🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يستحب للإمام قسم ما يملك بين رعيته وإن كان ذلك الشيء يسيرا لا يسعهم كلهم-
خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے اپنی رعایا میں اپنے پاس موجود چیز بانٹنے کا استحباب اگرچہ وہ تھوڑی ہو اور سب کے لیے کافی نہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4498
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَنَا تَمْرًا، فَأَصَابَنِي مِنْهَا خَمْسُ أَوْ أَرْبَعُ تَمَرَاتٍ". قَالَ: فَرَأَيْتُ الْحَشَفَةَ هِيَ أَشَدُّ لِضِرْسِي . قَالَ: قَالَ: فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " إِِنَّ أَبْخَلَ النَّاسِ، مَنْ بَخِلَ بِالسَّلامِ، وَأَعْجَزَ النَّاسِ، مَنْ عَجَزَ عَنِ الدُّعَاءِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے درمیان کھجوریں تقسیم کیں، تو مجھے ان میں سے پانچ یا شاید چھ کھجوریں [ملیں] ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان میں سے ایک کھجور میری داڑھ کے لیے انتہائی سخت تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس پر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ بخیل وہ شخص ہے جو سلام کرنے میں کنجوسی سے کام لے اور لوگوں میں سب سے عاجز وہ شخص ہے جو دعا بھی نہ کر سکے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4498]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5411، 5441، 5442، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4498، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7171، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 6698، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2474، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4157، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8080» «رقم طبعة با وزير 4481»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (601) - مرفوعاً -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يستحب للأئمة استمالة قلوب رعيتهم بإقطاع الأرضين لهم-
خلافت و امارت کا بیان - اماموں کے لیے اپنی رعایا کے دل موہ لینے کی خاطر زمینیں عطا کرنے کا استحباب۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4499
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ الدَّارِمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ قَيْسٍ الْمَأْرِبِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ ، عَنْ سُمَيِّ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ شُمَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمَدَانِ ، عَنْ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ ، أَنَّهُ وَفَدَ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَقْطَعَهُ فَأَقْطَعَهُ الْمِلْحَ، فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَدْرِي مَا أَقْطَعْتَهُ؟ إِِنَّمَا أَقْطَعْتَهُ الْمَاءَ الْعِدَّ. قَالَ: فَرَجَعَ فِيهِ، وَقَالَ: " سَأَلْتُهُ عَمَّا يُحْمَى مِنَ الأَرَاكِ، فَقَالَ: مَا لَمْ تَبْلُغْهُ أَخْفَافُ الإِِبِلِ" .
سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ وفد کی شکل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی زمین عطا کرنے کی درخواست کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ملح کے مقام والی زمین عطا کر دی، جب وہ واپس چلے گئے تو ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کون سی زمین دی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک ایسی زمین دی ہے جہاں پانی وافر مقدار میں ہے۔ راوی کہتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ زمین واپس لے لی۔ راوی کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اراک نامی جگہ میں زمین کی درخواست کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (یہ اس وقت تک تمہیں دی جاتی ہے) جب تک اونٹوں کے پاؤں وہاں تک نہیں پہنچتے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4499]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4499، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3064، 3066، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1380، 1380 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2475، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11946، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3077، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 33704» «رقم طبعة با وزير 4482»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن لغيره دون جملة: «الخفاف» - «صحيح أبي داود» (2694)، «البيوع».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4500
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: قَالَ حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي إِِسْرَائِيلَ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي الزُّبَيْرُ وَمَا لَهُ فِي الأَرْضِ مَالٌ وَلا مَمْلُوكٌ، غَيْرُ نَاضِحٍ، وَغَيْرُ فَرَسِهِ، قَالَتْ: فَكُنْتُ أَعْلِفُ فَرَسَهُ، وَأَكْفِيهِ مُؤْنَتَهُ، وَأَسُوسُهُ وَأَدُقُّ النَّوَى لِنَاضِحِهِ، وَأَعْلِفُهُ، وَأَسْتَقِي الْمَاءَ، وَأَخْرُزُ غَرْبَهُ، قَالَ أَبُو أُسَامَةَ: يَعْنِي الدَّلْوَ وَأَعْجِنُ وَلَمْ أَكُنْ أَحْسِنُ أَخْبِزُ، فَتَخْبِزُ لِي جَارَاتٌ لِي مِنَ الأَنْصَارِ، وَكُنَّ نِسْوَةَ صِدْقٍ، وَكُنْتُ أَنْقُلُ النَّوَى مِنْ أَرْضِ الزُّبَيْرِ الَّتِي أَقْطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِي وَهِيَ ثُلُثَا فَرْسَخٍ، قَالَتْ: فَجِئْتُ يَوْمًا وَالنَّوَى عَلَى رَأْسِي، فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَدَعَانِي، ثُمَّ قَالَ:" إِِخْ إِِخْ"، لِيَحْمِلَنِي خَلْفَهُ، قَالَتْ: فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَمْشِيَ مَعَ الرِّجَالِ، وَذَكَرْتُ الزُّبَيْرَ وَغَيْرَتَهُ وَكَانَ أَغْيَرُ النَّاسِ، قَالَ: فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِنِّي قَدِ اسْتَحْيَيْتُ فَمَضَى، فَجِئْتُ الزُّبَيْرَ، فَقُلْتُ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى رَأْسِي النَّوَى، وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَأَنَاخَ لأَرْكَبَ مَعَهُ، فَاسْتَحْيَيْتُ وَعَرَفْتُ غَيْرَتَكَ. فَقَالَ: وَاللَّهِ لَحَمْلُكِ النَّوَى كَانَ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ رُكُوبِكِ مَعَهُ، قَالَتْ: حَتَّى أَرْسَلَ إِِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَ ذَلِكَ بِخَادِمٍ، فَكَفَتْنِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ، فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَتْنِي .
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں: سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے میرے ساتھ شادی کی، اس وقت نہ ان کے پاس کوئی زمین تھی نہ کوئی غلام تھا، ان کے پاس صرف ایک اونٹ تھا اور ایک گھوڑا تھا۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں: میں ان کے گھوڑے کو چارا کھلایا کرتی تھی اور اس کی دیکھ بھال کیا کرتی تھی، میں ان کے اونٹ کے لیے گٹھلیاں چنا کرتی تھی اور اسے چارا فراہم کیا کرتی تھی اور اسے پانی پلایا کرتی تھی اور اس کے لیے (پانی کا) ڈول تیار کیا کرتی تھی، میں آٹا گوندھ لیتی تھی لیکن مجھ سے روٹی اچھی طرح سے نہیں بنائی جاتی تھی، تو میری انصاری پڑوسنیں مجھے روٹی بنا دیا کرتی تھیں، وہ بڑی مخلص خواتین تھیں۔ میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی زمین سے اپنے سر پر گٹھلیاں رکھ کر لایا کرتی تھی، وہ زمین جو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا کی تھی اور وہ دو تہائی فرسخ کے فاصلے پر تھی۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں: ایک دن میں آ رہی تھی، میرے سر پر گٹھلیاں موجود تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مجھ سے سامنا ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب بھی تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: «إِخْ إِخْ» (یعنی آپ نے اونٹ کو ٹھہرایا) تاکہ آپ مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیں۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں: مجھے مردوں کے ساتھ جاتے ہوئے شرم آ گئی، مجھے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور ان کے مزاج کی تیزی کا بھی خیال آیا، کیونکہ ان میں غصہ بہت زیادہ تھا۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اندازہ ہو گیا تھا کہ میں شرما رہی ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے، پھر میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور میں نے انہیں بتایا کہ میری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تھی، میرے سر پر گٹھلیاں تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آپ کے کچھ اصحاب بھی تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ کو روکا تھا تاکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سوار ہو جاؤں، تو مجھے شرم آ گئی اور مجھے آپ کے مزاج کی تیزی کا بھی خیال آ گیا، تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! تمہارا گٹھلیاں اٹھانا میرے نزدیک تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سوار ہو جانے سے زیادہ گراں ہے۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں: یہاں تک کہ اس کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے خادم بھجوایا جو میری جگہ گھوڑے کی دیکھ بھال کر لیا کرتا تھا، تو انہوں نے گویا مجھے آزاد کروا دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4500]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3151، 5224، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2182، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4500، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 9125، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11922، 14834، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27579، 27614، والطبراني فى(الكبير) برقم: 250» «رقم طبعة با وزير 4483»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (5224)، م (2182).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. باب في الخلافة والإمارة - ذكر الإخبار عما يستحب للأئمة تألف من رجي منهم الدين والإسلام-
خلافت و امارت کا بیان - اس بات کی خبر کہ حکمرانوں کے لیے ان لوگوں کا دل نرم کرنے کا استحباب ہے جن سے دین و اسلام کی امید ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4501
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّ قُرَيْشًا حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَأَلَّفَهُمْ". ثُمَّ قَالَ لَهُمْ:" أَفِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ؟" قَالُوا: ابْنُ أُخْتٍ لَنَا. قَالَ: " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قریش زمانہ جاہلیت سے قریب ہیں، اس لیے میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں انہیں مانوس کروں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تمہارے درمیان تمہارے علاوہ کوئی اور ہے؟ لوگوں نے بتایا: ہمارا ایک بھانجا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کا بھانجا ان کا حصہ ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4501]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3146، 3528، 3778، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1059، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4501، 4769، 7268، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2609، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3901، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2900، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13059، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12203» «رقم طبعة با وزير 4484»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (776)، «الروض النضير» (961): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يستحب للإمام بذل المال لمن يرجو إسلامه-
خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے ان لوگوں پر مال خرچ کرنے کا استحباب جن کے اسلام لانے کی امید ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4502
سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْخٍ بِوَاسِطَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَائِشَةَ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ لَهُ بِغَنَمٍ" . ذَكَرَ ابْنُ عَائِشَةَ كَثْرَتَهَا، فَأَتَى الأَعْرَابِيُّ قَوْمَهُ، وَقَالَ: يَا قَوْمِ أَسْلِمُوا، فَإِِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَاءَ مَنْ لا يَخَافُ الْفَقْرَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بکریاں دینے کا حکم دیا، یہاں ابن عائشہ نامی راوی نے ان بکریوں کی کثرت کا ذکر کیا ہے، وہ دیہاتی اپنی قوم کے افراد کے پاس آیا اور بولا: اے میری قوم کے لوگو! اسلام قبول کر لو، کیونکہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنا کچھ عطا کر دیتے ہیں کہ اس کے بعد غربت کا خوف نہیں رہتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4502]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2312، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2371، 2372، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4502، 6373، 6374، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13310، 13311، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12232» «رقم طبعة با وزير 4485»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (2312).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. باب في الخلافة والإمارة - ذكر الإباحة للإمام إعطاء أهل الشرك الهدايا إذا طمع في إسلامهم-
خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے اہلِ شرک کو ہدایا دینے کا جواز اگر ان کے اسلام لانے کی امید ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4503
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ حَتَّى جِئْنَا وَادِي الْقُرَى، فَإِِذَا امْرَأَةٌ فِي حَدِيقَةٍ لَهَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَصْحَابِهِ:" اخْرُصُوا". فَخَرَصَ الْقَوْمُ، وَخَرَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَةَ أَوْسُقٍ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمَرْأَةِ:" أَحْصِي مَا يَخْرُجُ مِنْهَا حَتَّى أَرْجِعَ إِِلَيْكِ إِِنْ شَاءَ اللَّهُ". قَالَ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَدِمَ تَبُوكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَتَهُبُّ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ، فَلا يَقُومَنَّ فِيهَا رَجُلٌ، وَمَنْ كَانَ لَهُ بَعِيرٌ فَلْيُوثِقْ عِقَالَهُ". قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: فَعَقَلْنَاهَا، فَلَمَّا كَانَ مِنَ اللَّيْلِ هَبَّتْ عَلَيْنَا رِيحٌ، فَقَامَ فِيهَا رَجُلٌ فَأَلْقَتْهُ فِي جَبَلِ طَيِّئٍ، ثُمَّ جَاءَهُ مَلَكُ أَيْلَةَ وَأَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةً بَيْضَاءَ، فَكَسَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدًا، وَكَتَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَقْبَلَ وَأَقْبَلْنَا مَعَهُ حَتَّى جِئْنَا وَادِي الْقُرَى، فَقَالَ لِلْمَرْأَةِ: كَمْ جَاءَ حَدِيقَتُكِ؟ قَالَتْ: عَشْرَةُ أَوْسُقٍ، خَرْصَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنِّي مُتَعَجِّلٌ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَتَعَجَّلَ مَعِي فَلْيَفْعَلْ". قَالَ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجْنَا مَعَهُ، حَتَّى إِِذَا أَوْفَى عَلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ:" هَذِهِ طَابَةُ". فَلَمَّا رَأَى أُحُدًا، قَالَ:" هَذَا أُحُدٌ، هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ، أَلا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الأَنْصَارِ؟" قَالُوا: بَلَى. قَالَ:" خَيْرُ دُورِ الأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي الْحَارِثِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي سَاعِدَةَ، وَفِي كُلِّ دُورِ الأَنْصَارِ خَيْرٌ" .
سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہم ایک وادی میں آئے، وہاں ایک عورت کا باغ تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: اس کی پیداوار کا اندازہ لگاؤ۔ لوگوں نے اس کا اندازہ لگایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اندازہ لگایا کہ اس کی پیداوار دس وسق ہوگی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: اس کی جو پیداوار ہوگی تم اسے شمار کر کے رکھنا، اگر اللہ نے چاہا تو ہم واپسی پر تمہارے پاس آئیں گے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک تشریف لے آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج رات تم پر انتہائی تیز آندھی آئے گی، اس آندھی کے دوران کوئی شخص ہرگز کھڑا نہ رہے، جس شخص کے ساتھ اونٹ موجود ہے وہ اس کی رسی کو باندھ لے۔ سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے انہیں باندھ لیا، جب رات ہوئی تو تیز ہوا چلنا شروع ہوگئی، ہم میں سے ایک شخص کھڑا ہوا تو ہوا نے اسے اٹھا کر طے کے پہاڑ پر پھینک دیا۔ پھر ایلہ (نامی جگہ) کا حکمران آیا، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سفید خچر تحفے کے طور پر پیش کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہننے کے لیے ایک چادر دی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے ایک تحریر لکھوا دی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم بھی روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم اسی وادی میں آئے (جہاں سے پہلے گزرے تھے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں جلدی سفر کرنا چاہتا ہوں، تم میں سے جو شخص میرے ساتھ جلدی سفر کرنا چاہے وہ کرے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم بھی روانہ ہوئے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے قریب پہنچ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ (یعنی مدینہ منورہ) طابہ (یعنی پاکیزہ) ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کو ملاحظہ فرمایا تو ارشاد فرمایا: یہ احد ہے، یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ کیا میں تمہیں انصار کے بہترین گھرانوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں (بتائیں)! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصار کا سب سے بہترین گھرانہ بنو نجار ہے، پھر بنو عبدالاشہل ہے، پھر بنو حارث کا گھرانہ ہے، پھر بنو ساعدہ کا گھرانہ ہے، اور انصار کے تمام گھرانے بہترین ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4503]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1482 م، 1872، 3161، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1392، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1188، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2314، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4503، 6501، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3079، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7530، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24091» «رقم طبعة با وزير 4486»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «تخريج فقه السيرة» (271): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. باب في الخلافة والإمارة - ذكر الإباحة للإمام قبول الهدايا من المشركين إذا طمع في إسلامهم-
خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے اہلِ شرک سے ہدایا قبول کرنے کا جواز اگر ان کے اسلام لانے کی امید ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4504
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ صَاعِقَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يَنْطَلِقُ بِصَحِفَتِي هَذِهِ إِِلَى قَيْصَرَ وَلَهُ الْجَنَّةُ؟" فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَإِِنْ لَمْ أُقْتَلْ؟ قَالَ:" وَإِِنْ لَمْ تُقْتَلْ". فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ بِهِ، فَوَافَقَ قَيْصَرَ وَهُوَ يَأْتِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ قَدْ جُعِلَ لَهُ بِسَاطٌ لا يَمْشِي عَلَيْهِ غَيْرُهُ، فَرَمَى بِالْكِتَابِ عَلَى الْبِسَاطِ وَتَنَحَّى، فَلَمَّا انْتَهَى قَيْصَرُ إِِلَى الْكِتَابِ أَخَذَهُ، ثُمَّ دَعَا رَأْسَ الْجَاثَلِيقِ، فَأَقْرَأَهُ، فَقَالَ: مَا عِلْمِي فِي هَذَا الْكِتَابِ إِِلا كَعِلْمِكَ، فَنَادَى قَيْصَرُ: مَنْ صَاحِبُ الْكِتَابِ؟ فَهُوَ آمَنٌ. فَجَاءَ الرَّجُلُ، فَقَالَ: إِِذَا أَنَا قَدِمْتُ فَأْتِنِي، فَلَمَّا قَدِمَ أَتَاهُ، فَأَمَرَ قَيْصَرُ بِأَبْوَابٍ قَصْرِهِ فَغُلِّقَتْ، ثُمَّ أَمَرَ مُنَادِيًا يُنَادِي: أَلا إِِنَّ قَيْصَرَ قَدِ اتَّبَعَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَ النَّصْرَانِيَّةَ. فَأَقْبَلَ جُنْدُهُ وَقَدْ تَسَلَّحُوا حَتَّى أَطَافُوا بِقَصْرِهِ، فَقَالَ لِرَسُولِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ تَرَى أَنِّي خَائِفٌ عَلَى مَمْلَكَتِي، ثُمَّ أَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى: أَلا إِِنَّ قَيْصَرَ قَدْ رَضِيَ عَنْكُمْ، وَإِِنَّمَا خَبَرَكُمْ لَيَنْظُرُ كَيْفَ صَبْرُكُمْ عَلَى دِينِكُمْ فَارْجِعُوا، فَانْصَرَفُوا، وَكَتَبَ قَيْصَرُ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِِنِّي مُسْلِمٌ وَبَعَثَ إِِلَيْهِ بِدَنَانِيرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَرَأَ الْكِتَابَ:" كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ، لَيْسَ بِمُسْلِمٍ وَهُوَ عَلَى النَّصْرَانِيَّةِ، وَقَسَّمَ الدَّنَانِيرَ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص میرے اس مکتوب کو لے کر قیصر کے پاس جائے گا اسے جنت ملے گی۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے دریافت کیا: اگرچہ مجھے قتل نہ کیا جائے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ تمہیں قتل نہ کیا جائے (پھر بھی تمہیں جنت ملے گی)۔ تو وہ شخص اس خط کو لے کر روانہ ہو گیا، وہ قیصر کے پاس اس وقت پہنچا جب قیصر بیت المقدس آیا ہوا تھا اور اس کے لیے ایک قالین بچھایا گیا تھا، اس قالین پر قیصر کے علاوہ اور کوئی نہیں چلتا تھا، اس شخص نے وہ مکتوب اس قالین پر رکھ دیا اور خود ایک طرف ہٹ گیا، جب قیصر اس مکتوب تک پہنچا تو اس نے اسے حاصل کیا اور پھر اپنے معتمد خصوصی کو بلوا کر اس سے وہ خط پڑھوایا تو اس نے جواب دیا: اس مکتوب کے بارے میں مجھے بھی وہی علم ہے جو آپ کو علم ہے، تو قیصر نے بلند آواز میں کہا: اس خط کو لانے والا شخص کون ہے؟ اسے امان دی جاتی ہے، تو وہ شخص آ گیا، قیصر نے کہا: جب میں آ جاؤں تو تم میرے پاس آ جانا، جب قیصر آیا تو وہ شخص اس کے پاس آیا، قیصر نے اپنے دروازوں کے بارے میں حکم دیا اور انہیں بند کر دیا گیا، پھر اس نے منادی کو یہ اعلان کرنے کے لیے کہا کہ قیصر نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کر لی ہے اور عیسائیت کو ترک کر دیا ہے، تو اس کے سپاہی آگے بڑھے، انہوں نے اسلحہ اٹھایا ہوا تھا اور انہوں نے اس کے محل کا محاصرہ کر لیا، تو قیصر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایلچی سے کہا: تم نے دیکھ لیا ہے، مجھے اپنی حکومت کے حوالے سے خوف ہے، پھر اس نے منادی کو یہ اعلان کرنے کو کہا: خبردار! قیصر تم لوگوں سے راضی ہے، اس نے تم لوگوں کا امتحان لینا چاہا تھا کہ تم اپنے دین کے بارے میں کتنے پختہ ہو، تم لوگ واپس چلے جاؤ، تو وہ لوگ واپس چلے گئے، پھر قیصر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا کہ میں مسلمان ہوں، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ دینار بھی بھجوائے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس کا مکتوب پڑھا تو ارشاد فرمایا: اللہ کے دشمن نے غلط کہا ہے؛ یہ مسلمان نہیں ہے، یہ عیسائیت پر قائم ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دینار تقسیم کروا دیے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4504]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4504، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 2083» «رقم طبعة با وزير 4487»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر التعليق. * [التعليق] قال الشيخ: إِسنادهُ صحيح، رجاله كلُّهم ثِقاتٌ. وعزا الحافظ في «الفتح» (1/ 37) قوله: «كَذَبَ عَدُو الله ... » إلى «مسند أحمد»! وما أراه إلاَّ وَهماً، وذكر شاهداً مِنْ رِوايةِ أبي عُبيدٍ في كتاب «الأموال» (255/ 624) بسند صحيح مِنْ مُرسل بكر بن عبد الله المُزنيِّ ... نحوه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يستحب للإمام قبول الهدايا من رعيته في الأوقات وبذل الأموال لهم عند فتح الله الدنيا عليهم-
خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے رعایا سے مناسب اوقات میں تحائف قبول کرنے اور اللہ کی طرف سے دنیا کی فراخی آنے پر ان پر مال خرچ کرنے کا استحباب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4505
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى بِالْمَوْصِلِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَجُلا كَانَ يَجْعَلُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخَلاتِ مِنْ أَرْضِهِ، حَتَّى فُتِحَتْ عَلَيْهِ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ، فَجَعَلَ بَعْدَ ذَلِكَ يَرُدُّ عَلَيْهِ مَا كَانَ أَعْطَاهُ". قَالَ أَنَسٌ: وَإِِنَّ أَهْلِي أَمَرُونِي أَنْ آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ مَا كَانَ أَعْطَاهُ أَوْ بَعْضَهُ، وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَاهُ أُمَّ أَيْمَنَ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِيهِنَّ، فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَجَعَلَتِ الثَّوْبَ فِي عُنُقِي، وَقَالَتْ: وَاللَّهِ لا يُعْطِيكَهُنَّ وَقَدْ أَعْطَانِيهُنَّ. قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أُمَّ أَيْمَنَ، اتْرُكِي وَلَكِ كَذَا وَكَذَا". فَتَقُولُ: كَلا وَالَّذِي لا إِِلَهَ إِِلا هُوَ، حَتَّى أَعْطَاهَا عَشْرَةَ أَمْثَالِهِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ عَشْرَةِ أَمْثَالِهِ .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص اپنی زمین کی کھجوروں (کی پیداوار) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا کرتا تھا، یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریظہ اور نضیر کو فتح کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کا تحفہ واپس کر دیا جو اس نے آپ کی خدمت میں پیش کیا تھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میرے گھر والے مجھے یہ ہدایت کرتے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو جاؤں اور آپ سے وہ چیز مانگ لوں جو آپ کسی کو دیتے ہیں یا اس کا کچھ حصہ مانگ لوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کو کوئی چیز دے رہے تھے، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے وہ (کھجوریں یا چیزیں) مجھے عطا کر دیں، تو ام ایمن رضی اللہ عنہا آئیں انہوں نے کپڑا میری گردن میں ڈالا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) یہ (کھجوریں یا چیزیں) تمہیں نہیں دے سکتے جبکہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ہی مجھے دے چکے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ام ایمن! تم اسے چھوڑ دو تمہیں یہ، یہ چیزیں ملتی ہیں۔ تو وہ خاتون یہی کہتی رہیں ہرگز نہیں اس ذات کی قسم جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے (میں اسے نہیں چھوڑوں گی) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کھجوروں (یا چیزوں) سے دس گنا زیادہ یا دس گنا کے قریب چیزیں انہیں عطا کیں (تو انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو چھوڑا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4505]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3128، 4030، 4120، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1771، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4505، وأحمد فى (مسنده) برقم: 13495، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 4079، 4080، والبزار فى (مسنده) برقم: 6507» «رقم طبعة با وزير 4488»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (1771/ 71).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يستحب للإمام اتخاذ الكاتب لنفسه لما يقع من الحوادث والأسباب في أمور المسلمين-
خلافت و امارت کا بیان - مسلمانوں کے امور میں پیش آنے والے واقعات و اسباب کے پیش نظر امام کے لیے اپنا کاتب مقرر کرنے کا استحباب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4506
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ:" أَرْسَلَ إِِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رِضْوَانُ اللَّهُ عَلَيْهِ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَإِِذَا عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ جَالِسٌ عِنْدَهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِِنَّ عُمَرَ جَاءَنِي، فَقَالَ: إِِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ يَوْمَ الْيَمَامَةِ بِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ، وَإِِنِّي أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ فِي الْمَوَاطِنِ كُلِّهَا فَيَذْهَبُ مِنَ الْقُرْآنِ كَثِيرٌ، وَإِِنِّي أَرَى أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ، قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ أَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عُمَرُ: هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ يُرَاجِعُنِي فِي ذَلِكَ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ صَدْرَ عُمَرَ، وَرَأَيْتُ فِي ذَلِكَ الَّذِي رَأَى، فَقَالَ لِي أَبُو بَكْرٍ: إِِنَّكَ شَابٌّ عَاقِلٌ، لا نَتَّهِمُكَ، وَقَدْ كُنْتَ تُكْتَبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَتَبَّعِ الْقُرْآنَ فَاجْمَعْهُ. قَالَ زَيْدٌ: فَوَاللَّهِ لَوْ كَلَّفَنِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ، مَا كَانَ أَثْقَلَ عَلَيَّ مِمَّا أَمَرَنِي بِهِ مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ، قُلْتُ: فَكَيْفَ تَفْعَلُونَ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ أَبُو بَكْرٍ يُرَاجِعُنِي حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، قَالَ: فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهُ مِنَ الرِّقَاعِ، وَاللِّخَافِ، وَالْعُسُبِ، وَصُدُورِ الرِّجَالِ حَتَّى وَجَدْتُ آخِرَ سُورَةِ التَّوْبَةِ مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ، لَمْ أَجِدْهَا مَعَ أَحَدٍ غَيْرِهِ: لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ سورة التوبة آية 128 خَاتِمَةُ بَرَاءَةَ، قَالَ: فَكَانَتِ الصُّحُفُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ" . قَالَ قَالَ إِِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ حُذَيْفَةَ قَدِمَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَكَانَ يُغَازِي أَهْلَ الشَّامِ، وَأَهْلَ الْعِرَاقِ، وَفَتَحَ أَرْمِينِيَةَ، وَأَذْرَبِيجَانَ، فَأَفْزَعَ حُذَيْفَةُ اخْتِلافُهُمْ فِي الْقِرَاءَةِ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَدْرِكْ هَذِهِ الأُمَّةَ قَبْلَ أَنْ يَخْتَلِفُوا فِي الْكِتَابِ كَمَا اخْتَلَفَ الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى، فَبَعَثَ عُثْمَانُ إِِلَى حَفْصَةَ أَنْ أَرْسِلِي الصُّحُفَ لِنَنْسَخَهَا فِي الْمَصَاحِفِ، ثُمَّ نَرُدُّهَا إِِلَيْكِ. فَبَعَثَتْ بِهَا إِِلَيْهِ، فَدَعَا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَسَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَنْسَخُوا الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ، وَقَالَ لَهُمْ: " مَا اخْتَلَفْتُمْ أَنْتُمْ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فِي شَيْءٍ، فَاكْتُبُوهُ بِلِسَانِ قُرَيْشٍ، فَإِِنَّهُ نَزَلَ بِلِسَانِهِمْ". وَكَتَبَ الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ، وَبَعَثَ إِِلَى كُلِّ أُفُقٍ بِمُصْحَفٍ مِمَّا نَسَخُوا، وَأَمَرَ مِمَّا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْقُرْآنِ فِي كُلِّ صَحِيفَةٍ أَوْ مُصْحَفٍ أَنْ يُمْحَى أَوْ يُحْرِقَ . قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، يَقُولُ: " فَقَدْتُ آيَةً مِنْ سُورَةِ الأَحْزَابِ حِينَ نَسَخْتُ الْمُصْحَفَ، كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا، فَالْتَمَسْتُهَا، فَوَجَدْتُهَا مَعَ خُزَيْمَةَ بْنَ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ: مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ سورة الأحزاب آية 23، فَأَلْحَقْتُهَا فِي سُورَتِهَا فِي الْمُصْحَفِ" . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: اخْتَلَفُوا يَوْمَئِذٍ فِي التَّابُوتِ، فَقَالَ زَيْدٌ: التَّابُوهُ، وَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ وَسَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ: التَّابُوتُ، فَرُفِعَ اخْتِلافُهُمْ إِِلَى عُثْمَانَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" اكْتُبُوهُ التَّابُوتُ، فَإِِنَّهُ لِسَانُ قُرَيْشٍ".
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جنگ یمامہ کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے بلوایا، اس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے؛ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عمر میرے پاس آیا اور اس نے کہا: جنگ یمامہ میں قرآن کے بہت سے حافظ شہید ہو گئے ہیں، مجھے یہ اندیشہ ہے اگر مختلف جگہوں پر اسی طرح لوگ شہید ہوتے رہے تو قرآن کا بہت سا حصہ ضائع ہو سکتا ہے، اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ آپ قرآن کو جمع کرنے کا حکم دیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے جواب دیا: میں ایک ایسا کام کیسے کر سکتا ہوں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا؟ تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! یہ بہتر ہے، اس کے بعد یہ اس بارے میں مجھے مسلسل تلقین کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں مجھے بھی وہی شرح صدر عطا کر دیا جو عمر رضی اللہ عنہ کو عطا کیا ہے اور میری بھی وہی رائے ہو گئی جو عمر رضی اللہ عنہ کی رائے ہے۔ (سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: تم نوجوان بھی ہو، سمجھدار بھی ہو، ہم تم پر کوئی تہمت عائد نہیں کرتے اور تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وحی نوٹ بھی کرتے رہتے ہو، تو تم قرآن کو تلاش کرو اور اسے ایک جگہ جمع کر دو۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! اگر وہ مجھے کسی پہاڑ کو منتقل کرنے کا حکم دیتے تو یہ میرے لیے اتنا مشکل نہ ہوتا جتنا وہ حکم تھا جو انہوں نے مجھے قرآن جمع کرنے کے حوالے سے دیا تھا۔ میں نے کہا: آپ لوگ ایک ایسا کام کیسے کر سکتے ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا؟ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہ زیادہ بہتر ہے۔ اس کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مسلسل میرے ساتھ اس بارے میں بات چیت کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی وہی شرح صدر عطا کر دیا جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو عطا کیا تھا۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے قرآن کی تلاش شروع کی اور اسے تحریر کے پرزوں اور لوگوں کے سینوں سے اکٹھا کرنا شروع کیا یہاں تک کہ مجھے سورہ توبہ کی آخری آیتیں سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملیں، مجھے ان کے علاوہ اور کسی کے پاس یہ آیات نہیں ملیں: ﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ﴾ [سورة التوبة: 128] تحقیق تمہارے پاس ایک رسول آیا ہے جو تم میں سے ہے، تمہارا پریشانی کا شکار ہونا اسے بہت گراں گزرتا ہے۔ یہ سورہ توبہ کی آخری آیات ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر وہ صحیفہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس رہا، یہاں تک کہ جب ان کا انتقال ہو گیا تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس رہا، یہاں تک کہ جب ان کا انتقال ہو گیا تو وہ سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس آ گیا۔ ابن شہاب زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ اہل شام اور اہل عراق کی جنگوں میں شریک ہوئے تھے، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ اس حوالے سے پریشان تھے کہ لوگوں کا قرأت میں اختلاف ہو رہا ہے، انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ اس امت کی خبر لیجئے اس سے پہلے کہ یہ کتاب اللہ کے بارے میں اس طرح اختلاف کا شکار ہو جائے جس طرح یہودیوں اور عیسائیوں میں اختلاف ہو گیا تھا۔ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا کہ آپ اپنا مصحف مجھے بھجوائیں تاکہ ہم اس کی مختلف نقلیں تیار کریں، پھر ہم یہ آپ کو واپس کر دیں گے؛ تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے وہ نسخہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی طرف بھجوایا۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور انہیں یہ حکم دیا کہ وہ اس مصحف کی مختلف نقلیں تیار کر لیں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: جہاں تمہارے اور زید بن ثابت کے درمیان کسی لفظ کے بارے میں اختلاف ہو، تو تم لوگ اسے قریش کے محاورے کے مطابق نوٹ کرو، کیونکہ یہ ان کے محاورے میں نازل ہوا ہے۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے مختلف مصاحف تیار کروائے اور انہیں مختلف علاقوں میں بھیجا اور انہوں نے یہ حکم دیا کہ اس کے علاوہ قرآن جس بھی صحیفے اور مصحف کی شکل میں موجود ہے اسے مٹا دیا جائے یا جلا دیا جائے۔ ابن شہاب زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: خارجہ بن زید رحمہ اللہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے، انہوں نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: جب میں مصحف کو نقل کر رہا تھا تو مجھے اس میں سورہ الاحزاب کی ایک آیت نہیں ملی جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہوئی تھی، میں نے اس آیت کو تلاش کیا، تو وہ مجھے سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملی، وہ آیت یہ ہے: ﴿مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ﴾ [سورة الأحزاب: 23] اہل ایمان میں سے کچھ لوگ وہ ہیں، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے وعدے کو سچ ثابت کر دکھایا۔ تو میں نے اس آیت کو اس سورت میں مصحف میں شامل کر لیا۔ ابن شہاب زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: اس موقع پر لوگوں کے درمیان تابوت کے بارے میں اختلاف ہوا تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا تھا کہ اس کی قرأت «التَّابُوهُ» ہوگی، جبکہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہما کا کہنا تھا کہ یہ لفظ «التَّابُوتُ» ہے؛ جب ان کے اختلاف کا معاملہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: تم لوگ اسے «التَّابُوتُ» لکھو کیونکہ یہ قریش کے محاورے کے مطابق ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4506]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2807، 3506، 4049، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4506، 4507، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7934، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3103، 3104، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 418، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2410، وأحمد فى (مسنده) برقم: 58»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (4987 و 4988).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
(1) إسناده صحيح على شرطهما استحر: اشتد وكثُر. (2) إسناده صحيح على شرطهما (3) إسناده صحيح على شرطهما Null (4)
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. باب في الخلافة والإمارة - ذكر الجواز للمرء أن يتخذ الكاتب لنفسه لما يعترضه من أحوال الدين في الأسباب-
خلافت و امارت کا بیان - دینی معاملات اور اسباب کے پیش آنے پر شخص کے لیے اپنے لیے کاتب مقرر کرنے کا جواز
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4507
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ السَّبَّاقِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ حَدَّثَهُ، قَالَ:" أَرْسَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ إِِلَيَّ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَإِِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ عِنْدَهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِِنَّ عُمَرَ جَاءَنِي، فَقَالَ لِي: إِِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ بِأَهْلِ الْيَمَامَةِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَإِِنِّي أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ فِي الْمَوَاطِنِ فَيَذْهَبُ كَثِيرٌ مِنَ الْقُرْآنِ لا يُوعَى، وَإِِنِّي أُرِيدُ أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ، قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ تَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عُمَرُ: هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ يُرَاجِعُنِي بِذَلِكَ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ لِذَلِكَ صَدْرِي وَرَأَيْتُ فِيهِ الَّذِي رَأَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَعُمَرُ جَالِسٌ عِنْدَهُ لا يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِِنَّكَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ لا نَتَّهِمُكَ، وَكُنْتَ تُكْتَبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاتَّبِعِ الْقُرْآنَ فَاجْمَعْهُ. قَالَ: قَالَ زَيْدٌ: فَوَاللَّهِ لَوْ كَلَّفُونِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا كَانَ بِأَثْقَلَ عَلَيَّ مِمَّا أَمَرَنِي بِهِ مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ، قَالَ: فَقُلْتُ: وَكَيْفَ تَفْعَلُونَ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ أَبُو بَكْرٍ يُرَاجِعُنِي حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، قَالَ:" فَقُمْتُ أَتَتَبَّعُ الْقُرْآنَ، أَجْمَعُهُ مِنَ الرِّقَاعِ، وَالأَكْتَافِ، وَالْعُسُبِ، وَصُدُورِ الرِّجَالِ، حَتَّى وَجَدْتُ آخِرَ سُورَةِ التَّوْبَةِ مَعَ خُزَيْمَةَ الأَنْصَارِيِّ لَمْ أَجِدْهَا مَعَ غَيْرِهِ: لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ سورة التوبة آية 128، وَكَانَتِ الصُّحُفُ الَّتِي جَمَعْتُ فِيهَا الْقُرْآنَ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ حَيَاتَهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ" . قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ، وَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ" أَنَّهُ اجْتَمَعَ لِغَزْوَةِ أَذْرِبِيجَانَ وَأَرْمِينِيَةَ أَهْلِ الشَّامِ، وَأَهْلِ الْعِرَاقِ، فَتَذَاكَرُوا الْقُرْآنَ، فَاخْتَلَفُوا فِيهِ حَتَّى كَادَ يَكُونُ بَيْنَهُمْ قِتَالٌ، قَالَ: فَرَكِبَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ لَمَّا رَأَى اخْتِلافَهُمْ فِي الْقُرْآنِ إِِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَقَالَ: إِِنَّ النَّاسَ قَدِ اخْتَلَفُوا فِي الْقُرْآنِ، حَتَّى إِِنِّي وَاللَّهِ لأَخْشَى أَنْ يُصِيبَهُمْ مَا أَصَابَ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنَ الاخْتِلافِ، فَفَزِعَ لِذَلِكَ عُثْمَانُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَزِعًا شَدِيدًا، وَأَرْسَلَ إِِلَى حَفْصَةَ فَاسْتَخْرَجَ الصُّحُفَ الَّتِي كَانَ أَبُو بَكْرٍ أَمَرَ زَيْدًا بِجَمْعِهَا، فَنَسَخَ مِنْهَا الْمَصَاحِفَ، فَبَعَثَ بِهَا إِِلَى الآفَاقِ، ثُمَّ لَمَّا كَانَ مَرْوَانُ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ أَرْسَلَ إِِلَى حَفْصَةَ يَسْأَلُهَا عَنِ الصُّحُفِ لِيُمَزِّقَهَا، وَخَشِيَ أَنْ يُخَالِفَ بَعْضُ الْعَامِ بَعْضًا، فَمَنَعْتُهُ إِِيَّاهَا" . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَحَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" لَمَّا تُوُفِّيَتْ حَفْصَةُ، أَرْسَلَ إِِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِعَزِيمَةٍ لِيُرْسِلَ بِهَا، فَسَاعَةَ رَجَعُوا مِنْ جَنَازَةِ حَفْصَةَ أَرْسَلَ ابْنُ عُمَرَ إِِلَى مَرْوَانَ فَحَرَقَهَا مَخَافَةَ أَنْ يَكُونَ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ اخْتِلافٌ لَمَّا نَسْخَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ".
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جنگِ یمامہ کے بعد مجھے بلوایا، وہاں ان کے پاس سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عمر میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ جنگِ یمامہ میں بہت سے قراء شہید ہو گئے ہیں، مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اگر مختلف علاقوں میں اسی طرح لوگ شہید ہوتے رہے تو قرآن کا بہت سا حصہ ضائع ہو جائے گا جسے ابھی جمع نہیں کیا گیا، لہٰذا میری یہ رائے ہے کہ آپ قرآن کو جمع کرنے کا حکم دیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے (عمر سے) کہا کہ تم ایک ایسا کام کیسے کر سکتے ہو جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ کام بہتر ہی ہے۔ اس کے بعد یہ مسلسل اس بارے میں مجھ سے بات چیت کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں میرا شرحِ صدر فرما دیا اور اس معاملے میں میری بھی وہی رائے ہو گئی جو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی تھی۔ (سیدنا زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور انہوں نے کوئی بات نہیں کی، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم ایک نوجوان اور عقلمند آدمی ہو، ہم تم پر کوئی الزام عائد نہیں کرتے، تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وحی کی کتابت بھی کرتے رہے ہو، لہٰذا تم قرآن کو تلاش کر کے اسے ایک جگہ جمع کرو۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کی قسم! اگر وہ مجھے کسی پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا پابند کر دیتے تو میرے لیے یہ اتنا مشکل نہ ہوتا جتنا ان کا قرآن جمع کرنے کا حکم دینا مشکل تھا۔ میں نے کہا: آپ لوگ ایک ایسا کام کیسے کر سکتے ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا؟ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہ کام زیادہ بہتر ہے۔ اس کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مسلسل میرے ساتھ بات چیت کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں میرا بھی وہی شرحِ صدر فرما دیا جو سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کا فرمایا تھا۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر میں نے قرآن کو تلاش کرنے کا کام شروع کر دیا۔ میں نے اسے کھجور کی شاخوں، پتھر کے ٹکڑوں اور لوگوں کے سینوں سے اکٹھا کیا، یہاں تک کہ سورہ توبہ کی آخری آیات مجھے سیدنا خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملیں اور یہ آیات ان کے علاوہ مجھے اور کسی کے پاس (تحریری شکل میں) نہیں ملیں: ﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ﴾ [سورة التوبة: 128] تمہارے پاس ایک رسول آیا ہے، جو تم میں سے ہے۔ وہ صحیفہ جسے میں نے جمع کیا تھا وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی زندگی میں رہا، یہاں تک کہ جب ان کی وفات ہو گئی تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آ گیا، پھر جب ان کی وفات ہو گئی تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس محفوظ رہا۔
ابن شہاب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی کہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ آذر بائیجان اور آرمینیا کی فتح کے موقع پر اہل شام اور اہل عراق کے ساتھ جنگ میں شریک تھے، وہاں انہوں نے قراتِ قرآن کے بارے میں لوگوں میں اختلاف دیکھا تو اس بارے میں ان کے درمیان سخت نزاع پیدا ہو گیا، یہاں تک کہ اس بات کا اندیشہ ہوا کہ ان کے درمیان جنگ شروع ہو جائے۔ جب سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے یہ اختلاف دیکھا تو وہ سوار ہو کر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے امیر المومنین! اس امت کی خبر لیجیے اس سے پہلے کہ یہ بھی کتاب اللہ کے بارے میں اسی طرح اختلاف کا شکار ہو جائیں جیسے یہودی اور عیسائی ہوئے تھے۔ تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اس بات پر انتہائی پریشان ہو گئے، انہوں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو پیغام بھجوایا اور وہ صحیفہ منگوایا جسے جمع کرنے کا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس صحیفے کی مختلف نقلیں تیار کروائیں اور انہیں مختلف علاقوں میں بھجوایا۔ پھر جب مروان مدینہ منورہ کا گورنر بنا تو اس نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا اور ان سے وہ مصحف منگوایا تاکہ اسے ضائع کر دے، اسے یہ اندیشہ تھا کہ بعض لوگ اس حوالے سے بعض کی مخالفت کریں گے، تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے اسے دینے سے انکار کر دیا۔
ابن شہاب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سالم بن عبداللہ نے مجھے بتایا کہ جب سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تو مروان نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو قسم دے کر یہ پیغام بھجوایا کہ وہ مصحف اسے بھجوا دیں، چنانچہ جس وقت وہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے جنازے سے واپس آ رہے تھے، اسی وقت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے وہ نسخہ مروان کو بھجوا دیا، تو مروان نے اسے جلوا دیا، اسے یہ اندیشہ تھا کہ کہیں اس نسخے کی وجہ سے دوبارہ قرات میں وہ اختلاف نہ پیدا ہو جائے جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے تیار کردہ نسخے کے خلاف ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4507]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2807، 3506، 4049، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4506، 4507، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7934، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3103، 3104، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 418، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2410، وأحمد فى (مسنده) برقم: 58» «رقم طبعة با وزير 4490»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں