🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ مَا تَبَقَّى بَعْدَ الْفَرِيضَةِ لِلْعَصَبَةِ
باب
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4018 ترقیم الرسالہ : -- 4089
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا خَلَفُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَامَ فَسَأَلَ:" هَلْ أَحَدٌ عَلِمَ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِيرَاثِ الْمَرْأَةِ مِنْ عَقْلِ زَوْجِهَا؟، فَقَالَ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ : أَنَا عِنْدِي فِي ذَلِكَ عِلْمٌ، قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيْنَا أَنْ نُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ عَقْلِ زَوْجِهَا أَشْيَمَ" ،.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے دریافت کیا: کیا آپ میں سے کسی کے پاس اس بارے میں علم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل ہو جانے والے شوہر کی دیت میں عورت کی وراثت کے بارے میں کوئی فیصلہ دیا ہو؟ تو اس بات پر سیدنا ضحاک بن سفیان رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا تھا: میرے پاس اس بارے میں علم ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ خط لکھا تھا کہ ہم اشیم ضبابی کی اہلیہ کو ان کے شوہر اشیم کی دیت میں سے حصہ دیں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4089]
ترقیم العلمیہ: 4018
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) 1533، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1039، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 85، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2927، بدون ترقيم، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1415، 2110، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2642، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 295، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4089، 4090، 4091، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 15986، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 28123، 28124»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4019 ترقیم الرسالہ : -- 4090
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، وَابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ:" مَا أَرَى الدِّيَةَ إِلا لِلْعَصَبَةِ، لأَنَّهُمْ يَعْقِلُونَ عَنْهُ، فَهَلْ سَمِعَ مِنْكُمْ أَحَدٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ ثَمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ. وَقَالَ: فَأَخَذَ بِذَلِكَ عُمَرُ، زَادَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَكَانَ قَتْلُهُ خَطَأً.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں یہ سمجھتا ہوں کہ دیت صرف عصبہ رشتہ داروں کو ملے گی، کیونکہ یہی لوگ دیت ادا بھی کرتے ہیں۔ کیا آپ میں سے کسی نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کچھ سنا ہے؟ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے اور اس میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کے مطابق فیصلہ دیا۔ ابن جریج نامی راوی نے یہ الفاظ اضافی نقل کیے ہیں: وہ صاحب خطا کے طور پر قتل ہوئے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4090]
ترقیم العلمیہ: 4019
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) 1533، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1039، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 85، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2927، بدون ترقيم، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1415، 2110، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2642، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 295، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4089، 4090، 4091، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 15986، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 28123، 28124»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4020 ترقیم الرسالہ : -- 4091
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْجَرَّاحِ ، نَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ: الدِّيَةُ لِلْعَاقِلَةِ، وَلا تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا شَيْئًا، حَتَّى قَالَ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ : كَتَبَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب نے یہ فرمایا تھا: دیت خاندان والوں کو ملے گی اور عورت اپنے شوہر کی دیت میں سے کسی چیز کی وارث نہیں بنے گی۔ یہاں تک کہ سیدنا ضحاک بن سفیان رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ خط لکھا تھا (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4091]
ترقیم العلمیہ: 4020
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) 1533، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1039، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 85، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2927، بدون ترقيم، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1415، 2110، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2642، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 295، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4089، 4090، 4091، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 15986، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 28123، 28124»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4021 ترقیم الرسالہ : -- 4092
نَا نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، نَا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى ، نَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ:" الدِّيَةُ تُقْسَمُ عَلَى فَرَائِضِ اللَّهِ فَيَرِثُ مِنْهَا كُلُّ وَارِثٍ" .
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ فرائض کے مطابق دیت کو تقسیم کیا جائے گا اور وارث اس میں سے حصہ لے گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4092]
ترقیم العلمیہ: 4021
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3084، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 308، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12552، 16170، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4092، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 28129»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4022 ترقیم الرسالہ : -- 4093
نَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، نَا أَبُو الأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، نَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى جِئْنَا امْرَأَةً بِالأَسْوَافِ وَهِيَ جَدَّةُ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَزُرْنَاهَا ذَلِكَ الْيَوْمَ فَرَشَّتْ لَنَا صُوَرًا فَقَعَدْنَا تَحْتَهُ بَيْنَ نَخْلٍ، وَذَبَحَتْ لَنَا شَاةً، وَعَلَّقْتُ لَنَا قِرْبَةً مِنْ مَاءٍ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَتَحَدَّثُ جَاءَتِ امْرَأَةٌ بِابْنَتَيْنِ لَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" هَاتَانِ ابْنَتَا ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ، أَوْ قَالَتْ: سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، قُتِلَ مَعَكَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَقَدِ اسْتَفَاءَ عَمُّهُمَا مَالَهُمَا وَمِيرَاثَهُمَا كُلَّهُ فَلَمْ يَدَعْ لَهُمَا مَالا إِلا أَخَذَهُ، فَمَا تَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَوَاللَّهِ مَا تُنْكَحَانِ أَبَدًا إِلا وَلَهُمَا مَالٌ، قَالَ: فَقَالَ: يَقْضِي اللَّهُ فِي ذَلِكَ، فنزلت سُورَةُ النِّسَاءِ وَفِيهَا يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِ مثل حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ سورة النساء آية 11، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ادْعُوا لِي الْمَرْأَةَ وَصَاحِبَهَا، فَقَالَ لِعَمِّهَا: أَعْطِهِمَا الثُّلُثَيْنِ، وَأَعْطِ أُمَّهُمَا الثُّمُنَ، وَمَا بَقِيَ فَلَكَ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر پر تھے یہاں تک کہ اسواف کے مقام پر ہم ایک خاتون کے پاس پہنچے جو خارجہ بن زید کی دادی تھیں۔ ہم اس دن ان کے پاس ٹھہر گئے۔ انہوں نے ہمارے لیے کپڑا بچھایا اور ہم کھجور کے درخت کے نیچے اس پر بیٹھ گئے، اس خاتون نے ہمارے لیے بکری ذبح کروائی، پانی کا مشکیزہ لا کر رکھا۔ اس دوران ہم گفتگو بھی کرتے رہے۔ اسی دوران ایک خاتون اپنی دو بیٹیوں کو لے کر حاضر خدمت ہوئی اور عرض کی: یا رسول اللہ! یہ ثابت بن قیس کی صاحبزادیاں ہیں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) سعید بن ربیع کی صاحبزادیاں ہیں جو آپ کے ساتھ غزوہ احد میں شہید ہو گئے تھے۔ ان کے چچا نے ان کا مال اور وراثت کا حصہ اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ اس نے ان دونوں کے لیے کوئی مال نہیں چھوڑا، سب حاصل کر لیا ہے۔ یا رسول اللہ! آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ اللہ کی قسم! جب تک ان دونوں کے پاس مال موجود نہیں ہو گا ان دونوں کی شادی نہیں ہو سکتی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس بارے میں فیصلہ دے گا۔ تو سورہ نساء کی آیت نازل ہوئی جس میں یہ حکم ہے: اللہ تعالیٰ نے تمہاری اولاد کے بارے میں یہ حکم دیا ہے کہ ایک مذکر کا حصہ دو مونث کے برابر ہو گا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ فرمایا: اس عورت کو میرے پاس بلا کر لاؤ اور اس کے دوسرے فریق کو بھی لاؤ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان بچیوں کے وصی سے یہ کہا: تم ان بچیوں کو دو تہائی حصہ دو اور ان کی والدہ کو آٹھواں حصہ دو جو باقی بچ جائے وہ تمہیں ملے گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4093]
ترقیم العلمیہ: 4022
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8049، 8087، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2891، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2092، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2720، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4093، 4094، 4095، 4096، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 15026»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4023 ترقیم الرسالہ : -- 4094
نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ أَبُو الزِّنْبَاعِ ، أنا عَبْدُ الْغَنِيِّ بْنُ رِفَاعَةَ ، نَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمٍ الأَعْوَرُ ، نَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" جَعَلَ لِلْمَرْأَةِ الثُّمُنَ، وَلِلابْنَتَيْنِ الثُّلُثَيْنِ، وَمَا بَقِيَ فَلِلأَخِ مِنَ الأَبِ وَالأُمِّ" ،.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی کے لیے آٹھواں حصہ، دو بیٹیوں کے لیے دو تہائی حصہ اور باقی بچ جانے والا مال سگے بھائی کے لیے مقرر کیا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4094]
ترقیم العلمیہ: 4023
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8049، 8087، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2891، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2092، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2720، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4093، 4094، 4095، 4096، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 15026»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4024 ترقیم الرسالہ : -- 4095
نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الأَشْعَثِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَلامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، نَا فُرَاتُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنِ ابْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةُ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ سَعْدًا قُتِلَ مَعَكَ شَهِيدًا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَقَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَى عَمِّهَا:" أَعْطِ هَاتَيْنِ الثُّلُثَيْنِ، وَالْمَرْأَةَ الثُّمُنَ، وَلَكَ مَا بَقِيَ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! سیدنا سعد رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ شہید ہو گئے تھے۔ (اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں): نبی کریم نے ان بچیوں کے چچا کو بلوایا اور فرمایا: تم ان دونوں بچیوں کو دو تہائی حصہ دو، (مرحوم کی) بیوی کو آٹھواں حصہ دو، جو باقی بچے گا، وہ تمہیں ملے گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4095]
ترقیم العلمیہ: 4024
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8049، 8087، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2891، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2092، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2720، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4093، 4094، 4095، 4096، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 15026»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4025 ترقیم الرسالہ : -- 4096
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ امْرَأَةَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" إِنَّ سَعْدًا هَلَكَ، وَتَرَكَ ابْنَتَيْنِ، وَأَخَاهُ، فَعَمَدَ أَخُوهُ فَقَبَضَ مَا تَرَكَ سَعْدٌ، وَإِنَّمَا تُنْكَحُ النِّسَاءُ عَلَى أَمْوَالِهِنَّ، فَلَمْ يُجِبْهَا فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ ثُمَّ جَاءَتْهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنَتَا سَعْدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ادْعُ لِي أَخَاهُ، فَجَاءَ، فَقَالَ: ادْفَعْ إِلَى ابْنَتَيْهِ الثُّلُثَيْنِ، وَإِلَى امْرَأَتِهِ الثُّمُنَ، وَلَكَ مَا بَقِيَ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! سیدنا سعد رضی اللہ عنہ انتقال کر گئے ہیں، انہوں نے (پس ماندگان میں) دو بیٹیاں اور ایک بھائی چھوڑا ہے، ان کے بھائی نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کا چھوڑا ہوا سارا مال اپنے قبضہ میں لے لیا ہے، خواتین کے ساتھ ان کی مالی حیثیت کے حساب سے نکاح کیا جانا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس محفل کے دوران اس خاتون کو کوئی جواب نہیں دیا، پھر وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی دو صاحبزادیوں کا معاملہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے بھائی کو میرے پاس بلاؤ۔ وہ شخص آیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کی بیٹیوں کو دو تہائی حصہ دو اور اس کی اہلیہ کو آٹھواں حصہ دو اور جو باقی بچ جائے، وہ تمہیں ملے گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4096]
ترقیم العلمیہ: 4025
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8049، 8087، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2891، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2092، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2720، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4093، 4094، 4095، 4096، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 15026»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4026 ترقیم الرسالہ : -- 4097
قُرِئَ عَلَى ابْنِ صَاعِدٍ ، وَأَنَا أَسْمَعُ، حَدَّثَكُمْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ أَبَا مُوسَى الأَشْعَرِيَّ ، وَسَلْمَانَ بْنَ رَبِيعَةَ ، فَسَأَلَهُمَا عَنِ ابْنَةٍ، وَابْنَةِ ابْنٍ، وَأُخْتٍ لأَبٍ، وَأُمٍّ، فَقَالا: لِلابْنَةِ النِّصْفُ، وَلِلأُخْتِ مَا بَقِيَ، وَقَالا:" انْطَلِقْ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ، فَاسْأَلْهُ فَإِنَّهُ سَيُتَابِعُنَا، فَأَتَى عَبْدَ اللَّهِ ، فَسَأَلَهُ فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالا، قَالَ: وَلَكِنِّي أَقْضِي فِيهَا كَمَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: النِّصْفُ لِلابْنَةِ، وَلابْنَةِ الابْنِ السُّدُسُ تَكْمِلَةُ الثُّلُثَيْنِ، وَلِلأُخْتِ مَا بَقِيَ" ،.
ہزیل بن شرحبیل بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس نے ان دونوں حضرات سے ایک بیٹی، ایک پوتی اور ایک سگی بہن کی وراثت کا حکم دریافت کیا، تو ان دونوں حضرات نے یہ فرمایا: بیٹی کو نصف حصہ ملے گا اور باقی بچ جانے والا مال اس کی بہن کو ملے گا۔ پھر ان دونوں نے فرمایا: تم سیدنا عبداللہ کے پاس جاؤ اور ان سے اس بارے میں دریافت کرو، وہ بھی ہماری رائے کے مطابق جواب دیں گے۔ وہ شخص سیدنا عبداللہ کے پاس آیا، ان سے اس بارے میں دریافت کیا اور انہیں یہ بھی بتایا کہ ان دونوں حضرات نے یہ جواب دیا ہے، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس بارے میں وہ فیصلہ دوں گا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا، نصف حصہ بیٹی کو ملے گا، چھٹا حصہ پوتی کو ملے گا، تا کہ دو تہائی حصے مکمل ہو جائیں اور باقی بچ جانے والا مال اس کی بہن کو ملے گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4097]
ترقیم العلمیہ: 4026
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 6736، 6742،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6034، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8053، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6294،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2890، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2093، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2932، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2721، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4097، 4098، 4099، 4100، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3766، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 29659، 31724، 31725»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4027 ترقیم الرسالہ : -- 4098
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4098]
ترقیم العلمیہ: 4027
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 6736، 6742،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6034، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8053، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6294،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2890، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2093، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2932، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2721، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4097، 4098، 4099، 4100، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3766، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 29659، 31724، 31725»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں