🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب تَحْرِيمِ مَطْلِ الْغَنِيِّ وَصِحَّةِ الْحَوَالَةِ وَاسْتِحْبَابِ قَبُولِهَا إِذَا أُحِيلَ عَلَى مَلِيٍّ:
باب: جو شخص مالدار ہو اس کو قرض ادا کرنے میں دیر کرنا حرام ہے اور جب قرض اتارا جائے مالدار پر تو اس کا قبول کر لینا مستحب ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1564 ترقیم شاملہ: -- 4002
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ، وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ، فَلْيَتْبَعْ "،
اعرج (عبدالرحمٰن بن ہرمز مدنی) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غنی آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی کو کسی مال دار (سے وصولی) پر لگایا جائے تو اسے لگ جانا چاہیے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4002]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غنی کا ٹال مٹول کرنا حق تلفی ہے، اور جب تم میں سے کسی کو مالدار کے پیچھے لگایا جائے (قرض کا انتقال مالدار کی طرف کیا جائے)، تو وہ اس کا پیچھا کرے (اس انتقال اور حوالہ کو قبول کر لے)۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4002]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1564
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1564 ترقیم شاملہ: -- 4003
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَا جَمِيعًا، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
ہمام بن منبہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔۔ اسی کے مانند۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4003]
امام صاحب نے اپنے دو اور اساتذہ کی سند سے بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالا روایت نقل کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4003]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1564
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. باب تَحْرِيمِ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ الَّذِي يَكُونُ بِالْفَلاَةِ وَيُحْتَاجُ إِلَيْهِ لِرَعْيِ الْكَلإِ وَتَحْرِيمِ مَنْعِ بَذْلِهِ وَتَحْرِيمِ بَيْعِ ضِرَابِ الْفَحْلِ:
باب: جو پانی جنگل میں ضرورت سے زیادہ ہو اس کا بیچنا حرام ہے جب لوگوں کو اس کو احتیاج ہو گھاس چرانے میں اور اس کا روکنا منع ہے اور نر کدانے کی اجرت لینا منع ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1565 ترقیم شاملہ: -- 4004
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، جَمِيعًا عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ ".
وکیع اور یحییٰ بن سعید نے ابن جریج سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزبیر سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچ جانے والے پانی کو فروخت کرنے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4004]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضرورت سے زائد پانی کو فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4004]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1565
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1565 ترقیم شاملہ: -- 4005
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ ضِرَابِ الْجَمَلِ، وَعَنْ بَيْعِ الْمَاءِ، وَالْأَرْضِ لِتُحْرَثَ "، فَعَنْ ذَلِكَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
روح بن عبادہ نے ہمیں خبر دی، کہا: ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کی جفتی فروخت کرنے، کاشتکاری کے لیے پانی اور زمین کو فروخت کرنے سے منع فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ساری باتوں سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4005]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کی جفتی کو بیچنے، پانی فروخت کرنے اور زمین بٹائی پر دینے سے منع فرمایا ہے، ان چیزوں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4005]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1565
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1566 ترقیم شاملہ: -- 4006
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلَأُ ".
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زائد پانی کو نہ روکا جائے کہ اس کے ذریعے سے گھاس روکی جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4006]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ضرورت سے زائد پانی کو گھاس کی حفاظت و بندش کی خاطر نہ روکا جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4006]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1566
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1566 ترقیم شاملہ: -- 4007
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أن أبا هريرة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَمْنَعُوا فَضْلَ الْمَاءِ لِتَمْنَعُوا بِهِ الْكَلَأَ ".
ابن شہاب سے روایت ہے، کہا: مجھے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زائد پانی نہ روکو کہ اس کے ذریعے سے تم گھاس روک دو۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4007]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ضرورت سے زائد پانی نہ روکو، جس کا نتیجہ یہ نکلے کہ تم اس طرح گھاس کو روک سکو (وہ تمہارے لیے محفوظ ہو جائے)۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4007]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1566
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1566 ترقیم شاملہ: -- 4008
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ ، أَنَّ هِلَالَ بْنَ أُسَامَةَ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُبَاعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُبَاعَ بِهِ الْكَلَأُ ".
ہلال بن اسامہ نے خبر دی کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے انہیں بتایا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زائد پانی کو فروخت نہ کیا جائے کہ اس کے ذریعے سے گھاس کو فروخت کیا جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4008]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ضرورت سے فالتو پانی نہ بیچا جائے کہ اس سے گھاس کو فروخت کیا جا سکے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4008]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1566
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. باب تَحْرِيمِ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَالنَّهْيِ عَنْ بَيْعِ السِّنَّوْرِ:
باب: کتے کی قیمت اور نجومی کی مٹھائی اور رنڈی کی خرچی اور بلی کی بیع حرام ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1567 ترقیم شاملہ: -- 4009
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ: ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ ".
امام مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے اور انہوں نے حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ کے معاوضے اور کاہن کے نذرانے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4009]
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ کی اجرت اور کاہن کے نذرانے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4009]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1567
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1567 ترقیم شاملہ: -- 4010
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، كِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ: أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مَسْعُودٍ.
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رُمح نے لیث بن سعد سے روایت کی، نیز ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث سنائی، ان دونوں (لیث بن سعد اور سفیان بن عیینہ) نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ ابن رمح کی روایت کردہ لیث کی حدیث میں ہے کہ انہوں (ابوبکر بن عبدالرحمٰن) نے حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ سے سماعت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4010]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سند سے مذکورہ بالا روایت، زہری ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4010]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1567
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1568 ترقیم شاملہ: -- 4011
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ: سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ، يُحَدِّثُ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " شَرُّ الْكَسْبِ: مَهْرُ الْبَغِيِّ، وَثَمَنُ الْكَلْبِ، وَكَسْبُ الْحَجَّامِ ".
محمد بن یوسف سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سائب بن یزید سے سنا، وہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: بدترین کمائی زانیہ کی اجرت، کتے کی قیمت اور پچھنے لگانے والے کی کمائی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4011]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بدترین کمائی فاحشہ کی اجرت، کتے کی قیمت اور سینگی لگانے والے کی اجرت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4011]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1568
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں