صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب فَضْلِ الْغَرْسِ وَالزَّرْعِ:
باب: درخت لگانے کی اور کھیتی کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 1552 ترقیم شاملہ: -- 3972
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جميعا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، زَادَ عَمْرٌو فِي رِوَايَتِهِ، عَنْ عَمَّارٍ . ح وَأَبُو كُرَيْبٍ فِي رِوَايَتِهِ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَا: عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ فُضَيْلٍ: عَنْ امْرَأَةِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، وَفِي رِوَايَةِ إِسْحَاقَ: عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ: رُبَّمَا قَالَ: عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرُبَّمَا لَمْ يَقُلْ، وَكُلُّهُمْ قَالُوا: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِ حَدِيثِ عَطَاءٍ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ، وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ.
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں حفص بن غیاث نے حدیث بیان کی، نیز ابوکریب اور اسحاق بن ابراہیم نے ابومعاویہ سے روایت کی، اور عمرو ناقد نے کہا: ہمیں عمار بن محمد نے حدیث بیان کی، نیز ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں ابن فُضیل نے حدیث بیان کی، ان سب (حفص، ابومعاویہ، عمار اور ابن فضیل) نے اعمش سے، انہوں نے ابوسفیان (واسطی) سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ عمرو (ناقد) نے عمار سے روایت کردہ روایت میں اور ابوکریب نے ابومعاویہ سے روایت کردہ اپنی روایت میں کہا: ام مبشر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ ابن فضیل کی روایت میں ہے: زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی بیوی سے روایت ہے، ابومعاویہ سے اسحاق کی روایت میں ہے، انہوں نے کہا: کبھی انہوں نے (ابومعاویہ) نے کہا: ام مبشر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور بسا اوقات انہوں نے (ام مبشر) نہیں کہا۔ ان سب نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے۔۔۔ (آگے) عطاء، اور ابوزبیر اور عمرو بن دینار کی حدیث (3971-3974) کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3972]
امام صاحب نے مذکورہ بالا روایت چار مختلف سندوں سے بیان کی ہے، کسی نے جابر رضی اللہ عنہ کے بعد عمار کا نام لیا اور کسی نے ابو معاویہ کا، ان دونوں نے «عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ» ”ام مبشر رضی اللہ عنہا سے“ کہا، لیکن ابن فضیل نے «عَنِ امْرَأَةِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ» ”زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی بیوی سے“ کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3972]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1552
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1553 ترقیم شاملہ: -- 3973
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا، أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا، فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَيْرٌ، أَوْ إِنْسَانٌ، أَوْ بَهِيمَةٌ، إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ ".
ابوعوانہ نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی مسلمان نہیں جو درخت لگائے یا کاشتکاری کرے، پھر اس سے کوئی پرندہ، انسان یا چوپایہ کھائے مگر اس کے بدلے میں اس کے لیے صدقہ ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3973]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان کوئی درخت لگاتا ہے یا اناج بوتا ہے اور اس سے کوئی پرندہ یا انسان یا چوپایہ یا مویشی کھاتا ہے، تو اس کے سبب اسے اجر و ثواب ملتا ہے (ان کا کھانا، اس کے لیے صدقہ بنتا ہے)۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3973]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1553
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1553 ترقیم شاملہ: -- 3974
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ نَخْلًا لِأُمِّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ، أَمُسْلِمٌ أَمْ كَافِرٌ؟ "، قَالُوا: مُسْلِمٌ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.
ابان بن یزید نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انصار کی ایک عورت ام مبشر رضی اللہ عنہا کے نخلستان میں داخل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کھجور کے درخت کس نے لگائے ہیں، کسی مسلمان نے یا کسی کافر نے؟“ ان لوگوں نے کہا: مسلمان نے۔۔۔ (آگے) ان سب کی حدیث کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3974]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری عورت ام مبشر رضی اللہ عنہا کے باغ میں تشریف لے گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کھجور کے درخت کس نے لگائے ہیں؟ کیا مسلمان نے یا کافر نے؟“ انہوں (ام مبشر رضی اللہ عنہا) نے کہا: مسلمان نے، آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3974]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1553
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
3. باب وَضْعِ الْجَوَائِحِ:
باب: آفت سے جو نقصان ہو اس کو مجرا دینا۔
ترقیم عبدالباقی: 1554 ترقیم شاملہ: -- 3975
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَهُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ ثَمَرًا ". ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ ثَمَرًا، فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ، فَلَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا، بِمَ تَأْخُذُ مَالَ أَخِيكَ بِغَيْرِ حَقٍّ ".
ابن وہب نے ہمیں ابن جریج سے خبر دی کہ ابوزبیر نے انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم نے اپنے بھائی کو پھل بیچا ہے۔“ نیز ابوضمرہ نے ہمیں ابن جریج سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزبیر سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اپنے بھائی کو پھل بیچو اور وہ کسی قدرتی آفات کا شکار ہو جائے تو تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم اس سے کچھ وصول کرو۔ تم ناحق اپنے بھائی کا مال کس بنا پر وصول کرو گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3975]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ کی سند سے ابن جریج کے واسطہ سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی روایت بیان کرتے ہیں، ایک استاد کہتے ہیں: ” «إِنْ بِعْتَ» “ ”اگر تم نے فروخت کیا“۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3975]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1554
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1554 ترقیم شاملہ: -- 3976
وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ابوعاصم نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3976]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3976]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1554
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1555 ترقیم شاملہ: -- 3977
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ ثَمَرِ النَّخْلِ حَتَّى تَزْهُوَ "، فَقُلْنَا لِأَنَسٍ: مَا زَهْوُهَا؟ قَالَ: تَحْمَرُّ، وَتَصْفَرُّ، أَرَأَيْتَكَ إِنْ مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ، بِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَ أَخِيكَ؟.
اسماعیل بن جعفر نے حمید سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رنگ بدلنے تک کھجور کا پھل بیچنے سے منع فرمایا۔ ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اس کے رنگ بدلنے (زھو) سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: وہ سرخ ہو جائے اور زرد ہو جائے، تمہاری کیا رائے ہے اگر اللہ تعالیٰ نے پھل روک دیا، تو تم کس بنیاد پر اپنے بھائی کا مال اپنے لیے حلال سمجھو گے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3977]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کا پھل رنگت کی تبدیلی سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا، ہم نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: «زَهْو» سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے جواب دیا: سرخ و زرد رنگ ہونا، ”بتاؤ، اگر اللہ تعالیٰ نے پھل سے محروم کر دیا، تو اپنے بھائی کا مال تمہارے لیے کیسے حلال ہو گیا؟“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3977]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1555
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1555 ترقیم شاملہ: -- 3978
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تُزْهِيَ "، قَالُوا: وَمَا تُزْهِيَ؟ قَالَ: تَحْمَرُّ، فَقَالَ: إِذَا مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ، فَبِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَ أَخِيكَ؟.
امام مالک نے حمید الطویل سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رنگ پکڑنے سے پہلے پھل کی بیع سے منع فرمایا۔ لوگوں نے پوچھا: رنگ پکڑنے سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے جواب دیا: وہ سرخ ہو جائے اور کہا: جب اللہ تعالیٰ پھلوں سے محروم کر دے تو تم کس بنیاد پر اپنے بھائی کا مال اپنے لیے حلال سمجھو گے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3978]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «زَهْوٌ» سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3978]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1555
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1555 ترقیم شاملہ: -- 3979
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنْ لَمْ يُثْمِرْهَا اللَّهُ، فَبِمَ يَسْتَحِلُّ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ؟ ".
عبدالعزیز بن محمد نے حمید کے واسطے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ تعالیٰ اسے بارآور نہ کرے تو تم میں سے کوئی اپنے بھائی کے مال کو کس بنیاد پر اپنے لیے حلال سمجھے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3979]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ تعالیٰ نے پھل نہ لگایا تو تم اپنے بھائی کے مال کو اپنے لیے کیسے حلال قرار دو گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3979]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1555
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1554 ترقیم شاملہ: -- 3980
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَاللَّفْظُ لِبِشْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ ، عَنْ جَابِرٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ ". قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ، وَهُوَ صَاحِبُ مُسْلِمٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، بِهَذَا.
بشر بن حکم، ابراہیم بن دینار اور عبدالجبار بن علاء سے روایت ہے، الفاظ بشر کے ہیں، سب نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے حمید اعرج سے حدیث بیان کی، انہوں نے سلیمان بن عتیق سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آفات سے پہنچنے والے نقصان کی صورت میں (قیمت) ساقط کر دینے کا حکم دیا ہے۔ ابواسحاق ابراہیم نے، وہ امام مسلم کے شاگرد ہیں، کہا: مجھے عبدالرحمٰن بن بشر نے بھی سفیان سے یہی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3980]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”آفات سے پہنچنے والے نقصان کو وضع کرنے“ کا حکم دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3980]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1554
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
4. باب اسْتِحْبَابِ الْوَضْعِ مِنَ الدَّيْنِ:
باب: قرض میں سے کچھ معاف کر دینا مستحب ہے (اگر قرضدار کو تکلیف ہو)۔
ترقیم عبدالباقی: 1556 ترقیم شاملہ: -- 3981
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا، فَكَثُرَ دَيْنُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ "، فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغُرَمَائِهِ: " خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ ".
لیث نے ہمیں بکیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے عیاض بن عبداللہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی کا ان پھلوں میں نقصان ہو گیا جو اس نے خریدے تھے، اس کا قرض بڑھ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر صدقہ کرو۔“ لوگوں نے اس پر صدقہ کیا لیکن وہ بھی قرض کی ادائیگی (جتنی مالیت) تک نہ پہنچا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قرض داروں سے فرمایا: ”جو تمہیں مل جائے، وہ لے لو، تمہارے لیے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3981]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک آدمی کو ان پھلوں کی بنا پر جو اس نے خریدے تھے، نقصان پہنچ گیا اور اس پر کافی قرض چڑھ گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو صدقہ دو۔“ تو لوگوں نے اس کو صدقہ دیا، اور اس سے اس کا قرض ادا نہ ہو سکا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا: ”جو تم نے پا لیا ہے وہ لے لو، اور تمہارے لیے بس یہی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3981]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1556
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة