🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. نَقْلُ عِظَامِ يُوسُفَ مِنْ مِصْرَ فِي عَهْدِ مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ -
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں حضرت یوسف علیہ السلام کی ہڈیوں کو مصر سے منتقل کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4132
حدثنا أحمد بن سهل الفقيه ببُخاري، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا أحمد بن عِمران الأخنسي، حدثنا محمد بن فُضَيل، حدثنا يونس بن أبي إسحاق، عن أبي بُردة، عن أبي موسى: أن رسول الله ﷺ نَزَل بأعرابيٍّ فأكرمَه، فقال له:"يا أعرابيُّ، سَلْ حاجتَك"، قال: يا رسول الله، ناقةٌ برَحْلِها، وأعنُزٌ يَحلُبها أهلي، قالها مرتين، فقال له رسول الله ﷺ:"أعجَزْتَ أن تكون مثلَ عجُوزِ بني إسرائيل؟"، فقال له أصحابه: يا رسول الله، وما عَجوزُ بني إسرائيل؟ قال:"إنَّ موسى أراد أن يَسيرَ ببني إسرائيل، فأضَلَّ عن الطريق، فقال له عُلماءُ بني إسرائيل: نحن نُحدِّثك: إنَّ يوسف أخذ علينا مَواثيقَ اللهِ أن لا نَخرُج من مصرَ حتى نَنقُلَ عِظامَه معنا، قال: وأيكم يدري أين قبرُ يوسف؟ قالوا: ما ندري أين قبرُ يوسفَ إلّا عجوزُ بني إسرائيل، فأرسل إليها، فقال لها: دُلِّيني على قبر يوسف، قالت: لا والله لا أفعَلُ حتى أكونَ معك في الجنة، قال: وكَرِه رسولُ الله ما قالت، فقيل له: أعطِها حُكمَها، فأعطاها حُكمَها، فأتت بُحَيرةً، فقالت: أَنضِبُوا هذا الماءَ، فلما نَضَّبُوه، قالت: احفِرُوا هاهنا، فلما حَفَروا إذا عظامُ يُوسفَ، فلما أقلُّوها من الأرض فإذا الطريقُ مثلُ ضَوْء النهارِ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی (دیہاتی) کے پاس ٹھہرے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی تکریم کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اے اعرابی! اپنی کوئی ضرورت مانگو۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک اونٹنی مع کجاوہ کے اور کچھ بکریاں جن کا دودھ میرے گھر والے دوہ سکیں۔ اس نے یہ بات دو مرتبہ کہی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تم بنی اسرائیل کی اس بوڑھی عورت کی طرح بننے سے بھی عاجز ہو گئے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! بنی اسرائیل کی بوڑھی عورت کا کیا واقعہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو لے کر (مصر سے) نکلنے کا ارادہ کیا تو وہ راستہ بھول گئے۔ بنی اسرائیل کے علماء نے ان سے کہا: ہم آپ کو بتاتے ہیں، دراصل حضرت یوسف علیہ السلام نے ہم سے اللہ کے نام پر یہ پختہ عہد لیا تھا کہ ہم جب بھی مصر سے نکلیں تو ان کی ہڈیاں (یعنی جسد خاکی) اپنے ساتھ لے کر جائیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا: تم میں سے کون جانتا ہے کہ یوسف علیہ السلام کی قبر کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: بنی اسرائیل کی ایک بوڑھی عورت کے سوا ہم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ یوسف علیہ السلام کی قبر کہاں ہے۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے اس کی طرف پیغام بھیجا اور اس سے فرمایا: مجھے یوسف علیہ السلام کی قبر کا راستہ بتاؤ۔ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں اس وقت تک نہیں بتاؤں گی جب تک کہ میں جنت میں آپ کے ساتھ نہ ہوں۔ موسیٰ علیہ السلام کو اس کا یہ مطالبہ گراں گزرا، تو آپ کو (اللہ کی طرف سے) کہا گیا: اس کا مطالبہ مان لیجیے۔ چنانچہ آپ نے اس کا مطالبہ پورا کر دیا۔ پھر وہ ایک چھوٹی جھیل کے پاس آئی اور کہنے لگی: اس کا پانی نکال دو۔ جب انہوں نے پانی نکال دیا تو اس نے کہا: یہاں کھدائی کرو۔ جب انہوں نے کھودا تو وہاں حضرت یوسف علیہ السلام کا جسد خاکی موجود تھا۔ جب انہوں نے اسے زمین سے نکالا تو راستہ دن کی روشنی کی طرح واضح ہو گیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4132]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وأحمد بن عمران الأخنسي متابع كما تقدم برقم (3565).» [ترقيم الرساله 4132] [ترقيم الشركة 4110]

الحكم على الحديث: حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4133
أخبرني أبو سعيد أحمد بن محمد الأحمسي بالكوفة، حدثنا الحسين بن حُميد بن الربيع، حدثني الحسين بن علي السُّلَمي، حدثني محمد بن حسان، عن محمد بن جعفر بن محمد، عن أبيه، قال: كان عِلمُ الله وحِكمتُه في وَرَثة إبراهيم، فعند ذلك أتى اللهُ يوسفَ بنَ يعقوب مُلكَ الأرض المقدّسة، فمَلَكَ اثنتين وسبعين سنة، وذلك قوله فيما أنزل من كتابه: ﴿رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ﴾ الآية [يوسف: 101] (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4089 - لم يصح
محمد بن جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: اللہ کا علم اور اس کی حکمت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ورثاء میں تھی۔ چنانچہ اسی بناء پر اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف بن یعقوب علیہما السلام کو ارضِ مقدس کی بادشاہت عطا فرمائی، اور انہوں نے بہتر (72) سال تک حکمرانی کی۔ اور یہی بات اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے جو اس نے اپنی کتاب میں نازل فرمایا: ﴿رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ﴾ اے میرے رب! بلاشبہ تو نے مجھے حکومت کا ایک حصہ عطا فرمایا اور مجھے باتوں (خوابوں) کی تعبیر کا علم سکھایا۔ [سورة يوسف: 101] [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4133]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف بمرّةٍ، وقد تقدم الكلام على رجاله برقم (4055)، ولهذا قال الذهبي عن هذا الخبر في "تلخيصه": لم يصح.» [ترقيم الرساله 4133] [ترقيم الشركة 4111] [ترقيم العلميه 4089]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف بمرّةٍ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
45. كَانَ فِرَاقُ يُوسُفَ عَنْ أَبِيهِ ثَمَانِينَ سَنَةً
حضرت یوسف علیہ السلام کی اپنے والد سے جدائی اسی برس رہی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4134
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان العامِري، حدثنا الحسين بن علي الجُعْفي، حدثنا الفُضَيل بن عِيَاض، قال: كان بين فِراقِ يوسف حِجْرَ يعقوبَ إلى أن التَقَيا ثمانون سنةً (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4090 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
فضیل بن عیاض رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت یوسف علیہ السلام کے اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام کی گود (سرپرستی) سے جدا ہونے اور ان کے دوبارہ ملنے کے درمیان اسی (80) سال کا عرصہ تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4134]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات. والصحيح أن المدة كانت أربعين سنة كما قاله سلمان الفارسي فيما سيأتي برقم (8398)، وقاله أيضًا عبد الله بن شداد بن الهاد فيما أخرجه عنه ابن أبي شَيْبة 11/ 82، وابن جَرير الطبري في "تفسيره" 13/ 69، لأنَّ هذا أوفق لما عند أهل الكتاب فيما نقله ابن إسحاق ...» [ترقيم الرساله 4134] [ترقيم الشركة 4112] [ترقيم العلميه 4090]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4135
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار العدل، حدثنا أحمد بن نَضْر، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا زهير، عن أبي إسحاق، عن أبي عُبيدة، عن عبد الله، قال: إنما اشتُريَ يوسفُ بعشرين درهمًا، وكان أهلُه حين أَرسَلَ إليهم وهم بمصرَ ثلاثَ مئة وتسعين إنسانًا، رجالُهم أنبياءُ ونساؤهم صِدِّيقاتٌ، والله ما خرجُوا مع موسى حتى بلغوا ستَّ مئة ألف وسبعين ألفًا (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4091 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت یوسف علیہ السلام کو صرف بیس درہم کے عوض خریدا گیا تھا، اور جس وقت آپ نے مصر سے اپنے اہل خانہ کی طرف (انہیں بلانے کا) پیغام بھیجا تھا تو ان کی تعداد تین سو نوے (390) تھی۔ ان کے مرد انبیاء اور ان کی عورتیں سچی (صدیقات) تھیں۔ اور اللہ کی قسم! جب وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ (مصر سے) نکلے تو ان کی تعداد چھ لاکھ ستر ہزار تک پہنچ چکی تھی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4135]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، أبو عُبيدة - وهو ابن عبد الله بن مسعود - لم يسمع من أبيه، وزهير - وهو ابن معاوية - ممن سمع من أبي إسحاق. وهو السَّبيعي - بعد تغيُّره، لكن توبع زهير على ذكر ما بِيع به يوسفُ، وعلى عِدَّة الذين خرجوا مع موسى، دون ما سواه من الخبر.» [ترقيم الرساله 4135] [ترقيم الشركة 4113] [ترقيم العلميه 4091]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
46. حُسْنُ آدَمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - قَبْلَ الْمَعْصِيَةِ
حضرت آدم علیہ السلام کا گناہ سے پہلے حسن و جمال
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4136
أخبرني أبو سعيد الأحمَسي، حدثنا الحسين بن حُميد، حدثنا مروان بن جعفر السَّمُري، حدثني حُميد بن معاذ، حدثني مُدرِك بن عبد الرحمن، حدثنا الحسن بن ذَكْوان، عن الحسن، عن سَمُرة، عن كعب، قال: ثم وُلِد ليعقوبَ يوسفُ الصِّدِّيق الذي اصطفاهُ الله واختارَه وأكرمَه، وقَسَمَ له من الجَمَالِ الثُّلثَين، وقَسَمَ بين عباده الثُّلث، وكان يُشبِه آدمَ يومَ خَلَقَهُ اللهُ وصَوَّره ونفخَ فيه من رُوحه قبل أن يُصيب المعصيةَ، فلما عصى آدمُ نُزِع منه النورُ والبهاءُ والحُسنُ، وكان الله أعطى آدمَ الحُسنَ والجَمالَ والنورَ والبهاءَ يوم خَلَقه، فلما فَعَل ما فعل وأصاب الذنبَ، نُزع ذلك منه، ثم وَهَبَ اللهُ لآدم الثُّلُث من الجمال مع التوبة الذي تاب عليه، ثم إنَّ الله أعطى يوسفَ الحُسنَ والجَمالَ والنورَ والبَهاءَ الذي كان نزعَه مِن آدم حين أصابَ الذّنْبَ، وذلك أنَّ الله أحبَّ أن يُريَ العبادَ أنه قادرٌ على ما يشاء، وأعطى يوسفَ من الحُسن والجَمال ما لم يُعطِه أحدًا من الناس، ثم أعطاهُ اللهُ العِلمَ بتأويل الرؤيا، وكان يُخبِرُ بالأمر الذي رآه في منامه أنه سيكون قبل أن يكون، عَلَّمه الله كما عَلَّم آدمَ الأسماءَ كلَّها، وكان إذا تبسَّم رأيتَ النورَ في ضَواحِكِه، وكان إذا تكلَّم رأيتَ شُعاعَ النورِ في كلامِه ويَلتهِبُ التهابًا بين ثَناياه (1) . قد اختصرتُ من أخبار يوسفَ ﵇ ما صَحَّ إليه الطريقُ، ولو أخذتُ في عجائبِ وهب بن مُنبِّه وأبي عبد الله الواقِدي لطالتِ الترجمةُ بها. ذكر النبيِّ الكَلِيم موسى بن عِمران وأخيه هارون بن عِمران
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4092 - عن سمرة عن كعب والسند واه
کعب رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: پھر حضرت یعقوب علیہ السلام کے ہاں یوسفِ صدیق علیہ السلام کی ولادت ہوئی، جنہیں اللہ تعالیٰ نے منتخب فرمایا، چن لیا اور عزت بخشی۔ اللہ تعالیٰ نے حسن و جمال کے دو تہائی حصے انہیں عطا کیے اور باقی ایک تہائی حصہ اپنے (تمام) بندوں میں تقسیم فرما دیا۔ وہ اس دن کے حضرت آدم علیہ السلام کے مشابہ تھے جب اللہ نے انہیں پیدا کیا، ان کی صورت بنائی اور ان میں اپنی روح پھونکی، اس سے پہلے کہ وہ لغزش کا شکار ہوں۔ پس جب حضرت آدم علیہ السلام سے لغزش ہوئی تو ان سے وہ نور، رونق اور حسن واپس لے لیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو جس دن پیدا کیا تھا تو انہیں بے پناہ حسن و جمال اور نور و رونق عطا فرمائی تھی، لیکن جب انہوں نے وہ کام کیا جو کیا اور ان سے خطا ہو گئی، تو وہ (حسن و نور) ان سے چھین لیا گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کرنے کے ساتھ انہیں حسن کا ایک تہائی حصہ دوبارہ عطا فرما دیا۔ پھر بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو وہی حسن و جمال اور نور و رونق عطا فرمائی جو اس نے حضرت آدم علیہ السلام سے ان کی لغزش کے وقت واپس لے لی تھی۔ اور یہ اس لیے تھا کہ اللہ تعالیٰ بندوں کو دکھانا چاہتا تھا کہ وہ جو چاہے کرنے پر قادر ہے۔ اس نے حضرت یوسف علیہ السلام کو ایسا حسن و جمال عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو نہیں دیا گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں خوابوں کی تعبیر کا علم عطا فرمایا، اور وہ خواب میں دیکھے ہوئے واقعے کے ظہور پذیر ہونے سے پہلے ہی اس کی خبر دے دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اسی طرح علم سکھایا جس طرح اس نے حضرت آدم علیہ السلام کو تمام چیزوں کے نام سکھائے تھے۔ جب وہ مسکراتے تو آپ ان کے دندانِ مبارک میں نور دیکھتے، اور جب وہ گفتگو فرماتے تو آپ ان کے کلام میں نور کی شعاعیں دیکھتے جو ان کے سامنے کے دانتوں کے درمیان چمک رہی ہوتیں۔
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعات میں سے صرف انہی روایات کو مختصراً بیان کیا ہے جن کی سند صحیح ثابت ہے۔ اگر میں وہب بن منبہ اور ابو عبداللہ واقدی کی بیان کردہ عجیب و غریب روایات کو بھی شامل کرتا تو یہ باب بہت طویل ہو جاتا۔ [کلیم اللہ حضرت موسیٰ بن عمران اور ان کے بھائی حضرت ہارون بن عمران علیہم السلام کا تذکرہ] [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4136]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وقد تقدم الكلام على رجاله برقم (4059). الحسن: هو البصري، وسمرة: هو ابن جندب، وكعب: هو ابن ماتِع الحِمْيَري المعروف بكعب الأحبار.» [ترقيم الرساله 4136] [ترقيم الشركة 4114] [ترقيم العلميه 4092]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
47. ذِكْرُ النَّبِيِّ الْكَلِيمِ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ وَأَخِيهِ هَارُونَ بْنِ عِمْرَانَ
حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کا ذکر — حضرت خضر کے ساتھ والے موسیٰ کے بارے میں اختلاف کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4137
حدثنا أبو الحسن محمد بن أحمد بن شَبَّوَيهِ الرئيس بمَرْو، حدثنا جعفر بن محمد النَّيسابُوري، حدثنا علي بن مِهْران، حدثنا سلمة بن الفضل، حدثني محمد بن إسحاق، قال: وُلِد موسى بن مِيْشا بن يوسف بن يعقوب، فتنبّأ في بني إسرائيل قبل موسى بن عِمران فيما يَزعُمون، ويزعمُ أهل التيقُّن بها أنه هو الذي طلب العالِمَ ليتعلَّمَ منه حتى أدركَ العالِمَ الذي خَرَق السفينةَ، وقَتلَ الغُلامَ، وبنى الجِدار، وموسى بن مِيْشا معه، ثم انصرف عنه حتى بَلَغَ مَا بَلَغَ (2) . قال الحاكم: هكذا يَذكُر محمد بن إسحاق، ويُستَدَلُّ بالحديث الثابت الصحيح (1) عن عمرو بن دينار عن سعيد بن جُبَير، قال: قلت لابن عبّاس: إنَّ نَوفًا (2) البِكَاليّ يزعُم أنَّ موسى صاحِبَ الخَضِر ليس موسى بنَ عِمران صاحبَ بني إسرائيل، إنما هو موسى آخر، فقال ابن عبّاس: كَذَبَ عدوُّ الله، حدثنا أُبيُّ بن كعبٍ أنه سمع رسول الله ﷺ يقول:"قام موسى بنُ عِمران خَطيبًا في بني إسرائيل" الحديثَ بطولِه.
هذا حديث مُخرَّج في"الصحيحين"، وإنما حَمَلَني على ذِكْره (3) ، لأني تركتُ ذِكْرَه من الوَسَطِ. فأما موسى بن عِمران الكَلِيمُ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4093 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
محمد بن اسحاق رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: موسیٰ بن میشا بن یوسف بن یعقوب پیدا ہوئے، پس لوگوں کے گمان کے مطابق انہوں نے موسیٰ بن عمران سے پہلے بنی اسرائیل میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ اور اس بات پر یقین رکھنے والوں کا گمان ہے کہ یہی وہ (موسیٰ) ہیں جنہوں نے ایک عالم (خضر علیہ السلام) کو تلاش کیا تاکہ ان سے علم سیکھیں، یہاں تک کہ انہوں نے اس عالم کو پا لیا جس نے کشتی میں سوراخ کیا تھا، لڑکے کو قتل کیا تھا، اور دیوار تعمیر کی تھی، اور موسیٰ بن میشا ان کے ساتھ تھے۔ پھر وہ ان سے واپس لوٹ آئے یہاں تک کہ جو مقام پانا تھا پا لیا۔
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: محمد بن اسحاق اسی طرح ذکر کرتے ہیں، (حالانکہ اس کی تردید میں) اس ثابت اور صحیح حدیث سے استدلال کیا جاتا ہے جو عمرو بن دینار نے سعید بن جبیر سے روایت کی ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: نوف بکالی یہ گمان کرتا ہے کہ خضر (علیہ السلام) کے ساتھی موسیٰ، بنی اسرائیل والے موسیٰ بن عمران نہیں ہیں بلکہ وہ کوئی اور موسیٰ ہیں۔ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کے دشمن (نوف) نے جھوٹ بولا ہے، ہم سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: موسیٰ بن عمران بنی اسرائیل میں خطبہ دینے کھڑے ہوئے... (اس کے بعد) مکمل طویل حدیث بیان کی۔
یہ حدیث صحیحین (بخاری اور مسلم) میں مروی ہے۔ اور مجھے اسے (یہاں) ذکر کرنے پر اس بات نے آمادہ کیا کہ میں نے اسے درمیان سے چھوڑ دیا تھا۔ بہرحال، جہاں تک کلیم اللہ موسیٰ بن عمران کا تعلق ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4137]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 4137] [ترقيم الشركة 4115] [ترقيم العلميه 4093]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4138
فحدَّثَنا أبو محمد عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلّاب بِهَمَذَان، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس الحَنْظَلي، حدثنا عبد الله بن داهِر بن يحيى الرازي، حدثنا أبي، عن الأعمش، عن عَبَاية الأسدي، قال: سمعتُ عبد الله بن عبّاس يقول: إنَّ الله يقول في كتابه لموسى بن عِمران: ﴿إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ﴾، قال: ﴿وَكَتَبْنَا لَهُ فِي الْأَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوْعِظَةً وَتَفْصِيلًا﴾ [الأعراف: 144 - 145] ، فكان موسى يَرى أنَّ جميع الأشياء قد أُثبتت له، كما ترون أنتم أن علماءكم قد أثبتُوا لكم كلَّ شيءٍ، وكما يُثبِتُوه، فلما انتهى موسى إلى ساحِلِ البحر لقي العالِمَ فاستَنْطَقه فأقرَّ له بفَضْل علمه ولم يَحسُده، فقال له موسى ورَغِبَ إليه: ﴿هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا﴾ فعَلِمَ العالِمُ أنَّ موسى لا يُطيق صحبتَه، ولا يصبر على عِلْمِه، فقال له العالِمُ: إنك لا تَستطيعُ معي صَبْرًا، ﴿وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا﴾ [الكهف: 68] ؟! فقال له موسى وهو يعتذر: ﴿سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا﴾، فعَلِم أنَّ موسى لا يَصبِرُ على عِلْمِه، فقال له: ﴿فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا﴾ فرَكِبا في السفينة فخَرَقَها العالِمُ، وكان خَرْقُها لله رِضًا ولموسى سُخْطًا، ولَقِيَ الغلامَ فقتَلَه، وكان قتلُه لله رِضًا؛ ثم ذَكَر بعضَ القصةِ والكلام، ولم يُجاوِزِ ابنَ عبّاس (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4095 - عبد الله بن داهر الرازي وأبيه رافضيان
عبایہ اسدی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں موسیٰ بن عمران علیہ السلام کے لیے فرمایا: ﴿إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ﴾ (اللہ نے فرمایا: اے موسیٰ!) بے شک میں نے اپنی رسالتوں اور اپنے کلام کے ذریعے تمہیں لوگوں پر منتخب کر لیا ہے، پس جو کچھ میں نے تمہیں دیا ہے اسے پکڑ لو اور شکر گزاروں میں سے ہو جاؤ۔ اور فرمایا: ﴿وَكَتَبْنَا لَهُ فِي الْأَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوْعِظَةً وَتَفْصِيلًا﴾ اور ہم نے ان کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل لکھ دی۔ [سورة الأعراف: 144 - 145] پس موسیٰ علیہ السلام کا یہ خیال تھا کہ ان کے لیے تمام چیزیں ثابت (مقرر اور واضح) کر دی گئی ہیں، جیسا کہ تم لوگ سمجھتے ہو کہ تمہارے علماء نے تمہارے لیے ہر چیز واضح کر دی ہے، اور جس طرح وہ اسے ثابت کرتے ہیں۔ چنانچہ جب موسیٰ علیہ السلام سمندر کے کنارے پہنچے تو اس عالم (حضرت خضر علیہ السلام) سے ملے اور ان سے بات چیت کی، تو موسیٰ علیہ السلام نے ان کے علم کی فضیلت کا اقرار کیا اور ان سے حسد نہیں کیا، بلکہ موسیٰ علیہ السلام نے ان سے رغبت ظاہر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا﴾ کیا میں آپ کی پیروی کر سکتا ہوں اس شرط پر کہ جو بھلائی (اور علم) آپ کو سکھایا گیا ہے، اس میں سے کچھ آپ مجھے بھی سکھا دیں؟ عالم جان گئے کہ موسیٰ ان کی صحبت کی طاقت نہیں رکھتے، اور ان کے علم پر صبر نہیں کر سکیں گے، تو عالم نے ان سے کہا: بے شک آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہیں کر سکیں گے۔ ﴿وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا﴾ اور آپ اس بات پر کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کی حقیقت کا آپ کو علم ہی نہیں ہے؟ [سورة الكهف: 68] تو موسیٰ علیہ السلام نے عذر پیش کرتے ہوئے ان سے فرمایا: ﴿سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا﴾ ان شاء اللہ، آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور میں کسی معاملے میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ عالم جان گئے کہ موسیٰ ان کے علم پر صبر نہیں کر سکیں گے، تو انہوں نے فرمایا: ﴿فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا﴾ پس اگر آپ میری پیروی کریں تو مجھ سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کیجیے گا یہاں تک کہ میں خود اس کا ذکر آپ سے کروں۔ پھر وہ دونوں کشتی میں سوار ہوئے تو عالم نے اسے پھاڑ دیا، ان کا کشتی کو پھاڑنا اللہ کی رضا کے لیے تھا جبکہ موسیٰ علیہ السلام کے لیے یہ ناراضگی کا باعث تھا۔ پھر وہ ایک لڑکے سے ملے تو انہوں نے اسے قتل کر دیا، ان کا اسے قتل کرنا اللہ کی رضا کے لیے تھا۔ پھر راوی نے کچھ قصہ اور کلام ذکر کیا، اور (یہ روایت) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آگے نہیں بڑھی (یعنی موقوف ہے)۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4138]
تخریج الحدیث: «إسناده واهٍ من أجل عبد الله بن داهر وأبيه فهما ليسا بشيء، ولهما ترجمة في "الميزان" و"اللسان"، وتَعقَّب الذهبيُّ في "تلخيصه" المصنف في تصحيحه هذا الخبر.» [ترقيم الرساله 4138] [ترقيم الشركة 4116] [ترقيم العلميه 4095]

الحكم على الحديث: إسناده واهٍ من أجل عبد الله بن داهر وأبيه فهما ليسا بشيء
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4139
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا العبّاس بن محمد الدُّوري، حدثنا يحيى بن مَعِين، حدثنا يحيى بن آدم، حدثنا حمزة الزَّيَّات، عن أبي إسحاق، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس، عن أبيّ بن كَعْبٍ قال: قال رسول الله ﷺ:"رحمةُ الله علينا وعلى موسى - فبدأ بنفسه - لو كان صَبَرَ لَقُصَّ علينا مِن خَبَرِه، ولكن قال: ﴿إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا﴾ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4096 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہم پر اور موسیٰ پر رحم فرمائے۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی ابتدا اپنی ذات سے کی) اگر وہ صبر کرتے تو ہمیں ان کی (مزید) خبریں (حالات) سنائی جاتیں، لیکن انہوں نے کہہ دیا تھا: ﴿إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا﴾ اگر میں اس کے بعد آپ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کروں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیے گا، یقیناً آپ میری طرف سے (آخری) عذر کو پہنچ چکے ہیں۔ [سورة الكهف: 76]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4139]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبِيعي، وحمزة الزيّات: هو ابن حبيب أحد القراء السبعة المشهورين.» [ترقيم الرساله 4139] [ترقيم الشركة 4117] [ترقيم العلميه 4096]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
48. ذِكْرُ وِلَادَةِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ -، ذِكْرُ تَرْبِيَةِ مُوسَى فِي حِجْرِ آسِيَةَ امْرَأَةِ فِرْعَوْنَ
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ولادت اور فرعون کی بیوی آسیہ کی گود میں ان کی پرورش کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4140
أخبرنا الحسن بن محمد الإسفراييني، حدثنا محمد بن أحمد بن البَرَاء، حدثنا عبد المُنعِم بن إدريس بن سِنان اليَمَاني، عن أبيه، عن وَهْب بن مُنبِّه، قال: ذِكْرُ مولد موسى بن عِمران بن قاهَث بن لاوِي بن يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم، وحديثُ عدوِّ الله فِرعونَ حين كان يَستعبِدُ بني إسرائيلَ في أعمالِه بمصر، وأمرِ موسى والخَضِر، قال وهبٌ: ولما حَمَلتْ أمُّ موسى بموسى كتَمَتْ أمرَها جميعَ الناسِ، فلم يَطَّلِع على حَمْلِها أحدٌ من خلق الله، وذلك شيءٌ سَتَرها (1) الله به لما أراد أن يَمُنَّ به على بني إسرائيل، فلما كانت السنةُ التي يُولَد فيها موسى بن عِمران بعثَ فرعونُ القَوابِلَ وتقدَّم إليهنّ، وفَتَّش النساء تَفتِيشًا لم يُفتِّشْهُنَّ قبلَ ذلك، وحَمَلت أمُّ موسى بموسى، فلم يَنِتَّ بطنُها (2) ، ولم يَتغيَّر لونُها، ولم يفسُد لبنُها، وكُنَّ القوابلُ لا يَعرِضْنَ لها، فلما كانتِ الليلةُ التي وُلِد فيها موسى وَلَدَتْه أمُّه ولا رَقِيبَ عليها ولا قابِلَ، ولم يَطَّلع عليها أحدٌ إلّا أخته مريم، وأوحى الله إليها: ﴿أَنْ أَرْضِعِيهِ فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَأَلْقِيهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِي وَلَا تَحْزَنِي إِنَّا رَادُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ الْمُرْسَلِينَ﴾ [القصص: 7] ، قال: فكتَمَتْه أمُّه ثلاثةَ أشهر تُرضِعُه في حِجْرها لا يبكي ولا يتَحرّك، فلما خافتْ عليه وعليها عَمِلتْ له تابُوتًا مُطبَقًا ومَهَّدَتْ له فيه، ثم ألقتْه في البحر ليلًا كما أمرها اللهُ، وعُمِلَ التابوتُ على عَمَلِ سُفنِ البحرِ خمسةَ أشبارٍ في خمسةِ أشبارٍ، ولم يُقيَّر، فأقبل التابوتُ يَطفُو على الماء، فألقى البحرُ التابوتَ بالساحِل في جَوف الليل. فلما أصبح فرعونُ جَلَس في مجلسِه على شاطئ النيل، فبَصُرَ بالتابُوت، فقال لمن حولَه من خَدَمِه: ائتُوني بهذا التابوت، فأَتَوه به، فلما وُضِعَ بين يديه فتحُوه، فوَجَدَ فيه موسى، قال: فلما نظر إليه فرعون قال: عِبْرانيٌّ من الأعداء، فأعْظَمَه ذلك وغاظَه، وقال: كيف أخْطى هذا الغلامُ الذَّبحَ وقد أمرتُ القَوابِلَ أن لا يَكتُمْنَ مولودًا يُولَد، قال: وكان فرعون قد استَنْكَح امرأةً من بني إسرائيل يُقال لها: آسيةُ بنتُ مُزاحِم، وكانت من خِيار النساء المعدُودات ومن بنات الأنبياء، وكانت أمًّا للمسلمين تَرحَمُهم وتتصدّق عليهم وتُعطِيهم ويدخُلُون عليها، فقالت لفرعون وهي قاعدة إلى جنبه: هذا الوليد أكبرُ من ابن سَنَةٍ، وإنما أَمرْتَ أن يُذبَحَ الوِلْدانُ لهذه السنةِ، فدَعْه يكن قُرّةَ عَين لي ولك، ﴿لَا تَقْتُلُوهُ عَسَى أَنْ يَنْفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ﴾، أَنَّ هلاكهم على يديه، وكان فِرعونُ لا يُولَد له إلَّا البنات، فاستحياهُ فرعون ورَمَقَه (1) ، وألقى الله عليه محبتَه ورأفتَه ورحمتَه، وقال لامرأته: عسى أن ينفعَك أنتِ، فأما أنا فلا أُريد نَفْعَه. قال وهب: قال ابن عبّاس: لو أنَّ عدوَّ الله قال في موسى كما قالتِ امرأتُه آسية: ﴿عَسَى أَنْ يَنْفَعَنَا﴾ لَنفعَهُ اللهُ به، ولكنه أبى للشَّقاء الذي كتبَه اللهُ عليه. وحَرَّم اللهُ على موسى المَراضِعَ ثمانيةَ أيامٍ ولياليَهنَّ، كلما أُتِي بِمُرضِعةٍ لم يَقبَلْ ثَدْيَها، فرَقَّ له فرعونُ ورحِمَه، وطُلِبتْ له المَراضِعُ. وذَكَر وهبٌ حُزنَ أمِّ موسى وبُكاءَها عليه، حتى كادتْ أن تُبْدِيَ به، ثم تَدارَكَها الله برحمتِه، فرَبَطَ على قلبِها إلى أن بلغها خَبَرُه، فقالت لأُختِه: تَنكَّري واذهبي مع الناس وانظُري ماذا يفعلون به، فدخلت أختُه مع القوابل على آسية بنت مُزاحِم، فلما رأت وَجْدَهم بموسى وحبَّهم له ورِقَّتَهم عليه، قالت: هل أدلُّكم على أهل بيتٍ يَكفُلُونه لكم وهم له ناصحون؟ إلى أن رُدَّ إلى أمِّه، فمَكَث موسى عند أمِّه حتى فَطَمَتْه، ثم ردَّتْه إليه، فنشأ موسى في حِجْر فرعون وامرأتِه يَربِّيانه بأيديهما، واتخَذَاه ولدًا، فبَيْنا هو يلعب يومًا بين يدَي فرعون وبيده قَضِيبٌ له خفيفٌ صغيرٌ يلعب به، إذ رفع القَضِيبَ فضرب به رأسَ فرعون، فغَضِب فِرعون وتَطَيَّر مِن ضَرْبِه حتى همَّ بقتله، فقالت آسيةُ بنت مُزاحِم: أيها الملِك، لا تغضب ولا يَشُقَّنَّ عليك، فإنه صبيٌّ صغير لا يَعقِل جَرِّبه إن شئتَ اجعلْ في هذا الطَّسْتِ جَمْرةً وذَهبًا، فانظُرْ على أيِّهما يَقبِض، فأمَر فِرعون بذلك، فلما مَدّ موسى يدَه ليقبِضَ على الذَّهَب قبض المَلَكُ المُوكَّل به على يدِه فردَّها إلى الجَمْرة، فقبض عليها موسى فألقاها في فيه، ثم قَذَفَها حين وَجَدَ حرارتَها، فقالت آسيةُ لفرعون: ألم أقل لك: إنه لا يَعقِل شيئًا ولا يَعلَمُه، وكَفَّ عنه فرعونُ وصَدَّقها، وكان أَمر بقَتْله، ويقال: إنَّ العُقدة التي كانت في لسان تلك أثرُ تلك الجَمْرةِ التي الْتَقَمَها. قال وهب بن مُنبِّه: ولما بلغ موسى أشُدَّه وبلغ أربعين سنةً آتاهُ الله عِلْمًا وحُكْمًا وفَهْمًا، فَلَبِثَ بذلك اثنتي عشرة سنة، فلما تمَّت له ثلاثون سنة، دعا إلى دِين إبراهيم وشرائعِه وإلى دِين إسحاقَ ويعقوبَ، فآمنت به طائفة من بني إسرائيل، ثم ذَكَرَ القصة بطولها (1) .
وہب بن منبہ رحمہ اللہ سے موسیٰ بن عمران بن قاہث بن لاوی بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام کی ولادت کا ذکر، اور اللہ کے دشمن فرعون کا واقعہ جب وہ مصر میں بنی اسرائیل سے اپنے کاموں میں غلامی لے رہا تھا، اور موسیٰ و خضر علیہما السلام کا معاملہ مروی ہے۔ وہب نے کہا: جب موسیٰ علیہ السلام کی والدہ ان سے حاملہ ہوئیں تو انہوں نے اپنا معاملہ تمام لوگوں سے چھپایا، چنانچہ اللہ کی مخلوق میں سے کسی کو ان کے حمل کا علم نہ ہو سکا۔ یہ وہ پردہ پوشی تھی جس کے ذریعے اللہ نے انہیں چھپایا، کیونکہ وہ بنی اسرائیل پر احسان فرمانا چاہتا تھا۔ پھر جب وہ سال آیا جس میں موسیٰ بن عمران کی ولادت ہونی تھی، تو فرعون نے دائیاں (قابلہ عورتیں) بھیجیں اور انہیں ہدایات دیں، اور انہوں نے عورتوں کی ایسی تلاشی لی جیسی اس سے پہلے کبھی نہیں لی تھی۔ موسیٰ کی والدہ ان سے حاملہ ہوئیں مگر ان کا پیٹ ظاہر نہ ہوا، نہ ان کا رنگ بدلا، اور نہ ہی ان کا دودھ خراب ہوا، اور دائیاں ان کے پاس نہیں آتی تھیں۔ پس جب وہ رات آئی جس میں موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے، تو ان کی والدہ نے انہیں جنم دیا، جبکہ ان پر کوئی نگران تھا نہ کوئی دائی، اور ان کی بہن مریم کے سوا کسی کو اس کا علم نہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی: ﴿أَنْ أَرْضِعِيهِ فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَأَلْقِيهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِي وَلَا تَحْزَنِي إِنَّا رَادُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ الْمُرْسَلِينَ﴾ کہ تم اسے دودھ پلاؤ، پھر جب تمہیں اس پر ڈر ہو تو اسے دریا میں ڈال دینا، اور نہ ڈرنا اور نہ غم کرنا، یقیناً ہم اسے تمہاری طرف لوٹانے والے ہیں اور اسے رسولوں میں سے بنانے والے ہیں۔ [سورة القصص: 7] وہب کہتے ہیں: چنانچہ ان کی والدہ نے انہیں تین ماہ تک چھپائے رکھا، وہ انہیں اپنی گود میں دودھ پلاتی تھیں، وہ نہ روتے تھے اور نہ حرکت کرتے تھے۔ پھر جب انہیں اپنے اور ان (بچے) کے بارے میں خوف محسوس ہوا تو انہوں نے ایک ڈھکن دار صندوق بنایا اور اس میں ان کے لیے بستر لگایا، پھر اسے رات کے وقت دریا (سمندر) میں ڈال دیا جیسا کہ اللہ نے انہیں حکم دیا تھا۔ وہ صندوق بحری کشتیوں کی طرز پر پانچ بالشت لمبا اور پانچ بالشت چوڑا بنایا گیا تھا، اور اس پر تارکول نہیں لگایا گیا تھا۔ صندوق پانی پر تیرتا ہوا آگے بڑھا، اور دریا نے رات کے اندھیرے میں صندوق کو کنارے پر ڈال دیا۔ جب صبح ہوئی تو فرعون دریائے نیل کے کنارے اپنی مجلس میں بیٹھا تھا، اس کی نظر صندوق پر پڑی، تو اس نے اپنے اردگرد موجود خادموں سے کہا: یہ صندوق میرے پاس لاؤ۔ وہ اسے لے آئے۔ جب اسے اس کے سامنے رکھا گیا اور انہوں نے اسے کھولا، تو اس میں موسیٰ علیہ السلام ملے۔ وہب کہتے ہیں: جب فرعون نے انہیں دیکھا تو کہا: یہ دشمنوں میں سے ایک عبرانی بچہ ہے۔ یہ بات اسے بہت بڑی لگی اور اس نے اسے غضبناک کر دیا، اور اس نے کہا: یہ لڑکا ذبح ہونے سے کیسے بچ گیا حالانکہ میں نے دائیوں کو حکم دیا تھا کہ پیدا ہونے والے کسی بچے کو نہ چھپائیں؟ راوی کہتے ہیں: اور فرعون نے بنی اسرائیل کی ایک عورت سے نکاح کر رکھا تھا جس کا نام آسیہ بنت مزاحم تھا، وہ گنی چنی بہترین عورتوں میں سے اور انبیاء کی بیٹیوں میں سے تھیں۔ وہ مسلمانوں کے لیے ایک ماں کی طرح تھیں، ان پر رحم کرتی تھیں، انہیں صدقہ و خیرات دیتی تھیں، اور لوگ ان کے پاس آتے جاتے تھے۔ انہوں نے فرعون سے، جبکہ وہ اس کے پہلو میں بیٹھی تھیں، کہا: یہ بچہ ایک سال کے بچے سے بڑا ہے، اور تم نے تو صرف اس سال پیدا ہونے والے بچوں کو ذبح کرنے کا حکم دیا تھا، لہٰذا اسے چھوڑ دو، ہو سکتا ہے یہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک بن جائے۔ ﴿لَا تَقْتُلُوهُ عَسَى أَنْ يَنْفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ﴾ اسے قتل نہ کرو، ہو سکتا ہے یہ ہمیں نفع دے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں، اور وہ (انجام سے) بے خبر تھے۔ [سورة القصص: 9] یعنی ان کی ہلاکت اسی کے ہاتھوں ہونی تھی۔ اور فرعون کے ہاں صرف بیٹیاں ہی پیدا ہوتی تھیں۔ تو فرعون نے اسے زندہ رہنے دیا اور اسے غور سے دیکھا، اور اللہ نے اس (فرعون) کے دل میں اس (بچے) کی محبت، شفقت اور رحم ڈال دیا۔ فرعون نے اپنی بیوی سے کہا: ہو سکتا ہے یہ تمہیں نفع دے، جہاں تک میرا تعلق ہے تو مجھے اس کے نفع کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہب کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر اللہ کا دشمن بھی موسیٰ کے بارے میں وہی کہہ دیتا جو اس کی بیوی آسیہ نے کہا تھا کہ ﴿عَسَى أَنْ يَنْفَعَنَا﴾ ہو سکتا ہے یہ ہمیں نفع دے، تو اللہ تعالیٰ اسے بھی ان کے ذریعے نفع دیتا، لیکن اس نے اس بدبختی کی وجہ سے انکار کر دیا جو اللہ نے اس پر لکھ دی تھی۔ اور اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر آٹھ دن اور راتوں تک دودھ پلانے والیوں (دائیوں) کو حرام کر دیا، جب بھی کوئی دودھ پلانے والی لائی جاتی، وہ اس کا دودھ پینے سے انکار کر دیتے۔ اس پر فرعون کو ان پر ترس آیا اور اس نے ان پر رحم کھایا، اور ان کے لیے دودھ پلانے والیوں کی تلاش شروع کر دی گئی۔ وہب نے موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کے ان پر غم اور رونے کا ذکر کیا، یہاں تک کہ قریب تھا کہ وہ ان کا راز ظاہر کر دیتیں، پھر اللہ نے اپنی رحمت سے انہیں سنبھال لیا اور ان کے دل کو مضبوط کر دیا یہاں تک کہ ان تک ان کی خبر پہنچ گئی۔ انہوں نے ان کی بہن سے کہا: اپنا حلیہ بدلو اور لوگوں کے ساتھ جا کر دیکھو کہ وہ ان کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ تو ان کی بہن دائیوں کے ساتھ آسیہ بنت مزاحم کے پاس گئیں۔ جب انہوں نے موسیٰ کے لیے ان کی بے قراری، محبت اور نرم دلی دیکھی تو کہا: کیا میں تمہیں ایسے گھر والوں کا پتہ بتاؤں جو تمہارے لیے اس کی پرورش کا ذمہ لیں اور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہوں؟ یہاں تک کہ انہیں ان کی والدہ کی طرف لوٹا دیا گیا۔ پس موسیٰ علیہ السلام اپنی والدہ کے پاس رہے یہاں تک کہ انہوں نے ان کا دودھ چھڑایا، پھر انہیں (آسیہ کی طرف) واپس کر دیا۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام فرعون اور اس کی بیوی کی گود میں پلے بڑھے، وہ دونوں اپنے ہاتھوں سے ان کی پرورش کرتے تھے اور انہوں نے انہیں اپنا بیٹا بنا لیا تھا۔ ایک دن موسیٰ علیہ السلام فرعون کے سامنے کھیل رہے تھے اور ان کے ہاتھ میں ایک چھوٹی اور ہلکی سی چھڑی تھی جس سے وہ کھیل رہے تھے، اچانک انہوں نے چھڑی اٹھائی اور فرعون کے سر پر دے ماری۔ فرعون غضبناک ہوا اور ان کے مارنے سے بدشگونی لی یہاں تک کہ اس نے انہیں قتل کرنے کا ارادہ کر لیا۔ آسیہ بنت مزاحم نے کہا: اے بادشاہ! غصہ نہ کریں اور یہ بات آپ پر گراں نہ گزرے، کیونکہ یہ تو ایک چھوٹا سا نا سمجھ بچہ ہے۔ اگر آپ چاہیں تو اسے آزما لیں، اس برتن میں ایک انگارہ اور سونا رکھ دیں، پھر دیکھیں کہ وہ کسے پکڑتا ہے۔ فرعون نے اس کا حکم دیا۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے سونا پکڑنے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا تو ان پر مقرر فرشتے نے ان کا ہاتھ پکڑ کر انگارے کی طرف کر دیا، تو موسیٰ علیہ السلام نے اسے پکڑ کر اپنے منہ میں ڈال لیا، پھر جب انہیں اس کی تپش محسوس ہوئی تو اسے تھوک دیا۔ آسیہ نے فرعون سے کہا: کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ یہ کچھ نہیں سمجھتا اور نہ جانتا ہے۔ تو فرعون ان سے رک گیا اور اس کی بات مان لی، حالانکہ وہ ان کے قتل کا حکم دے چکا تھا۔ اور کہا جاتا ہے کہ ان کی زبان میں جو لکنت (گرہ) تھی، وہ اسی انگارے کا اثر تھا جو انہوں نے نگل لیا تھا۔ وہب بن منبہ کہتے ہیں: اور جب موسیٰ علیہ السلام اپنی جوانی کو پہنچے اور ان کی عمر چالیس سال ہو گئی تو اللہ نے انہیں علم، حکمت اور فہم عطا فرمایا۔ پس وہ بارہ سال تک اسی حالت میں رہے۔ پھر جب ان کے تیس سال پورے ہوئے تو انہوں نے دینِ ابراہیم اور ان کی شریعتوں، اور دینِ اسحاق و یعقوب کی طرف دعوت دی، تو بنی اسرائیل کی ایک جماعت ان پر ایمان لے آئی۔ پھر راوی نے پورا طویل قصہ بیان کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4140]
تخریج الحدیث: «إسناده واهٍ كما قال الذهبي في غير موضع من "تلخيصه"، وذلك من أجل عبد المنعم بن إدريس، فهو متروك الحديث، وكذَّبه الإمام أحمد.» [ترقيم الرساله 4140] [ترقيم الشركة 4118]

الحكم على الحديث: إسناده واهٍ كما قال الذهبي في غير موضع من "تلخيصه"
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4141
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا أحمد بن يحيى الحُلْواني، حدثنا محمد بن الصَّبّاح، حدثنا إسماعيل بن زكريا، عن عاصم الأحول، عن عِكْرمة، عن ابن عبّاس، قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ الله اصطَفَى موسى بالكَلام، وإبراهيمَ بالخُلَّة" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4098 - على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو (اپنے) کلام کے لیے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو (اپنی) دوستی کے لیے چن لیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4141]
تخریج الحدیث: «صحيح موقوفًا، وهذا سند رجاله لا بأس بهم، لكن رواه فضلُ بن سهل الأعرج عند ابن أبي عاصم في "السنة" (436)، وأبو حاتم الرازي عند ابن مَنْدَهْ في "التوحيد" (581)، وأبي القاسم الأصبهاني في "الحجة" 1/ 547، ومحمد بن سليمان الباغَنْدي عند ابن خُزَيمة في "التوحيد" 2/ 485، والدارقطني في ...» [ترقيم الرساله 4141] [ترقيم الشركة 4119] [ترقيم العلميه 4098]

الحكم على الحديث: صحيح موقوفًا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں