صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
18. باب اسْتِحْبَابِ الْفِطْرِ لِلْحَاجِّ بِعَرَفَاتٍ يَوْمَ عَرَفَةَ:
باب: حاجی کے لئے عرفات کے میدان میں عرفہ کے دن روزہ نہ رکھنے کے استحباب کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1123 ترقیم شاملہ: -- 2635
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عُمَيْرًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ الْفَضْلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: " شَكَّ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صِيَامِ يَوْمِ عَرَفَةَ، وَنَحْنُ بِهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِقَعْبٍ فِيهِ لَبَنٌ وَهُوَ بِعَرَفَةَ، فَشَرِبَهُ ".
ہارون بن سعید، ابن وہب، عمرو، ابونضر، مولی ابن عباس، حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کچھ لوگوں نے عرفہ کے دن روزہ کے بارے میں شک کیا حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایک پیالہ بھیجا جس میں دودھ تھا عرفہ کے دن تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دودھ پی لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2635]
حضرت اُم الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے عرفہ کے دن کے روزے کے بارے میں شک کا اظہار کیا جبکہ ہم عرفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لکڑی کا ایک پیالہ بھیجا جس میں دودھ تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت عرفات میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2635]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1123
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1124 ترقیم شاملہ: -- 2636
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: " إِنَّ النَّاسَ شَكُّوا فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ مَيْمُونَةُ بِحِلَابِ اللَّبَنِ وَهُوَ وَاقِفٌ فِي الْمَوْقِفِ، فَشَرِبَ مِنْهُ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ ".
ہارون بن سعید، ابن وہب، عمرو، بکیر، بن اشج، کریب، مولی ابن عباس، حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ لوگ عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے بارے میں شک میں پڑ گئے چنانچہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دودھ کا ایک لوٹا بھیجا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات کے میدان میں کھڑے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دودھ پیا جبکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2636]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ لوگوں نے عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ کے بارے میں شک کیا تو میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ کا برتن ارسال کیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرنے کی جگہ (عرفات) میں ٹھہرے ہوئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نوش فرمایا جبکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2636]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1124
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
19. باب صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ:
باب: عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1125 ترقیم شاملہ: -- 2637
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصُومُ عَاشُورَاءَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ، فَلَمَّا هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، فَلَمَّا فُرِضَ شَهْرُ رَمَضَانَ، قَالَ: " مَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ "،
زہیر بن حرب، جریر، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ قریش جاہلیت کے زمانہ میں عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جب مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس کا روزہ رکھنے کا حکم فرمایا تو جب رمضان کے روزے فرض کر دیے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چاہے یوم عاشورہ کا روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2637]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ قریش زمانہ جاہلیت میں عاشورہ (دس محرم) کا روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس دن کا روزہ رکھتے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ آ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود روزہ رکھا اور دوسروں کو بھی اس روزہ کے رکھنے کا حکم دیا۔ جب رمضان کے مہینہ کے روزے فرض ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چاہے اس کا روزہ رکھے اور جو چاہے اسے چھوڑ دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2637]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1125
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1125 ترقیم شاملہ: -- 2638
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ، وَقَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ: وَتَرَكَ عَاشُورَاءَ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ، وَلَمْ يَجْعَلْهُ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَرِوَايَةِ جَرِيرٍ.
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابن نمیر، ہشام سے اس سند کے ساتھ روایت ہے اور حدیث کے شروع میں ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور حدیث کے آخر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا کہ جو چاہے اس کا روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2638]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ سے ہشام ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں لیکن اس حدیث کے آغاز میں یہ نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کا روزہ رکھتے تھے اور حدیث کے آخر میں عاشورہ کا روزہ چھوڑدیا تو جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے، جریر کی طرح اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول قرار نہیں دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2638]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1125
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1125 ترقیم شاملہ: -- 2639
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: " أَنَّ يَوْمَ عَاشُورَاءَ كَانَ يُصَامُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ، مَنْ شَاءَ صَامَهُ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ ".
عمرو ناقد، سفیان، زہری، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ عاشورہ کے دن جاہلیت کے زمانہ میں روزہ رکھا جاتا تھا تو جب اسلام آیا کہ جو چاہے اس کا روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2639]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے عاشورہ کے دن کا روزہ زمانہ جاہلیت میں رکھا جاتا تھا جب اسلام آ گیا (روزےفرض ہو گئے) تو جس نے چاہا روزہ رکھا اور جس نے چاہا چھوڑ دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2639]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1125
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1125 ترقیم شاملہ: -- 2640
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِصِيَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ رَمَضَانُ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ، كَانَ مَنْ شَاءَ صَامَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ ".
حرملہ بن یحییٰ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے عاشورہ کے روزہ کا حکم فرمایا کرتے تھے تو جب رمضان کے روزے فرض ہو گئے تو جو چاہے عاشورہ کے دن روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2640]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرضیت رمضان سے پہلے عاشورہ کا روزہ رکھنے کا حکم دیتے تھے جب رمضان فرض کر دیا گیا تو جو چاہتا عاشورہ کے دن کا روزہ رکھ لیتا اور جو چاہتا روزہ نہ رکھتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2640]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1125
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1125 ترقیم شاملہ: -- 2641
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ جميعا، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ عِرَاكًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ قُرَيْشًا كَانَتْ تَصُومُ عَاشُورَاءَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصِيَامِهِ، حَتَّى فُرِضَ رَمَضَانُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْهُ ".
قتیبہ بن سعید، محمد بن رمح، لیث بن سعید، یزید بن ابی حبیب، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جاہلیت کے زمانے میں قریشی لوگ عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے تو جب رمضان کے روزے فرض ہو گئے تو (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا) ”جو چاہے عاشورہ کے دن روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2641]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ قریش زمانہ جاہلیت میں عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے۔ پھر (مدینہ آنے کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھنے کا حکم دیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا حتی کہ رمضان کے روزے فرض قرار دئیے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چاہے اس کا روزہ رکھے اور جو چاہے روزہ نہ رکھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2641]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1125
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1126 ترقیم شاملہ: -- 2642
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَأَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَهُ وَالْمُسْلِمُونَ قَبْلَ أَنْ يُفْتَرَضَ رَمَضَانُ، فَلَمَّا افْتُرِضَ رَمَضَانُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ عَاشُورَاءَ يَوْمٌ مِنْ أَيَّامِ اللَّهِ، فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ "،
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، ابن نمیر، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانے کے لوگ عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے بھی رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے اس کا روزہ رکھا جب رمضان کے روزے فرض ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عاشورہ اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے تو جو چاہے عاشورہ کا روزہ رکھے اور جو چاہے اسے چھوڑ دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2642]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اہل جاہلیت عاشورہ کے دن کا روزہ رکھتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان بھی رمضان کی فرضیت سے پہلے اس کا روزہ رکھتے تھے۔ جب رمضان فرض کر دیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عاشورہ ایام اللہ میں سے ایک دن ہے تو جو چاہے اس کا روزہ رکھے اور جو چاہے اسے چھوڑ دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2642]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1126
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1126 ترقیم شاملہ: -- 2643
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِمِثْلِهِ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ.
محمد بن مثنیٰ، زہیر بن حرب، یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، عبیداللہ سے اس سند کے ساتھ بھی یہ حدیث روایت کی گئی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2643]
امام صاحب یہی حدیث دوسرے اساتذہ سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2643]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1126
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1126 ترقیم شاملہ: -- 2644
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَوْمًا يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ، وَمَنْ كَرِهَ فَلْيَدَعْهُ ".
قتیبہ بن سعید، لیث، ابن رمح، لیث، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عاشورہ کے دن کا ذکر کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاہلیت والے لوگ اس دن روزہ رکھتے تھے تو تم میں جو کوئی پسند کرتا ہے کہ وہ روزہ رکھے تو رکھ لے اور جو کوئی ناپسند کرتا ہے تو وہ چھوڑ دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2644]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عاشورہ کے دن کا تذکرہ ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایسا دن ہے جس میں اہل جاہلیت روزہ رکھتے تھے۔ تو تم میں سے جو پسند کرے کہ اسے روزہ رکھنا چاہیے تو وہ رکھ لے اور جو نہ پسند کرے نہ رکھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2644]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1126
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة