صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
28. باب في الخلافة والإمارة - ذكر احتراز المصطفى صلى الله عليه وسلم من المشركين في مجلسه إذا دخلوا عليه-
خلافت و امارت کا بیان - جب مشرکین مجلس میں داخل ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان سے احتیاط برتنا
حدیث نمبر: 4508
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْخَطِيبُ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ابْنِ بِنْتِ أَزْهَرَ السَّمَّانُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " كَانَ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلَةَ صَاحِبِ الشَّرَطِ مِنَ الأَمِيرِ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہی نسبت حاصل تھی جو کوتوال کو گورنر کے ساتھ ہوتی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4508]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 7155، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4508، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3850، 3850 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16698، والبزار فى (مسنده) برقم: 7316، 7317، والطبراني فى(الكبير) برقم: 879، 880» «رقم طبعة با وزير 4491»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (7155).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
29. باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يستحب للإمام أن يقصي من نفسه آكل البصل من رعيته إلى أن يذهب ريحها-
خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ اپنی رعایا میں سے بصل کھانے والے کو اس وقت تک دور رکھے جب تک اس کی بو ختم نہ ہو جائے
حدیث نمبر: 4509
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَرَّ عَلَى زَرَّاعَةِ بَصَلٍ هُوَ وَأَصْحَابُهُ، فَنَزَلَ نَاسٌ فَأَكَلُوا مِنْهُ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ آخَرُونَ، فَرُحْنَا إِِلَيْهِ، فَدَعَا الَّذِينَ لَمْ يَأْكُلُوا الْبَصَلَ، وَأَخَّرَ الآخَرِينَ حَتَّى ذَهَبَ رِيحُهَا" .
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیاز کے کھیت کے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب بھی تھے۔ لوگوں نے وہاں پڑاؤ کیا، کچھ لوگوں نے پیاز کو کھا لیا اور کچھ نے نہیں کھایا۔ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو بلوایا جنہوں نے پیاز نہیں کھایا تھا اور دوسرے لوگوں کو اس وقت تک پیچھے کر دیا جب تک ان کی بو ختم نہیں ہو گئی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4509]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 566، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4509» «رقم طبعة با وزير 4492»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (566).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
30. باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يجب على الإمام أن لا تكون همته في جمع الدنيا لنفسه-
خلافت و امارت کا بیان - امام پر لازم ہے کہ دنیا جمع کرنے کا لالچ اپنی ذات کے لیے نہ رکھے
حدیث نمبر: 4510
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ وَكَانَ يُكْنَى أَبَا هَاشِمٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنْتُ فِي وَفْدِ بَنِي الْمُنْتَفِقِ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِِذْ رَفَعَ الرَّاعِي غَنَمَهُ إِِلَى الْمُرَاحِ، فَإِِذَا سَخْلَةً تَيْعَرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا وَلَدَتْ؟" فَقَالَ الرَّاعِي: بَهْمَةٌ. فَقَالَ:" اذْبَحْ مَكَانَهَا شَاةً"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَحْسِبَنَّ بِالْخَفْضِ، وَلَمْ يَقُلْ: لا تَحْسَبَنَّ بِالنَّصْبِ، أَنَّا مِنْ أَجْلِكَ ذَبَحْنَاهَا، إِِنَّ لَنَا غَنَمًا مِائَةٌ، فَإِِذَا وَلَدَ الرَّاعِي بَهْمَةً ذَبَحْنَا مَكَانَهَا شَاةً" . قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِِنَّ لِي امْرَأَةً، وَفِي لِسَانِهَا شَيْءٌ يَعْنِي الْبَذَاءَ، قَالَ:" طَلِّقْهَا إِِذًا". فَقَالَ: إِِنَّ لَهَا صُحْبَةً، وَلِي مِنْهَا وَلَدٌ. قَالَ: " فَمُرْهَا بِقَوْلٍ فَعِظْهَا لَعَلَّهَا أَنْ تَعْقِلَ، وَلا تَضْرِبْ ظَعِينَتَكَ كَضَرْبِكَ إِِبِلَكَ" . قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي عَنِ الْوضُوءِ. قَالَ: " إِِذَا تَوَضَّأْتَ فَأَسْبِغِ الْوضُوءَ، وَخَلِّلْ بَيْنَ الأَصَابِعِ، وَبَالِغْ فِي الاسْتِنْشَاقِ، إِِلا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا" .
عاصم بن لقیط بن صبرہ اپنے والد (سیدنا لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں بنو منتفق کے وفد میں شامل تھا، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، اسی دوران ایک چرواہا اپنی بکری کو اٹھا کر باڑے کی طرف لے گیا، وہ آوازیں نکال رہی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اس نے کیا جنم دیا ہے؟“ چرواہے نے جواب دیا: بچے کو جنم دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی جگہ کوئی اور بکری ذبح کرو۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم یہ گمان نہ کرنا کہ ہم نے تمہاری وجہ سے اسے ذبح کیا ہے“ (راوی بیان کرتے ہیں: یہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ پر زیر پڑھی تھی زبر نہیں پڑھی تھی)۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”ہمارے پاس ایک سو بکریاں ہیں، جب کوئی ایک بکری بچہ دیتی ہے، تو ہم اس کی جگہ ایک بکری کو ذبح کر دیتے ہیں۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری بیوی کی زبان میں کچھ خرابی ہے یعنی وہ بدزبانی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے طلاق دے دو۔“ انہوں نے عرض کی: اس کے ساتھ بڑا پرانا ساتھ ہے، پھر اس سے میری اولاد بھی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے زبانی طور پر وعظ و نصیحت کر کے سمجھاؤ، ہو سکتا ہے اسے سمجھ آ جائے، تم اپنی بیوی کو اس طرح نہ مارو جس طرح تم اپنے اونٹ کو مارتے ہو۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے وضو کے بارے میں بتائیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم وضو کرو تو اچھی طرح وضو کرو اور اپنی انگلیوں کے درمیان خلال کرو اور اچھی طرح ناک میں پانی ڈالو، البتہ اگر تمہارا روزہ ہو (تو پھر مبالغہ نہ کرو)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4510]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 88، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 150، 168، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1054، 1087، 4510، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 524، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 87، وأبو داود فى (سننه) برقم: 142، والترمذي فى (جامعه) برقم: 38، 788، والدارمي فى (مسنده) برقم: 732، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 407، 448، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16642» «رقم طبعة با وزير 4493»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (1051). تنبيه!! رقم (1051) = (1054) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده جيد
31. باب في الخلافة والإمارة - ذكر الزجر عن انهماك الأمراء في أموال المسلمين بما لا يسعهم ولا يحل لهم ارتكابه-
خلافت و امارت کا بیان - حکمرانوں کو مسلمانوں کے مال میں ناجائز تصرف سے سختی سے روکا گیا ہے
حدیث نمبر: 4511
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، أَنَّ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ، فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ، إِِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِِنَّ شَرَّ الرِّعَاءِ الْحُطَمَةُ، فَإِِيَّاكَ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ" . فَقَالَ: اجْلِسْ، فَإِِنَّمَا أَنْتَ مِنْ نُخَالَةِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ: هَلْ كَانَتْ لَهُمْ نُخَالَةٌ، إِِنَّمَا كَانَتِ النُّخَالَةُ بَعْدَهُمْ، وَفِي غَيْرِهِمْ.
حسن بصری بیان کرتے ہیں: سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، وہ عبیداللہ بن زیاد کے پاس تشریف لے گئے، انہوں نے فرمایا: اے میرے بیٹے! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک سب سے برا حکمران ظالم حکمران ہوتا ہے۔“ تو تم اس بات سے بچنے کی کوشش کرو کہ تم ان میں شامل ہو جاؤ۔ عبیداللہ بن زیاد نے کہا: آپ تشریف رکھیں، آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے برے افراد میں سے ایک ہیں، تو انہوں نے فرمایا: کیا ان اصحاب کے اندر خرابی ہوگی؟ خرابی تو ان کے بعد والے لوگوں میں اور ان کے علاوہ لوگوں میں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4511]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1830، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4511، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16737، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20968، والطبراني فى(الكبير) برقم: 26، 27» «رقم طبعة با وزير 4494»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2884).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
32. باب في الخلافة والإمارة - ذكر إيجاب النار نعوذ بالله منها لمن تقلد شيئا من أمور المسلمين وانبسط في أموالهم بغير إذنهم-
خلافت و امارت کا بیان - جو شخص مسلمانوں کے معاملات کا ذمہ دار بنے اور ان کے مال میں بلا اجازت تصرف کرے اس کے لیے جہنم کی وعید ہے (نعوذ باللہ)
حدیث نمبر: 4512
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، حَدَّثَهُ أَنَّ عُبَيْدَ سَنُوطَا ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ خَوْلَةَ بِنْتَ قَيْسِ بْنِ قَهْدٍ ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بُورِكَ لَهُ فِيهَا، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللَّهِ وَمَالِ رَسُولِهِ لَهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک دنیا میٹھی اور سرسبز ہے، جو شخص اس کے حق کے ہمراہ اسے حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت رکھی جاتی ہے اور بعض اوقات کوئی شخص اللہ اور اس کے رسول کے مال کو حاصل کرتا ہے اور قیامت کے دن اس کے لیے جہنم ہوگی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4512]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3118، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2892، 4512، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2374، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27696، والحميدي فى (مسنده) برقم: 356» «رقم طبعة با وزير 4495»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - وهو طرف من الحديث المتقدم (2886). تنبيه!! رقم (2886) = (2897) من «طبعة المؤسسة». لكن الحديث غير موجود بالرقم المشار إليه، وهو موجود في مواضع كثيرة من الكتاب. - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
33. باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يجب على الإمام أن لا يأخذ هذا المال إلا بحقه كي يبارك له فيه-
خلافت و امارت کا بیان - امام پر لازم ہے کہ وہ بیت المال سے صرف حق کے مطابق لے تاکہ اس میں برکت ہو
حدیث نمبر: 4513
سَمِعْتُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ إِِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيَّ ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَخْوَفُ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مَا أَنْبَتَتِ الأَرْضُ أَوْ زُهْرَةُ الدُّنْيَا". فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ، فَأَخَذَهُ عِرْقٌ أَوْ بَهَرٌ، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ؟" فَقَالَ: هَا أَنَا ذَا وَلَمْ أُرِدْ إِِلا خَيْرًا. فَقَالَ:" إِِنَّ الْخَيْرَ لا يَأْتِي إِِلا بِالْخَيْرِ، وَإِِنَّ كُلَّ مَا أَنَبْتَ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُّ إِِلا آكِلَةَ الْخَضِرِ، فَإِِنَّهَا أَكَلَتْ، فَلَمَّا اشْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلْتِ الشَّمْسَ، فَثَلَطَتْ ثُمَّ بَالَتْ، ثُمَّ عَادَتْ فَأَكَلْتُ، ثُمَّ أَفَاضَتْ فَاجْتَرَّتْ، وَإِِنَّ هَذَا الْمَالَ حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلا يَشْبَعُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى" . قَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ: زَعَمَ سُفْيَانُ أَنَّ الأَعْمَشَ سَأَلَهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ اس چیز کا ہے جسے زمین پیدا کرے گی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) دنیاوی زیب و زینت کا ہے۔“ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا بھلائی برائی کو لے کر آئے گی؟ راوی بیان کرتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے یہاں تک کہ ہمیں اندازہ ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سانس تیز ہو گیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟“ اس نے عرض کی: میں یہاں ہوں، میں نے اس سوال کے ذریعے صرف بھلائی کا ارادہ کیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بھلائی صرف بھلائی کو لے کر آتی ہے، بہار کا موسم جو کچھ اگاتا ہے وہ کسی جانور کو ہلاک کر دیتا ہے یا تکلیف کے قریب کر دیتا ہے، سوائے سبزہ چرنے والے جانور کے کہ وہ کھاتا ہے یہاں تک کہ جب اس کی کوکھیں بھر جاتی ہیں تو وہ دھوپ میں آ جاتا ہے، وہاں وہ لید کرتا ہے اور پیشاب کرتا ہے، پھر واپس جا کر دوبارہ چرنے لگتا ہے، پھر آتا ہے اور لیٹ جاتا ہے؛ یہ مال میٹھا اور سرسبز ہے، جو شخص اسے اس کے حق کے ہمراہ حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت رکھی جاتی ہے اور جو شخص اسے ناحق طور پر حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت نہیں رکھی جاتی، اور اس شخص کی مثال ایسے شخص کی مانند ہوتی ہے جو کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا، اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔“ حسین بن حسن نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے کہ سفیان یہ کہتے ہیں: اعمش نے چالیس سال پہلے ان سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4513]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 921، 1465، 2842، 6427، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1052، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3225، 3226، 3227، 4513، 5174، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2580، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3995، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5792، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11192» «رقم طبعة با وزير 4496»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى برقم (3215). تنبيه!! رقم (3215) = (3225) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
34. باب في الخلافة والإمارة - ذكر تعوذ المصطفى صلى الله عليه وسلم من إمارة السفهاء-
خلافت و امارت کا بیان - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فاسق و ناسمجھی کرنے والے حکمرانوں سے پناہ مانگنا
حدیث نمبر: 4514
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ: يَا كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ" أَعَاذَنَا اللَّهُ مِنْ إِِمَارَةِ السُّفَهَاءِ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا إِِمَارَةُ السُّفَهَاءِ؟ قَالَ: " أُمَرَاءُ يَكُونُونَ بَعْدِي لا يَهْتَدُونَ بِهَدْيِي، وَلا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي، فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكِذْبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَأُولَئِكَ لَيْسُوا مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُمْ، وَلا يَرِدُوا عَلَيَّ حَوْضِي، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكِذْبِهِمْ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَهُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ، وَسَيَرِدُونَ عَلَيَّ حَوْضِي، يَا كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ: الصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ، وَالصَّلاةُ بُرْهَانٌ، أَوْ قَالَ: قُرْبَانٌ، يَا كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ: النَّاسُ غَادِيَانِ: فَمُبْتَاعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا، وَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُوبِقُهَا" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے کعب بن عجرہ! اللہ تعالیٰ تمہیں بے وقوفوں کی حکمرانی «إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ» سے اپنی پناہ میں رکھے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بے وقوفوں کی حکمرانی سے کیا مراد ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے بعد کچھ ایسے حکمران آئیں گے جو ہدایت کی پیروی نہیں کریں گے اور نہ ہی میری سنت کی پیروی کریں گے، تو جو شخص ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا تو ان لوگوں کا مجھ سے کوئی واسطہ نہیں ہوگا اور نہ ہی میرا ان سے کوئی واسطہ ہوگا اور وہ لوگ میرے حوض پر میرے پاس نہیں آ سکیں گے۔ اور جو شخص ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہیں کرے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد نہیں کرے گا اس کا مجھ سے تعلق ہوگا اور میرا اس سے تعلق ہوگا اور وہ عنقریب میرے حوض پر میرے پاس آئے گا۔ اے کعب بن عجرہ! «الصَّوْمُ جُنَّةٌ» ”روزہ ڈھال ہے“، «وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ» ”صدقہ گناہ کو ختم کر دیتا ہے“، «وَالصَّلَاةُ بُرْهَانٌ» ”نماز برہان ہے“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) «أَوْ قُرْبَانٌ» ”قربت کے حصول کا ذریعہ ہے“۔ اے کعب بن عجرہ! لوگ صبح کے وقت نکلتے ہیں اور اپنے آپ کا سودا کر لیتے ہیں، تو کوئی شخص اپنے آپ کو (اللہ کی اطاعت کر کے) آزاد کروا دیتا ہے اور کوئی اپنے آپ کو فروخت کر کے اسے غلام بنا دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4514]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1723، 4514، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 265، 6084، 7256، 8396، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2818، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14665» «رقم طبعة با وزير 4497»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (3/ 150)، «الظلال» (756).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
35. باب في الخلافة والإمارة - ذكر الزجر عن أخذ الأمراء وعمالهم شيئا من أموال المسلمين إلا ما أحل الله ورسوله صلى الله عليه وسلم أخذه عليهم-
خلافت و امارت کا بیان - حکمرانوں اور ان کے کارندوں کو مسلمانوں کے مال سے صرف وہی لینے کی اجازت ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال کیا ہے
حدیث نمبر: 4515
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ ، يَقُولُ: اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ اللُّتْبِيَّةِ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا جَاءَ حَاسَبَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَذَا لَكُمْ وَهَذِهِ هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ إِِلَيَّ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلا جَلَسْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ هَدِيَّتُكَ". فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ قَامَ فَخَطَبَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ " مَا بَالُ أَقْوَامٍ نُوَلِّيهِمْ أُمُورًا مِمَّا وَلانَا اللَّهُ، وَنَسْتَعْمِلَهُمْ عَلَى أُمُورٍ مِمَّا وَلانِي اللَّهُ، ثُمَّ يَأْتِي أَحَدُهُمْ، فَيَقُولُ: هَذَا لَكُمْ وَهَذِهِ أُهْدِيَتْ إِِلَيَّ، أَلا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ حَتَّى تَأْتِيَهُ هَدِيَّتُهُ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لا يَأْخُذُ أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ إِِلا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى عَاتِقِهِ، فَلا أَعْرِفَنَّ رَجُلا يَحْمِلُ عَلَى عُنُقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ، أَوْ بَقَرَةً لَهَا خُوَارٌ، أَوْ شَاةً تَيْعَرُ. ثُمَّ بَسَطَ يَدَهُ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِِبْطَيْهِ بَصَرَ عَيْنِي وَسَمِعَ أُذُنِي، ثُمَّ قَالَ: أَلا هَلْ بَلَّغْتُ، ثَلاثًا" . الشَّهِيدُ عَلَى ذَلِكَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيُّ يَحُكُّ مَنْكِبِي مَنْكِبَهُ.
سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن لتبیہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کا نگران مقرر کیا، جب وہ آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے حساب لیا، اس نے بتایا: یہ آپ کے لیے ہے اور یہ تحفہ ہے جو مجھے تحفے کے طور پر دیا گیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے ماں باپ کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھے رہے تاکہ تمہارا تحفہ وہاں تمہارے پاس آ جاتا؟“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ» ”بعد ازاں! لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جس چیز کا نگران بنایا ہے ہم اس میں سے کچھ کاموں کا نگران (کچھ) لوگوں کو بناتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں جس چیز کا نگران بنایا ہے اس سلسلے میں کوئی کام لوگوں سے لیتے ہیں، پھر ان میں سے کوئی ایک شخص میرے پاس آ کر یہ کہتا ہے: یہ آپ کے لیے ہے اور یہ مجھے تحفے کے طور پر دیا گیا ہے، وہ شخص اپنے ماں باپ کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھا رہتا کہ اس کا تحفہ خود ہی اس تک آ جائے۔ اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! جو بھی شخص جس بھی چیز کو ناحق طور پر لے گا تو جب وہ قیامت کے دن آئے گا تو اس نے اپنی گردن پر اس چیز کو اٹھایا ہوا ہوگا، تو میں کسی ایسے شخص کو نہ پاؤں جس نے قیامت کے دن کسی اونٹ کو اپنی گردن پر اٹھایا ہوا ہو اور وہ آواز نکال رہا ہو یا گائے کو اٹھایا ہوا ہو وہ آواز نکال رہی ہو یا بکری کو اٹھایا ہوا ہو اور وہ منمنا رہی ہو۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک پھیلایا، یہاں تک کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغل کی سفیدی نظر آگئی، میں نے (یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو) اپنی آنکھوں کے ذریعے دیکھا اور میرے کانوں نے اس بات کو سنا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”خبردار! کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے؟“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس بات کے گواہ سیدنا زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ ہیں، کیونکہ وہ اس وقت میرے کندھے سے کندھا ملا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4515]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1500، 2597، 6636، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1832، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2339، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4515، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2946، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7758، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24085، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 1309، والحميدي فى (مسنده) برقم: 863» «رقم طبعة با وزير 4498»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2612).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
36. باب في الخلافة والإمارة - ذكر الإخبار عن نفي الفلاح عن أقوام تكون أمورهم منوطة بالنساء-
خلافت و امارت کا بیان - ان لوگوں کے بارے میں خبر کہ جن کے معاملات عورتوں کے ہاتھ میں ہوں ان کے لیے کامیابی نہیں
حدیث نمبر: 4516
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ تَمْلِكُهُمُ امْرَأَةٌ" .
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی جس کی حکمران کوئی عورت ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4516]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4425، 7099، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4516، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4634، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5403، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5904، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2262، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5208، 20421، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20730» «رقم طبعة با وزير 4499»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2456).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
37. باب في الخلافة والإمارة - ذكر البيان بأن الأمراء وإن كان فيهم ما لا يحمد فإن الدين قد يؤيد بهم-
خلافت و امارت کا بیان - اگرچہ حکمرانوں میں خامیاں ہوں مگر دین کا تقویٰ ان کے ذریعے قائم رہ سکتا ہے
حدیث نمبر: 4517
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السُّكَيْنِ بِوَاسِطَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقٍ الرَّسْعَنِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الصَّنْعَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَبَاحُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيُؤَيِّدَنَّ اللَّهُ هَذَا الدِّينَ بِقَوْمٍ لا خَلاقَ لَهُمْ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب اللہ تعالیٰ اس دین کی تائید ایسے لوگوں کے ذریعے کرے گا جن کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4517]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4517، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8834، والبزار فى (مسنده) برقم: 6641، 6648، 6776، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 1948، 2737، والطبراني فى (الصغير) برقم: 132» «رقم طبعة با وزير 4500»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1649).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح