🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ:
باب: عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1129 ترقیم شاملہ: -- 2655
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مِثْلِ هَذَا الْيَوْمِ: " إِنِّي صَائِمٌ فَمَنْ شَاءَ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ "، وَلَمْ يَذْكُرْ بَاقِي حَدِيثِ مَالِكٍ وَيُونُسَ.
ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، زہری سے اس سند کے ساتھ روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دن کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا کہ میں روزے سے ہوں کہ جو چاہتا ہے کہ روزہ رکھ لے وہ رکھ لے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2655]
امام صاحب ایک اور استاد سے زہری ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دن کے بارے میں سنا: میں روزے دار ہوں تو جو چاہے کہ روزہ رکھے وہ روزہ رکھ لے۔ مالک اور یونس کی حدیث کا بقیہ حصہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2655]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1129
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1130 ترقیم شاملہ: -- 2656
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، فَوَجَدَ الْيَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَسُئِلُوا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالُوا: هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي أَظْهَرَ اللَّهُ فِيهِ مُوسَى وَبَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى فِرْعَوْنَ، فَنَحْنُ نَصُومُهُ تَعْظِيمًا لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَحْنُ أَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ، فَأَمَرَ بِصَوْمِهِ "،
یحییٰ بن یحییٰ، ہشیم، ابوبشر، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہوئے پایا تو لوگوں نے ان سے اس روزے کے بارے میں پوچھا تو وہ کہنے لگے کہ یہ وہ دن ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اور بنی اسرائیل کو فرعون پر غلبہ عطا فرمایا تھا تو ہم اس دن کی عظمت کی وجہ سے روزہ رکھتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم تم سے زیادہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قریب ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روزے کا حکم فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2656]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو عاشورہ کے دن کا روزہ رکھتے ہوئے پایا تو ان سے اس کے بارے میں پوچھا گیا؟ انھوں نے جواب دیا یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور بنو اسرائیل کو فرعون پر غلبہ عنایت فرمایا تھا تو ہم اس کے احترام و تعظیم کی خاطر روزہ رکھتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم تمھارے مقابلہ میں موسیٰ علیہ السلام سے زیادہ قریب ہیں۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے روزہ کا حکم دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2656]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1130
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1130 ترقیم شاملہ: -- 2657
وحَدَّثَنَاه ابْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ جَمِيعًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: فَسَأَلَهُمْ عَنْ ذَلِكَ.
ابن بشار، ابوبکر بن نافع، محمد بن جعفر، شعبہ، ابوبشر سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے اور اس میں ہے کہ آپ نے ان سے اس کی وجہ پوچھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2657]
امام صاحب نے اپنے دو اور اساتذہ سے یہی روایت ابو بشر کی سند ہی سے بیان کی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2657]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1130
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1130 ترقیم شاملہ: -- 2658
وحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، فَوَجَدَ الْيَهُودَ صِيَامًا يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي تَصُومُونَهُ؟ "، فَقَالُوا: هَذَا يَوْمٌ عَظِيمٌ، أَنْجَى اللَّهُ فِيهِ مُوسَى وَقَوْمَهُ، وَغَرَّقَ فِرْعَوْنَ وَقَوْمَهُ فَصَامَهُ مُوسَى شُكْرًا، فَنَحْنُ نَصُومُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَنَحْنُ أَحَقُّ وَأَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ، فَصَامَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ "،
ابن ابی عمر، سفیان، ایوب، عبداللہ بن سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو آپ نے یہودیوں کو عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہوئے پایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اس دن کی کیا وجہ ہے؟ تو وہ کہنے لگے کہ یہ وہ عظیم دن ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات عطا فرمائی اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق فرمایا چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے شکرانے کا روزہ رکھا اس لیے ہم بھی روزہ رکھتے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم زیادہ حق دار ہیں اور تم سے زیادہ موسیٰ علیہ السلام کے قریب ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2658]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو یہودیوں کو عاشورہ کا روزہ رکھتے پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے دریافت کیا۔ یہ دن جس کا تم روزہ رکھتے ہو اس کی کیا حقیقت و خصوصیت ہے؟ انھوں نے کہا یہ بڑی عظمت والا دن ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کی نجات دی تھی اور فرعون اور اس کی قوم کو غرقاب کیا تھا تو موسیٰ علیہ السلام نے شکرانے کے طور پر اس کا روزہ رکھا اس لیے ہم بھی (ان کی پیروی میں) اس دن روزہ رکھتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارا موسیٰ ؑ سے تعلق تم سے زیادہ ہے اور ہم ان کے زیادہ حق دار ہیں اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کو بھی (فرائض وواجبات کی طرح تاکید ی) حکم دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2658]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1130
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1130 ترقیم شاملہ: -- 2659
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ، عَنِ ابْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، لَمْ يُسَمِّهِ.
اسحاق بن ابراہیم، عبدالرزاق، معمر، ایوب سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ اس میں عبداللہ بن سعید بن جبیر کا نام ذکر نہیں کیا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2659]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ روایت بیان کرتے ہیں مگر اس میں عبداللہ بن سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بجائے ابن سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے اس کا نام (عبداللہ) نہیں لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2659]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1130
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1131 ترقیم شاملہ: -- 2660
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ، وَتَتَّخِذُهُ عِيدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صُومُوهُ أَنْتُمْ "
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ابواسامہ، ابوعمیس، قیس بن سالم، طارق بن شہاب، حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ یہودی لوگ عاشورہ کے دن کی تعظیم کرتے تھے اور اسے عید سمجھتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم بھی اس دن کو روزہ رکھو۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2660]
حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے کہ یوم عاشورہ ایسا دن تھا جس کی یہود تعظیم کرتے تھے اور اسے عید (مسرت) کا دن قرار دیتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بھی اس دن کا روزہ رکھو۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2660]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1131
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1131 ترقیم شاملہ: -- 2661
وحَدَّثَنَاه أَحْمَدُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ ، أَخْبَرَنِي قَيْسٌ ، فَذَكَرَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ. (حديث موقوف) وَزَادَ: قَالَ وَزَادَ: قَالَ أَبُو أُسَامَةَ ، فَحَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ أَهْلُ خَيْبَرَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، يَتَّخِذُونَهُ عِيدًا، وَيُلْبِسُونَ نِسَاءَهُمْ فِيهِ حُلِيَّهُمْ وَشَارَتَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَصُومُوهُ أَنْتُمْ ".
احمد بن منذر، حماد بن اسامہ، ابوعمیس، قیس، صدقہ بن ابی عمران، قیس بن سالم، طارق بن شہاب، حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ خیبر کے یہودی عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے اور اسے عید سمجھتے تھے اور اپنی عورتوں کو زیور پہناتے اور بناؤ سنگھار کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بھی اس دن کو روزہ رکھو۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2661]
حضرت ابو موسیٰ ؑ سے روایت ہے کہ اہل خیبر یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اسے عید کا دن قراردیتے تھےاور اپنی عورتوں کو ان کے زیورات پہناتے تھے اور ان کو بہترین لباس پہناتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بھی اس دن کا روزہ رکھو۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2661]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1131
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1132 ترقیم شاملہ: -- 2662
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جَمِيعًا، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَسُئِلَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؟، فَقَالَ " مَا عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ يَوْمًا، يَطْلُبُ فَضْلَهُ عَلَى الْأَيَّامِ إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ، وَلَا شَهْرًا إِلَّا هَذَا الشَّهْرَ "، يَعْنِي: رَمَضَانَ،
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، سفیان، ابن عیینہ، عبیداللہ بن ابی یزید، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عاشورہ کے دن کے روزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عاشورہ کے دن کے علاوہ کسی اور دن کی وجہ سے روزہ رکھا ہو اور نہ کسی مہینے میں سوائے اس مہینے یعنی رمضان کے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2662]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے یوم عاشورہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے جواب دیا: نہیں جانتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دن کا روزہ اس کو دوسرے دنوں پر فضیلت دیتے ہوئے رکھا ہو سوائے اس دن کے اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مہینہ کی فضیلت کی بنا پر پورا مہینہ روزے رکھے سوائے اس ماہ یعنی رمضان کے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2662]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1132
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1132 ترقیم شاملہ: -- 2663
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، بِمِثْلِهِ.
محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، عبیداللہ بن ابی یزید سے اس سند کے ساتھ اسی طرح کی یہ حدیث نقل کی گئی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2663]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2663]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1132
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. باب أَيُّ يَوْمٍ يُصَامُ فِي عَاشُورَاءَ:
باب: عاشورہ کا روزہ کس دن رکھا جائے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1133 ترقیم شاملہ: -- 2664
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنْ حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ فِي زَمْزَمَ، فَقُلْتُ لَهُ أَخْبِرْنِي عَنْ صَوْمِ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: " إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ، وَأَصْبِحْ يَوْمَ التَّاسِعِ صَائِمًا، قُلْتُ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ، قَالَ: نَعَمْ،
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع بن جراح، حاجب بن عمر، حکم بن اعرج سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اس حال میں کہ وہ زم زم کے قریب اپنی چادر سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے عاشورہ کے روزے کے بارے میں خبر دیجیے انہوں نے فرمایا: جب تو محرم کا چاند دیکھے تو گنتا رہ اور نویں تاریخ کے دن کی صبح روزے کی حالت میں کر۔ میں نے عرض کیا کہ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح روزہ رکھتے تھے انہوں نے فرمایا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2664]
حکم بن اعرج رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچا جبکہ وہ زمزم کے پاس اپنی چادر کو سرہانہ (تکیہ) بنائے ہوئے تھے تو میں نے ان سے پوچھا، مجھے عاشورہ کے روزے کے بارے میں بتائیے تو انھوں نے جواب دیا جب محرم کا چاند دیکھ لو تو اس کو گنتے رہو اور نویں دن کی صبح روزہ کی حالت میں کرو۔ میں نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا روزہ ایسے ہی رکھتے تھے؟ انھوں نے کہا، ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2664]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1133
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں