صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
38. باب في الخلافة والإمارة - ذكر البيان بأن الرجل الذي يعرف منه الفجور قد يؤيد الله دينه بأمثاله-
خلافت و امارت کا بیان - فاجر شخص کے ذریعے بھی اللہ اپنے دین کی مدد فرما سکتا ہے
حدیث نمبر: 4518
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيُؤَيِّدَنَّ اللَّهُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ" .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس دین کی تائید کسی فاجر شخص (یعنی کافر شخص یا گنہگار شخص) کے ذریعے بھی کر دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4518]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4518، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 2113، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 8913، 9094» «رقم طبعة با وزير 4501»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الصحيحة» -أيضا-.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح لغيره إسناده حسن
39. باب في الخلافة والإمارة - ذكر السبب الذي من أجله قال صلى الله عليه وسلم هذا القول-
خلافت و امارت کا بیان - اس قول نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا سبب بیان کیا گیا ہے
حدیث نمبر: 4519
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُنَيْنٍ، فَقَالَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ يُدْعَى بِالإِِسْلامِ:" هُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ". فَلَمَّا حَضَرَ الْقِتَالَ، قَاتَلَ الرَّجُلُ قِتَالا شَدِيدًا فَأَصَابَهُ الْجِرَاحُ، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ الَّذِي قُلْتَ إِِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، قَاتَلَ الْيَوْمَ قِتَالا شَدِيدًا فَمَاتَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِلَى النَّارِ". فَكَادَ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْتَابَ، فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ، إِِذْ قِيلَ: لَمْ يَمُتْ وَبِهِ جِرَاحٌ شَدِيدَةٌ، فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ اشْتَدَّ بِهِ الْجِرَاحُ، فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، فَقَالَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ". ثُمَّ أَمَرَ بِلالا فَنَادَى فِي النَّاسِ: " لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِِلا نَفْسٌ مَسْلَمَةٌ، وَإِِنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حنین میں موجود تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے بارے میں جو مسلمان کے طور پر پہچانا جاتا تھا یہ فرمایا: ”یہ اہل جہنم میں سے ہے“، جب جنگ شروع ہوئی تو اس شخص نے شدید لڑائی کی اور وہ زخمی ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ شخص جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ یہ اہل جہنم میں سے ہے، اس نے تو آج بڑی شدید لڑائی کی ہے اور انتقال کر گیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جہنم میں جائے گا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب کو اس بارے میں الجھن ہوئی، ابھی وہ اسی حالت میں تھے کہ یہ بات بیان کی گئی کہ اس کا انتقال نہیں ہوا بلکہ وہ شدید زخمی ہے، جب رات ہوئی تو اس کے زخم میں تکلیف زیادہ ہو گئی تو اس نے خودکشی کر لی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے!“، ”میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ بے شک میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ وہ لوگوں میں اعلان کر دیں: ”جنت میں صرف مسلمان داخل ہو گا اور اللہ تعالیٰ کسی گنہگار شخص کے ذریعے اس دین کی تائید کر دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4519]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3062، 4203، 6606، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 111، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4519، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16935، 17946، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8205» «رقم طبعة با وزير 4502»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» -أيضا-: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
40. باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يستحب للإمام أن يحالف بين أصحابه ليكون أجمع لهم في أسبابهم-
خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ اپنے ساتھیوں میں باہمی مواخات کروائے تاکہ ان کے اسباب متحد ہوں
حدیث نمبر: 4520
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ " حَالَفَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالأَنْصَارِ فِي دُورِهِمْ بِالْمَدِينَةِ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں انصار کے محلوں میں قریش اور انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4520]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2294، 6083، 7340، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2529، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4520، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2926، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12648، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12272» «رقم طبعة با وزير 4503»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
41. باب في الخلافة والإمارة - ذكر الإباحة للإمام إذا ركب أن يسير معه الناس رجالة-
خلافت و امارت کا بیان - جب امام سواری پر ہو تو لوگوں کے پیدل ساتھ چلنے کی اجازت
حدیث نمبر: 4521
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: " دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ آخِذٌ بِغَرْزِهِ وَهُوَ يَقُولُ: خِلْوٌ بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ قَدْ أَنْزَلَ الْقُرْآنُ فِي تَنْزِيلِهِ بِأَنَّ خَيْرَ الْقَتْلِ فِي سَبِيلِهِ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ قضا کے موقع پر تشریف لے گئے (یعنی مکہ میں داخل ہو گئے) تو سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے آپ کی رکاب کو پکڑا ہوا تھا اور وہ یہ شعر پڑھ رہے تھے: کفار کی اولاد! اس کا راستہ چھوڑ دو اور قرآن میں یہ حکم نازل ہوا ہے کہ سب سے بہترین قتل وہ ہے جو اس کی راہ میں کیا جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4521]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2680، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4521، 5788، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2847، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 21098» «رقم طبعة با وزير 4504»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «مختصر الشمائل» (رقم 210).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
42. باب في الخلافة والإمارة - ذكر الإباحة للإمام إذ مر في طريقه وعطش أن يستسقي-
خلافت و امارت کا بیان - اگر امام راستے میں پیاسا ہو جائے تو اس کے لیے پانی مانگنے کی اجازت
حدیث نمبر: 4522
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَوْنِ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَتَى فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ عَلَى بَيْتٍ فِي فِنَائِهِ قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ فَاسْتَسْقَى، فَقِيلَ لَهُ: إِِنَّهَا مَيْتَةٌ، فَقَالَ: " ذَكَاةُ الأَدِيمِ دِبَاغُهُ" .
سیدنا سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے موقع پر ایک گھر میں تشریف لائے جس کے کونے میں مشکیزہ لٹکا ہوا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی مانگا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی: یہ (مشکیزہ) مردار کی کھال سے بنا ہوا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دباغت چمڑے کو پاک کر دیتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4522]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4522، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7310، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4254، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4125، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 51، والدارقطني فى (سننه) برقم: 109، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16153» «رقم طبعة با وزير 4505»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «غاية المرام» (26).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح لغيره
43. باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يستحب للإمام تذكير نفسه الآخرة بزيارة القبور في بعض لياليه-
خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ وہ بعض راتوں میں قبروں کی زیارت کے ذریعے آخرت کو یاد کرے
حدیث نمبر: 4523
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا كَانَ لَيْلَتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ آخِرَ اللَّيْلِ إِِلَى الْبَقِيعِ، فَيَقُولُ: " السَّلامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَأَتَانَا وَإِِيَّاكُمْ مَا تُوعَدُونَ غَدًا مُؤَجَّلُونَ، وَإِِنَّا إِِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاحِقُونَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: عَطَاءٌ هَذَا: هُوَ عَطَاءُ بْنُ يَسَارً مَوْلَى مَيْمُونَةَ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس بھی رات میں ان کے ہاں قیام کرنا ہوتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں بقیع کی طرف تشریف لے جاتے تھے اور یہ پڑھتے تھے: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَأَتَاكُمْ مَا تُوعَدُونَ غَدًا مُؤَجَّلُونَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ» ”اے اہل ایمان کی بستی کے رہنے والو! تم پر سلام ہو، ہمارے پاس اور تمہارے پاس کل وہ چیز آ جائے گی جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے اور اگر اللہ نے چاہا تو ہم بھی (جلد ہی) تم سے آ ملیں گے، اے اللہ! تو تمام اہل بقیع غرقد کی مغفرت کر دے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عطاء نامی راوی عطاء بن یسار ہے جو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا غلام ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4523]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 974، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3172، 4523، 7110، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2036، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1546، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7310، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25063» «رقم طبعة با وزير 4506»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (3162). تنبيه!! رقم (3162) = (3172) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي على شرط مسلم
44. باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يستحب للإمام استعمال الوعظ لرعيته في بعض الأيام ليتقوى به المنشمر في الحال ويبتدئ فيه المروي فيه-
خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ وہ رعایا کو بعض اوقات وعظ و نصیحت کرے تاکہ اہلِ عمل کو قوت اور سستوں کو تحریک ملے
حدیث نمبر: 4524
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ كَانَ مِمَّا يُذَكِّرُ النَّاسَ كُلَّ خَمِيسٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: وَدِدْتُ أَنَّكَ ذَكَّرْتَنَا كُلَّ يَوْمٍ. قَالَ: أَمَا إِِنَّهُ مَا يَمْنَعُنِي ذَلِكَ إِِلا مَخَافَةَ أَنْ أُمِلَّكُمْ، إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ بَيْنَ الأَيَّامِ مَخَافَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا" .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ ہر جمعرات کے دن لوگوں کو وعظ کیا کرتے تھے۔ ایک صاحب نے عرض کی: میری یہ خواہش ہے کہ آپ روزانہ ہمیں وعظ کیا کریں، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں صرف اس اندیشے کے تحت یہ کام نہیں کرتا کہ کہیں میں تمہیں اکتاہٹ کا شکار نہ کر دوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہمیں وقفے وقفے سے وعظ کیا کرتے تھے اس اندیشے کے تحت کہ کہیں ہم اکتا نہ جائیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4524]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 68، 70، 6411، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2821، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4524، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5858، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2855، 2855 م، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3651، والحميدي فى (مسنده) برقم: 107» «رقم طبعة با وزير 4507»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح الترمذي» (3025).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
45. باب في الخلافة والإمارة - ذكر الزجر عن أن يسلك الولاة في رعيتهم بما لم يأذن به الله ورسوله صلى الله عليه وسلم-
خلافت و امارت کا بیان - حکمرانوں کو اس بات سے سختی سے روکا گیا ہے کہ وہ اپنی رعایا کے ساتھ ایسا طریقہ اختیار کریں جس کی اجازت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ دی ہو
حدیث نمبر: 4525
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالا: حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ هِشَامٍ الْغَسَّانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ السَّكُونِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ ، قَالَ: بَيْنَا أَبُو الدَّرْدَاءِ يَوْمًا يَسِيرُ شَاذًّا مِنَ الْجَيْشِ، إِِذْ لَقِيَهُ رَجُلانِ شَاذَانِ مِنَ الْجَيْشِ، فَقَالَ: يَا هَذَانِ، إِِنَّهُ لَمْ يَكُنْ ثَلاثَةٌ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَكَانِ إِِلا أُمَّرُوا عَلَيْهِمْ، فَلْيَتَأَمَّرْ أَحَدُكُمْ. قَالا: أَنْتَ يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ. قَالَ: بَلْ أَنْتُمَا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ وَالِي ثَلاثَةٍ إِِلا لَقِيَ اللَّهَ مَغْلُولَةَ يَمِينُهُ، فَكَّهُ عَدْلُهُ، أَوْ غَلَّهُ جَورُهُ" .
عدی بن عدی کندی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ لشکر سے ہٹ کر سفر کر رہے تھے، اسی دوران ان کی ملاقات دو آدمیوں سے ہوئی، وہ بھی لشکر سے ہٹے ہوئے تھے۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے دو آدمیو! جب بھی اس طرح کی جگہ پر تین آدمی اکٹھے ہو جائیں تو ان پر کوئی امیر بھی ہونا چاہیے، اس لیے تم اپنے میں سے کسی کو امیر مقرر کر دو۔ ان دونوں نے کہا: اے ابودرداء! آپ امیر ہیں، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بلکہ تم دونوں امیر ہو۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب بھی تین آدمیوں کا کوئی نگران اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا تو اس کا دایاں ہاتھ بندھا ہوا ہو گا، اگر اس نے انصاف کیا ہو گا تو وہ اس کے ہاتھ کو کھلوا دے گا اور اگر ظلم کیا ہو گا تو وہ ہاتھ بندھا رہے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4525]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4525، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 659، 7003» «رقم طبعة با وزير 4508»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «التعليق الرغيب» (3/ 140).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف جدا
46. باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يستحب للإمام أن يختار لأمور المسلمين والتولية عليهم من هو أصلح لها ولهم دون من لا يصلح وإن كان ذلك قريبه وحميمه-
خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ مسلمانوں کے معاملات اور مناصب کے لیے ایسے شخص کا انتخاب کرے جو اس کا اہل اور ان کے لیے بہتر ہو، نہ کہ محض قرابت دار یا قریبی ہونے کی وجہ سے کسی کو مقرر کرے
حدیث نمبر: 4526
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ اجْتَمَعَ رَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالا: وَاللَّهِ لَوْ بَعَثَنَا هَذَيْنِ الْغُلامَيْنِ، قَالَ لِي وَلِلْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّرَهُمَا عَلَى هَذِهِ الصَّدَقَاتِ، فَأَدَّيَا مَا يُؤَدِّي النَّاسُ، وَأَصَابَا مَا يُصِيبُ النَّاسُ مِنَ الْمَنْفَعَةِ، قَالَ: فَبَيْنَمَا هُمَا فِي ذَلِكَ، جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: مَاذَا تُرِيدَانِ؟ فَأَخْبَرَاهُ بِالَّذِي أَرَادَا، فَقَالَ: لا تَفْعَلا، فَوَاللَّهِ مَا هُوَ بِفَاعِلٍ. فَقَالا: لِمَ تَصْنَعُ هَذَا؟ فَمَا هَذَا مِنْكَ إِِلا نَفَاسَةٌ عَلَيْنَا، فَوَاللَّهِ لَقَدْ صَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنِلْتَ صِهْرَهُ، فَمَا نَفِسْنَا ذَلِكَ عَلَيْكَ، فَقَالَ: أَنَا أَبُو حَسَنٍ أَرْسِلُوهُمَا، ثُمَّ اضْطَجَعَ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ، سَبَقْنَاهُ إِِلَى الْحُجْرَةِ، فَقُمْنَا عِنْدَهَا حَتَّى مَرَّ بِنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ بِآذَانِنَا، وَقَالَ:" أَخْرِجَا مَا تُصَرِّرَانِ". وَدَخَلَ، فَدَخَلْنَا مَعَهُ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ فِي بَيْتِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَ: فَكَلَّمْنَاهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْنَاكَ لِتُؤَمِّرَنَا عَلَى هَذِهِ الصَّدَقَاتِ فَنُصِيبُ مَا يُصِيبُ النَّاسُ مِنَ الْمَنْفَعَةِ، وَنُؤَدِّي إِِلَيْكَ مَا يُؤَدِّي النَّاسُ. قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَفَعَ رَأْسَهُ إِِلَى سَقْفِ الْبَيْتِ، حَتَّى أَرَدْنَا أَنْ نُكَلِّمَهُ، قَالَ: فَأَشَارَتْ إِِلَيْنَا زَيْنَبُ مِنْ وَرَاءِ حِجَابِهَا كَأَنَّهَا تَنْهَانَا عَنْ كَلامِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ، فَقَالَ:" أَلا إِِنَّ الصَّدَقَةَ لا تَنْبَغِي لِمُحَمَّدٍ، وَلا لآلِ مُحَمَّدٍ، إِِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ" . ادْعُ لِي مَحْمِيَةَ بْنَ جُزْءٍ وَكَانَ عَلَى الْعُشُورِ، وَأَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ. قَالَ: فَأَتَيَا، فَقَالَ لِمَحْمِيَةَ:" أَنْكِحْ هَذَا الْغُلامَ ابْنَتَكَ. لِلْفَضْلِ، فَأَنْكَحَهُ، وَقَالَ لأَبِي سُفْيَانَ: أَنْكِحْ هَذَا الْغُلامَ ابْنَتَكَ. قَالَ: فَأَنْكَحَنِي، ثُمَّ قَالَ لِمَحْمِيَةَ: أَصْدِقْ عَنْهُمَا مِنَ الْخُمُسِ.
عبدالمطلب بن ربیعہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ربیعہ بن حارث اور سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہما اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر ہم ان دو لڑکوں کو (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجیں، تو یہ مناسب ہو گا)۔ راوی کہتے ہیں: انہوں نے مجھے اور سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کو زکوۃ کی وصولی کا نگران مقرر کر دیں اور جو تنخواہ لوگوں کو دیتے ہیں انہیں بھی دیا کریں اور جو فائدہ لوگوں کو حاصل ہوتا ہے ان دونوں کو بھی حاصل ہو۔ راوی کہتے ہیں: یہ دونوں صاحبان ابھی وہیں بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے انہوں نے دریافت کیا: آپ دونوں کیا چاہتے ہیں؟ ان دونوں صاحبان نے اپنے ارادے کے بارے میں انہیں بتایا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ دونوں ایسا نہ کریں اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہیں کریں گے۔ ان دونوں نے دریافت کیا: یہ آپ کیوں کہہ رہے ہیں؟ یہ آپ صرف ہمارے ساتھ حسد کی وجہ سے کہہ رہے ہیں۔ آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نصیب ہوا، آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد ہیں، لیکن ہم نے تو آپ سے حسد نہیں کیا۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں ابوالحسن ہوں، تم ان دونوں کو بھیج دو“۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ لیٹ گئے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کر لی تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ مبارک کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے کان پکڑے اور فرمایا: ”جو تمہارے ذہن میں ہے بیان کرو“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے اندر تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم بھی اندر گئے، اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ہاں مقیم تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہم دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں بات چیت کی، ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں تاکہ آپ ہمیں زکوۃ وصول کرنے کا نگران مقرر کریں اور اس سے جو فائدہ لوگوں کو ہوتا ہے وہ ہمیں بھی حاصل ہو (یعنی ہمیں بھی تنخواہ ملے) ہم بھی آپ کو وہ چیز ادا کریں گے جو لوگ ادا کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھا کر گھر کی چھت کی طرف دیکھا، یہاں تک کہ ہم نے یہ خواہش کی کہ ہم نے آپ سے اس بارے میں بات چیت نہ کی ہوتی۔ راوی بیان کرتے ہیں: پردے کے پیچھے سے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے ہمیں اشارہ کیا کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات نہ کریں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَنْبَغِي لِآلِ مُحَمَّدٍ، إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ» ”بے شک صدقہ (زکوۃ) آلِ محمد کے لیے مناسب نہیں ہے، یہ تو لوگوں کا میل کچیل ہے“۔ پھر فرمایا: ”تم محمية بن جزء کو میرے پاس بلا کر لاؤ“ (یہ خمس وصول کرنے کے نگران تھے) ”اور ابوسفیان بن حارث کو میرے پاس بلا کر لاؤ“۔ راوی کہتے ہیں: وہ دونوں حضرات آ گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا محمية رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اس لڑکے کی شادی اپنی بیٹی کے ساتھ کر دو“۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کے بارے میں ارشاد فرمائی تو انہوں نے ان کے ساتھ شادی کر دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اس لڑکے کی شادی اپنی بیٹی کے ساتھ کر دو“۔ راوی کہتے ہیں تو انہوں نے میری شادی کر دی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا محمية رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”خمس میں سے ان دونوں کا مہر ادا کر دو“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4526]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1072، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1192، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2342، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4526، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2608، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2985، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2903، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17790» «رقم طبعة با وزير 4509»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (879): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
47. باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يستحب للإمام أن يرفق بنساء رعيته ولا سيما من كانت ضعيفة العقل منهن-
خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے مستحب ہے کہ رعایا کی عورتوں کے ساتھ نرمی اور شفقت کا برتاؤ کرے، خصوصاً ان کے ساتھ جو کم عقل یا کمزور ہوں
حدیث نمبر: 4527
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ امْرَأَةً كَانَ فِي عَقْلِهَا شَيْءٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّ لِي إِِلَيْكَ حَاجَةٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أُمَّ فُلانٍ، " خُذِي أَيَّ الطُّرُقِ شِئْتِ، فَقُومِي فِيهِ حَتَّى أَقُومَ مَعَكِ"، فَخَلا مَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَاجِيهَا حَتَّى قَضَتْ حَاجَتَهَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک خاتون کچھ ذہنی مریض تھی، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے آپ سے ایک کام ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے امِ فلاں! تم جس بھی جگہ پر چاہو، جتنی دیر چاہو میں تمہارے ساتھ ہوں۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کے ساتھ سرگوشی میں بات چیت کی یہاں تک کہ اس عورت نے اپنی ضرورت کو پورا کر لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4527]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2326، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4527، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4818، 4/404، بدون ترقيم، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12380» «رقم طبعة با وزير 4510»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «مختصر الشمائل» (285).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح