صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب اسْتِحْبَابِ الْوَضْعِ مِنَ الدَّيْنِ:
باب: قرض میں سے کچھ معاف کر دینا مستحب ہے (اگر قرضدار کو تکلیف ہو)۔
ترقیم عبدالباقی: 1556 ترقیم شاملہ: -- 3982
حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
عمرو بن حارث نے بکیر بن اشج سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3982]
امام صاحب ایک اور استاذ کی سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3982]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1556
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1557 ترقیم شاملہ: -- 3983
وحَدَّثَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِنَا، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي أَخِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أُمَّهُ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَوْتَ خُصُومٍ بِالْبَابِ عَالِيَةٍ أَصْوَاتُهُمَا، وَإِذَا أَحَدُهُمَا يَسْتَوْضِعُ الْآخَرَ، وَيَسْتَرْفِقُهُ فِي شَيْءٍ، وَهُوَ يَقُولُ: وَاللَّهِ لَا أَفْعَلُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمَا، فَقَالَ: " أَيْنَ الْمُتَأَلِّي عَلَى اللَّهِ لَا يَفْعَلُ الْمَعْرُوفَ؟ قَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَلَهُ أَيُّ ذَلِكَ أَحَبَّ ".
عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے کے پاس جھگڑا کرنے والوں کی آواز سنی، ان دونوں کی آوازیں بلند تھیں اور ان میں سے ایک دوسرے سے کچھ کمی کرنے کی اور کسی چیز میں نرمی کی درخواست کر رہا تھا اور وہ (دوسرا) کہہ رہا تھا: اللہ کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کے پاس باہر تشریف لے گئے اور فرمایا: ”اللہ (کے نام) پر قسم اٹھانے والا کہاں ہے کہ وہ نیکی کا کام نہیں کرے گا؟“ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں ہوں، اس شخص کے لیے وہ صورت ہے جو یہ پسند کرے۔ (وہ فوراً اپنے بھائی کا مطالبہ مان گیا)۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3983]
مجھے بہت سے اساتذہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث سنائی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے پر جھگڑنے والوں کی آواز سنی جو بلند ہو رہی تھی، ان میں سے ایک دوسرے سے نقصان وضع کرنے کی استدعا کر رہا تھا اور اس سے اصل رقم میں کچھ کمی کا مطالبہ کر رہا تھا اور دوسرا کہہ رہا تھا: اللہ کی قسم! میں یہ نہیں کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکل کر اس کے پاس آئے اور فرمایا: ”کہاں ہے وہ جو اللہ کی قسم اٹھا رہا تھا کہ میں نیکی اور بھلائی کا کام نہیں کروں گا؟“ اس نے کہا: میں ہوں، اے اللہ کے رسول! میں اس کی پسند کا کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3983]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1557
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1558 ترقیم شاملہ: -- 3984
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ وَنَادَى كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، فَقَالَ: يَا كَعْبُ، فَقَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، " فَأَشَارَ إِلَيْهِ بِيَدِهِ أَنْ ضَعِ الشَّطْرَ مِنْ دَيْنِكَ، قَالَ كَعْبٌ: قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُمْ فَاقْضِهِ ".
عبداللہ بن وہب نے ہمیں خبر دی، کہا: مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، کہا: مجھے عبداللہ بن کعب بن مالک نے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں، مسجد میں، ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے قرض کا مطالبہ کیا جو ان کے ذمے تھا تو ان کی آوازیں بلند ہو گئیں، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر کے اندر ان کی آوازیں سنیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف گئے یہاں تک کہ آپ نے اپنے حجرے کا پردہ ہٹایا اور کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو آواز دی: ”کعب!“ انہوں نے عرض کی: حاضر ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ نے اپنے ہاتھ سے انہیں اشارہ کیا کہ اپنے قرض کا آدھا حصہ معاف کر دو۔ کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! کر دیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسرے سے) فرمایا: ”اٹھو اور اس کا قرض چکا دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3984]
حضرت عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہما اپنے والد (حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنا قرض جو حضرت ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ کے ذمہ تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں، اس کا ان سے مسجد میں مطالبہ کیا، ہم دونوں کی (تکرار کی وجہ سے) آوازیں بلند ہو گئیں، حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں وہ سن لیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تک آنے کے لیے اپنے حجرے کا پردہ اٹھایا اور کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو آواز دی اور فرمایا: ”اے کعب!“ انہوں نے عرض کیا: «لَبَّيْكَ» ”حاضر ہوں“ اے اللہ کے رسول! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے انہیں اشارہ فرمایا: ”اپنا آدھا قرضہ چھوڑ دو۔“ کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے (ایسا) کر دیا، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقروض کو فرمایا: ”اٹھ اور اس کا قرض ادا کر۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3984]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1558
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1558 ترقیم شاملہ: -- 3985
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ تَقَاضَى دَيْنًا لَهُ عَلَى ابْنِ أَبِي حَدْرَدٍ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ،
عثمان بن عمر نے ہمیں خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں یونس نے زہری سے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن کعب بن مالک سے روایت کی کہ انہیں کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہوں نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے اپنے قرض کا مطالبہ کیا۔۔۔ (آگے) ابن وہب کی حدیث کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3985]
عبداللہ بن کعب بن مالک سے روایت ہے کہ انہیں کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے اپنے قرض کا مطالبہ کیا، آگے مذکورہ بالا حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3985]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1558
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1558 ترقیم شاملہ: -- 3986
قَالَ مُسْلِم: وَرَوَى اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ كَانَ لَهُ مَالٌ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ، فَلَقِيَهُ فَلَزِمَهُ، فَتَكَلَّمَا حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا، فَمَرَّ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَا كَعْبُ "، فَأَشَارَ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يَقُولُ: النِّصْفَ، فَأَخَذَ نِصْفًا مِمَّا عَلَيْهِ وَتَرَكَ نِصْفًا.
عبدالرحمٰن بن ہُرمز نے عبداللہ بن کعب بن مالک سے اور انہوں نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ان کا کچھ مال عبداللہ بن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ کے ذمے تھا۔ وہ انہیں ملے تو کعب رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ لگ گئے، ان کی باہم تکرار ہوئی حتیٰ کہ ان کی آوازیں بلند ہو گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان سے پاس سے گزرا تو آپ نے فرمایا: ”کعب!“ پھر آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، گویا آپ فرما رہے تھے کہ آدھا لے لو، چنانچہ انہوں نے اس مال میں سے جو اس (ابن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ) کے ذمے تھا، آدھا لے لیا اور آدھا چھوڑ دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3986]
امام مسلم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ لیث بن سعد رحمہ اللہ نے اپنی سند سے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کی، کہ میرا، حضرت عبداللہ بن ابی حدرد رضی اللہ عنہ کے ذمے مال تھا، وہ مجھے مل گئے تو میں نے انہیں پکڑ لیا، دونوں میں تکرار ہوا جس سے ان کی آوازیں بلند ہو گئیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اور فرمایا: ”اے کعب!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا، گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں: ”آدھ لے لو۔“ تو انہوں نے آدھا قرضہ ان سے لے لیا اور آدھا چھوڑ دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3986]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1558
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
5. باب مَنْ أَدْرَكَ مَا بَاعَهُ عِنْدَ الْمُشْتَرِي وَقَدْ أَفْلَسَ فَلَهُ الرُّجُوعُ فِيهِ:
باب: اگر خریدار مفلس ہو جائے اور بائع مشتری کے پاس اپنی چیز بجنسہ پائے تو واپس لے سکتا ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1559 ترقیم شاملہ: -- 3987
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَدْرَكَ مَالَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ، أَوْ إِنْسَانٍ قَدْ أَفْلَسَ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ "،
زہیر بن حرب نے کہا: ہمیں یحییٰ بن سعید نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے خبر دی کہ انہیں عمر بن عبدالعزیز نے خبر دی، انہیں ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام نے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔ یا (اس طرح کہا:) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے۔۔: ”جس نے اپنا مال جوں کا توں اس شخص کے پاس پایا جو مفلس ہو چکا ہے۔۔ یا اس انسان کے پاس جو مفلس ہو چکا ہے۔۔ تو وہ دوسروں کی نسبت اس (مال) کا زیادہ حق دار ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3987]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”جس نے اپنا ہو بہو مال اس انسان کے پاس پایا جو مفلس ہو چکا ہے یا اسے دیوالیہ قرار دے دیا گیا ہے، تو وہ دوسروں سے اس کا زیادہ حقدار ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3987]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1559
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1559 ترقیم شاملہ: -- 3988
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، جميعا عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَيَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، كل هؤلاء عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ زُهَيْرٍ، وقَالَ ابْنُ رُمْحٍ: مِنْ بَيْنِهِمْ فِي رِوَايَتِهِ: أَيُّمَا امْرِئٍ فُلِّسَ.
یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ہشیم نے خبر دی، (اسی طرح) قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح دونوں نے لیث بن سعد سے روایت کی اور (اسی طرح) ابوربیع اور یحییٰ بن حبیب حارثی نے کہا: ہمیں حماد بن زید نے حدیث بیان کی۔ ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث سنائی۔ محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا: ہمیں عبدالوہاب، یحییٰ بن سعید (القطان) اور حفص بن غیاث، سب نے یحییٰ بن سعید سے، اسی سند کے ساتھ زہیر کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی، البتہ ان میں سے ابن رمح نے اپنی روایت میں کہا: ”جس کسی آدمی کو مفلس قرار دیا گیا ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3988]
امام صاحب پانچ سندوں سے سات اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، صرف ابن رمح کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”جس انسان کو دیوالیہ قرار دیا گیا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3988]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1559
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1559 ترقیم شاملہ: -- 3989
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَهُوَ ابْنُ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيُّ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حُسَيْنٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَهُ، عَنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِي الرَّجُلِ الَّذِي يُعْدِمُ، إِذَا وُجِدَ عِنْدَهُ الْمَتَاعُ، وَلَمْ يُفَرِّقْهُ أَنَّهُ لِصَاحِبِهِ الَّذِي بَاعَهُ ".
ابن ابی حسین نے مجھے حدیث بیان کی کہ انہیں ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے خبر دی کہ انہیں عمر بن عبدالعزیز نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن کی (روایت کردہ) حدیث سنائی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی (روایت کردہ) حدیث بیان کی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں روایت کی جو کنگال ہو جائے، جب اس کے پاس سامان ملے اور اس نے اس میں تصرف نہ کیا ہو، (فرمایا:) ”تو وہ اس کے مالک کا ہے، جس نے اسے فروخت کیا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3989]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ ”جو آدمی مال سے محروم ہو جاتا ہے، جب اس کے پاس ایسا سامان پایا جائے، جس میں اس نے تصرف نہیں کیا ہے، تو وہ اس کے اس مالک کا ہے، جس نے اسے فروخت کیا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3989]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1559
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1559 ترقیم شاملہ: -- 3990
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَفْلَسَ الرَّجُلُ، فَوَجَدَ الرَّجُلُ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ ".
شعبہ نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی، انہیں نضر بن انس سے، انہوں نے بشیر بن نہیک سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی مفلس ہو جائے اور کوئی آدمی (اس کے پاس) اپنا مال جوں کا توں پائے تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3990]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو انسان دیوالیہ ہو جائے، اور دوسرا انسان اسی کے پاس اپنا مال بعینہ پائے، تو وہی اس کا حقدار ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3990]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1559
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1559 ترقیم شاملہ: -- 3991
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ أَيْضًا، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، كِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَقَالَا: فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنَ الْغُرَمَاءِ.
سعید اور ہشام دونوں نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کی مانند روایت کی اور کہا: ”تو وہ (دیگر) قرض خواہوں کی نسبت اس (مال) کا زیادہ حقدار ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3991]
امام قتادہ رحمہ اللہ کے دو شاگرد، مذکورہ بالا سند سے، مذکورہ بالا روایت میں یہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ قرض خواہوں کے مقابلہ میں اس کا زیادہ حق دار ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 3991]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1559
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة