سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
177. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: اللہ کی راہ میں جہاد کی فضیلت کا بیان
ترقیم دار السلفیہ: 2310 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3487
نا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: نا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ قَالَ:" إِنَّ بِالْمَدِينَةِ لَرِجَالا مَا سِرْنَا مَسِيرًا، وَقَطَعْنَا وَادِيًا إِلا كَانُوا مَعَنَا فِيهِ حَبَسَهُمُ الْمَرَضُ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر پر نکلے، اور فرمایا: ’مدینہ میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں کہ ہم جس سفر میں چلے، اور جس وادی سے گزرے، وہ بھی ہمارے ساتھ شمار ہوتے ہیں، انہیں بیماری نے (سفر سے) روک لیا تھا۔‘“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3487]
تخریج الحدیث: «مرسل ولکن الحدیث صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1911، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4714، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2765، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2310، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17892، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14428، 14901، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2291، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 1027، 1057»
الحكم على الحديث: مرسل ولکن الحدیث صحيح
178. بَابُ مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الْجِهَادُ
باب: گھر سے صرف جہاد کے لیے نکلنے کا حکم
ترقیم دار السلفیہ: 2311 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3488
نا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَكَفَّلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، أَوْ تَضَمَّنَ اللَّهُ، أَوِ انْتَدَبَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِهِ لا يُخْرِجُهُ إِلا الْجِهَادُ، وَالإِيمَانُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَتَصْدِيقًا بِهِ إِنْ تَوَفَّاهُ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ يَرُدَّهُ إِلَى بَيْتِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَائِلا مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے اس شخص کے لیے ضمانت دی ہے — یا فرمایا: اللہ نے اس کی کفالت لی، یا فرمایا: اللہ نے اسے منتخب کیا — جو اس کے راستے میں جہاد کے لیے نکلا، صرف اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے اور اس کی تصدیق کرنے کے جذبے سے نکلا، کہ اگر وہ (جہاد میں) وفات پا گیا تو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا، اور اگر وہ لوٹا تو اپنے گھر واپس آئے گا اس حال میں کہ وہ اجر یا غنیمت حاصل کر چکا ہوگا۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3488]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن لغيره، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 36، 237، 2785، 2787، 2797، 2803، 2972، 3123، 5533، 7226، 7227، 7457، 7463، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1876، ومالك فى «الموطأ» برقم: 1616، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4610، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3098، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1619، 1656، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2436، 2450، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2753، 2795، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2300، 2311، 2312، 2320، 2551، 2571، 2572،وأحمد فى «مسنده» برقم: 7278، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1069، 1070، 1118، 1119، 1120، 1123، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19659، 19660»
وضاحت: عبد الرحمن بن أبي الزناد – صدوق، لیکن کبار محدثین کے نزدیک ان کی روایت میں کچھ ضعف ہے خاص طور پر مدینہ سے باہر کی روایات میں۔
عبد الرحمن بن أبي الزناد کے بارے میں:
ابن معین: "لیس ممن يحتج به، يكتب حديثه"
أحمد بن حنبل: "يضعف حديثه إذا روى عن غير أهل المدينة"
نسائی: "ليس بالقوي" لہٰذا یہ سند حسن لغيره کے درجے کی ہے۔
عبد الرحمن بن أبي الزناد کے بارے میں:
ابن معین: "لیس ممن يحتج به، يكتب حديثه"
أحمد بن حنبل: "يضعف حديثه إذا روى عن غير أهل المدينة"
نسائی: "ليس بالقوي" لہٰذا یہ سند حسن لغيره کے درجے کی ہے۔
الحكم على الحديث: إسناده حسن لغيره
ترقیم دار السلفیہ: 2312 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3489
نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَكَفَّلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ، لا يُخْرِجُهُ مِنْ بَيْتِهِ إِلا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ، وَتَصْدِيقٌ بِكَلِمَتِهِ بِأَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ يَرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے اس کے لیے ضمانت دی ہے جو صرف اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلا اور اس کی بات کی تصدیق کی کہ یا تو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا یا گھر واپس کرے گا اجر یا غنیمت کے ساتھ۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3489]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن لغيره، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 36، 237، 2785، 2787، 2797، 2803، 2972، 3123، 5533، 7226، 7227، 7457، 7463، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1876، ومالك فى «الموطأ» برقم: 1616، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4610، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3098، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1619، 1656، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2436، 2450، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2753، 2795، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2300، 2311، 2312، 2320، 2551، 2571، 2572،وأحمد فى «مسنده» برقم: 7278، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1069، 1070، 1118، 1119، 1120، 1123، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19659، 19660»
وضاحت: عبد الرحمن بن أبي الزناد – صدوق، لیکن کبار محدثین کے نزدیک ان کی روایت میں کچھ ضعف ہے خاص طور پر مدینہ سے باہر کی روایات میں۔
عبد الرحمن بن أبي الزناد کے بارے میں:
ابن معین: "لیس ممن يحتج به، يكتب حديثه"
أحمد بن حنبل: "يضعف حديثه إذا روى عن غير أهل المدينة"
نسائی: "ليس بالقوي" لہٰذا یہ سند حسن لغيره کے درجے کی ہے۔
عبد الرحمن بن أبي الزناد کے بارے میں:
ابن معین: "لیس ممن يحتج به، يكتب حديثه"
أحمد بن حنبل: "يضعف حديثه إذا روى عن غير أهل المدينة"
نسائی: "ليس بالقوي" لہٰذا یہ سند حسن لغيره کے درجے کی ہے۔
الحكم على الحديث: إسناده حسن لغيره
ترقیم دار السلفیہ: 2313 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3490
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلانِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ: " مَا غَزَتْ غَازِيَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَصَابَتْ غَنِيمَةً إِلا عُجِّلَ لَهَا ثُلُثَا أَجْرِهَا مِنْ آخِرَتِهَا، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ غَنِيمَةٌ تَمَّ الأَجْرُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جو لشکر اللہ کی راہ میں غزوہ کرتا اور غنیمت حاصل کرتا ہے، اس کا دو تہائی اجر دنیا ہی میں دیا جاتا ہے، اور اگر غنیمت نہ ہو تو پورا اجر ملتا ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3490]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1906، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2427، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3125، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4318، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2497، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2785، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2313، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 18624، 18625، وأحمد فى «مسنده» برقم: 6688، والطبراني فى «الكبير» برقم: 14661، 14662»
قال ابن حجر: حكاه عياض وذكر أن بعضهم أجاب عنه بأنه ضعف لأنه من رواية حميد بن هانئ وليس بمشهور وهذا مردود لأنه ثقة يحتج به عند مسلم وقد وثقه النسائي وابن يونس وغيرهما ولا يعرف فيه تجريح لأحد، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (6 / 10)
قال ابن حجر: حكاه عياض وذكر أن بعضهم أجاب عنه بأنه ضعف لأنه من رواية حميد بن هانئ وليس بمشهور وهذا مردود لأنه ثقة يحتج به عند مسلم وقد وثقه النسائي وابن يونس وغيرهما ولا يعرف فيه تجريح لأحد، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (6 / 10)
وضاحت: حافظ ابن حجر اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں: قاضی عیاض نے نقل کیا کہ بعض نے یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ یہ حمید بن ہانئ کی روایت ہے اور وہ مشہور نہیں۔
لیکن امام ابن حجر فرماتے ہیں:
"یہ بات رد کی جاتی ہے، کیونکہ وہ ثقہ ہیں، امام مسلم نے ان سے حجت پکڑی ہے، امام نسائی، ابن یونس اور دیگر نے ان کی توثیق کی ہے، اور کسی نے بھی ان پر جرح نقل نہیں کی۔"
لیکن امام ابن حجر فرماتے ہیں:
"یہ بات رد کی جاتی ہے، کیونکہ وہ ثقہ ہیں، امام مسلم نے ان سے حجت پکڑی ہے، امام نسائی، ابن یونس اور دیگر نے ان کی توثیق کی ہے، اور کسی نے بھی ان پر جرح نقل نہیں کی۔"
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
179. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ
باب: ان مجاہدین کی فضیلت کا بیان جو اللہ کی راہ میں نکلتے ہیں، اُن لوگوں پر جو (عذر کے بغیر) پیچھے بیٹھے رہتے ہیں۔
ترقیم دار السلفیہ: 2314 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3491
نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: كُنْتُ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَشِيَتْهُ السَّكِينَةُ، فَوَقَعَتْ فَخِذُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي، فَمَا وَجَدْتُ ثِقَلَ شَيْءٍ أَثْقَلَ مِنْ فَخِذِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ لِي:" اكْتُبْ"، قَالَ: فَكَتَبْتُ فِي كَتِفٍ:" لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" إِلَى آخِرِ الآيَةِ، فَقَالَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَكَانَ رَجُلا أَعْمَى لَمَّا سَمِعَ فَضِيلَةَ الْمُجَاهِدِينَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ مَنْ لا يَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَلَمَّا قَضَى كَلامَهُ غَشِيَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّكِينَةُ، فَوَقَعَتْ فَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي فَوَجَدْتُ مِنْ ثِقْلِهَا فِي الْمَرَّةِ الثَّانِيَةِ كَمَا وَجَدْتُ الْمَرَّةَ الأُولَى، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" اقْرَأْ يَا زَيْدُ" فَقَرَأْتُ: لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95 الآيَةَ كُلَّهَا، فَقَالَ زَيْدٌ: أَنْزَلَهَا اللَّهُ وَحْدَهَا فَأَلْحَقْتُهَا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُلْحَقِهَا عِنْدَ صَدْعٍ فِي الْكَتِفِ .
سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ، جو نابینا تھے، جب انہوں نے مجاہدین کے فضائل سنے تو عرض کیا: ”یا رسول اللہ! ان مؤمنوں کا کیا جنہیں جہاد کی استطاعت نہیں؟“ ابھی ان کی بات مکمل ہی ہوئی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دوبارہ سکینہ نازل ہوئی، اور پھر آپ کی ران میری ران پر آ گری، اور میں نے دوبارہ اتنا ہی وزن محسوس کیا جتنا پہلی بار محسوس کیا تھا۔ جب آپ پر سے یہ کیفیت ختم ہوئی تو فرمایا: ”پڑھو زید!“ میں نے وہی آیت پڑھی: «لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ» تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ» “ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”یہ جملہ «غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ» اللہ نے خاص طور پر نازل فرمایا، تو میں نے اسے (آیت کے ساتھ) ملایا۔ اللہ کی قسم! مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں ابھی بھی اسے اس جگہ پر دیکھ رہا ہوں جہاں میں نے اسے اس ہڈی میں شامل کیا تھا۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3491]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن لغيرہ والحدیث صحیح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2832، 4592، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1898، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1110، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4713، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2441، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3099، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4292، 4293، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2507، 3975، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3033، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 681، 2314، وأحمد فى «مسنده» برقم: 22002»
وضاحت: عبد الرحمن بن أبي الزناد – حافظ ابن حجر نے "صدوق، فيه لين" کہا ہے (تقریب)، جبکہ امام احمد، یحییٰ بن معین وغیرہ نے ان کے حفظ پر کچھ جرح کی ہے، خاص طور پر مدنی روایات میں۔
الحكم على الحديث: إسناده حسن لغيرہ والحدیث صحیح
ترقیم دار السلفیہ: 2315 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3492
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ ، عَنْ حُدَيْجِ بْنِ صُومِيٍّ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَيُّوبَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَجُلَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِيكَيْنِ فِي الْعَمَلِ يَقُولُ: عَمَلُهُمَا كَادَ أَنْ يَكُونَ سَوَاءً، فَغَزَا وَاحِدٌ وَقَعَدَ الآخَرُ، فَسَأَلَ الْقَاعِدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَمْ فَضْلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَلَى الْقَاعِدِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِائَةُ دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ" .
حضرت محمد بن ایوب رحمہ اللہ نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو آدمی شریک کار تھے، ان کا عمل قریب قریب برابر تھا۔ ان میں سے ایک جہاد کے لیے نکلا، اور دوسرا بیٹھا رہا۔ تو بیٹھنے والے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: ”یا رسول اللہ! جہاد کرنے والے کا بیٹھنے والے پر کتنا درجہ ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں سو درجے کا فرق ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3492]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
حديج بن صومي اور محمد بن أيوب دونوں مجہول ہیں۔
حديج بن صومي اور محمد بن أيوب دونوں مجہول ہیں۔
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم دار السلفیہ: 2316 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3493
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ" إِنَّ الْمُجَاهِدِينَ فِي اللَّهِ ثَلاثَةٌ، بَعْضُهُمْ أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ: فَرَجُلٌ جَاهَدَ بِقَلْبِهِ فَأَحَبَّ فِي اللَّهِ وَأَبْغَضَ فِي اللَّهِ، وَرَجُلٌ جَاهَدَ بِقَلْبِهِ وَلِسَانِهِ فَأَحَبَّ لِلَّهِ وَأَبْغَضَ لِلَّهِ وَأَمَرَ بِالْمَعْرُوفِ، وَنَهَى عَنِ الْمُنْكَرِ، وَقَاتَلَ الْمُشْرِكِينَ مَعَ الْمُسْلِمِينَ، وَهَذَا أَفْضَلُهُمْ" .
حضرت سعید بن ابی ہلال رحمہ اللہ نے فرمایا: ”مجاہدین تین طرح کے ہیں: دل سے جہاد کرنے والا، دل اور زبان سے جہاد کرنے والا، اور دل، زبان اور تلوار سے جہاد کرنے والا، اور یہی سب سے افضل ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3493]
تخریج الحدیث: «مقطوع، «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
الحكم على الحديث: مقطوع
ترقیم دار السلفیہ: 2317 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3494
نا نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: جَاءَ الْفَتْحِيُّونَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو ، وَالْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ ، وَحُوَيْطِبُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى ، يَسْتَأْذِنُونَ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخَّرَ فِي إِذْنِهِمْ، فَقَالَ الْحَارِثُ: دُعِيَ الْقَوْمُ وَدُعِيتُمْ فَأَبْطَأْتُمْ، فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالُوا:" يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا لَنَا عِنْدَكَ إِلا مَا نَرَى؟" قَالَ:" نَعَمْ، لَيْسَ إِلا مَا تَرَوْنَ" قَالُوا:" فَإِنَّا نَطْلُبُ مَا هُوَ أَرْفَعُ مِنْ هَذَا". فَغَزَوْا فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى مَاتُوا .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دربار میں فتحی صحابہ آئے، ان کو دیر سے اجازت ملی، انہوں نے شکایت کی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو تم دیکھ رہے ہو، بس وہی ہے۔“ پھر وہ جہاد میں نکلے اور شہید ہو گئے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3494]
تخریج الحدیث: «مرسل، «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم دار السلفیہ: 2318 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3495
نا نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ خَثْعَمٍ الْيَحْصِبِيُّ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَيْتَمِيِّ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ ، كَانَ يَقُولُ:" كَانَ الشُّخُوصُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَحَبَّ إِلَيْنَا مِنَ الْقَرَارِ، وَكَانَ الْمَمْقُوتَ عِنْدَنَا الْمُمْتَلِئُ شَحْمًا بَرَّاقُ الثِّيَابِ، هِيَ الْمُرُوءَةُ فِيكُمُ الْيَوْمَ" .
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: ”اللہ کی راہ میں نکل جانا (جہاد و سفر) ہمیں قیام سے زیادہ محبوب تھا، اور ہمارے نزدیک سب سے ناپسندیدہ وہ شخص تھا جو چرب و چاق اور چمکیلے کپڑے پہننے والا ہو، اور یہی آج تمہارے نزدیک مروت سمجھی جاتی ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3495]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
عمارة بن خالد الميثمي ابن معین: "ثقہ" ابن حجر: "صدوق يخطئ" (یعنی سچا ہے مگر کبھی غلطی کرتا ہے) (التقريب: 4774)
عمارة بن خالد الميثمي ابن معین: "ثقہ" ابن حجر: "صدوق يخطئ" (یعنی سچا ہے مگر کبھی غلطی کرتا ہے) (التقريب: 4774)
وضاحت: عمر بن جعثم کی وجہ سے سند "ضعیف" ہے، کیونکہ وہ مقبول درجے کا راوی ہے جس کی توثیق مضبوط نہیں۔
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم دار السلفیہ: 2319 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3496
نا نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: نا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ النَّاسَ بِالْجَابِيَةِ، فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ: " مَنْ جَاءَ يَسْأَلُ عَنِ الْقُرْآنِ، فَلْيَأْتِ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، وَمَنْ جَاءَ يَسْأَلُ عَنِ الْحَلالِ وَالْحَرَامِ، فَلْيَأْتِ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، وَمَنْ جَاءَ يَسْأَلُ عَنِ الْفَرَائِضِ، فَلْيَأْتِ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، وَمَنْ جَاءَ يَسْأَلُ عَنِ الْمَالِ، فَلْيَأْتِنِي، فَإِنَّ اللَّهَ جَعَلَنِي خَازِنًا، فَإِنِّي بَادِئٌ بِأَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمُعْطِيهُنَّ، ثُمَّ بِالْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ، ثُمَّ أَنَا وَأَصْحَابِي، ثُمَّ بِالأَنْصَارِ الَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ، ثُمَّ مَنْ أَسْرَعَ إِلَى الْهِجْرَةِ أَسْرَعَ إِلَيْهِ الْعَطَاءُ، وَمَنْ أَبْطَأَ عَنِ الْهِجْرَةِ أَبْطَأَ عَنْهُ الْعَطَاءُ، فَلا يَلُومَنَّ رَجُلٌ إِلا مُنَاخَ رَاحِلَتِهِ" .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جابیہ میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”قرآن کے متعلق ابی بن کعب کے پاس جاؤ، حلال و حرام میں معاذ بن جبل کے پاس جاؤ، وراثت کے مسائل میں زید بن ثابت کے پاس جاؤ، اور مال کے بارے میں میرے پاس آؤ۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3496]
تخریج الحدیث: «مرسل ولکن الحدیث صحیح، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 5223، 5227، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2319، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12317، 13118، وأحمد فى «مسنده» برقم: 16150، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 31686، 33567، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 3783»
قال ابن حجر: صح عن عمر، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (7 / 157)
قال ابن حجر: صح عن عمر، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (7 / 157)
الحكم على الحديث: مرسل ولکن الحدیث صحیح