🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
اس حدیث کا بیان جو افطاری کے وقت کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ جبکہ میرے نزدیک اس کا معنی امر و حُکم کا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2058
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , قَالا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنَا عَبْدَةُ , عَنْ هِشَامٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ، وَأَدْبَرَ النَّهَارُ، وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ أَفْطَرَ الصَّائِمُ" . قَالَ هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ: فَقَدْ أَفْطَرْتُ. وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ:" إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ مِنْ هَاهُنَا". وَلَمْ يَقُلْ أَحْمَدُ وَلا هَارُونُ: لِي. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ:" فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ"، لَفْظُ خَبَرٍ وَمَعْنَاهُ مَعْنَى الأَمْرِ، أَيْ: فَلْيُفْطِرِ الصَّائِمُ , إِذْ قَدْ حَلَّ لَهُ الإِفْطَارُ. وَلَوْ كَانَ مَعْنَى هَذِهِ اللَّفْظَةِ مَعْنَى لَفْظِهِ، كَانَ جَمِيعُ الصُّوَّامُ فِطْرُهُمْ وَقْتًا وَاحِدًا , وَلَمْ يَكُنْ لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ" , وَلِقَوْلِهِ:" لا يَزَالُ الدِّينُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ"، مَعْنًى , وَلا كَانَ لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَحَبُّ عِبَادِي إِلَيَّ أَعْجَلُهُمْ فِطْرًا" مَعْنًى لَوْ كَانَ اللَّيْلُ إِذَا أَقْبَلَ وَأَدْبَرَ النَّهَارُ، وَغَابَتِ الشَّمْسُ كَانَ الصُّوَّامُ جَمِيعًا يُفْطِرُونَ , وَلَوْ كَانَ فِطْرُ جَمِيعِهِمْ فِي وَقْتٍ وَاحِدٍ لا يَتَقَدَّمُ فِطْرُ أَحَدِهِمْ غَيْرَهُ لَمَا كَانَ لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ وَجَدَ تَمْرًا، فَلْيُفْطِرْ عَلَيْهِ , وَمَنْ لَمْ يَجِدْ، فَلْيُفْطِرْ عَلَى الْمَاءِ" مَعْنًى , وَلَكِنَّ مَعْنَى قَوْلِهِ:" فَقَدْ أَفْطَرَ" , أَيْ: فَقَدْ حَلَّ لَهُ الْفِطْرُ , وَاللَّهُ أَعْلَمُ
سیدنا عاصم بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب رات آجائے اور دن چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ دار، روزہ کھول لے۔ جناب ہارون کی روایت میں ہے کہ تو تم نے روزہ کھول دیا۔ اور جناب احمد بن عبدہ کی روایت میں ہے کہ جب ادھر سے رات آجائے۔ جناب احمد اور ہارون کی روایات میں لی (مجھے فرمایا) کا لفظ نہیں ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ تو روزے دار نے روزہ کھول دیا۔ یہ الفاظ خبری انداز کے ہیں، لیکن ان کا معنی امر کا ہے۔ یعنی تو روزے دار روزہ کھول دے کیونکہ اس کی افطاری کا وقت ہوگیا ہے۔ اور اگر ان الفاظ کا معنی الفاظ کے مطابق خبری ہوتا تو تما م روزے داروں کی افطاری کا وقت ایک ہی ہوتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درج ذیل فرامین کا کوئی معنی نہیں رہتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: لوگ جب تک افطاری کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے، وہ خیر وبھلائی کے ساتھ رہیں گے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ہے کہ دین اس وقت تک غالب رہے گا جب تک لوگ روزہ کھولنے میں جلدی کرتے رہیں گے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا بھی کوئی معنی نہیں ہو گا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندوں میں سے میرا زیادہ محبوب وہ ہے جو اُن میں سے جلدی افطاری کرتا ہے۔ اگر رات کے آنے اور دن کے جانے پر اور سورج کے غروب ہونے پر تمام روزے دار روزہ کھول دیتے اور اگر ان سب کی افطاری ایک ہی وقت میں ہوتی اور کوئی شخص دوسرے سے پہلے افطاری نہ کرسکتا تو پھر آپ کے اس فرمان کا بھی کوئی معنی نہیں رہتا۔ آپ کا ارشاد ہے: جس شخص کو کھجور ملے وہ اسی سے افطاری کرلے اور جسے کھجور نہ ملے تو وہ پانی سے روزہ کھول لے۔ لیکن آپ کے اس فرمان تو اُس کا روزہ کھل گیا کا معنی یہ ہے کہ اُس کے لئے روزہ کھولنا حلال ہوگیا۔ واللہ علم [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2058]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1954، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1100، وابن الجارود فى "المنتقى"، 432، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2058، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3513، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3296، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2351، والترمذي فى (جامعه) برقم: 698، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1742، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8101، وأحمد فى (مسنده) برقم: 197، والحميدي فى (مسنده) برقم: 20»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
لوگ اس وقت تک خیر و بھلائی پر رہیں گے جب تک روزہ کھولنے میں جلدی کریں گے اور اس میں گویا اس بات کی دلیل ہے کہ جب وہ روزہ کھولنے میں تاخیر کریں گے تو وہ شر میں واقع ہو جائیں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2059
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ سَهْلٍ وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , ح وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ"
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ اُس وقت تک خیر وبھلائی کے ساتھ رہیں گے جب تک وہ روزہ کھولنے میں جلدی کرتے رہیں گے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2059]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1957، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1098، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1011، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2059، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3502، النسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3298، والترمذي فى (جامعه) برقم: 699، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1741، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1697، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8215، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23267»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
دین اسلام کے غلبے کا بیان - جب تک مسلمان افطاری میں جلدی کرتے رہیں گے - اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ دین کا اطلاق اسلام کے بعض شعبوں پربھی ہو جاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2060
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسُ , حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يَزَالُ الدِّينُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ , إِنَّ الْيَهُودَ، وَالنَّصَارَى يُؤَخِّرُونَ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دین اسلام اُس وقت تک غالب رہے گا جب تک لوگ روزہ کھولنے میں جلدی کرتے رہیں گے۔ بلاشبہ یہود و نصاری افطاری کرنے میں تاخیر کرتے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2060]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2060، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3503، الحاكم فى (مستدركه) برقم: 1578، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3299، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2353، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1698، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8216، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9944»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نبی اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت اُس وقت تک مستحسن سمجھی جائے گی جب تک روزہ کھولنے کے لئے ستاروں کے طلوع کا انتظارنہیں کیا جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2061
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَزَالُ أُمَّتِي عَلَى سُنَّتِي مَا لَمْ تَنْتَظِرْ بِفِطْرِهَا النُّجُومَ" . قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ صَائِمًا أَمَرَ رَجُلا، فَأَوْفَى عَلَى شَيْءٍ , فَإِذَا قَالَ: غَابَتِ الشَّمْسُ , أَفْطَرَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَكَذَا حَدَّثَنَا بِهِ ابْنُ أَبِي صَفْوَانَ , وَأَهَابُ أَنْ يَكُونَ الْكَلامُ الأَخِيرُ عَنْ غَيْرِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ , لَعَلَّهُ مِنْ كَلامِ الثَّوْرِيِّ أَوْ مِنْ قَوْلِ أَبِي حَازِمٍ، فَأُدْرِجَ فِي الْحَدِيثِ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری اُمّت اُس وقت تک میری سنّت پر قائم رہے گی جب تک وہ روزہ کھولنے کے لئے ستاروں کے طلوع ہونے کا انتظار نہیں کرے گی۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب روزے سے ہوتے تو ایک شخص کو حُکم دیتے تو وہ کسی بلند جگہ سے (سورج کے غروب ہونے کو) دیکھتا، پھر جب وہ اطلاع دیتا کہ سورج غروب ہوگیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کھول لیتے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ ہمیں محمد بن ابی صفوان نے اس طرح روایت بیان کی ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ یہ آخری کلام سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی نہیں ہوگی۔ شاید یہ کلام امام سفیان ثوری یا ابوحازم کا قول ہوگا، جو حدیث میں درج کر دیا گیا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2061]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2061، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3510، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1589»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
جلدی روزہ افطار کرنے والوں سے اللہ تعالی کے محبت کرنے کا بیان

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2062
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ , نا الأَوْزَاعِيُّ , حَدَّثَنِي قُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَيْوَئِيلَ , أَنَّهُ سَمِعَ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ. ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ , حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ , حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ وَهُوَ الزُّهْرِيُّ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَحَبُّ عِبَادِي إِلَيَّ أَعْجَلُهُمْ فِطْرًا"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا سب سے محبوب بندہ وہ ہے جو ان میں سے سب سے جلدی افطاری کرتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2062]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2062، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3507، 3508، والترمذي فى (جامعه) برقم: 700، 701، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8217، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7361»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نماز مغرب سے پہلے روزہ کھولنا مستحب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2063
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْوَاسِطِيُّ , حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ , ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ , حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ غُصْنٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ," أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لا يُصَلِّي الْمَغْرِبَ حَتَّى يُفْطِرَ , وَلَوْ كَانَ شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ" . قَالَ مُوسَى بْنُ سَهْلٍ: أَصْلُهُ كُوفِيٌّ يَعْنِي الْقَاسِمَ بْنَ غُصْنٍ رَوَى عَنْهُ وَكِيعٌ , وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز مغرب، افطاری کرنے کے بعد ادا کرتے تھے اگر چہ افطاری میں پانی کا ایک گھونٹ ہی ہوتا۔ جناب موسیٰ بن سہل کہتے ہیں کہ قاسم بن غصن کوفہ کے رہنے والے ہیں، ان سے امام وکیع اور سلیمان بن حیان روایت کرتے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2063]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2063، 2065، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3504، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1582، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8229، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 3792»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
روزہ کھلوانے والے کو روزے دار کے اجر میں کمی کیے بغیر اُس کے برابر ثواب دیئے جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2064
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ , حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ , ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى كِلاهُمَا , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا، أَوْ جَهَّزَ حَاجًّا , أَوْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ، أَوْ فَطَّرَ صَائِمًا كَانَ لَهُ مِثْلُ أُجُورِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ" . هَذَا حَدِيثُ الصَّنْعَانِيِّ. وَلَمْ يَقُلْ عَلِيٌّ: أَوْ جَهَّزَ حَاجًّا
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے مجاہد کو (سامان جنگ دے کر) تیار کیا یا حاجی کو تیاری میں مدد دی یا اس کے بعد اُس کے گھر والوں کا خیال رکھا، روزے دار کو افطاری کرائی تو اُسے ان کے برابر اجر ملے گا، جبکہ ان سب کے اجر وثواب میں بھی کچھ کمی نہیں ہوگی۔ یہ حدیث جناب صنعانی کی ہے۔ اور جناب علی بن منذر کی روایت میں یا حاجی کو تیاری میں مدد دی کے الفاظ نہیں ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2064]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2843، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1895، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1113، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2064، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3429، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3180، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2509، والترمذي فى (جامعه) برقم: 807، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1746، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2325، 2328، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8234، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17304»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
تازہ کھجور موجود ہو تو اُس سے روزہ کھولنا مستحب ہے اور اگر تازہ کھجور (رطب) موجود نہ ہو تو خشک کھجور سے روزہ افطار کرنا مستحب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2065
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ , حَدَّثَنَا مِسْكِينُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّمِيمِيُّ , حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ صَائِمًا لَمْ يُصَلِّ حَتَّى نَأْتِيَهُ بِرُطَبٍ وَمَاءٍ، فَيَأْكُلُ وَيَشْرَبُ، إِذَا كَانَ الرُّطَبُ , وَأَمَّا الشِّتَاءُ لَمْ يُصَلِّ حَتَّى نَأْتِيَهُ بِتَمْرٍ وَمَاءٍ" . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحْرِزٍ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ الْجُعْفِيِّ , عَنْ زَائِدَةَ , عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ بِهَذَا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا روزہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت تک نماز نہ پڑھتے جب تک ہم آپ کے پاس پانی اور رطب (تر و تازہ) کھجوریں نہ لے آتے اور وہ کھا نہ لیتے اور پانی پی نہ لیتے۔ جب تازہ کھجوریں میسر ہوتیں۔ لیکن سردیوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت تک نماز ادا نہ کرتے جب تک ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خشک کھجوریں اور پانی نہ لے آتے (اور آپ افطاری نہ کر لیتے)۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2065]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2063، 2065، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3504، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1582، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8229، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 3792»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
جب روزے دار کو تازہ خشک کھجوریں دونوں ہی نہ ملیں تو پانی کے ساتھ روزہ کھولنا مستحب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2066
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مُقَدَّمٍ , وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالا: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ وَجَدَ تَمْرًا فَلْيُفْطِرْ عَلَيْهِ , وَمَنْ لا فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ , فَإِنَّهُ طُهُورٌ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ , عَنْ شُعْبَةَ إِلا هَذَا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو خشک کھجور مل جائے تو وہ اس سے روزہ کھولے، اور جسے نہ ملے تو وہ پانی سے روزہ افطار کرے کیونکہ وہ پاکیزہ ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس روایت کو سعید بن عامر کی سند سے امام شعبہ سے صرف ابوبکر بن اسحاق اور محمد بن عمر ہی بیان کرتے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2066]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2066، 2067، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3514، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1579، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2355، والترمذي فى (جامعه) برقم: 658، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1699، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8225، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16476»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں