صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
10. باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يستحب للإمام لزوم الاحتياط لرعيته في الأشياء التي يخاف عليهم من متعقبها-
خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے اپنی رعایا کے معاملات میں احتیاط و حفاظت اختیار کرنے کا استحباب۔
حدیث نمبر: 4488
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ هِيتًا كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلا يَعُدُّونَهُ مِنْ أُولِي الإِِرْبَةِ" فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ يَنْعَتُ امْرَأَةً، وَهُوَ يَقُولُ: إِِنَّهَا إِِذَا أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ، وَإِِذَا أَدْبَرَتْ أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلا أَرَى هَذَا يَعْلَمُ مَا هَا هُنَا؟ لا يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ" . وَأَخْرَجَهُ، فَكَانَ بِالْبَيْدَاءِ يَدْخُلُ كُلَّ يَوْمِ جُمُعَةٍ يَسْتَطْعِمُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے ہاں آیا جایا کرتا تھا اور لوگ یہ سمجھتے تھے کہ اس میں نفسانی خواہش نہیں ہے۔ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے تو وہ کسی عورت کی خوبصورتی کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہہ رہا تھا: ”جب وہ آتی ہے تو اس کی چار سلوٹیں پڑتی ہیں اور جب وہ جاتی ہے تو اس کی آٹھ سلوٹیں ہوتی ہیں۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں یہ نہیں دیکھ رہا کہ اسے ان چیزوں کا پتہ ہے؟ یہ تمہارے ہاں نہ آیا کرے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وہاں سے نکلوا دیا تو وہ کھلے میدان میں رہا کرتا تھا اور ہر جمعہ کے دن کھانا لینے کے لیے آیا کرتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4488]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2181، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4488، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 9202، 9203، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4107، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13682، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25824» «رقم طبعة با وزير 4471»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م دون ذكر البيداء والاسم. * [هِيتًا] قال الشيخ: في الأصل: (مخنثاً)، والتصحيحُ مِنْ «طبعة المؤسسة» للكتاب، و «الموارد» (1964)، و «فتح الباري» (9/ 334)، وذكر أَنَّهُ أخرجه «أبو يعلى، وأبو عوانة، وابن حِبَّان»، وهو عند أبي داود (4109) بذكر البيداء، لكنَّه لم يُسَمِّ: (هيتاً)؛ خلافاً لِمَا يُوهِمُه تَخريجُ شعيب إِيَّاهُ. رواهُ مُسلمٌ (7/ 11) باختصار الاسم والبيداء، وهو روايةٌ لأبي داودَ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي على شرط مسلم
11. باب في الخلافة والإمارة - ذكر الإخبار بأن من كان تحت يده أخوه المسلم عليه رعايته والتحفظ على أسبابه-
خلافت و امارت کا بیان - اس بات کی خبر کہ جو کسی مسلمان کا ذمہ دار ہو، اس پر لازم ہے کہ اس کی اچھی دیکھ بھال کرے۔
حدیث نمبر: 4489
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ: فَالأَمِيرُ رَاعٍ عَلَى النَّاسِ وَهُوَ مَسْئُولٌ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ زَوْجِهَا وَهِيَ مَسْئُولَةٌ، وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ، أَلا فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم میں سے ہر شخص نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے حساب لیا جائے گا۔ حکمران اپنی رعایا کا نگران ہے اور اس سے اس بارے میں حساب لیا جائے گا، آدمی اپنے گھر والوں کا نگران ہے اور اس سے اس بارے میں حساب لیا جائے گا، اور غلام اپنے آقا کے مال کے بارے میں نگران ہے اور اس سے اس بارے میں حساب لیا جائے گا۔ خبردار! تم میں سے ہر ایک شخص نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک شخص سے حساب لیا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4489]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 893، 2409، 2554، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1829، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1173، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4489، 4490، 4491، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2928، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1705، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12809، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4582» «رقم طبعة با وزير 4472»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2600): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
12. باب في الخلافة والإمارة - ذكر البيان بأن على كل راع حفظ رعيته صغر في نفسه أم كبر-
خلافت و امارت کا بیان - اس بات کا بیان کہ ہر نگہبان پر لازم ہے کہ اپنی رعایا کی حفاظت کرے، چاہے اس کی ذمہ داری چھوٹی ہو یا بڑی۔
حدیث نمبر: 4490
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ: فَالإِِمَامُ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي أَهْلِهِ وَمَسْئُولٌ عَنْ أَهْلِهِ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا وَمَسْئُولَةٌ عَنْ رَعَيَّتِهَا، وَالْخَادِمُ رَاعٍ فِي مَالِ سَيِّدِهِ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ" .
سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تم میں سے ہر شخص نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی نگرانی کے بارے میں حساب لیا جائے گا۔ حاکم نگران ہے، اس سے اس کی رعایا کے بارے میں حساب لیا جائے گا۔ آدمی اپنے گھر والوں کا نگران ہے، اس سے اس کے گھر والوں کے بارے میں حساب لیا جائے گا۔ عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگران ہے، اس سے اس کے ماتحت چیزوں کے بارے میں حساب لیا جائے گا۔ خادم اپنے آقا کے مال کا نگران ہے، اس سے اس کی نگرانی کے بارے میں حساب لیا جائے گا۔ تم میں سے ہر ایک شخص نگران ہے اور اس سے اس کی نگرانی کے بارے میں حساب لیا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4490]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 893، 2409، 2554، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1829، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1173، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4489، 4490، 4491، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2928، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1705، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12809، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4582» «رقم طبعة با وزير 4473»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
13. باب في الخلافة والإمارة - ذكر البيان بأن الإمام مسئول عن رعيته التي هو عليهم راعي-
خلافت و امارت کا بیان - اس بات کا بیان کہ امام اپنی رعایا کا ذمہ دار اور ان کے بارے میں جواب دہ ہے۔
حدیث نمبر: 4491
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ: فَالأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ عَلَيْهِمْ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ، وَالرَّجُلُ رَاعِي أَهْلَ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ بَعْلِهَا وَوَلَدِهِ وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُمْ، وَعَبْدُ الرَّجُلِ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ، فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم میں سے ہر ایک شخص نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی نگرانی کے بارے میں حساب لیا جائے گا، لوگوں کا حکمران ان لوگوں کا نگران ہے اور اس سے ان لوگوں کے بارے میں حساب لیا جائے گا، آدمی اپنے گھر والوں کا نگران ہے اور اس سے ان کے بارے میں حساب لیا جائے گا، عورت اپنے شوہر کے گھر کی اور اس کی اولاد کی نگران ہے اور اس سے ان کے بارے میں حساب لیا جائے گا، اور آدمی کا غلام اپنے آقا کے مال کا نگران ہے اور اس سے اس بارے میں حساب لیا جائے گا، تم میں سے ہر ایک شخص نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی نگرانی کے بارے میں حساب لیا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4491]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 893، 2409، 2554، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1829، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1173، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4489، 4490، 4491، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2928، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1705، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12809، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4582» «رقم طبعة با وزير 4474»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «غاية المرام» (268): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
14. باب في الخلافة والإمارة - ذكر الإخبار بسؤال الله جل وعلا كل من استرعى رعية عن رعيته-
خلافت و امارت کا بیان - اس بات کی خبر کہ اللہ تعالیٰ ہر اس شخص سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال کرے گا جسے وہ کسی پر نگران بنائے۔
حدیث نمبر: 4492
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِِنَّ اللَّهُ سَائِلٌ كُلَّ رَاعٍ عَمَّا اسْتَرْعَاهُ: أَحَفَظَ أَمْ ضَيَّعَ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک اللہ تعالیٰ ہر نگران سے اس کی نگرانی کے بارے میں حساب لے گا، کیا اس نے اس کی حفاظت کی ہے یا اس نے اسے ضائع کر دیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4492]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4492، 4493، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 1703، 3576، والطبراني فى (الصغير) برقم: 450، 669» «رقم طبعة با وزير 4475»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «تخريج فقه السيرة» (434)، «الصحيحة» (1636).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
حدیث نمبر: 4493
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ ، فِي عَقِبِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِِنَّ اللَّهَ سَائِلٌ كُلَّ رَاعٍ عَمَّا اسْتَرْعَاهُ: أَحَفَظَ أَمْ ضَيَّعَ، حَتَّى يَسْأَلَ الرَّجُلَ عَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ" .
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک اللہ تعالیٰ ہر نگران سے اس کی نگرانی کے بارے میں حساب لے گا کہ اس نے اس کی حفاظت کی ہے یا اسے ضائع کر دیا ہے، یہاں تک کہ وہ آدمی سے اس کے گھر والوں کے بارے میں بھی حساب لے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4493]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4492، 4493، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 1703، 3576، والطبراني فى (الصغير) برقم: 450، 669» «رقم طبعة با وزير 4476»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - المصدر نفسه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله رجال الشيخين وهو مرسل
15. باب في الخلافة والإمارة - ذكر وصف الوالي الذي يريد الله به الخير أو الشر-
خلافت و امارت کا بیان - اس والی کی صفت کا بیان جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ خیر یا شر کا ارادہ فرماتا ہے۔
حدیث نمبر: 4494
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِالأَمِيرِ خَيْرًا جَعَلَ لَهُ وَزِيرَ صِدْقٍ، إِِنْ نَسِيَ ذَكَّرَهُ، وَإِِنْ ذَكَرَ أَعَانَهُ، وَإِِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهِ غَيْرَ ذَلِكَ، جَعَلَ لَهُ وَزِيرَ سُوءٍ، إِِنْ نَسِيَ لَمْ يَذْكُرْهُ، وَإِِنْ ذَكَرَ لَمْ يُعِنْهُ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب اللہ تعالیٰ کسی حکمران کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کرے، تو اسے سچا وزیر عطا کرتا ہے؛ اگر وہ حکمران بھول جائے، تو وہ وزیر اسے یاد کرواتا ہے اور اگر اس حکمران کو یاد ہو، تو وہ وزیر اس کی مدد کرتا ہے، اور جب اللہ تعالیٰ کسی کے بارے میں اس کے علاوہ کا ارادہ کر لے، تو اسے برا وزیر عطا کر دیتا ہے؛ اگر وہ حکمران بھول جائے، تو وہ وزیر اسے یاد دہانی نہیں کرواتا اور اگر اس حکمران کو یاد ہو، تو وہ وزیر اس کی معاونت نہیں کرتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4494]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4494، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4215، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2932، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20377، 20378، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25052» «رقم طبعة با وزير 4477»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2603)، «الصحيحة» (489).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
16. باب في الخلافة والإمارة - ذكر نفي دخول الجنة عن الإمام الغاش لرعيته فيما يتقلد من أمورهم-
خلافت و امارت کا بیان - اس بات کا بیان کہ اپنی رعایا کو دھوکہ دینے والے امام کا جنت میں داخلہ نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 4495
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْهَبِ جَعْفَرُ بْنُ حَيَّانَ الْعُطَارِدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، قَالَ: عَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَقَالَ مَعْقِلٌ : إِِنِّي مُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَوْ عَلِمْتَ أَنَّ لِي حَيَاةً مَا حَدَّثْتُكَ بِهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ اللَّهُ رَعِيَّةً، يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِرَعِيَّتِهِ، إِِلا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ" .
حسن بصری بیان کرتے ہیں کہ عبیداللہ بن زیاد سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بیماری کے دوران ان کی عیادت کرنے کے لیے آیا، یہ اس بیماری کی بات ہے جس میں ان کا انتقال ہو گیا تھا، تو سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں ایک حدیث بیان کرنے لگا ہوں جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے، اگر مجھے یہ پتا ہوتا کہ ابھی میں اور زندہ رہوں گا تو میں تمہیں یہ حدیث بیان نہ کرتا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس بھی بندے کو اللہ تعالیٰ کسی کی نگرانی کا کام سونپے اور وہ ایسی حالت میں مر جائے کہ وہ اپنی رعایا کے ساتھ دھوکہ کرتا ہو، تو اللہ تعالیٰ اس شخص پر جنت کو حرام قرار دے دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4495]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 7150، 7151، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 142، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4495، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2838، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16735، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20615» «رقم طبعة با وزير 4478»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الضعيفة» تحت الحديث (2033).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
17. باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يستحب للإمام ترك الدخول في الأمور التي يتهيأ القدح فيها وإن كانت تلك الأمور مباحة-
خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے ان امور میں داخل ہونے سے اجتناب کا استحباب جن پر اعتراض یا قدح کا دروازہ کھل سکتا ہو اگرچہ وہ امور مباح ہوں۔
حدیث نمبر: 4496
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: جِئْتُ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ وَهُوَ عَاكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَامَ مَعِي لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي يَبَلِّغُنِي بَيْتِي، فَلَقِيَهُ رَجُلانِ مِنَ الأَنْصَارِ، فَلَمَّا رَأَيَاهُ اسْتَحْيَا فَرَجَعَا، فَقَالَ:" تَعَالَيَا، فَإِِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ". فَقَالا: نَعُوذُ بِاللَّهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ. قَالَ:" مَا أَقُولُ لَكُمَا هَذَا إِِنْ تَكُونَا تَظُنَّانِ سُوءًا، وَلَكِنْ عَلِمْتُ أَنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ" .
سیدنا امام زین العابدین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بات بتائی کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، میں کچھ دیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بات چیت کرتی رہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں اعتکاف کیے ہوئے تھے، رات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے گھر تک پہنچانے کے لیے میرے ساتھ اٹھے، راستے میں دو انصاری افراد کی ملاقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی، جب ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ شرما گئے اور واپس پلٹ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں آگے آؤ، یہ صفیہ بنت حیی ہے (جو میری اہلیہ ہے)۔“ ان دونوں نے عرض کی: ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اور اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں (ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں برا گمان کیسے رکھ سکتے ہیں)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم دونوں سے یہ نہیں کہہ رہا کہ تم دونوں نے کوئی برا گمان کیا ہو گا لیکن مجھے یہ بات پتا ہے شیطان انسان کی رگوں میں گردش کرتا ہے (وہ تمہارے ذہن میں کوئی غلط خیال ڈال سکتا تھا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4496]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2035، 2038، 2039، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2175، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2233، 2234، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3671، 4496، 4497، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2470، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1779، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8690، 8697، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24271» «رقم طبعة با وزير 4479»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2133 و 2134): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن على شرط مسلم
18. باب في الخلافة والإمارة - ذكر البيان بأن النبي صلى الله عليه وسلم إنما وجه صفية إلى بيته وهو معتكف إلى باب المسجد لا أنه خرج من المسجد لردها إلى البيت-
خلافت و امارت کا بیان - اس بات کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو اپنے گھر کی طرف مسجد کے دروازے تک پہنچایا اور خود مسجد سے باہر نہیں نکلے۔
حدیث نمبر: 4497
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ، أَنَّ صَفِيَّةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، ثُمَّ قَامَتْ تَنْطَلِقُ، فَقَامَ مَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْلِبُهَا، حَتَّى إِِذَا بَلَغَ قَرِيبًا مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ عِنْدَ بَابِ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ بِهِ رَجُلانِ مِنَ الأَنْصَارِ، فَسَلَّمَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ بُعْدًا، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَى رِسْلِكُمَا، إِِنَّمَا هِيَ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ". فَقَالا: سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَبُرَ عَلَيْهِمَا ذَلِكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّ الشَّيْطَانَ يَبْلُغُ مِنَ الإِِنْسَانِ مَبْلَغَ الدَّمِ، وَإِِنِّي خِفْتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا" .
امام زین العابدین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ ایک مرتبہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیے ہوئے تھے۔ جب سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا واپس جانے کے لیے اٹھیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں واپس پہنچانے کے لیے ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے دروازے کے قریب پہنچے، وہ دروازہ جو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس تھا، تو وہاں سے دو انصاری افراد گزرے، ان دونوں رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور پھر ایک طرف ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: ”ٹھہر جاؤ، یہ صفیہ بنت حیی ہے (جو میری اہلیہ ہے)۔“ ان دونوں نے عرض کی: «سُبْحَانَ اللّٰهِ يَا رَسُولَ اللّٰهِ!» ”سبحان اللہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایسا سوچ سکتے ہیں)“ یہ بات ان دونوں کو بہت گراں گزری، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شیطان انسان کی رگوں میں گردش کرتا ہے، مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دل میں کوئی غلط خیال نہ ڈال دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4497]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2035، 2038، 2039، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2175، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2233، 2234، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3671، 4496، 4497، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2470، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1779، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8690، 8697، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24271» «رقم طبعة با وزير 4480»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - مكرر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح