🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. الْمَاشِي أَمَامَ الْجِنَازَةِ وَالرَّاكِبُ خَلْفَهَا
جنازے کے آگے پیدل چلنے والا اور پیچھے سوار ہونے والا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1329
أخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكْرَم، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا سعيد بن عبيد الله الثَّقَفي، حدثنا زياد بن جُبَير بن حَيَّة، عن أبيه جُبَير بن حَيَّة، عن المغيرة بن شُعبة قال: قال رسول الله ﷺ:"الماشي أمامَ الجِنازة، والراكبُ خَلْفَها، والطفلُ يُصلَّى عليه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پیدل چلنے والا جنازے کے آگے چلے اور سوار اس کے پیچھے چلے، اور فوت شدہ بچے کی بھی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1329]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات إلّا أنه قد اختلف في رفعه ووقفه، فرواه سعيد بن عبيد الله الثقفي عن زياد بن جبير، فرفعه، ورواه يونس بن عبيد عن زياد بن جبير فيما سيأتي (1360) واختُلف عليه فيه، وظهر لنا أنَّ الراجح وقفه، وقد بينا تفصيل ذلك في تعليقنا على ...» [ترقيم الرساله 1329] [ترقيم الشركة 1317]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1330
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر عن يحيى بن أبي كَثير، عن أبي سَلَمة بن عبد الرحمن، عن ثَوْبان: أنَّ النبي ﷺ شَيَّع جنازةً، فأُتي بدابّةٍ، فأبى أن يركبَها، فلمَّا انصرف أُتي بدابّةٍ فركبها، فقيل له، فقال:"إنَّ الملائكةَ كانت تمشي، فلم أكن لأركَبَ وهم يمشون، فلمَا ذهبوا - أو قال: عَرَجوا - رَكِبتُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد بلفظٍ أشفَى من هذا:
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے کے ساتھ تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری لائی گئی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سوار ہونے سے انکار کر دیا، پھر جب جنازے سے فارغ ہو کر واپس لوٹنے لگے تو سواری لائی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک فرشتے پیدل چل رہے تھے، تو میرے لیے یہ مناسب نہ تھا کہ وہ پیدل چلیں اور میں سوار ہو جاؤں، پھر جب وہ چلے گئے - یا فرمایا: اوپر چڑھ گئے - تو میں سوار ہو گیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی ایک ایسی شاہد حدیث بھی موجود ہے جس کے الفاظ زیادہ واضح ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1330]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، وصحَّح إسناده ابن دقيق العيد في "الاقتراح" ص 448 - 449 على شرط الشيخين، وسكت عنه عبد الحق الإشبيلي في "الأحكام الوسطى" 2/ 136، ولم يتعقبه ابن القطان، وحسّن إسناده البزار فيما نقله عنه المنذري في "مختصر سنن أبي داود"، لكن قد أعله أبو حاتم كما في "العلل" ...» [ترقيم الرساله 1330] [ترقيم الشركة 1318]

الحكم على الحديث: رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1331
أخبرَناه أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكِّي وأبو نَصْر محمد بن أحمد الخَفَّاف، قالا: حدثنا أحمد بن سَلَمة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عيسى بن يونس، عن أبي بَكْر بن أبي مريم، عن راشد بن سَعْد، عن ثَوْبَانَ قَالَ: خَرَجَ رسول الله ﷺ في جِنازةٍ فرأى ناسًا رُكْبانًا، فقال:"ألا تَسْتَحيُون؟! إنَّ ملائكةَ الله على أقدامِهِم وأنتم على ظُهور الدوابِّ!" (1) .
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو سوار دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں شرم نہیں آتی؟ اللہ کے فرشتے تو پیدل چل رہے ہیں اور تم جانوروں کی پیٹھ پر سوار ہو! [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1331]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف أبي بكر بن أبي مريم، وقد رواه هنا مرفوعًا، وخالفه ثور بن يزيد» [ترقيم الرساله 1331] [ترقيم الشركة 1319]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف أبي بكر بن أبي مريم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. كَرَاهَةُ الرُّكُوبِ مَعَ الْجِنَازَةِ
جنازے کے ساتھ سواری کرنے کی کراہت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1332
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدثنا محمد بن عمرو الحَرَشي، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا أبو معاوية، عن سُهَيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرةَ قال: كان رسول الله ﷺ إذا كان مع الجِنازة لم يَجلِسْ حتى تُرفَعَ أو تُوضَع (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ بمثل هذا الإسناد عن أبي سعيد:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنازے کے ساتھ ہوتے تو اس وقت تک نہیں بیٹھتے تھے جب تک اسے (کندھوں پر) اٹھا نہ لیا جاتا یا (زمین پر) رکھ نہ دیا جاتا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ اسی سند کے ساتھ سیدنا ابوسعید خدری سے بھی اس کی شاہد حدیث مروی ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1332]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو الحَرَشي، ذكره الذهبي في "تاريخ الإسلام" 6/ 819 وقال: كان صدوقًا مقبولًا. قلنا: وقد توبع.» [ترقيم الرساله 1332] [ترقيم الشركة 1320]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. إِذَا اتَّبَعْتُمْ جِنَازَةً فَلَا تَقْعُدُوا حَتَّى تُوضَعَ
جب تم جنازے کے ساتھ چلو تو اس وقت تک نہ بیٹھو جب تک میت زمین پر رکھ نہ دی جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1333
حدَّثَناه علي بن حَمْشاذ العدلُ، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا عارم بن الفَضْل، حدثنا وُهَيْب، حدثنا سُهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي سعيد الخُدْري، أنَّ النبي ﷺ قال:"إذا تبعتُم جِنازةً فلا تَقعُدوا حتى تُوضَع" (1) . قد اتَّفَقَ الشيخان على إخراج حديث ابن عمر عن عامر بن رَبِيعة:"مَن تَبِعها فلا يجلسْ حتى تُوضَع" (2) ، و
هذا حديثٌ غير ذاك، لزيادةِ الدفنِ وغيره.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم جنازے کے پیچھے چلو تو جب تک اسے (زمین پر) رکھ نہ دیا جائے، مت بیٹھو۔
شیخین نے سیدنا ابن عمر کی عامر بن ربیعہ سے مروی اس حدیث کی تخریج پر اتفاق کیا ہے کہ جو جنازے کے پیچھے چلے وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک اسے رکھ نہ دیا جائے، لیکن یہ حدیث اس سے مختلف ہے کیونکہ اس میں تدفین وغیرہ کا اضافہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1333]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على سهيل بن أبي صالح، فقد رواه سفيان الثوري وأبو معاوية عنه، عن أبيه، عن أبي هريرة، كما في الحديث السابق وتخريجه، ورواه وهيب - وهو ابن خالد - كما عند المصنف هنا، وتابعه غير واحد، فقالوا عن سهيل، عن أبيه، عن أبي سعيد ...» [ترقيم الرساله 1333] [ترقيم الشركة 1321]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. كَانَ إِذَا رَأَى جِنَازَةً قَامَ حَتَّى يَمُرَّ بِهَا
رسولُ اللہ ﷺ جب جنازہ دیکھتے تو اس کے گزر جانے تک کھڑے رہتے تھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1334
أخبرني أبو أحمد بن أبي الحسن الدَّارِمي، حدثنا محمد بن سليمان بن فارس، حدثنا محمد بن رافع، حدثنا ابن أبي فُدَيك، أخبرنا ابن أبي ذِئب، عن ابن شِهَاب، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن أبيه: أنَّ رسول الله ﷺ كان إذا مرَّتْ به جنازةٌ وَقَفَ حتى تمُرَّ به (1) .
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وليس هذا متنَ حديث ابن عمر عن عامر بن رَبِيعة، فإِنَّ ذلك المتنَ في تَشْييعِ الجنازة، وهذا في القيام للجنازة، على كثرة اختلاف الروايات فيه.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے والد (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے جب کوئی جنازہ گزرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو جاتے یہاں تک کہ وہ گزر جاتا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ سیدنا ابن عمر کی عامر بن ربیعہ سے مروی حدیث کا متن نہیں ہے، کیونکہ وہ متن جنازے کے ساتھ چلنے کے بارے میں ہے جبکہ یہ جنازے کے لیے کھڑے ہونے کے متعلق ہے، باوجود اس کے کہ اس بارے میں روایات میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1334]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،محمد بن رافع: هو النيسابوري، وابن أبي فديك: هو محمد بن إسماعيل، وابن أبي ذئب: هو محمد بن عبد الرحمن، وابن شهاب: هو محمد بن مسلم الزهري.» [ترقيم الرساله 1334] [ترقيم الشركة 1322]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1335
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب بن أحمد بن مِهْران الزَّاهد، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا يحيى بن أيوب المَقابِريّ الزَّاهد وأبو مُصعَب أحمد بنُ أبي بكر قالا: حدثنا إسماعيل بن جعفر، حدثنا العلاء بن عبد الرحمن، عن أبيه: أنه شَهِدَ جنازةً صلَّى عليها مروان بن الحَكَم، فذهب أبو هريرة مع مروان حتى جَلَسا في المَقبُرة، فجاء أبو سعيد الخُدري، فقال لمروان: أرِني يدَكَ، فأعطاه يدَه، فقال: قُمْ، فقام، ثم قال مروان: لمَ أقمتَني؟ فقال: كان رسول الله ﷺ إذا رأى جنازةً قام حتى يُمَرَّ بها ويقول:"إنَّ الموتَ فَزَعٌ"، فقال مروان: أصَدَقَ يا أبا هريرة؟ قال: نعم، قال: فما مَنَعَك أن تُخبِرَني؟ قال: كنتَ إمامًا فجلستَ فجلستُ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
علاء بن عبدالرحمن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ایک جنازے میں شریک تھے جس کی نمازِ جنازہ مروان بن حکم نے پڑھائی تھی، پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروان کے ساتھ قبرستان چلے گئے اور وہ دونوں وہاں بیٹھ گئے، اتنے میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور مروان سے کہا: اپنا ہاتھ مجھے دیں، مروان نے اپنا ہاتھ دیا تو انہوں نے کہا: کھڑے ہو جائیے، چنانچہ مروان کھڑے ہو گئے، پھر مروان نے پوچھا: آپ نے مجھے کیوں کھڑا کیا؟ انہوں نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنازہ دیکھتے تو کھڑے ہو جاتے یہاں تک کہ وہ گزر جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: بے شک موت ایک گھبراہٹ (اور دہشت والی چیز) ہے۔ مروان نے پوچھا: اے ابوہریرہ! کیا یہ سچ ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، مروان نے کہا: پھر آپ کو مجھے بتانے سے کس چیز نے روکا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: آپ امام (حاکم) تھے، جب آپ بیٹھ گئے تو میں بھی بیٹھ گیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1335]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،عبد الرحمن والد العلاء: هو ابن يعقوب مولى الحُرْقة. وهو في "حديث إسماعيل بن جعفر" (304).» [ترقيم الرساله 1335] [ترقيم الشركة 1323]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1336
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرُو، حدثنا أبو بكر محمد بن عيسى الطَّرَسُوسي، حدثنا عبد الله بن يزيد المُقرئ، حدثنا سعيد بن أبي أيوب، حدثني رَبِيعةُ بن سَيف المَعافِري، عن أبي عبد الرحمن الحُبُلي، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، أنه قال: سأل رجلٌ رسول الله ﷺ، فقال: يا رسول الله، تمرُّ بنا جنازةُ الكافر، فنقومُ لها؟ قال:"نَعَم، قُوموا لها، فإنكم لستُم تقومونَ لها، إنما تقومونَ إعظامًا للذي يَقبِضُ النفوسَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارے پاس سے کافر کا جنازہ گزرتا ہے تو کیا ہم اس کے لیے کھڑے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اس کے لیے کھڑے ہو جایا کرو، کیونکہ تم اس (میت) کے لیے کھڑے نہیں ہوتے بلکہ اس ہستی کی عظمت و بڑائی کے لیے کھڑے ہوتے ہو جو روحیں قبض کرتی ہے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1336]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ربيعة بن سيف المعافري، قال البخاري وابن يونس: عنده مناكير، وضعفه الأزدي، والنسائي في "المجتبى" 4/ 27، وقال مرة ليس به بأس، وذكره ابن حبان في "الثقات" وقال: يخطئ كثيرًا. أبو عبد الرحمن الحبلي: هو عبد الله بن يزيد المعافري. وأخرجه أحمد 11/ (6573)، وابن ...» [ترقيم الرساله 1336] [ترقيم الشركة 1324]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1337
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيَّاري، حدثنا أبو المُوجِّه، حدثنا أبو عمّار، حدثني النَّضْر بن شُمَيل، حدثنا حمَاد بن سَلَمة، عن قتادة، عن أنس بن مالك: أنَّ جنازةَ يهوديٍّ مرَّتْ برسول الله ﷺ، فقام، فقالوا: يا رسول الله، إنها جنازة يهوديٍّ، فقال:"إنَّما قمتُ للملائكة" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، غيرَ أنهما قد اتَّفقا على إخراج حديث عُبيد الله بن مِقْسَم عن جابر في القيام لجنازةِ اليهودي (2) .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک یہودی کا جنازہ گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ تو یہودی کا جنازہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو فرشتوں کی وجہ سے کھڑا ہوا ہوں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں نے عبید اللہ بن مقسم کی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی یہودی کے جنازے کے لیے کھڑے ہونے والی حدیث کی تخریج پر اتفاق کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1337]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري المروزي، وأبو عمار: هو الحسين بن حريث المروزي، وقتادة: هو ابن دعامة السدوسي.» [ترقيم الرساله 1337] [ترقيم الشركة 1325]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1338
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا سُرَيج بن النُّعمان، حدثنا فُلَيح بن سليمان، عن سعيد بن عُبيد بن السَّبَّاق، عن أبي سعيد الخُدْري قال: كنا مَقْدَمَ النبيِّ ﷺ إذا حُضِر منا الميتُ آذَنَّا النبيَّ ﷺ، فحَضَرَه، واستغفر له، حتى إذا قدَّمنا (3) انصَرَفَ النبيُّ ﷺ ومَن معه، وربما قَعَدوا حتى يُدفَنَ، وربما طال حَبْسُ ذلك على نبيِّ الله ﷺ، فلمّا خَشِينا مشقةَ ذلك عليه، قال بعض القوم لبعض: لو كنَّا لا نُؤذِنُ النبيَّ ﷺ بأحدٍ حتى يُقبَضَ، فإذا قُبِض آذنَّاه، فلم يكن في ذلك مشقةٌ ولا حَبْس، فكنا نُؤذِنُه بالميت بعد أن يموت، فيأتيه فيُصلِّي عليه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ) تشریف لائے تو ہمارا طریقہ یہ تھا کہ جب ہم میں سے کوئی فوت ہوتا تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے اور اس کے لیے استغفار کرتے یہاں تک کہ جب تدفین ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی واپس لوٹتے، بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن ہونے تک وہاں رکنا پڑتا جس میں طویل وقت لگ جاتا، جب ہمیں محسوس ہوا کہ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مشقت ہوتی ہے تو ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ جب تک کسی کی روح قبض نہ ہو جائے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع نہ دیں، اور جب روح قبض ہو جائے تب بتائیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشقت اور انتظار کی زحمت نہ ہو، چنانچہ پھر ہم کسی کے انتقال کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دیتے تو آپ تشریف لاتے اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھاتے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1338]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات غير فليح بن سليمان، فقد تكلم بعض الأئمة في حفظه بما يحطه عن رتبة الصحيح، وقد بينا ذلك في تعليقنا على "المسند".» [ترقيم الرساله 1338] [ترقيم الشركة 1326]

الحكم على الحديث: رجاله ثقات غير فليح بن سليمان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں