🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
58. باب في الخلافة والإمارة - ذكر الإباحة للإمام لزوم المداراة مع رعيته وإن علم من بعضهم ضد ما يوجب الحق من ذلك-
خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے جائز ہے کہ رعایا کے ساتھ نرمی اور مصلحتاً درگزر کا برتاؤ کرے اگرچہ بعض سے خلافِ حق امور ظاہر ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4538
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ:" اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ:" ائْذَنِي لَهُ، فَبِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ أَوْ بِئْسَ رَجُلُ الْعَشِيرَةِ". فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ أَلانَ لَهُ الْقَوْلَ، فَلَمَّا خَرَجَ قُلْتُ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، قُلْتَ لَهُ الَّذِي قُلْتَ، فَلَمَّا دَخَلَ أَلَنْتَ لَهُ الْقَوْلَ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيْ عَائِشَةُ، إِِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ مَنْ تَرَكَهُ النَّاسُ، أَوْ وَدَعَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ شَرِّهِ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اندر آنے کی اجازت دے دو، یہ اپنے خاندان کا بہت برا شخص ہے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)۔ جب وہ شخص اندر آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ نرمی کے ساتھ بات چیت کی، جب وہ چلا گیا تو میں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اس کے بارے میں پہلے تو یہ بات ارشاد فرمائی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ نرمی کے ساتھ بات چیت کی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عائشہ! اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قدر و منزلت کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے برا شخص وہ ہو گا جسے لوگ اس کے شر سے بچنے کے لیے چھوڑ دیں (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4538]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6032، 6054، 6131، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2591، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4538، 5696، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 9995، 9996، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4791، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1996، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 21212، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24740، والحميدي فى (مسنده) برقم: 251» «رقم طبعة با وزير 4521»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
59. باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يستحب للإمام أن لا يتكبر على رعيته بترك إجابة دعوتهم وإن لم يكن الداعي له شريفا-
خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ وہ رعایا کی دعوت قبول کرنے میں تکبر نہ کرے، چاہے دعوت دینے والا کوئی معمولی آدمی ہی کیوں نہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4539
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: إِِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ، قَالَ أَنَسٌ: فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَّبَ إِِلَيْهِ خُبْزًا مِنْ شَعِيرٍ، وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ، قَالَ أَنَسٌ: فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَيِ الْقَصْعَةِ". قَالَ: فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمَ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک درزی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا تھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیا، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جو کی بنی ہوئی روٹی اور شوربا پیش کیا جس میں کدو اور گوشت تھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیالے میں کدو تلاش کر رہے تھے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس دن کے بعد میں ہمیشہ کدو کو پسند کرتا ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4539]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2092، 5379، 5420، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2041، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4539، 5293، 6380، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3782، 4182، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1849، 1850، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3302، 3303، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14710، 14735، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12234» «رقم طبعة با وزير 4522»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (7/ 45 - 46): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
60. باب في الخلافة والإمارة - ذكر الإباحة للإمام تخويف رعيته بما ليس في خلده إمضاؤه-
خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے جائز ہے کہ رعایا کو ایسی بات سے ڈرائے جسے وہ فی الحال نافذ کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4540
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ الْحَضْرَمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ، عَنْ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ فِي ذَاتِ السَّلاسِلِ، فَسَأَلَهُ أَصْحَابُهُ أَنْ يُوقِدُوا نَارًا، فَمَنَعَهُمْ، فَكَلَّمُوا أَبَا بَكْرٍ، فَكَلَّمَهُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: لا يُوقِدُ أَحَدٌ مِنْهُمْ نَارًا إِِلا قَذَفْتُهُ فِيهَا. قَالَ: فَلَقُوا الْعَدُوَّ فَهَزَمُوهُمْ، فَأَرَادُوا أَنْ يَتَّبِعُوهُمْ، فَمَنَعَهُمْ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ذَلِكَ الْجَيْشُ ذَكَرُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَشَكَوْهُ إِِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنِّي كَرِهْتُ أَنْ آذَنَ لَهُمْ أَنْ يُوقِدُوا نَارًا فَيَرَى عَدُوُّهُمْ قِلَّتَهُمْ، وَكَرِهْتُ أَنْ يَتَّبِعُوهُمْ فَيَكُونُ لَهُمْ مَدَدٌ فَيُعْطِفُوا عَلَيْهِمْ، فَحَمِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَهُ". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ " مَنْ أَحَبُّ النَّاسِ إِِلَيْكَ؟ قَالَ:" لِمَ؟" قَالَ: لأُحِبُّ مَنْ تُحِبُّ. قَالَ:" عَائِشَةُ". قَالَ: مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَ:" أَبُو بَكْرٍ" .
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جنگِ ذاتِ سلاسل میں بھیجا، ان کے ساتھیوں نے ان سے درخواست کی کہ وہ آگ جلا لیں، تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے انہیں ایسا کرنے سے منع کر دیا۔ لوگوں نے اس بارے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بات کی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ سے بات کی تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو بھی شخص آگ جلائے گا میں اسے اس آگ میں ڈال دوں گا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ جب ان لوگوں کا دشمن سے سامنا ہوا تو انہوں نے دشمن کو شکست دے دی (دشمن بھاگ کھڑا ہوا)، ان لوگوں نے ان کے پیچھے جانے کا ارادہ کیا تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے انہیں روک لیا۔ جب یہ لشکر واپس آیا تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا اور سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کی شکایت لگائی تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اس لیے انہیں آگ جلانے کی اجازت نہیں دی کیونکہ دشمن کو ان کی تعداد کی کمی کا اندازہ ہو جانا تھا اور میں نے اس لیے انہیں دشمن کے پیچھے نہیں جانے دیا کہ اگر دشمن کو کہیں سے مدد حاصل ہو گئی تو وہ ان پر غالب آ جائے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے فیصلے کی تعریف کی۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تم یہ کیوں پوچھ رہے ہو؟ انہوں نے عرض کی: اس لیے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس سے محبت کرتے ہیں میں بھی اس سے محبت رکھوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ۔ انہوں نے دریافت کیا: مردوں میں کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4540]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3662، 4358، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2384، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4540، 6885، 6900، 6998، 7106، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6807، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3885، 3886، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13221، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18090» «رقم طبعة با وزير 4523»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر التعليق. * [التعليق] قال الشيخ: قلت: إِسنادهُ صحيحٌ، رجالُه ثِقاتٌ رجال الشيخين؛ غيرَ الحسن بن حَمَّادٍ الحضرمي، وهو ثقة ٌ من رجال «التهذيب». وأخرج منه ابن أبي شيبة (12/ 17 / 12006) - جملةَ الحُبِّ الَّتِي في آخره -: حدثنا أبو أسامة، قال: أخبرنا إسماعيل ... وأخرجها النسائيُّ في «فضائل الصحابة» (54/ 5)، وأحمد - أيضاً - في «الفضائل» (2/ 872 / 1637)، والحاكم (4/ 12) مِنْ طَرق أُخرى عن إِسماعيل ... به ببعض باختصار. وهي عند البخاري (4358)، ومسلم (7/ 109)، والترمذي (3879)، وصحَّحه مِنْ طَريق أبي عُثمان، عن عمرو بن العاص نحوه. ثُمَّ أخرجه الترمذي، عن شيخ آخرَ عن يحيى بن سعيد الأموي به مُختصراً لرواية النسائي، وقال: «حسن غريب». وسكتَ الحافظُ في «الفتح» (8/ 75)، عن حديث الكتاب مُشيراً بذلك إلى أَنَّهُ قَوِيٌّ عنده. وسيأتي برقم (7062) مِنْ طَريق آخرَ، عن إِسماعيلَ. وسيأتي برقم (6959) مِنْ طَرِيق أُخرى، عن عمرِو بنِ العاص بزيادة في مَتنِه، ويأتي الكلام عليه. تنبيه!! رقم (7062) = (7106) من «طبعة المؤسسة». رقم (6959) = (6998) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
61. باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يستحب للإمام أن يعلم الوفد إذا وفد عليه شعب الإسلام-
خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ جب وفود اس کے پاس آئیں تو انہیں اسلام کے ارکان و اصولوں کی تعلیم دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4541
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا غَيْرُ وَاحِدٍ مِمَّنْ لَقِيَ الْوَفْدَ، وَذكَرَ أَبَا نَضْرَةَ أَنَّهُ حَدَّثَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ، وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، وَإِِنَّا لا نَقْدِرُ عَلَيْكَ إِِلا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَدْعُو لَهُ مَنْ وَرَاءِنَا مِنْ قَوْمِنَا، وَنَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ إِِذَا نَحْنُ أَخَذْنَا بِهِ أَوْ عَمِلْنَا. فَقَالَ: " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُوا الصَّلاةَ، وَتُؤْتُوا الزَّكَاةَ، وَتَصُومُوا رَمَضَانَ، وَتُعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْمَغْنَمِ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالنَّقِيرِ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا عِلْمُكَ بِالنَّقِيرِ؟ قَالَ:" الْجِذْعُ تَنْقُرُونَهُ وَتُلْقُونَ فِيهِ مِنَ الْقُطَيْعَاءِ، أَوِ التَّمْرِ، ثُمَّ تَصُبُّونَ عَلَيْهِ الْمَاءَ كَيْ يَغْلِيَ، فَإِِذَا سَكَنَ شَرِبْتُمُوهُ، فَعَسَى أَحَدُكُمْ أَنْ يَضْرِبَ ابْنَ عَمِّهِ بِالسَّيْفِ"، قَالَ: وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ بِهِ ضَرْبَةٌ كَذَلِكَ، قَالَ: كُنْتُ أُخَبِّؤُهَا حَيَاءً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: فَفِيمَ تَأْمُرُنَا أَنْ نَشْرَبَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ:" اشْرَبُوا فِي أَسْقِيَةِ الأَدَمِ الَّتِي تُلاثُ عَلَى أَفْوَاهِهَا". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْضُنَا كَثِيرُ الْجِرْذَانِ لا يَبْقَى بِهَا أَسْقِيَةُ الأَدَمِ. قَالَ: وَإِِنْ أَكَلَهَا الْجِرْذَانُ، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا، ثُمَّ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ:" إِِنَّ فِيكَ لَخَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ: الْحِلْمُ، وَالأَنَاةُ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عبدالقیس قبیلے کا وفد جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم ربیعہ قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں، ہمارے اور آپ کے درمیان مضر قبیلے کے کفار رہتے ہیں، اس لیے ہم صرف حرمت والے مہینے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو سکتے ہیں، آپ ہمیں ایسی چیز کا حکم دیجیے جس کی ہم اپنے پیچھے موجود اپنی قوم کے افراد کو تعلیم دیں اور اس وقت جب ہم اس کو اختیار کریں اور اس پر عمل کریں، اس کے ذریعے جنت میں داخل ہو جائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں؛ (میں تمہیں یہ حکم دیتا ہوں کہ) تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور مالِ غنیمت میں سے خمس ادا کرو۔ اور میں چار چیزوں سے تمہیں منع کرتا ہوں: «الدُّبَّاءِ» کدو کا برتن، «الْحَنْتَمِ» سبز مٹکا، «الْمُزَفَّتِ» روغنی برتن اور «النَّقِيرِ» لکڑی کا کریدا ہوا برتن۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! «النَّقِيرِ» کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جانتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھجور کے تنے کو سوراخ کر کے اس میں تم لوگ چھوہارے یا کھجور ڈال دیتے ہو، پھر تم اس پر پانی انڈیل دیتے ہو تاکہ اس میں جوش آ جائے، پھر جب وہ پرسکون ہو جائے تو تم اسے پی لیتے ہو، تو ہو سکتا ہے (اسے پینے کے بعد نشے کی حالت میں) کوئی شخص اپنے چچا زاد کو اپنی تلوار کے ذریعے قتل کر دے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ حاضرین میں سے ایک شخص نے ایسا کیا ہوا تھا، وہ صاحب کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیا کرتے ہوئے اس بات کو چھپایا ہوا تھا۔ لوگوں نے عرض کی: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا حکم دیتے ہیں، اے اللہ کے نبی! ہم کیا پئیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ چمڑے سے بنے ہوئے مشکیزوں میں پانی پیو جن کے منہ کو بند کیا گیا ہو۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہماری سرزمین پر چوہے بہت زیادہ ہیں، وہ چمڑے کی کسی چیز کو باقی نہیں رہنے دیتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ اسے چوہے نے کاٹ لیا ہو، یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ یا تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیس قبیلے کے سردار سے فرمایا: تمہارے اندر دو ایسی خصلتیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے: بردباری اور وقار۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4541]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 18، 1987، 1996، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4541، 5378، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5565، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1877، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2157، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3403، 4187، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20332، 20859، وأحمد فى (مسنده) برقم: 187» «رقم طبعة با وزير 4524»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الظلال» (1/ 84 / 190)، «المشكاة» (2/ 625 / 5054 / التحقيق الثاني): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
62. باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يستحب للإمام تعليم رعيته دينهم بالأفعال إذا جهلوا-
خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ جب رعایا دین کے احکام سے جاہل ہو تو انہیں عملی طور پر دین سکھائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4542
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنّ " رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ أَعْتَقَ سِتَّةَ أَعْبُدٍ عِنْدَ مَوْتِهِ، لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ قَوْلا شَدِيدًا، قَالَ: ثُمَّ دَعَا بِهِمْ فَجَزَّأَهُمْ، ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ، وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے مرنے کے قریب چھ غلام آزاد کر دیے، اس شخص کے پاس ان غلاموں کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا، اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا، ان کے حصے کیے، پھر ان کے درمیان قرعہ اندازی کی اور دو کو آزاد قرار دیا اور چار کو غلام رہنے دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4542]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1668، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1020، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4320، 4542، 5075، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1957، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3958، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1364، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2345، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 408، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12673، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4561، 4562، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20140» «رقم طبعة با وزير 4525»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى نحوه (4305). تنبيه!! رقم (4305) = (4320) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
63. باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يستحب للإمام إذا عزم على إمضاء أمر من الأمور فأشار عليه من يثق به من رعيته بضده أن يترك ما عزم عليه من إمضاء ذلك الأمر-
خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ اگر وہ کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرے اور اس کی قابلِ اعتماد رعایا میں سے کوئی اس کے برعکس مشورہ دے تو وہ اپنا فیصلہ بدل دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4543
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كُنَّا قُعُودًا حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَنَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا فِي نَفَرٍ، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ ظَهْرَيْنَا، فَأَبْطَأَ عَلَيْنَا، وَخَشِينَا أَنْ يُقْتَطَعَ دُونَنَا، وَفَزِعْنَا، فَكُنْتُ أَوَّلُ مَنْ فَزِعَ، فَخَرَجْتُ أُتْبِعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَيْتَ حَائِطًا لِلأَنْصَارِ لِبَنِي النَّجَّارِ، فَدُرْتُ لَهُ هَلْ أَجِدُ لَهُ بَابًا، فَإِِذَا رَبِيعٌ يَدْخُلُ فِي جَوْفِ الْحَائِطِ مِنْ خَارِجِهِ، وَالرَّبِيعُ: الْجَدْوَلُ، فَاحْتَفَزْتُ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَبُو هُرَيْرَةَ؟" فَقُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:" مَا جَاءَ بِكَ؟" قُلْتُ: قُمْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، فَأَبْطَأْتَ عَلَيْنَا، فَخَشِينَا أَنْ تُقْتَطَعَ دُونَنَا وَفَزِعْنَا، وَكُنْتُ أَوَّلُ مَنْ فَزِعَ، فَأَتَيْتُ هَذَا الْحَائِطَ، فَاحْتَفَزْتُ كَمَا يَحْتَفِزُ الثَّعْلَبُ، وَهَؤُلاءِ النَّاسُ وَرَائِي، فَقَالَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ" وَأَعْطَانِي نَعْلَيْهِ، وَقَالَ: " اذْهَبْ بِنَعْلَيَّ هَاتَيْنِ، فَمَنْ لَقِيتَ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْحَائِطِ يَشْهَدُ أَنْ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ فَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ". كَانَ أَوَّلُ مَنْ لَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَا هَاتَانِ النَّعْلانِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قُلْتُ: هَاتَانِ نَعْلا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعَثَنِي بِهِمَا فَمَنْ لَقِيتُ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْحَائِطِ يَشْهَدُ أَنْ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ بَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، قَالَ: فَضَرَبَ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ بِيَدِهِ بَيْنَ ثَدْيَيَّ خَرَرْتُ لاسْتِي، فَقَالَ: ارْجِعْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَرَجَعْتُ إِِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَجْهَشْتُ بِالْبُكَاءِ، وَأَدْرَكَنِي عُمَرُ عَلَى أَثَرِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ:" مَا لَكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟" قُلْتُ: لَقِيتُ عُمَرَ، فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي بَعَثْتَنِي بِهِ، فَضَرَبَنِي بَيْنَ ثَدْيَيَّ ضَرْبَةً خَرَرْتُ لاسْتِي، فَقَالَ: ارْجِعْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عُمَرُ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ؟" قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، بَعَثْتَ أَبَا هُرَيْرَةَ بِنَعْلَيْكَ: مَنْ لَقِيَ يَشْهَدُ أَنْ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ يُبَشِّرُهُ بِالْجَنَّةِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَلا تَفْعَلْ، فَإِِنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ عَلَيْهَا فَخَلِّهِمْ يَعْمَلُونَ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَخَلِّهِمْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے، ہمارے ساتھ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، ہم چھ افراد تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان سے اٹھ کر تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آنے میں تاخیر ہو گئی تو ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک نہ دیا گیا ہو (یعنی کوئی نقصان نہ پہنچایا گیا ہو)، ہم گھبرا گئے، سب سے پہلے میں گھبرا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے گیا یہاں تک کہ میں بنو نجار سے تعلق رکھنے والے ایک انصاری کے باغ کے پاس آیا، میں نے اس کے ارد گرد چکر لگایا کہ کیا مجھے اس کے اندر جانے کا دروازہ ملتا ہے؟ تو وہاں ایک ربیع (درخت کی شاخ یا چھوٹی نہر) باغ کی دیوار میں سے اندر جا رہی تھی۔ (راوی کہتے ہیں:) «الرَّبِيعُ» جدول (چھوٹی نہر) کو کہتے ہیں۔ میں نے اسے ہٹایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا تم ابوہریرہ ہو؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تم کیوں آئے ہو؟ میں نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان سے اٹھ کر تشریف لے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کافی دیر تک ہمارے پاس تشریف نہیں لائے تو ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں روک نہ لیا گیا ہو، تو ہم گھبرا گئے، سب سے پہلے میں گھبرا کر اٹھا اور اس باغ میں آ گیا، میں اس میں یوں داخل ہوا ہوں جس طرح لومڑی داخل ہوتی ہے اور لوگ میرے پیچھے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوہریرہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نعلین مجھے عطا کیے اور فرمایا: میرے یہ نعلین لے کر جاؤ اور اس باغ سے باہر تمہیں جو بھی ایسا شخص ملے جو یقینِ قلب کے ساتھ اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اسے جنت کی خوشخبری دے دو۔ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:) سب سے پہلے میری ملاقات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی، انہوں نے دریافت کیا: اے ابوہریرہ! یہ نعلین کس کے ہیں؟ میں نے جواب دیا: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ نشانی کے طور پر مجھے دیے ہیں) اور مجھے ان کے ہمراہ بھیجا ہے کہ اس باغ کے باہر مجھے جو بھی ایسا شخص ملے جو یقینِ قلب کے ساتھ اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو میں اسے جنت کی خوشخبری دے دوں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا تو میں الٹا ہو کر پیچھے گر گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابوہریرہ! واپس جاؤ۔ میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں رو رہا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی میرے پاس آ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: اے ابوہریرہ! کیا ہوا؟ (میں نے عرض کی:) میری ملاقات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی، میں نے انہیں اس پیغام کے بارے میں بتایا جس کے ہمراہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا تو انہوں نے میرے سینے پر ہاتھ مارا کہ میں الٹا ہو کر گر گیا اور انہوں نے کہا: تم واپس جاؤ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! تم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوہریرہ کو اپنے نعلین کے ہمراہ یہ پیغام دے کر بھیجا تھا کہ ان کی ملاقات جس بھی ایسے شخص سے ہو جو یقینِ قلب کے ساتھ اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، یہ اسے جنت کی بشارت دے دے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: آپ ایسا نہ کیجئے کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اس صورت میں لوگ اسی پر تکیہ کر لیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں عمل کرنے دیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اچھا) تم انہیں چھوڑ دو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4543]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 31، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4543، والبزار فى (مسنده) برقم: 9388» «رقم طبعة با وزير 4526»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «مختصر مسلم» (12).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
64. باب في الخلافة والإمارة - ذكر الإباحة للإمام أن يشتغل بحوائج بعض رعيته وإن أداه ذلك إلى تأخير الصلاة عن أول وقتها-
خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی رعایا کی بعض ضروریات پوری کرنے میں مصروف ہو جائے اگرچہ اس کے باعث نماز کو اول وقت سے مؤخر کرنا پڑے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4544
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " أُقِيمَتْ صَلاةُ الْعِشَاءِ، فَقَامَ رَجُلٌ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِِنَّ لِي إِِلَيْكَ حَاجَةً، فَقَامَ بِنَاحِيَةٍ حَتَّى نَعَسَ الْقَوْمُ أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، فَصَلُّوا، وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُمْ تَوَضَّئُوا" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: (ایک مرتبہ) عشاء کی نماز قائم ہو گئی، ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کھڑا ہوا، اس نے عرض کی: مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کام ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (مسجد کے) ایک گوشے میں (اس شخص کے ہمراہ) کھڑے ہو گئے، یہاں تک کہ لوگ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) کچھ لوگ اونگھنے لگے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی اور لوگوں نے بھی نماز ادا کی، راوی نے یہ بات ذکر نہیں کی کہ ان لوگوں نے ازسرِ نو وضو کیا تھا (یا وضو نہیں کیا تھا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4544]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 642، 643، 6292، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 376، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1527، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2035، 4544، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 790، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 868، وأبو داود فى (سننه) برقم: 201، 542، 544، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12169» «رقم طبعة با وزير 4527»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (198).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
65. باب بيعة الأئمة وما يستحب لهم - ذكر ما يستحب للإمام أخذ البيعة من الناس على شرائط معلومة-
ائمہ کی بیعت کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ وہ لوگوں سے واضح اور معلوم شرائط پر بیعت لے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4545
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِِقَامِ الصَّلاةِ، وَإِِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ" .
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر نماز قائم کرنے، زکاۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنے کی بیعت کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4545]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 57، 58، 524، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 56، وابن الجارود فى "المنتقى"، 368، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2259، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4545، 4546، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4945، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1925، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2582، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10563، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19459» «رقم طبعة با وزير 4528»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
66. باب بيعة الأئمة وما يستحب لهم - ذكر البيان بأن النصح لكل مسلم في البيعة التي وصفناها كان ذلك مع الإقرار بالسمع والطاعة-
ائمہ کی بیعت کا بیان - اس بات کی وضاحت کہ بیعت کے وقت ہر مسلمان کے لیے خیر خواہی اور نصیحت کرنا سمع و طاعت کے اقرار کے ساتھ ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4546
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: " بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ، وَالطَّاعَةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ" . فَكَانَ إِِذَا اشْتَرَى شَيْئًا أَوْ بَاعَهُ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ: اعْلَمْ أَنَّ مَا أَخَذْنَا مِنْكَ أَحَبُّ إِِلَيْنَا مِمَّا أَعْطَيْنَاكَهُ فَاخْتَرْ.
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر اطاعت و فرمانبرداری کرنے اور ہر مسلمان کی خیر خواہی رکھنے کی بیعت کی تھی۔ (راوی کہتے ہیں) ان کا (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یا شاید سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کا) یہ معمول تھا کہ جب وہ کوئی چیز خریدتے تھے یا کوئی چیز فروخت کرتے تھے تو دوسرے فریق یہ کہتے تھے: یہ بات جان لو کہ ہم نے جو چیز تم سے حاصل کی ہے وہ ہمارے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے جو ہم نے تمہیں دی ہے، تو اب تمہیں اختیار ہے (یعنی تم سودا مکمل کر لو)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4546]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 57، 58، 524، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 56، وابن الجارود فى "المنتقى"، 368، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2259، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4545، 4546، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4945، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1925، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2582، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10563، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19459» «رقم طبعة با وزير 4529»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (3/ 25): ق دون قوله: فكان ...
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الصحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
67. باب بيعة الأئمة وما يستحب لهم - ذكر وصف السمع والطاعة اللذين يبايع الإمام رعيته عليهما-
ائمہ کی بیعت کا بیان - اس سمع و طاعت کی صفت کا بیان جس پر رعایا امام سے بیعت کرتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4547
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ، قَالَ: " بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْيُسْرِ وَالْعُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ، وَأَنْ لا نُنَازِعَ الأَمْرَ أَهْلَهُ، وَأَنْ نَقُومَ أَوْ نَقُولَ بِالْحَقِّ حَيْثُ مَا كُنَّا، لا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لائِمٍ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَحِمَهُ اللَّهُ: سَمِعَ عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ.
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر آسانی، تنگی، پسندیدگی اور زبردستی، ہر حال میں فرمانبرداری کرنے کی بیعت کی تھی اور اس بات کی بیعت کی تھی کہ ہم حکومت کے معاملے میں حکمرانوں سے کوئی جھگڑا نہیں کریں گے اور ہم حق کو قائم رکھیں گے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) حق کے مطابق بات کہیں گے، خواہ ہم جہاں کہیں بھی ہوں اور ہم اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا اندیشہ نہیں کریں گے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عبادہ بن ولید نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے حدیث کا سماع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4547]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 7055، 7199، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1709، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4547، 4562، 4566، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5572، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4160، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2866، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16647، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15893، والحميدي فى (مسنده) برقم: 393» «رقم طبعة با وزير 4530»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «تخريج فقه السيرة»، «الظلال» (2/ 494 / 1029 - 1032 و 1035)، «الصحيحة» (3418).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں