز حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اقتداء میں پڑھی وہ تشریف لائے نماز پڑھائی پھر نماز سے فارغ ہو کر لوگوں کو خطاب فرمایا اور کہا یہ دو دن وہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ایک وہ دن جو تمھارے روزے چھوڑنے کا دن ہے اور دوسرا وہ دن ہے جس میں تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2671]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1137
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1138 ترقیم شاملہ: -- 2672
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ: يَوْمِ الْأَضْحَى، وَيَوْمِ الْفِطْرِ ".
یحییٰ بن یحییٰ، مالک، محمد بن یحییٰ بن حبان، اعرج، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنوں کے روزوں سے منع فرمایا: ”ایک قربانی کے دن اور دوسرا فطر کے دن۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2672]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں قربانیوں کا دن اور فطر کا دن کے روزے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2672]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1138
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 827 ترقیم شاملہ: -- 2673
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ وَهُوَ ابْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ مِنْهُ حَدِيثًا فَأَعْجَبَنِي، فَقُلْتُ لَهُ: آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَقُولُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ أَسْمَعْ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " لَا يَصْلُحُ الصِّيَامُ فِي يَوْمَيْنِ: يَوْمِ الْأَضْحَى، وَيَوْمِ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ ".
قتیبہ بن سعید، جریر، عبدالملک، ابن عمیر، قزعہ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ایک حدیث سنی جو مجھے بڑی عجیب لگی قزعہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے؟ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ بات کہہ سکتا ہوں جس کو میں نے آپ سے نہ سنا ہو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ”دو دنوں میں روزہ رکھنا درست نہیں ایک قربانی کے دن دوسرے رمضان عید الفطر کے دن۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2673]
قزعہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک حدیث سنی جو مجھے بہت اچھی لگی میں نے ان سے پوچھا کیا آپ نے یہ روایت براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انھوں نے جواب دیا تو کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسی بات منسوب کرتا ہوں جو میں نے سنی نہیں ہے؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ”دو دنوں قربانیوں کا دن اور رمضان سے فطر دن میں روزہ رکھنا درست اور مناسب نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2673]
ترقیم فوادعبدالباقی: 827
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1138 ترقیم شاملہ: -- 2674
وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ: يَوْمِ الْفِطْرِ، وَيَوْمِ النَّحْرِ ".
ابوکامل جحدری، عبدالعزیز بن مختار، عمرو بن یحییٰ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنوں کے روزے رکھنے سے منع فرمایا: ”ایک عید الفطر کے دن دوسرے عید الاضحیٰ یعنی قربانی کے دن۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2674]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنوں فطر کا دن اور قربانی کا دن کے روزے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2674]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1138
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة