المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
60. مَكَثَ يُونُسُ فِي بَطْنِ الْحُوتِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا
حضرت یونس علیہ السلام کا مچھلی کے پیٹ میں چالیس دن قیام
حدیث نمبر: 4172
أخبرني أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن مُغفّل المُزَني، حدثنا أحمد بن نَجْدة القرشي، حدثنا يحيى بن عبد الحميد، حدثنا أبو خالد الأحمر، عن كَثير بن زيد، عن المُطَّلب بن عبد الله بن حَنْطَب، عن مصعب بن سعد، عن سعد، قال: قال النبي ﷺ:"مَن دعا بدُعاءِ يُونسَ الذي دعا به في بَطْنِ الحُوت، استُجيبَ له" (3) . هذا شاهدٌ لما تَقدَّمَه.
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص وہ دعا مانگے جو سیدنا یونس علیہ السلام نے مچھلی کے پیٹ میں مانگی تھی، قبول کر لی جاتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث گزشتہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4172]
حدیث نمبر: 4173
أخبرنا أبو محمد الإسفراييني، حدثنا محمد بن أحمد بن البَراء، حدثنا عبد المُنعم بن إدريس، عن أبيه، عن وهب: أنَّ يونس بن مَتَّى كان عبدًا صالحًا، وكان في خُلُقه ضِيقٌ، فلما حُمّلَت عليه أثقالُ النبوة - ولها أثقالٌ لا يَحمِلُها إلَّا قليلٌ - تَفسَّخَ تحتها تَفسُّخَ الرُّبَعِ تحت الحِمْل، فقَذَفها من يَدَيه وخرج هارِبًا منها، يقول اللهُ ﷿ لنبيه محمد ﷺ: ﴿فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ﴾ [الأحقاف: 35] ، وَ ﴿فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوتِ إِذْ نَادَى وَهُوَ مَكْظُومٌ﴾ [القلم: 48] ، أي: لا تُلْقِ أمري كما ألقاهُ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4128 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4128 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا وہب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا یونس بن متی علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے نیک بندے تھے، آپ ذرا کمزور بدن تھے۔ جب آپ پر نبوت کا بوجھ ڈالا گیا (یہ بوجھ بہت کم لوگ اٹھا سکتے ہیں) تو وہ بوجھ کے نیچے دب گئے۔ آپ نے وہ بوجھ پھینک دیا اور بھاگ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُوْلُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ (الاحقاف: 35) ” تو تم صبر کرو جیسا ہمت والے رسولوں نے صبر کیا۔“ اور فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ وَ لَا تَکُنْ کَصَاحِبِ الْحُوْتِ اِذْ نَادٰی وَ ھُوَ مَکْظُوْمٌ (القلم: 48) ” تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کرو اور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا تھا “ یعنی تم ایسا رویہ نہ اپنانا جیسا انہوں نے اپنایا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4173]
61. سَجْدَةُ يُونُسَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ
حضرت یونس علیہ السلام کا مچھلی کے پیٹ میں سجدہ کرنا
حدیث نمبر: 4174
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفَضْل الشَّعْراني، حدثنا جدي، حدثنا سُنَيد بن داود، حدثنا جعفر بن سليمان، عن عَوف الأعرابي، عن الحسن قال: لمّا وَقَعَ يُونس في بطن الحُوت ظَنَّ أنه الموتُ، فحرَّك رِجْلَيه، فإذا هي تتحركُ، فَسَجَدَ وقال: يا ربِّ، اتخذْتُ لك مَسجِدًا في موضعٍ لم يَسجُد فيه (1) أحد (2) . ذكر نبيَّ الله داود صاحب الزَّبُور ﵇
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4129 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4129 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں گئے تو وہ سمجھے کہ ان پر موت واقع ہو چکی ہے۔ انہوں نے اپنے پاؤں ہلائے تو وہ ہل گئے تو انہوں نے سجدہ ریز ہو کر عرض کی: یا اللہ! میں نے اس مقام پر تجھے سجدہ کیا ہے جہاں کبھی بھی کسی نے سجدہ نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4174]
62. ذِكْرُ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ صَاحِبِ الزَّبُورِ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -
اللہ کے نبی حضرت داود علیہ السلام، زبور والے، کا ذکر
حدیث نمبر: 4175
أخبرنا الحسن بن محمد الإسفراييني، حدثنا محمد أحمد بن البَرَاء، حدثنا عبد المنعم بن إدريس، عن أبيه، عن وهب بن مُنبِّه، قال: وكان نبيُّ الله داودُ ابنَ إيشا بن عُوبِد بن باعَز بن سَلْمون بن نَحْشون بن نادَب بن رام بن حَصْرون بن فارَص (3) بن يَهُوذا بن يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم الخليل، وكان رجلًا قصيرًا أزرق، قليلَ الشَّعر، طاهرَ القلب، فقيهًا (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4130 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4130 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ (سیدنا داؤد علیہ السلام کا نسب بیان کرتے ہوئے) فرماتے ہیں: ” دَاوٗدَ بْنِ اِیْشَا بْنِ عَوْبِدٍ بْنِ بَاعِرٍ بْنِ سَلْمُوْنَ بْنِ یَحْسُوْنَ بْنِ یَارِبٍ بْنِ رَامٍ بْنِ حَضْرُوْنَ بْنِ فَارِصٍ بْنِ یَھُوْدَا بْنِ یَعْقُوْبَ بْنِ اِسْحَاقَ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ الْخَلِیْل “ آپ متوسط القامت تھے، خوبصورت تھے۔ آپ کے (سر پر) کم بال تھے۔ پاکیزہ دل والے اور فقیہہ تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4175]
حدیث نمبر: 4176
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، قال: وأخبرني عبد الرحمن بن زيد بن أسلم، عن أبيه، في قول الله: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ﴾ إلى قوله: ﴿وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ﴾ [البقرة: 243 - 246] ، قال: أوحَى اللهُ إلى نبيِّهم: أنْ في ولدِ فُلانٍ رجلٌ يَقتُل اللهُ به الجالوتَ، ومن علامَتِه هذا القَرْنُ تضعُه على رأسِه فيَفيضُ ماءً، فأتاه، فقال: إنَّ الله أوحَى إليَّ أنَّ في ولدك رجلًا يقتُل اللهُ به جالوتَ، قال: نعم يا نبيَّ الله، قال: فأخرجَ له اثنَي عَشَر رجلًا أمثالَ السَّواري، وفيهم رجلٌ بارعٌ عليهم، فجعل يَعرِضُهم على القَرْن، فلا يَرى شيئًا، قال: فقال: إنَّ لك غيرَ هؤلاء لَولَدٌ، قال: نعم يا نبي الله، لي ولد قَصِيرٌ استحييتُ أن يَراه الناسُ، فجعلتُه في الغَنَم، قال: فأين هو؟ قال: هو في شِعْبِ كذا وكذا، قال: فخرج إليه، فقال: هذا هو لا شَكَّ فيه، قال: فَوَضَعَ القَرْنَ على رأسِه ففاضَ (1) (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4131 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4131 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے درج ذیل ارشاد کے بارے میں فرماتے ہیں: اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ وَ ھُمْ اُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَھُمُ اللّٰہُ مُوْتُوْا ثُمَّ اَحْیَاھُمْ اِنَّ اللّٰہَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ وَ ٰلکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْکُرُوْنَ وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ اعْلَمُوْآ اَنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗ اَضْعَافًا کَثِیْرَۃً وَ اللّٰہُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُطُ وَ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ اَلَمْ تَرَ اِلَی الْمَلَاِ مِنْ بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ مِنْ بَعْدِ مُوْسٰی اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّھُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِکًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ قَالَ ھَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ اَلاَّ تُقَاتِلُوْا قَالُوْا وَ مَا لَنَآ اَلاَّ نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ قَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَ اَبْنَآئِنَا فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْھِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْہُمْ وَ اللّٰہُ عَلِیْمٌ بِالظّٰلِمِیْنَ (البقرۃ: 243 تا 246) ” اے محبوب کیا تم نے نہ دیکھا تھا انہیں جو اپنے گھروں سے نکلے اور وہ ہزاروں تھے موت کے ڈر سے، تو اللہ نے ان سے فرمایا مر جاؤ پھر انہیں زندہ فرما دیا، بیشک اللہ لوگوں پر فضل کرنے والا ہے مگر اکثر لوگ ناشکرے ہیں۔ اور لڑو اللہ کی راہ میں اور جان لو کہ اللہ سنتا جانتا ہے۔ ہے کوئی جو اللہ کو قرض حسن دے تو اللہ اس کے لئے بہت گنا بڑھا دے اور اللہ تنگی اور کشائش کرتا ہے اور تمہیں اسی کی طرف پھر جانا۔ اے محبوب! کیا تم نے نہ دیکھا بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو جو موسیٰ کے بعد ہوا جب اپنے ایک پیغمبر سے بولے ہمارے لیے کھڑا کر دو ایک بادشاہ کہ ہم خدا کی راہ میں لڑیں۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا کیا تمہارے انداز ایسے ہیں کہ تم پر جہاد فرض کیا جائے تو پھر نہ کرو، بولے ہمیں کیا ہوا کہ ہم اللہ کی راہ میں نہ لڑیں حالانکہ ہم نکالے گئے ہیں اپنے وطن اور اپنی اولاد سے تو پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا منہ پھیر گئے مگر ان میں کے تھوڑے اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو “ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی طرف وحی فرمائی کہ فلاں آدمی کی اولاد میں ایک شخص ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ جالوت کو ہلاک فرمائے گا۔ اس کی نشانی یہ سینگ ہے، یہ اس کے سر پر رکھا جائے گا تو جو زائد ہو گا وہ خود ہی سمٹ جائے گا۔ وہ نبی علیہ السلام اس آدمی کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی کے ذریعے بتایا ہے کہ تیری اولاد میں ایک بچہ ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ جالوت کو قتل کرے گا۔ اس نے کہا: اے اللہ تعالیٰ کے نبی ٹھیک ہے۔ اس نے ستونوں کی طرح (دراز قد) بارہ لڑکے ان کے سامنے کئے، ان میں ایک آدمی ایسا بھی تھا جو دوسروں کی بہ نسبت زیادہ علم و فضل کا مالک تھا۔ آپ نے ہر ایک پر سینگ رکھ کر دیکھا لیکن کسی کو پورا نہ آیا، انہوں نے کہا: کیا ان کے علاوہ بھی تیرا کوئی لڑکا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، اے اللہ تعالیٰ کے نبی۔ ایک کوتاہ قد لڑکا اور بھی ہے اس کو لوگوں کے سامنے لاتے ہوئے مجھے شرم آتی ہے، اس لئے میں نے اس کو بکریوں کے ریوڑ میں ڈال رکھا ہے۔ انہوں نے پوچھا: وہ کہاں ہے؟ اس نے بتایا: فلاں فلاں گھاٹی میں ہے۔ وہ اس کی طرف چل دئیے (جب اس کو دیکھا تو) فرمایا: یہی ہے وہ، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ پھر انہوں نے وہ سینگ اس کے سر پر رکھا اور واپس آ گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4176]
حدیث نمبر: 4177
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا أحمد بن مِهْران، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا هِشام بن سعد، عن زيد بن أسلم، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ:"لما خَلَقَ اللهُ آدمَ مَسَحَ ظَهْره، فخَرَجَ من ظَهْره كلُّ نَسَمةٍ هو خالقُها مِن ذُرِّيتِه إلى يوم القيامة، وجعل بين عينَي كلِّ إنسانٍ منهم وَبِيصًا من نور، ثم عَرَضَهم على آدم، فقال: أيْ ربِّ، من هؤلاء؟ قال: هؤلاء ذُرِّيتُك، قال: فرأى رجلًا منهم أعجَبَه وبيصُ ما بين عينَيه، قال: يا ربِّ، مَن هذا؟ قال: هذا رجلٌ من آخِر الأمم من ذُرِّيتك، يقال له: داود، قال يا ربِّ: كم جعلتَ عُمرَه؟ قال: ستون سنةً، قال: أيْ ربِّ، زِدْهُ من عُمري أربعين سنة، قال: فلما انقضى عُمرُ آدمَ جاء مَلَكُ الموت، فقال: أولم يَبْقَ من عُمري أربعون سنة؟ قال: أوَلم تُعطِها ابنَك داود؟ قال: فجَحَدَ فجَحَدَتْ ذُرِّيتُه، ونَسيَ فنَسِيَتْ ذُرِّيته، وخَطِئَ فخَطِئَت ذُرِّيتُه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4132 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4132 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو ان کی پشت کو مسلا تو قیامت تک جس کو بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کرنا تھا، وہ تمام کے تمام باہر نکل آئے۔ ان میں سے ہر انسان کی پشانی پر نور کی ایک کرن موجود تھی۔ پھر ان تمام کو سیدنا آدم علیہ السلام کے سامنے پیش کیا۔ آدم علیہ السلام نے پوچھا: اے میرے رب! یہ کون ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ تیری اولاد ہے۔ انہوں نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا اس کی پیشانی کا نور ان کو بہت اچھا لگا۔ انہوں نے پوچھا: اے میرے رب! یہ کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ تیری اولاد میں سے آخری امتوں میں سے ہو گا، اس کا نام داؤد علیہ السلام ہے۔ انہوں نے پوچھا: یا اللہ! اس کی عمر تو نے کتنی رکھی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 60 سال۔ آدم علیہ السلام نے عرض کی: یا اللہ! میری عمر میں سے چالیس سال اس کو دے کر اس کی عمر بڑھا دی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ بات لکھ دی جائے گی اور پھر اس میں کوئی ردوبدل نہیں ہو گا۔ جب سیدنا آدم علیہ السلام کی عمر پوری ہو گئی تو (روح قبض کرنے کے لیے) ان کے پاس ملک الموت علیہ السلام آ گئے۔ آپ نے کہا: کیا میری عمر میں سے ابھی چالیس سال باقی نہیں رہتے؟ انہوں نے کہا: کیا آپ نے وہ چالیس سال اپنے بیٹے سیدنا داؤد علیہ السلام کو نہیں دے دئیے تھے۔ فرمایا: آدم علیہ السلام نے انکار کیا تو ان کی اولاد بھی انکار کرتی ہے۔ وہ بھول گئے تو ان کی اولاد بھی بھول جاتی ہے۔ ان سے خطا ہوئی تو ان کی اولاد سے بھی خطا ہوتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4177]
63. بَيْنَ مُوسَى إِلَى دَاوُدَ خَمْسُمِائَةِ سَنَةٍ وَتِسْعَةٌ وَسِتُّونَ سَنَةً
حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت داود علیہ السلام کے درمیان پانچ سو انہتر سال کا فاصلہ
حدیث نمبر: 4178
أخبرنا أبو سعيد الأحمسي، حدثنا الحُسين بن حميد، حدثنا ابن نُمَير، حدثنا يونس بن بُكير، حدثنا محمد بن إسحاق، قال: وبين موسى إلى داود خمسُ مئة سنة وتسعة وستون سنة (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4133 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4133 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
محمد بن اسحاق کہتے ہیں: سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے سیدنا داؤد علیہ السلام تک 569 برس کا زمانہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4178]
64. حِكَايَةُ ابْتِلَاءِ دَاوُدَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -
حضرت داود علیہ السلام کی آزمائش کا واقعہ
حدیث نمبر: 4179
أخبرني أبو أحمد محمد بن إسحاق الصَّفّار السُّلَمي، حدثنا أحمد بن نصر، حدثنا عمرو بن طلحة القَنّاد، حدثنا أسباطٌ، عن السُّدِّي، في قوله ﷿: ﴿وَشَدَدْنَا مُلْكَهُ﴾ [ص:20] ، قال: كان يَحرُسُه كلَّ يومٍ وليلةٍ أربعةُ آلافٍ أربعةُ آلافٍ. قال السُّدِّي: وكان داود قد قَسَمَ الدهرَ ثلاثةَ أيامٍ: يومًا يقضي فيه بين الناس، ويومًا يَخلُو فيه لعبادته، ويومًا يَخلُو فيه لنسائه، وكان له تسعٌ وتسعون امرأةً، وكان فيما يَقْرأ من الكُتُب: أنه كان يَجِدُ فيه فضلَ إبراهيم وإسحاق ويعقوب، فلما وجَدَ ذلك فيما يَقْرأ من الكُتُب قال: يا ربِّ، أرى الخيرَ كلَّه قد ذهبَ به آبائي الذين كانوا قبلي، فأعطِني مثلَ ما أعطَيتَهم، وافعَلْ بي مثلَ ما فعلْتَ بهم، قال: فأوحى الله إليه: إنَّ آباءك ابتُلوا ببلايا لم تُبْتَلَ بها أنت: ابتُلي إبراهيمُ بذَبْح ابنِه، وابتُلي إسحاق بذَهاب بصرِه، وابتُلي يعقوبُ بحُزنه على يوسف، وإنك لم تُبْتَلَ من ذلك بشيءٍ، قال: يا رب، ابتَلِني بمثلِ ما ابتَلَيتَهم به، وأعطِني مثلَ ما أعطيتَهم، قال: فأوحى الله إليه: إنك مُبتلًى فاحتَرِسْ، قال: فمَكَثَ بعد ذلك ما شاء الله أن يَمكُثَ إذ جاءه الشيطانُ قد تمثّل في صورة حمامةٍ من ذَهَبٍ حتى وقع بين رجلَيه، وهو قائم يصلي، قال: فمَدَّ إليه ليأخذَه، فطار من الكُوّة، فنظر أين يقعُ، فبَعثَ في أثَره، قال: فأبصر امرأةً تَغتسِل على سَطحٍ لها، فرأى امرأةً من أجمل النساء خَلْقًا، فحانَتْ منها الْتِفاتَةٌ فأبصرتْه، فألقَتْ شعرَها فاستَتَرتُ، به فزادَه ذلك فيها رَغْبةً، قال: فسأل عنها، فأُخبر أنَّ لها زوجًا، وأنَّ زوجَها غائبٌ بمَسْلَحةِ كذا وكذا، قال: فبعث إلى صاحب المَسْلَحة يأمُرُه أن يبعثَه إلى عَدُوِّي كذا وكذا، قال: فبعثَه ففُتِح له، فلم يزل يبعثُه إلى أن قُتِل في المرة الثالثة، فتزوج امرأتَه، فلما دخل عليها لم يَلْبَثْ إلّا يسيرًا حتى بعثَ اللهُ مَلَكَين في صورة إنسِيَّين، فطلبا أن يَدخُلا عليه، فوجَداه في يوم عبادته (1) ، فمَنعَهُما الحَرَسُ أن يدخُلا عليه، فتَسَوَّرا عليه المِحْرابَ، قال: فما شَعَرَ وهو يصلي إذا هو بهما بين يديه جالِسَين قال: ففزع منهما، فقالا: لا تَخَفْ إنما نحن ﴿خَصْمَانِ بَغَى بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ وَلَا تُشْطِطْ﴾ [ص:22] يقول: لا تَحِفْ، وذكر الحديثَ بطوله في إقراره بخطيئته (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4134 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4134 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا سدی رضی اللہ عنہ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد:” وَشَدَدْنَا مُلْکَہ ” اور ہم نے اس کی سلطنت کو مضبوط کیا۔“ ہر روز چار چار ہزار محافظ آپ کی چواکیداری کرتے تھے۔ سدی کہتے ہیں: سیدنا داؤد علیہ السلام نے ایام کی تقسیم کر رکھی تھی۔ ایک دن آپ لوگوں میں فیصلے کیا کرتے تھے، ایک دن آپ عبادت الٰہی کے لئے خلوت نشین رہتے اور ایک دن اپنے گھر والوں کے ساتھ گزارتے تھے۔ آپ کی 99 بیویاں تھیں۔ آپ کتاب میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام، سیدنا اسحاق علیہ السلام اور پھر سیدنا یعقوب علیہ السلام کے فضائل و کمالات پڑھا کرتے تھے۔ جب انہوں نے کتب کے مطالعہ میں یہ سب کچھ پا لیا تو عرض کی: اے میرے رب تمام بھلائی تو مجھ سے پہلے میرے آباؤاجداد لے گئے ہیں۔ تو مجھے بھی وہی کچھ عطا کر جو ان کو عطا کیا تھا اور میرے ساتھ بھی وہی معاملہ فرما جو ان کے ساتھ کیا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ تیرے آباؤاجداد پر جو امتحانات ڈالے گئے تھے تم کو ابھی تک ان سے دوچار نہیں کیا گیا۔ ابراہیم علیہ السلام سے ان کے لخت جگر کو ذبح کروانے کا امتحان لیا گیا اور سیدنا اسحاق علیہ السلام کی بینائی ختم کر کے آزمایا گیا۔ یعقوب علیہ السلام کو ان کے بیٹے کے فراق کی مصیبت میں دالا گیا اور تمہیں ان میں سے کسی آزمائش میں بھی نہیں ڈالا گیا۔ انہوں نے عرض کی: اے میرے رب! مجھے بھی ان جیسی آزمائش میں بے شک ڈال دے لیکن مجھے وہ عطا کر دے جو کچھ تو نے ان کو عطا کیا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ ٹھیک ہے تمہیں آزمایا جائے گا تم تیار رہو۔ اس کے بعد کچھ وقت گزرا جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ پھر شیطان سونے کی کبوتری بن کر ان کے قدموں میں آ کر گرا، اس وقت آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ نے اس کو اٹھانے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا تو وہ روشندان میں سے اڑ گئی۔ آپ دیکھنے لگے کہ کہاں جاتی ہے آپ کی نگاہیں اس کے تعاقب میں تھیں کہ اچانک آپ کی نظر ایک عورت پر پڑی جو کہ چھت پر نہا رہی تھی آپ نے دیکھا کہ وہ عورت بہت زیادہ حسین و جمیل ہے، اس کی نظر آپ پر پڑ گئی اس نے آپ کو دیکھا اور پھر اپنے بال ڈھلکا لیے۔ پھر وہ آپ سے اوجھل ہو گئی۔ اس وجہ سے آپ کے دل میں اس کی رغبت اور بھی بڑھ گئی۔ آپ نے اس کے بارے میں معلومات کروائیں تو پتہ چلا کہ وہ شادی شدہ ہے اور اس کا شوہر کسی (فوجی) اسلحہ کے کارخانے میں کام کرتا ہے، آپ نے کارخانے کے مالک کو پیغام بھیجا اور اس کو حکم دیا کہ اس کو فلاں فلاں دشمن کے علاقے میں بھیج دو۔ اس کو بھیج دیا گیا تو وہاں فتح ہو گئی۔ آپ مسلسل اس کو جہاد میں بھیجتے رہے حتیٰ کہ تیسری مرتبہ وہ شہید ہو گیا۔ تو آپ نے اس کی بیوی سے نکاح کر لیا۔ جب آپ اس سے ہمبستر ہوئے تو ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی شکل میں دو فرشتے ان کے پاس بھیجے۔ انہوں نے آپ کے پاس آنے کی اجازت مانگی تو وہ آپ کی عبادت کا دن تھا، اس لئے محافظوں نے ان کو اندر آنے سے منع کر دیا تو وہ دونوں دیوار کود کر داؤد علیہ السلام کی مسجد میں آ گئے۔ آپ نماز میں مشغول تھے، اس لئے آپ کو کچھ معلوم نہ ہوا، آپ نے اچانک دیکھا تو وہ دونوں آپ کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ سیدنا داؤد علیہ السلام ان سے کچھ گھبرا گئے تو انہوں نے کہا: آپ ڈرئیے مت۔ ہم دو فریق ہیں، ہم میں سے ایک نے دوسرے کے ساتھ زیادتی کی ہے تو آپ ہمیں سچا فیصلہ فرما دیجئے اور خلاف حق نہ کیجئے۔ اس کے بعد آپ کی خطاء کے اقرار کے سلسلہ میں طویل حدیث نقل فرمائی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4179]
65. فَضَائِلُ دَاوُدَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -
حضرت داود علیہ السلام کے فضائل
حدیث نمبر: 4180
أخبرني أحمد بن محمد الأحمَسي، حدثنا الحسين بن حميد، حدثنا الحسين بن علي، حدثني عمِّي محمد بن حسان، عن محمد بن جعفر بن محمد، عن أبيه، قال: اختارَ اللهُ لنُبوّتِه وانتخَب لرسالتِه داودَ بن إيشا، فجمع اللهُ له ذلك النورَ والحِكمةَ، وزادَه الزَّبُورَ من عنده، فمَلَكَ داودُ بن إيشا سبعين سنة، فأنصفَ الناسَ بعضَهم من بعضٍ، وقضى بالفَضْل بينهم بالذي عَلَّمه اللهُ وأعطاه من حُكْمِه، وأمر ربُّنا الجبالَ فأطاعتْه، وأَلانَ له الحديدَ بإذن الله، وأمَرَ ربُّنا الملائكةَ تَحمِلُ له التابوتَ، فلم يزَلْ داودُ يدبِّر عِلْمَ الله ونُورَه، قاضيًا بحَلالِه، ناهيًا عن حرامه، حتى إذا أرادَ اللهُ أن يَقبِضَه إليه أوحَى إليه: أن استَودِعْ نورَ اللهِ وحِكْمتَه ما ظَهَرَ منها وما بَطَنَ إلى ابنِك سُليمان بن داود، ففَعَلَ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4135 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4135 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا جعفر بن محمد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اپنی نبوت اور رسالت کے لئے سیدنا داؤد بن ایشا علیہ السلام کو منتخب فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے وہ نور اور حکمت جمع فرمائی اور اپنی طرف سے ان کے لئے زبور کا اضافہ فرمایا۔ سیدنا داؤد بن ایشا علیہ السلام نے ستر سال حکومت کی۔ آپ نے لوگوں کو انصاف دلایا اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ علم و حکمت سے ان میں درست فیصلے فرمائے۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو حکم دیا تو وہ بھی آپ کے اطاعت گزار ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ کے لئے لوہا نرم ہو گیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا تو وہ آپ کا تابوت اٹھاتے تھے۔ چنانچہ سیدنا داؤد علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے علم اور نور کے ساتھ مسلسل اللہ تعالیٰ کے حلال کو نافذ فرماتے اور اس کے حرام سے روکتے رہے۔ حتیٰ کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی روح قبض کرنے کا ارادہ فرمایا تو ان کی جانب وحی فرمائی کہ وہ اپنا ظاہر باطن تمام نور اور حکمت اپنے بیٹے سلیمان علیہ السلام کو دے دیں، تو انہوں نے ایسا ہی کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4180]
حدیث نمبر: 4181
أخبرني أبو بكر الشافعي، حدثنا إسماعيل بن إسحاق، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا وُهَيب، عن داود بن أبي هند، عن الشَّعْبي في قوله ﷿: ﴿وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ﴾ قال: في زَبُور داود مِن بعد ذِكْرِ موسى ﴿أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ﴾ [الأنبياء: 105] قال: الجنةُ (1) . ذكر نبيِّ الله سليمان بن داود وما آتاه الله من المُلك صلى الله عليه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4136 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4136 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا شعبی، اللہ تعالیٰ کے ارشاد: قَالَ فِی زَبُوْرِ دَاوٗدَ مِنْ بَعْدِ ذِکْرِ مُوْسٰی (الانبیاء: 105) ” اور بے شک ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا۔“ کے متعلق فرماتے ہیں: سیدنا داؤد علیہ السلام کی زبور میں موسیٰ علیہ السلام کے ذکر کے بعد یہ تھا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں: اس سے مراد ” جنت “ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4181]